joomla templates

 

اہل سنت والجما عت حنفی

مناظر اسلام تر جمانِ اہل سنت وکیل احناف

حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی

خطبات صفدر (جلداول)

الحمد للہ وکفی وسلا م علی عبا دہ الذ ین اصطفی

تمہید :

دو ستو بز ر گو!اللہ تبارک وتعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر اور احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوقات میں سے ہمیں انسان بنایا جو اشرف المخلوقات ہے پھر اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کی ہدایت کے لئے اپنے پاک پیغمبروں کا سلسلہ جاری فرمایا ۔جن میں سب سے پہلے پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ۔

رسول اللہ ﷺ کی عالمگیرنبوت

اللہ تبارک وتعالیٰ نے بہت سے پیغمبر بھیجے ۔ ہر قوم میں آئے ہر علاقے میں آئے لیکن جتنے بھی آئے وہ جانے کے لئے آئے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جتنے پیغمبر جو شریعتیں لائے ان کی مثال موسمی پھولوں کی تھی جیسے گرمیوں میں گرمیوں کا پھول خوب بہار دکھاتا ہے لیکن جب سردی شروع ہو جائے گرمیوں کا موسم ختم ہوجائے تو اس کی پتیاں بکھر جاتی ہیں وہی مالی جو روزانہ اس پر پانی ڈالاکر تا تھا تاکہ پھول کی تروتازگی زیادہ ہو اسی کے ہاتھ اس کو اتار کر پھینک دیتے ہیں اور اس کی جگہ سردیوں کے پھول بو دیئے جاتے ہیں ۔

تو رات انجیل زبور یہ موسمی پھول تھے اپنے اپنے زمانوں میں انہوں نے انسانوں کی راہنمائی کی اور شریعت کی خوشبو سے انہوں نے انسانوں کے ذہنوں کو معطر فرمایا لیکن حضرت محمد رسو ل اللہ ﷺ اور آپ کی شریعت سدا بہار پھول کی حیثیت رکھتی ہے جو زمانے کی قیدسے آزاد ہے گرمی اور سردی بہار وخزاں اس کی رونق بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اور بڑھتی ہی رہے گی نہ کو ئی جغرافیائی حد ہے کہ فلاں بارڈرتک حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت ہے اور پھر اس کے آگے کا علاقہ کسی اور پیغمبر کی نبوت کا ہے نہ کو ئی تاریخی حدیں ہیں کہ فلاں تاریخ تک آنحضرت ﷺ کی نبوت چلے گی پھر اس کے بعد کو ئی اور نبی تشریف لانے والے ہیں نہ کوئی زبان اور رنگ کی قید ہے کہ عرب والوں کے لئے تو حضرت نبی ہیں لیکن سرائیکی والے کسی اور کو تلاش کر لیں انگریزی والے کسی اور نبی کو تلاش کر یں نہ رنگوں کی قیدہے کہ گورے کے لئے تو حضرت نبی ہیں لیکن کالے کسی اور نبی کی تلاش کریں ایک نبوت ہے حضرت محمدرسو ل اللہ ﷺ کی جو پوری کائنات کے لئے ہے اور قیامت تک کے لئے ہے ۔

مسلمانوں کا اعزاز

تو اللہ تبارک وتعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں اللہ نے حضرت محمد رسو ل اللہ ﷺ کا امتی بنایا رسول اقدس ﷺ کا امتی ہونا یہ ایک بہت بڑا اعزازہے اللہ تعالیٰ ہمیں ان کا سچا تابعدار بنادے (آمین )

اہل سنت والجماعت

رسول اقدس ﷺ نے ہمارا نام اہل سنت والجماعت رکھا آپ ﷺ نے فرمایا کہ بہت سے فرقے ہوں گے نجات پانے والی ایک ہی جماعت ہے مااناعلیہ واصحابی جو میرے اور میرے صحابہ ؓ کے طریقہ پرہے قرآن کریم میں آیت کر یمہ یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ .... جب نازل ہوئی تو صحابہ ؓ نے پوچھا کہ حضرت جن کے چہرے میدان قیامت میں روشن ہوں گے ان کا نام کیا ہے ؟فرمایا ہم اہل السنة والجماعة وہ اہل سنت والجماعت ہیں

فرمان شیرخدا

کنزالعمال میں حضرت علی کر م اللہ وجہہ کا ارشاد موجود ہے کہ ہم نبی پاک ﷺ کے زمانہ میں اہل سنت کہلاتے تھے

فرمان شہید کر بلا

تاریخ کامل ابن کثیر میں سید نا امام حسین ؓ کا وہ خطبہ مذکور ہے کہ جو میدان کر بلا میں آپ ؓ نے آخری خطبہ ارشاد فرمایا اس میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے نانا پاک حضرت محمد رسو ل اللہ ﷺ کی مبارک زبان سے سنا آپ ﷺ فرمارہے تھے کہ حسن ؓ اور حسین ؓ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور میں نے یہ بھی سنا حضرت ﷺ فرمارہے تھے حسن ؓ اور حسین ؓ اہل سنت کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں تو سید نا امام حسین ؓ نے اپنے آخری خطبہ میں اپنا اہل سنت ہونا بھی بیان فرمایا یہی صحابہ کا طریقہ ہے یہی اہل بیت کا طریقہ ہے ۔

ناجی کون؟

تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہم امت محمد یہ میں سے اہل سنت والجماعت مسلک سے تعلق رکھتے ہیں جو یقینا نجات پانی والی جماعت ہے اب ہمیں یہ تو پتہ چل گیا کہ ہمارا نام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے رکھا ہے اور یہ بات انسانوں میں قابل فخرہوتی ہے ۔

