joomla templates

 

کیا ہر عالم سے مسئلہ معلوم کر کے دین پر عمل کیا جا سکتا ہے؟

مکرمی ! زید مجدکم

امید کہ مزاج گرامی بخیر ہو گا، زمزم کا گزشتہ شمارہ نمبر ۳ جلد نمبر۵ ملا، پہلی گذارش تو یہ ہے کہ زمزم میں وفیات پر طویل مضامین نہ ہوں تو مناسب ہے، زمزم کے صفحات محدود اور سائز بھی متوسط ہے، اسی وجہ سے اس میں وہی مضامین شائع ہوں جن سے ہم لوگ دینی مسائل میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ خدا کا شکر ہے کہ زمزم نے ہماری معلومات میں بہت اضافہ کیا ہے اور بہت سے حقائق جو ہم سے مخفی تھے وہ اجاگر ہو گئے۔

دوسری بات جو عرض کرنی ہے وہ یہ ہے کہ دینی و فقہی معلومات حاصل کرنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے یہ کیوں ضروری ہے کہ کسی مذہب خاص ہی کے علماءسے فتوی حاصل کیا جائے ایسا کیوں نہ ہو کہ جو بھی مسائل شرعیہ سے واقف ہے اس سے مسائل معلوم کر کے اس پر عمل کیا جائے، ایسا کرنے میں حرج کیا ہے؟ براہ کرم اس پر روشنی ڈالیں، اگرفوری جواب عنایت ہو جائے تو مہربانی ہو گی۔

 

 

 

 

کیا ہر عالم سے مسئلہ معلوم کر کے

دین پر عمل کیا جا سکتا ہے؟

مکرمی!

زید مجدکم

امید کہ مزاج گرامی بخیر ہو گا، زمزم کا گزشتہ شمارہ نمبر ۳ جلد نمبر۵ ملا، پہلی گذارش تو یہ ہے کہ زمزم میں وفیات پر طویل مضامین نہ ہوں تو مناسب ہے، زمزم کے صفحات محدود اور سائز بھی متوسط ہے، اسی وجہ سے اس میں وہی مضامین شائع ہوں جن سے ہم لوگ دینی مسائل میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ خدا کا شکر ہے کہ زمزم نے ہماری معلومات میں بہت اضافہ کیا ہے اور بہت سے حقائق جو ہم سے مخفی تھے وہ اجاگر ہو گئے۔

دوسری بات جو عرض کرنی ہے وہ یہ ہے کہ دینی و فقہی معلومات حاصل کرنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے یہ کیوں ضروری ہے کہ کسی مذہب خاص ہی کے علماءسے فتوی حاصل کیا جائے ایسا کیوں نہ ہو کہ جو بھی مسائل شرعیہ سے واقف ہے اس سے مسائل معلوم کر کے اس پر عمل کیا جائے، ایسا کرنے میں حرج کیا ہے؟ براہ کرم اس پر روشنی ڈالیں، اگر فوری جواب عنایت ہو جائے تو مہربانی ہو گی۔

محمد مرتضیٰ چوبیس پرگنہ بنگال

زمزم !

آپ کا خط ملا تو میں بھوپال اور اندور کے سفر پر تھا۔پھر کچھ اور مشغولیات نے گھیرے رکھا اس لئے جواب میں تاخیر ہو گئی اور اب زمزم ہی میں اپنے سوال کا جواب ملاحظہ فرمالیں۔

یہ بات تو بہت مناسب ہے کہ عوام اہل علم سے مسئلہ معلوم کر کے شریعت پر عمل کریں قرآن کا بھی یہی حکم ہے، جیسا کہ آیت فاسئلو اھل الذکران کنتم لا تعلمون سے واضح ہے۔