باعث فخر

میں بعض جگہ جاتا ہوں تو لوگ بتاتے ہیں بڑے فخرسے کہ میرے اس لڑکے کا نام شیخ التفسیرحضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوری ؒ نے رکھا تھا ۔یہ بڑی برکت کی چیز ہے بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ میرا نام حضرت شیخ العرب والعجم مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ نے رکھا تھا بعض لوگ یہ خوشی سے بتاتے ہیں حیدرآباد میں دوآدمی بتارہے تھے کہ ہم دونوں بھائی ہیں ہمارا نام حضرت امیرے شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری نے رکھا بعض لوگ مجھے یہ بتارہے تھے کہ ہمارا نام حضرت مولانا خیر محمد صاحب ؒ نے رکھا تھا جو مدرسہ خیرالمدارس کے بانی تھے تو بزرگوں کے نام رکھنے رکھوانے پر فخر کرتے ہیں ۔

ہمیں اس پر سب سے زیادہ فخرہے کہ ہمارا نام اہل سنت والجماعت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے رکھا ہے جبکہ کوئی اور فرقہ اپنا نام نبی اقدس ﷺ سے ثابت نہیں کر سکتا ۔

مناظر ہ لاہور

چنانچہ لاہور کے مناظرے میں میں نے سات روایتیں پیش کیں جس میں اہل سنت والجماعت نام کا ذکر تھا میں نے کہا کہ ایک بھی حدیث ہمیں سنادی جائے جس میں حضرت نے فرمایا ہو کہ میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو فقہ کو نہیں مانیں گے اجماع اور اجتہاد کا انکار کریں گے ان کا نام اہلحدیث ہوگا اور وہ نجات پانے والے ہوں گے تو جن کا نام ہی حدیث میں نہیں ہے کتنی عجیب بات ہے کہ وہ آج اپنے آپ کو حدیث پر قابض سمجھتے ہیں ۔

سنت وحدیث الگ الگ

الحمد للہ ! تو ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم اہلسنت والجماعت ہیں ،اب ان بے چاروں کو اپنا نام نہیں ملتا تو پھر کہتے ہیں کہ سنت اور حدیث ایک ہی چیز ہوتی ہے ۔

تو میں کہتا ہوں کہ آپ تو یہ فرمارہے ہیں لیکن اللہ کے نبی پاک اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں خطیب نے الکفایة فی علوم الروایة میں اور دارقطنی نے کتاب الضعفاءمیں یہ روایت نقل فرمائی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لوگ آپ کو میرے نام سے حدیثیں سنایا کریں گے ،ان میں سے جو کتاب اللہ کے موافق ہوں اور میری سنت کے موافق ہوں ان کو قبول کر لینا لیکن جو کتاب اللہ کے موافق نہ ہوں اور میری سنت کے موافق نہ ہووہ قبول نہ کر نا تو حضرت نے سنت کو حدیث سے الگ بیان فرمایا ہے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ جس طرح بعض احادیث کتاب اللہ سے مخالفت رکھیں گی اس طرح بعض احادیث سنت سے بھی مخالفت رکھیں گی ۔

تو جو فرقہ اہل سنت کے مقابلے میں اہل حدیث کہلاتا ہے تو پتہ چلاکہ یہ ان احادیث پر عامل ہے جو سنت کے خلاف ہیں کیونکہ یہ اہل سنت کے مقابلے میں ہے ۔

کہنے لگے کہ سنت اور حدیث ایک ہوتی ہے میں نے کہا کہ میں حدیث پاک پڑھ کر سنارہا ہوں آپ بھی ایک حدیث پڑھ دیں کہ حضرت ﷺ نے فرمایا ہو کہ سنت اور حدیث ایک چیز ہے کہنے لگے جی ہم تو فقہ کو نہیں مانتے اس لئے ہم اہل حدیث ہیں میں نے کہا کہ یہ بھی کہیں حدیث میں نہیں آتا۔

حدیث میں یہ تو آتا ہے کہ فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد کہ ایک فقیہ شیطان پر ایک ہزار عابد سے زیادہ سخت ہے ۔یہ تو حضرت نے فرمایا کہ دو چیز یں ایک دل میں اکٹھی نہیں ہوسکتیں حسن اخلاق اور فقہ منافق کے دل میں سمانہیں سکتیں اب فقہ کا انکار کر نے والے کا نفاق حدیث میں مذکور ہے فقہ کی مخالفت کر نے والے کو حدیث میں شیطان تو کہا گیا ہے۔

لیکن تم ایک حدیث دکھا دو کہ جس میں یہ ہو کہ فقہ کا انکا ر کر نے والے کو تم اہلحدیث کہا کر نا ،تو بھئی ہم آپ کو کہنا شروع کر دیں گے میں حدیث پوچھ رہاہوں گالی تو نہیں دے رہا ہوں کسی کو ،تو الحمدللہ ہم اہلسنت والجماعت ہیں رسول اقدس ﷺ سے جس طرح قرآن تواتر کے ساتھ دنیا میں پھیلا اسی طرح اس قرآن پر عمل کر کے آپ نے عملی نمونہ پیش فرمایا وہ بھی تواتر کے ساتھ پھیلا ہے اور اسی کا نام سنت ہے ۔

سنت کیا ہے ؟

تو سنت کسے کہتے ہیں ؟(سنت کہتے ہیں )قرآن پاک پر عمل کر نے کو ،کس طریقہ سے ؟ اس طریقے پر جس پر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے عمل کر کے دکھایا اس نمونہ عمل کو سامنے رکھ کر قرآن پاک پر عمل کر نے کو سنت کہا جاتا ہے ۔

تو سنت میں دوچیزیں آگئیں علم قرآن کا اور نمونہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا جس طرح قرآن پاک میں اقیموا الصلوٰة والی آیت متواتر ہے اسی طرح اس پر عمل کر کے حضرت نے جو نماز پڑھ کے دکھائی وہ بھی امت میں متواتر ہے دونوں چیز یں متواتر ہیں لیکن بڑے رافضی کہتے ہیں کہ جو قرآن تم پڑھتے ہویہ غلط ہے چھوٹے رافضی کہتے ہیں جو تم نماز پڑھتے ہو یہ غلط ہے وہ قرآن کے بارے میں وسوسے ڈالتے ہیں اور یہ اللہ کے نبی پاک ﷺکی نماز کے بارے میں وسوسے ڈالتے ہیں ۔

کو ئی آدمی بے چارہ نماز نہ پڑھے اس کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ہمارے محلے میں کو ئی غیر مقلد رہتا بھی ہے یا نہیں ۔ان کے پاس جانے کے لئے یہ تبلیغی جماعت والے پھر رہے ہیں کبھی کھیت میں پھر رہے ہیں کبھی دوکانوں پر کھڑے ہیں کبھی گھروں کے دروازوں پر کھڑے ہیں بھائی آپ کیا کر رہے تھے یہاں ؟کہتا ہے کہ بھئی یہ مسلمان ہے کلمہ اللہ کے نبی پاک کا پڑھتا ہے لیکن کچھ غافل ایسا ہوگیا ہے کہ فرض نماز کے لئے پابندی نہیں کر رہا تو ہم اسے یاد دلانے کے لئے آئے ہیں اب بے نمازوں کو نماز پر لگا نے والے ہمارے تبلیغی بھائی اور جب انہیں نماز پر لگا دیا اور یہ آگئے تو غیر مقلدین کا ایک ہی وظیفہ ہوتا ہے کہ تیری نہیں ہوتی تیری نہیں ہوتی اتنے وسوسے ان کے دلوں میں پیدا کر یں گے کہ بے چارہ نماز ہی چھوڑجائے گا تنگ آکر اگر ہوتی نہیں تو کدھر جائیں ۔

سنت کی مثال

سنت کی مثال سورج جیسی ہے جیسے سورج دنیا میں ہر جگہ چمک رہا ہے نبی پاک کا وہ پاکیزہ طریقہ جو حضرت سے شروع ہو کر پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اس کو سنت کہا جاتا ہے آپ کے اس ملتان میں کبھی سورج کے بارے میں گواہی ہوئی ہے کسی آدمی نے گواہی دی ہو کہ آج سورج نکلا ہوا ہے کیاخیال ہے ؟اس لئے متواترات سندوں کی محتاج نہیں ہوتیں وہاں راویوں کی بحث نہیں چلتی جب ساری دنیا میں چمک رہا ہے تو اب کسی کو (کسی سے ) پوچھنے کی ضرورت کیاہے۔

مولا نا رو م رحمة اللہ فرما تے ہیں کہ اگر کوئی آ دمی دو پہر کے وقت بازا ر جا رہا ہو تو تم آ واز دے کر پو چھو کہ اللہ کے بند و! سور ج نکل آیا ہے یا نہیں ؟بے چارہ بینا ئی سے محرو م ہے دو پہر کے وقت پو چھ رہا ہے کہ سو رج نکلا ہوا ہے یا نہیں ؟

حدیث کی مثا ل :

اور اس کے مقا بلے میں جو حدیث ہے اس کی مثا ل مو م بتی کی ہے مثا ل کے طور پر رسول اقد س صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو اس میں کلی فرمایا کرتے تھے اب آپﷺ کا یہ مبا رک عمل پور ی دنیا میں پھیلا ہو اہے جہا ں جہا ں سورج کی رو شنی پہنچتی ہے تو جہاںلوگ وضو کر رہے ہیں کلی کر رہے ہیں یا نہیں ( کر رہے ہیں ) جن کتا بوں میں وضو میں کلی کر نے کی حدیث ہے حدیث ہی کی کتا بوں میں یہ بھی ہے کہ حضرت نے وضو کے بعد بو س وکنا ر فرما یا پھر اسی وضو سے نماز ادا فرما لی ۔

اب میں آپ سے ہی پو چھتا ہوں کہ آپ ایک دن وضو میں جا ن بو جھ کر کلی نہ کریں تو آپ کا دل آپ کو ملا مت کر ے گا یا نہیں؟کر ے گا تو آپ کا دل جھنجھو ڑ ے گا آج وضو پو را نہیں ہوا سنت کا ثو اب نہیں ہوا لیکن کتنے وضو زند گی میں آپ نے کئے جس کے بعد بو س و کنا ر کر نے کے لیے آپ نہیں گئے ، تو دل نے کبھی آپ کو ملا مت کیا کہ آپ نے سنت کا ثواب حا صل نہیں کیا ، کبھی نہیں ، اس لئے کہ ا ب وہ سنت ہے ہی نہیں وہ تو حدیث ہے ۔

سحر ی کھا نا سنت ہے ، اب جب رمضا ن شر یف آ تا ہے ہر جگہ سحر ی پکتی ہے تو لوگ کھا تے ہیں اگر کسی دن آپ سحر ی نہیں کھا سکے آپ کہ دیتے ہیں کہ آ ج سحر ی رہ گئی تھی آنکھیں نہ کھیلی آپ کے دل میں ہوتا ہے کہ رمضا ن شریف میں آ ج ایک سنت کا ثو اب نہیں مل سکا ، یہ دل میں با ت آ تی ہے یا نہیں ؟( آ تی ہے ) اس سحر ی کی روایت بخا ری میں موجو د ہے اسی بخا ری میں....کا ن یبا شر و ھو صائم ....کی روایت بھی ہے لیکن کبھی آپ کے دل نے جھنجھو ڑا کہ روزے کا ثو اب کم ملا یا خلاف سنت رہ گیا ہے کیو نکہ روزہ رکھ مباشرت نہیں کی گئی کیو ں نہیں دل نے جھنجھو ڑتا ؟اس لئے کہ یہ سنت ہے ہی نہیں حد یث ہے،