اگر یہ دور نفسانیت کا نہ ہوتا اور اہل علم میں انصاف اور عدل پایا جاتا اور شریعت پر عمل کرانے میں کوئی مخصوص جذبہ یا فکر اور عقیدہ کا م کرتا نظر نہ آتا، اور جن کو عوام اہل علم سمجھتے ہیں ان میں اتنی دیانت اور تقوی ہوتا کہ وہ مسائل کے بتلانے میں اسلاف کی راہ اعتدال و جادہ مستقیم سے گریز نہ کرتے، مسائل بتلانے والے علماءراسخین میں سے ہوتے اور ان کو مسائل شرعیہ سے پوری واقفیت ہوتی، وہ کتاب و سنت کے ناسخ و منسوخ سے واقف ہوتے، وہ کسی مخصوص نظریہ و مذہب کی پابندی کرانے کے بجائے جو واقعی شرعی مسئلہ ہے اس سے عوام کو واقف کرانے کا ان میں جذبہ و خلوص ہوتا تو اس کی اجازت ضرور دی جاتی کہ عوام جس عالم سے چاہیں ان سے مسائل معلوم کر کے ان پر عمل کریں۔

مگر اس وقت ہم لوگ جس دور سے گزر رہے ہیں یہ دور بڑے فتنہ کا ہے طرح طرح کے مذاہب پیدا ہو گئے ہیں، کم علم عالم و مفتی بنے پھر رہے ہیں، ہر شخص محقق و علامہ بنا ہے، انانیت کا عالم یہ ہے کہ اپنی تحقیقات کے آگے اکابر و اسلاف کو وہ کچھ نہیں سمجھتا کتاب و سنت میں کیا ہے اس کا اس کو پتہ نہیں مگر وہ شرعی مسئلہ بتلانے کو تیار ہے اپنی تحقیق کو حرف آخر سمجھتا ہے اور اسے اصرار ہوتا ہے کہ جو ہم نے سمجھا ہے وہی حق اور درست ہے، بڑے طنطنہ سے دعوی کیا جاتا ہے کہ صحابہ کرام کے فتاوی اور ان کے اقوال حجت نہیں ہیں، فقہاءامت نے جو کچھ کہا ہے وہ غیر معتبر ہے، اور بے شرمی کا عالم یہ ہے کہ صحابہ کرام اور فقہائے امت کے اقوال کو ناقابل اعتبار قرار دینے والا اس پر مصر ہوتا ہے کہ وہ جو کہے اسے مان لو خواہ وہ اس کی ذاتی رائے اور اس کا اپنا اجتہاد و استنباط ہی کیوں نہ ہو۔

ہر شخص کی ایک فکر ہے، ایک مذہب ہے، اس کا اپنا عقیدہ ہے، اس کی اپنی تحقیق ہے، وہ اپنے ہی دائرہ میں رہ کر مسئلہ بتلائے گا چاہے وہ مسئلہ کتاب و سنت سے کتنا ہی متصادم اور شریعت کے خلاف کیوں نہ ہو، اس سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ کتاب و سنت کا صحیح مسئلہ بتلائے گا اور اسلاف واکابر کے جادہ مستقیم سے بہکا ئے گا نہیں۔۔طلاق کے مسئلہ میں غیر مقلدین ، حنفی، شافعی ، مالکی، حنبلی سب کو اپنے مذہب والا مسئلہ بتلائیں گے حالانکہ ان کا یہ مسئلہ اجماع امت اور کتاب و سنت کے صریح خلاف ہے،اگر اس مسئلہ میں غیر مقلدین کی بات کو مان لیا جائے تو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ امت کے تمام فقہائ، محدثین اور علماءاس شرعی مسئلہ سے جاہل تھے حتی کہ صحابہ کرام تک کو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا۔ اس زمانہ میں حق کا دروازہ صرف غیر مقلدین پر کھلا۔

تراویح کا مسئلہ آپ غیر مقلدین سے پوچھیں وہ کہیں گے کہ تراویح آٹھ رکعت ہے حالانکہ جمہورامت کے یہاں آٹھ رکعت تراویح کا کوئی وجود نہیں، نہ صحابہ کرام نے کبھی آٹھ رکعت تراویح پڑھی۔ اگر غیر مقلدین کی بات کو حق سمجھ لیا جائے تو کہنا پڑے گا کہ یہ مسئلہ اسلاف امت کو معلوم نہیں تھا حتی کہ صحابہ کرام کو بھی اس صحیح مسئلہ پر عمل کرنے کی معاذ اﷲ توفیق نہیں ہوئی۔