تو ہم اہل سنت ہیں ، اللہ پا ک کے نبی کے اس طریقہ کو اپنا نے والے جو سورج کی طر ح دنیا میں پھیلا ہوا ہے والجما عت سے مرا د تو اہل سنت کے سا تھ ہم اپنے آپ کو والجماعت بھی کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پا ک پر عمل کر کے جو کچھ عملی نمونہ پیش فرمایا اس کو اپنے سا منے کسی کتا ب میں لکھوا یا نہیں کہ نماز اس پڑ ھنی ہے یا لکھوا یا (نہیں ) با لکل نہیں لکھوا یا ۔

اب وہ کیسے پتہ چلے جبکہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب نہیں لکھوا ئی ، لیکن لاکھ سے زائد نمو نے صحا بہ کے تیا ر کر دیئے سا رے نما زیں پڑ ھتے تھے ہر گھر میں نماز پڑ ھی جارہی ہے کوئی مسلما ن گھر ایسا نہیں جہا ں نماز نہیں پڑ ھی جا رہی بلکہ نماز کا توا تر تو قرآ ن پاک کے تو اتر سے بھی زیا دہ ہے روزا نہ قرآن پا ک ہر گھر میں نہیں پورا پڑ ھا جا تا لیکن نماز پانچ وقت ہر گھر میں پڑ ھی جا تی ہے ۔

اب آپ کوکو ئی یہ بتا ئے کہ یہ جو قرآن پو ری دنیا پڑ ھ رہی ہے اس میں ایک آ یت میں ذرا اختلا ف ہے ، یہ فلا ں کتاب میں یو ں لکھی ہے ، تو آپ کے دل میں وسو سہ آئے گاکہ متواتر قرآن کو چھو ڑ کر سورج کی روشنی کو چھوڑکر کسی موم بتی کی تلاش میں آپ نکلے اس طرح تواتر کے ساتھ جو نماز پڑھی جارہی ہے کو ئی آکر اس بارے میں وسوسہ پیداکرے ، تو بھا ئی اگر آپ قبو ل کرتے ہیں تو یہ آپ کی کمزور ی ہے ، اگر بڑ ے رافضیو ں نے قرآن کی قرات میں اختلاف چھیڑلیا اور چھو ٹے رافضیو ں نے ائمہ مجتہد ین کا اختلاف چھیڑ لیا تو یا د رکھیں جس طرح ہم یہاں قا ری عا صم کو فی رحمة اللہ علیہ کی قرات اور قاری حفص کی روایت پر قرآ ن پڑ ھا تے ہیں سا ری عمر ہو گئی ہے ہمیں پورا قرآن پڑ ھنے کا ثوا ب مل رہا ہے یا کم ؟ کیو نکہ دس قاریوں کی قرات آپ سن چکے ہیں ، کیا خیا ل ہے ؟ایک حر ف قرآن کا پڑ ھنے کی دس نیکیا ں ملتی ہے تو اس لیے ہم قا ری عاصم کی قر ات پر پڑ ھ رہے ہیں تو کیا ہمیں دس نیکیاں ملتی ہیں یا کم ؟( دس ) کیو ں قرات اگر چہ ایک کی لیکن قرآن تو پورا پڑ ھا گیا ہے ۔

سنت کے چا رطریقے :

اسی طریقہ سے اللہ کے نبی پا ک ﷺ کی سنت کے چا ر طریقے ہیں ان سے ہم حنفی طریقہ پر نماز ادا کر رہے ہیں تو ہمیں پو ری سنت پر عمل کر نے کا ثوا ب مل رہا ہے جیسے یہ کہنا کہ دس قراتیں ہیں ، ایک قرات پڑ ھنے والے کو دسوا ں حصہ ملتا ہے ثو اب کا نواں حصہ نہیں ملتا اسی طرح یہ دھو کہ دینا کہ چا ر مذ اہب ہیں ایک امام کی تقلید پر چو تھا حصہ دین پر عمل ہوتا ہے اور تین حصے ر ہ جاتے ہیں یہ ایک دھو کہ ہے اور کچھ بھی نہیں ۔

تو ہر امام نے پور ی سنت کو مر تب فرمایا ہے اس طرح ایک امام کی تقلید کر نے سے پوری سنت پر اللہ تبا رک وتعالی عمل کر نے کا ثوا ب عطا فرما رہے ہیں اس لئے کہ ہم پو ری سنت پر عمل کر رہے ہیں ۔

اب عوا م کے سا منے اس طرح کی باتیں کر نا کہ چار ٹکڑ ے ہو گئے دین کے چا ر امامو ں نے کر دئیے آپ میں سے کوئی حا جی صاحب تشر یف فرما ہے یہاں ؟تو میں پو چھتا ہو ں کہ آپ جو حج کر کے آ ئے ہیں وہا ں تو چا ر ٹکڑ ے ہیں آپ کوکو ن سا ٹکڑا ملا ہے پہلا یا دوسرا یا تیسرا یا چو تھا ؟تو آپ یہی کہتے ہیں کہ ہم تو پورا حج کر کے آئے ہیں کتنی نماز یں فرض ہیں ؟( پا نچ ) ان میں سوا نماز حنفی پڑ ھتے ہیں اور سوا شا فعی پڑ ھتے ۔سواسوا ہے ناچار ٹکڑے جو ہو گئے دین کے رمضا ن کے مہینے چا ر ہفتے میں تو حنفی پہلے ہفتے میں رو زہ رکھتے ہیں یا دوسرے ہفتے کے ؟( سا رے ) آپ کیسے کہتے ہیں سا رے ؟وہ جھو ٹ بو لتے ہیں کہ چار ٹکڑے ہو گئے ؟ جب آپ پو رے رمضا ن کے رو زے رکھتے ہیں پورا حج کر تے ہیں پو ر ی نما زیں پڑ ھتے ہیں ، پھر یہ دھو کہ دینا کہ ائمہ نے دین کے چار ٹکڑ ے کر دئیے تھے ! آپ پورا قرآن پڑ ھتے ہیں کو ئی کہتا ہے کہ قاری صا حبا ن نے دس ٹکڑ ے کر دئیے ہیں قرآن کے ؟ (نہیں )

گو جر نوا لہ سے ایک کتا ب چپھی اس کا نا م رکھا ہے ایک دین چا ر مذہب میں نے کہا کہ آ پ پہلے لکھتے ہیں کہ ایک قرآن دس قراتیں پھر فقہ کی بار ی آ نی چا ہیے تھی نا ؟ (جی )آپ نے وہاں سے شروع کیوں نہیں کیا ؟ایک نبی اور صحا ح ستہ یہ بھی لکھ دیتے اب یہ صرف خا لص دھو کہ ہے اور کچھ بھی نہیں ۔

ہم حنفی کیوں ہیں ؟

ہمیں پو چھتے ہیں کہ آ پ کا مذ ہب کیا ہے ؟ہم کہتے ہیں کہ حنفی جی محمد ی کیو ں نہیں؟ میں نے کہا کہ آ پ نے پو چھا کیا ہے ؟کہ مذ ہب میں نے کہا کہ مذ ہب کا معنی راستہ ہو تا ہے ہمارا مذ ہب حنفی ہے ہماری منز ل محمدی ﷺ ہے راستہ جو ہوتا ہے وہ خو د مقصود نہیں ہوتا راستہ تو کسی منز ل تک پہنچا نے کے لیے بتا یا جاتا ہے مذ ہب پو چھنے کا مطلب یہی تھا کہ آپ بر اہ راست اللہ کے نبی ﷺ کے سا تھ نہیں مل سکے تو آپ کے پا س نبی ﷺ پا ک کی سنت کس راستے اور واسطے سے پہنچی ہے ؟ یہی مقصد تھا نا ؟تو جب مذ ہب آپ نے پو چھا تو ہم نے مذ ہب بتا دیا کہ ہمارا مذ ہب حنفی ہے اور ہماری منز ل کیا ہے ؟( محمد ی ) تو مذ ہب کا معنی میں نے کیا بتایا ہے ؟( راستہ ) میں آپ سے پو چھتا ہوں کہ آپ کے ملک کے بھی راستے ہیں یا نہیں ؟( ہیں ) یہ راستے چلنے کے لیے ہو تے ہیں یا لڑ نے کے لیے ؟( چلنے کے لئے ) تو مذ اہب اربعہ بھی چلنے کے لیے ہیں لڑ نے کے لیے نہیں یا د رکھنا میں آپ سے پو چھتا ہوں اگر کوئی شخص ملک کے رستوں کو توڑتا ہے تو وہ ملک کا وفا دار ہے یا غد دا ر ہے ؟(غد ار ہے ) جس طرح ملک کے راستوں کو تو ڑ نے والا غد ار ہے تو نبی ﷺ کی سنت کے رستوں کو توڑ نے والا نبی ﷺ کا غدار ہے ، ان رستوں کے بغیر ہمیں سنت نہیں ملتی ، تو میں نے کیامعنی بتا یا مذ ہب کا ؟( راستہ ) یا د رہے گا ، یا نہیں ، ( یا د رہے گا ) اور راستے کس کا م کے لیے ہو تے ہیں ،( چلنے کے لیے ) کہا ں پہنچا تے ہیں ؟(منز ل پر ) اب آپ کے ملک کے راستوں پر سرکا ری لوگ بھی سفر کرر ہے ہیں غیر سر کا ری بھی نیک بھی سفر کر رہے ہیں اور گنا ہ گا ر بھی اگر کوئی شخص یہ راستہ چھو ڑ کر جھا ڑ یو ں میں چھپتاپھرے ،نا لیوں میں بھٹکتا پھر ے تو پو لیس والے کہتے ہیں کہ یہ آ وا رہ گر د ہے اور ہم کہتے ہیں کہ غیر مقلد ہے ، کیو نکہ جس را ستے پر ملک کے سا رے طبقے چل رہے ہیں وہی اصل راستہ ہے یہ مذ اہب وہ ہیں جن پر ہز اروں اولیاءاللہ چلے ہز اروں سلا طین حنفی گز رے ہز ارو ں مفسر ین ہز اروں محد ثین کروڑو ں عوام ان راستوں کو اگر کوئی چھو ڑ کر جھا ڑیوں میں چھپنے کی کو شش کر ے نا لیوں میں لیٹنے کی کو شش کرے تو اسے آ وارہ گر د نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے ۔

قرآن اور صاحب قر آ ن :