یہ تو غیر مقلدین کی بات ہے، بریلویوں کا حال ان سے برا ہے، ان سے شرعی مسائل معلوم کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آپ شرک و بدعت کی لعنت میں گرفتار ہو جائیں گے پھر آپ کا عقیدہ یہ بنے گا کہ آنحضور ﷺ عالم الغیب تھے، مختار کل تھے، اولیاءاﷲ کو تصرف فی الکائنات حاصل تھا، قبر کی تعظیم جائز ہے، عرس کرنا ، قبروں پر پھول چڑھانا، نذر و نیاز کرنا سب دین ہے اور سب کام جائز ہیں۔

یہی حال شیعوں کا ہے، وہ آپ کو صحابہ کرام اور خلفائے راشدین سے بدظن گمراہ کریں گے، حضرت علی کی الوہیت اور ائمہ اہل بیت کی معصومیت ثابت کریں گے، تعزیہ بنانے کو اور نوحہ ماتم کرنے کو سب سے بڑا دینی کام قرار دیں گے۔

اگر آپ دینی مسئلہ قادیانیوں سے پوچھیں گے تو آپ کو سب سے پہلے مرزا صاحب کی نبوت پر ایمان لانا پڑے گا اور آنحضور اکرم ﷺ کو نبی آخرالزماں ماننے کے عقیدہ سے دامن جھٹکنا ہو گا۔

اگر آپ آزاد فکروں کے گروہ میں پہنچ گئے تو پھر وہ آپ کو الحاد دھریت کی راہ پر ڈال دیں گے، کوئی معجزہ کا منکر نظر آئے گا، کوئی جنت و دوزخ کا انکار کرنے والا ہو گا، کسی کو فرشتہ کی کوئی حقیقت نظر نہیں آئے گی ، کوئی انبیاءکی عصمت کی دھجیاں بکھیرتا نظر آئے گا،کسی کو قرآن و حدیث کے بارے میں متقدمین کے علوم فرسودہ اور پرانے ذخیرے نظر آئیں گے۔

غرض ہر شخص سے مسئلہ معلوم کرنے میں آپ کو بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملیں گی اور شریعت کے مسائل پر عمل کرنا تو درکنار اندیشہ ہے کہ شریعت ہی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

اس زمانہ میں جو علمی قحط ہے وہ سب کو معلوم ہے، جو اجتہاد کے دعویدار ہیں ان کو کتاب و سنت میں کیا ہے اس کا پتہ ہی نہیں، نہ کتاب و سنت کے ناسخ کو جانیں نہ ان کے منسوخ کا انہیں پتہ ہو، نہ ائمہ دین کے فتاوی اور ان کے فیصلوں پر ان کی نگاہ ہوتی ہے، آخر ایسے لوگوں پر خواہ وہ زمانہ حال کے شیخ الاسلام ہی کیوں نہ ہوں کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے اور دین کے صحیح مسائل ان سے کیونکر جانے جا سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر مشہور غیر مقلد عالم مولانا صادق سیالکوٹی ہی کو لے لیجئے انہوں نے صلوٰة الرسول نامی ایک کتاب لکھی ہے جس میں عوام کو آنحضور اکرم ﷺ کی نماز سکھلائی گئی ہے، اس کتاب کے بڑے بڑے مشاہیر غیر مقلدین علماءنے تقریظ و تعریف کی ہے جو اس کتاب کے ساتھ شائع ہوئی ہے، اس میں انہوں نے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ پانی میں نجاست پڑنے سے خواہ اس کا رنگ، مزہ، بو بدل جائے وہ پانی پاک ہی رہے گا۔ نجس نہیں ہو گا، حالانکہ یہ بالکل غلط بات ہے، پانی میں نجاست پڑنے سے خواہ پانی کثیر ہی کیوں نہ ہو اگر اس کا ایک وصف بھی بدلا تو پانی ناپاک و نجس ہو گا اس سے طہارت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ صادق صاحب نے متعدد حدیثوں کا غلط حوالوں سے نقل کیا ہے یعنی جن کتابوں کی طرف ان حدیثوں کی نسبت کی ہے ان میں وہ حدیث ہی نہیں، اور اگر وہ حدیث ہے تو ان الفاظ کے ساتھ نہیں جن کا ذکرصادق صاحب نے کیا ہے، اب شرعی مسائل میں اس طرح کے علماءپر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