ہم اہل سنت ہیں اور میں نے سنت کا مطلب بتا یا رسول اکر م ﷺ کا وہ نمو نہ عمل اور وضا حت سے عر ض کر وں کہ یو ں سمجھ لیں کہ قرآ ن دو ہیں ایک لفظی قرآن اور ایک عملی قرآن کی تفسیر حضرت محمد ﷺ کا نمو نہ عمل ہے یہی آپ کا نمو نہ عمل قرآن کا پہر ے دار ہے جو کچھ تشر یح حضرت کی پا ک سنت سے ہو گئی اس کے خلاف کو ئی تشریح قابل اعتما د نہیں اور حضرت نے اپنی سنت کے ایک لا کھ سے زائد نمو نے تیا ر کردیئے اپنی نگرا نی میں وہ ایسے نمونے تھے جن کے بارے میں اللہ تبا ر ک وتعا لی کی طر ف سے آ گیا ، او لئک ھم المومنو ن حقا ، رضی اللہ عنہم ورضو عنہ ، اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ تعالی سے راضی ہیں ان کو ما ننے کی وجہ سے ہمارے نا م میں لفظ والجما عت ہے جب کہ کسی فر قے کے نا م میں لفظ والجماعت نہیں کو ئی یہ نہیں کہتا کہ میں اہل قرآن والجماعت ہو ں ، کبھی سنا آ پ نے ؟میں اہل اعتزال والجماعت ہوںمیں اہل شیعہ والجماعت ہوں میں اہل حدیث والجماعت ہوں کوئی بھی نہیں کہتا ۲ ۷ فرقے آپ کے نا م پر اعترا ض کر تے ہیں کہ آپ اپنے نا م اہل سنت کے سا تھ والجما عت کیو ں کہتے ہیں جبکہ کوئی اور فرقہ نہیں کہتا ، اور وہ تو بات بگا ڑ نا جا نتے ہیں و ہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بتا کہ قرآن کا مل ہے اللہ کے نبی کی سنت بھی کا مل یا نا قض کیا خیال ہے آپ کا ؟( کا مل )اگر سنت کامل ہے تو اہل سنت بھی نام کا مل ہو نا چاہئے یا ناقص؟(کامل) پھر کہتے ہیں کہ والجماعت کیو ں جوڑا ہے آپ نے ؟وہ کو ن سا نقص ہے جس کو والجما عت کے ساتھ آپ نے پورا کیا ہے ؟آپ کے نا م پرفرقو ں کا یہ اعتراض ہے ۔

اعترا ض کا جوا ب :

تو اس اعترا ض کا جواب ہمیں سمجھ لینا چا ہیے کہ نہیں؟ ( سمجھ لینا چا ہیے ) ہم کہتے ہیں کہ سنت کا مل ہے ، یہ والجما عت کا لفظ سا تھ اس لئے نہیں ہے کہ سنت میں کو ئی نقص تھا ، اس دنیا میں ایک عجیب طریقہ ہے کہ یہاں لو گ نقلیں بنا نا شروع کر دیتے ہیں اور معا ف کسی کو نہیں کرتے خد ا کے مقا بلے میں جھو ٹے خدا بنا ئے گئے ہیں یا نہیں ؟( بنا ئے گئے ) سچے نبیو ں کے مقا بلے میں جھوٹے نبی بنائے گئے ہیں یا نہیں ؟( بنائے گئے ) سچے اولیا ءاللہ کے مقا بلے میں جھوٹے ملنگ بٹھا ئے گئے یا نہیں ؟( بٹھا ئے گئے ) سچے علما ءکے مقا بلے میں دنیا دا ر بنا ئے گئے یا نہیں ؟( بنائے گئے ) دوا ئیں جعلی بنا ئی گئیں ۔

اللہ کے پا ک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لوگ میر ی سنت کو بھی رہنے نہیں دیں گے اس کی بھی نقلیں بنا نی شروع کر دیں گے ایک دو نقلیں نہیں ۲ ۷ نقلیں بنیں گی اب ۲ ۷نقلیں ہیں دوائی میں تو دھوکہ ہو گیا جعلی کمپنی مل گئی چارروپے یا دس روپے ضائع ہوئے تو اس کا کوئی نقصا ن بھی ہوا تو اس کا تدا رک بھی ہو سکتا ہے ، تو اللہ کے نبی ﷺکی سنت جس پر دنیا جہا ں کی کا میا بیوں کا دار ومدا ر ہے تو اس کی بجا ئے اگر ہمیں کوئی جعلی چیز مل جا ئے تو نہ ہماری دنیارہی نہ آخر ت رہی ، قبربھی خرا ب حشر بھی خراب ، تو جس طرح ہم یہ نہیں چا ہتے کہ یا اللہ دس روپے کا انجکشن لینا ہے دس روپے کھر ے دے رہا ہوں کہیں جعلی دوا ئی نہ مل جائے کسی آ دمی کا دل چاہتا ہے یہ ؟( نہیں ) تو ہر آ دمی کی خواہش ہے کہ اللہ کے نبی کی صحیح سنت ہمیں مل جائے ، ان کا صحیح طریقہ ہمیں مل جائے اب وہ کہا ں سے ملے ؟ہر آ دمی کہ رہا ہے کہ میرے پا س ہے دو سرا کہ رہا ہے میرے پا س ہے ، اور آپ نے محاورہ سنا ہے کہ :

تھو تھو چنا با جے گنا ۔

جو زیا دہ جھوٹا ہے وہ شو ر زیا دہ مچا رہے بڑ اشتہا ر شا ئع کرتا ہے ۰ ۵ ہز ار۰ ۵ ہز ار اور جوسچے ہیں وہ چیلنج با زیا ں نہیں کر تے ، تو شیخ سعد ی کی ایک بات ان کو یا د ہو گئی ہے وہ لے کر بیٹھے ہیں ۔

مشک آنست کہ خو د بیو ید نہ کہ عطا ر بگو ید ،

کہتے ہیں کہ جب ہمارے پاس سچا دین مو جود ہے تو جن کی عقل صحیح ہے وہ انشاءاللہ پہنچ جا ئیں گے ، ان کو خو شبو آ جا ئے گی ہمیں کہتے ہیں کہ یہ چیلنج با زی کی ضرورت نہیں اشتہا رات کی ضرورت نہیں اس پر قنا عت کر کے بیٹھے ہیں ۔

تو رسول پا ک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب یہ ۲ ۷ نقلیں بن جا ئیں گی تو اصل کس کے پاس ہو گی ما انا علیہ واصحا بی ۔

اب ایک آ دمی آپ کو حدیث سنا ر ہا ہے ،آ پ پو چھتے ہیں کہ یہ جوآ پ نے مطلب نکا لا ہے یہ کہاں سے لیا ہے ، کہتا ہے کہ میں نے سمجھا ہے دوسرا کہتا ہے کہ میں نے سمجھا ہے تیسرا کہتا ہے کہ میں نے سمجھا ہے اس طرح ۲۷ تک میں میں کی آ واز آ رہی ہے ہمیں نبی پا ک ﷺ نے سمجھا دیا کہ یہی تو لڑا ئی کی بنیا د ہے ۔

پہلا غیر مقلد اس لئے رد ہواتھا انا خیر منہ میں کہ کر گر گیا اسی ”میں“نے اس کو بر با د کیا تھا ، تواس لئے یہ” میں “مار ڈالے گی وہ کہتا ہے کہ میں نے سمجھا یہ کہتاہے کہ میں نے سمجھا ،

ہما رے نا م میں سنت کے سا تھ والجماعت ہے ہم کہتے ہیں کہ سنت نبی کی ہے سمجھنا صدیق کا ہے سنت نبی کی ہے سمجھنا فاروق کا ہے سنت نبی کی ہے سمجھنا خلفا ءکا ہے عشرہ مبشر ہ کا سمجھنا ہے ، فہم بدروالوں کا ہے ،احدوالوں کا ہے ،بیعت رضوا ن والو ں کا ہے تویہ والجماعت اس لئے نہیں کہ سنت میں نقص اور کمی تھی بلکہ میں کے مقا بلے میں جو کہتے میں ہیں ان کے مقا بلے میں صحا بہ کی والجماعت مانتے ہیں ۔

آپ بازا ر میں جاتے ہیں تو لکھا ہو تا ہے نقا لوں سے ہو شیا ر رہیں لکھا ہوتا ہے نا؟( جی ) جوشخص یہ کہتا ہے کہ میں محمدی ہو ں ابو بکر ی نہیں وہ نقال ہے ؟سچا محمد ی بننے کے لیے ابو بکر ی بننا ضرور ی ہے عمر ی عثما نی ، علو ی ، بننا ضرور ی ہے ۔

ہم علی الا علا ن کہتے ہیں خد اکوہندو بھی ما ننے کا دعو یٰ کر تے ہیں عیسا ئی بھی سکھ بھی یہو دی بھی لیکن خد ا کو ما ننے کا صحیح ایک ہی طریقہ ہے جس طر ح حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ما نا ہے اس طرح اللہ کے نبی پا ک ﷺ کو ما ننے کے دعو ے دار ۲۷ ہیں لیکن سچا ما ننے والا وہی ہے جس نے صحا بہ کے طریقے پر آپ کو ما نا ہے جو خدا کو نبی سے الگ کر کے سمجھنا چا ہتا ہے وہ خدا کا نا م لے کر دھو کہ دے رہا ہے جو نبی کو صحا بہ سے الگ کر کے سمجھنا چاہتا ہے وہ نبی کا نام لے کر لو گو ں کو دھو کہ دے رہا ہے ۔

ایک مجھے کہنے لگا میں تو محمدی ہو ں ابو بکری نہیں ، میں نے کہا ٹھیک ہے ، تیرے جیسا پہلے بھی محمد ی گزرا ہے عبدا للہ بن سبا تو عبداللہ بن سبا جیسا محمد ی تو بن سکتا ہے عبد اللہ بن مسعود ؓ جیسا محمد ی نہیں بن سکتا ، تو عبد اللہ بن ابی جیسا محمدی تو بن سکتا ہے لیکن عبداللہ بن عمر جیسا محمد ی نہیں بن سکتا ، تو اس لئے ہمارے نا م میں لفظ والجما عت بھی ہے کیو نکہ اللہ کے پاک پیغمبر نے پوری جماعت تیا رکی ہے سنت کے لیے کتاب نہیں لکھوا ئی ،

خیا ل منا ظر ہ :

وہ پچھلے دنوں ایک منا ظر ہ تھا ، جب شر ائط طے ہو نے لگیں میں نے کہا کہ دیکھیں اپنی دلیل کی پا بند ی کر نی ہے آپ کہتے ہیں کہ ہم قرآن اور حدیث کے سوا کچھ نہیں مانتے ٹھیک ہے میں نے کہا کہ ہم چا ر دلیلیں ما نتے ہیں کتا ب اللہ سنت رسول اللہ ﷺ اجماع امت ، قیا س شرعی ، کتاب کی حیثیت با لکل ایسی ہے جس طر ح ملک کے آئین اور متن کی ہوتی ہے سنت رسول اللہ ﷺ کی پو زیشن وہی ہے کہ خو د قانون ساز اسمبلی اپنے قانون کی کسی قابل تشر یح چیز کی تشر یح کر دے اب اس کے خلاف کسی کی نہیں سنی جائے گی قیاس شرعی کی وہی حیثیت ہے کہ ہا ئی کورٹ کا چیف جسٹس قا نون سے فیصلہ استنبا ط کر کے مسئلے کا فیصلہ دے ملک اس فیصلے کو اتنی اہمیت دیتا ہے کہ وہ قانون کی کتاب P .L.D میں محفو ظ کر لئے جاتے ہیں جتنے ما تحت جج ہیں ملک کے وہ سا رے اس کے حوا لے سے فیصلہ لکھتے ہیں P,L,Dکے حوا لے سے اور اگر یہ جسٹس نہیں پورا فل بینچ بیٹھ گیا ہے وہ استنبا ط کر کے فیصلہ کر رہے ہیں آپ قانون میں اس کو کہتے ہیں سپر یم کورٹ ہمارے ہا ں کہتے ہیں اجما ع امت اب میں آپ سے پو چھتا ہوں کہ جو آ دمی جسٹس کے فیصلے کو تسلیم نہیںکرتا وہ قا نون کا باغی ہے یا نہیں ؟(ہے )جو آدمی سپریم کو رٹ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کر تا وہ باغی ہے یا نہیں (ہے ) کیو نکہ ملک میں فیصلو ں کا نفاذ تو ان عدالتوں کے ذ ریعہ ہونا ہے جوان عدالتوں کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا وہ باغی ہے اب در مختا ر ہے ہدا یہ ہے اس کی با لکل وہی مثا ل پو زیشن ہے جو P,L,D کی پو زیشن ہے ماتحت جج صا حبا ن جو ہیں سنیئر سول جج وغیرہ ان کی حیثیت آپ کے ہاں مفتی صا حبا ن کی ہے جیسے وہ P,L,Dکا حو الہ دے کر لکھتے ہیںیہ فتویٰ میں قال ابو حنیفہ کہ کر لکھتے قال صاحب درمختار کہہ کر لکھتے ہیں قا ل فی الھدا یہ کہ کر لکھتے ہیں جس طر ح P.L.Dکی حیثیت کو مجروح کر نا قانو ن سے بغا وت ہے اسی طرح اسلا می فقہ جو ہے قانون کی کتابیں اس کے خلاف کہنا بغا وت ہے ۔