مولانا ثناءاﷲ صاحب امرتسری غیر مقلدین کے شیخ الاسلام ہیں، انہوں نے اپنے رسالہ اہلحدیث کا مذہب میں یہ آیت نقل کی ہے فلا و ربک لا یمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم۔ (سورہ النساءع۹) اور اس کا ترجمہ کیا ہے۔

جب تک لوگ ہر مذہبی بات میں پیغمبر ﷺ کے تابع نہ ہوں گے کبھی مسلمان نہ بن سکیں گے۔(ص۲۳)

آپ قرآن کا ترجمہ اور کوئی تفسیر دیکھ لیں، مولانا ثناءاﷲ صاحب والا یہ ترجمہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا، ہر مذہبی بات اس آیت کے ترجمہ میں خاص مولانا امرتسری کا ایجاد کردہ جملہ ہے۔

یہ دو ایک باتیں اس بات کو بتلانے کے لئے بطور مثال ذکر کی گئی ہیں کہ زمانہ حال کے جو علماءمجتہدبن کر فتوی دیں گے وہ امت کو اسلاف کی شاہراہ سے گمراہ کر دیں گے نہ ان کے علم پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ان کے خلوص پر، ہر شخص ایک خاص نظریہ کا پابند ہے اسی کی روشنی میں وہ دوسروں کو چلانا چاہتا ہے۔

اس لئے امت کی بھلائی اور خیر اسی میں ہے کہ آدمی کتاب و سنت پر عمل کرنے کے لئے متقدمین علماءراسخین کا دامن تھامے، اور اس کا پابند رہے کہ وہ صحابہ کرام کے منہج اور ان کے اسوہ سے دور نہ ہو۔

مذاہب اربعہ کو اﷲ نے دین کی بقاءاور حفاطت کا تکوینی طور پر ذریعہ بنایا ہے امت نے ہر زمانہ میں انہیں مذاہب کے تابع رہ کر اپنی علمی و دینی زندگی کا کارواں آگے بڑھایا ہے، جب سے ان مذاہب کا وجود ہوا ہے امت کے اکابرین نے،محدثین نے، فقہاءنے، اولیاءاﷲ نے ان مذاہب میں سے کسی ایک کی تقلید کو اپنے لئے ذریعہ نجات سمجھا ہے، اور انہیں مذاہب کے سایہ میں رہ کر اپنی دینی زندگی کو سعادت جانا ہے، ان مذاہب کی تدوین کتاب و سنت اور سنت صحابہ کی روشنی میںہوئی ہے، جو باتیں اجتہادی اور قیاسی ہیں ان کی بنیاد اور اصل بھی کتاب و سنت ہی میں موجود ہے اسی وجہ سے تمام شرعی مسائل محقق اور مدون ہیں، ان پر عمل کرنے میں کسی طرح کی گمراہی، بد راہی کا اندیشہ نہیں ہے، ائمہ اربعہ ان خاصان خدا میں سے تھے جن کے علم و فہم، تقوی اور دیانت پر ساری امت کا اجماع ہے، آج کے دور میں کون ہے جو ان ائمہ کا ان اوصاف میں سے کسی ایک وصف مین بھی مقابلہ کر سکے، پس جب شروع ہی سے ساری امت نے اور امت کے اصحاب فضل و کمال نے ان ائمہ کو اپنا مقتدی جاناہے اور ان پر کامل اعتماد کیا ہے تو ہمیں بھی ان کی اتباع میں ان ائمہ کی تقلید و اقتداءسے گریز نہ ہونا چاہئے۔ہمارے نزدیک سلامتی کا خصوصاً اس دور پر فتن میں بس یہی ایک راستہ ہے کہ دینی و شرعی مسائل میں ائمہ اربعہ کی تقلید کی جائے۔ والسلام

محمد ابوبکر غازی پوری

 

آن لائن مہمان

We have 5 guests and no members online