سند یا فتہ کو ن ؟

تو ہم اہلسنت والجماعت حنفی ہیں ہما رے نا م کی متصل سند بھی ہے سنت میں نسبت اللہ کے نبی پا کﷺ سے ہے والجماعت میں نسبت آپ کے صحابہ کے سا تھ ہے اورحنفی میں سید نا امام ابو حنیفہ کے سا تھ ہے صحا بہ نبی کے سا تھ تھے سند متصل ہے یا کٹی ہو ئی ہے ؟( متصل ہے ) صحا بہ برا ہ راست نبی سے ملے یا نہیں ؟( ملے ) امام اعظم ابو حنیفہ ؒبھی برا ہ راست صحا بہ سے ملے ہیں ہمارے مسلک کی سند متصل بھی ہے اور عجیب بات ہے کہ صرف مشا ہد ہ پر مبنی ہے صحا بہؓ نے اپنی آ نکھو ں سے نبی پا ک کو نماز یں پڑھتے دیکھا ہے میر ے امام نے اپنی آ نکھو ں سے صحا بہ کو نمازیں پڑ ھتا ہو دیکھا ہے الشا ہد ما لا یرا ہ الغا ئب تو یاد رکھنا ہم سند والے ہیں وہ بے چا رے بے سند ہیں ۔

جب کو ئی غیر مقلد بات کر ے تو پہلے تین دفعہ یہ کہ لیا کریں کہ اللہ کا شکر ہے ہم سند والے ہیں اور وہ بے سند ہیں عجیب بات یہ ہے کہ سند والوں پر بے سند ے اعتراض کرتے ہیں

لطیفہ :

کہتے ہیں کہ کسی گا ں میں سارے نا ک کٹے ہو ئے تھے وہا ں ایک نا ک والا مہما ن چلا گیا، تو انہوں کہا  کہ اگر ہم نہ بو لے تو یہ ہماری بے عز تی کر ے گا تم شور مچا دو نا کو آیا نا کو آیا یعنی نا ک والا آ گیا اتنا شور مچا یا انہوں نے یہ سمجھا کہ شا ید نا ک بھی کوئی عیب ہے وہ ناک چھپا کر وہا ں سے بھا گا ۔

تو یہی حا ل یہ حضرات ہمارے سا تھ کر رہے ہیں حدیث کی کتابیں ہماری فقہ کی کتا بیں ہماری فتویٰ ہمارے پلے ان بے چاروں کے پاس کچھ نہیں پھر بھی گنا ہ ہم پر ۔

تین الفاظ تین مقاصد :

یہ تو تین لفظ ہیں ان میں تین مقا صد ہیں اہلسنت میں نسبت کن کی طر ف ہے (اللہ پا ک کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ) اللہ نے ہمارے نبی سے ایک ایساکا م لیا جو پہلے کسی نبی سے نہیں لیا وہ کیا تھا ۔تکمیل دین کا اعلا ن حضرت آ دم علیہ السلا م سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلا م تک کسی پیغمبر نے یہ اعلا ن نہیں فرمایا تھا تو ہمارا دین کا مل ہے اگر اسی بات پر آپ سو چ لیں اسی ایک بات کو پکڑ لیں دنیا میں کوئی مائی کا لا ل آ پ سے بات نہیں کر سکے گا ۔

نماز جنا زہ اور غیر مقلدین :

وہ آپ کو کہیں کہ آ پ کی نماز جنا زہ غلط ہے تو آپ کہیں اچھا پوری نمازدکھا دیں ، اب یہ اس کے بس کی بات نہیں ایک نوا جوا ن مجھے کہنے لگا کہ میری شا دی غیر مقلدوں کے ہاں ہوئی ہے تو وہ باتیں کرتے ہیں اور وہا ں فوتید گی ہو گئی ہے میں وہاں جا رہا ہوں میں نے کہاٹھیک ہے ان سے کہنا کہ پہلی تکبیر کے بعد ثنا تعوذ تسمیہ فا تحہ آمین اور سورت یہ پڑ ھتے ہیں چھ چیز یں اسی تر تیب سے پہلی تکبیر کے بعد ہمیں کسی حدیث میںدکھا دیں دوسری تکبیر کے بعد خا ص درود ابرا ہیمی بھی ہو اور تیسری کے بعد سو لہ سترہ دعا ئیں یہ سو لہ ستر ہ دعا ئیں پڑ ھتے ہیں نا ؟ایک نہیں پڑ ھتے کہ حضرت نے کبھی سو لہ ستر ہ دعا ئیں پڑ ھی ہوں میں نے پو چھا کہ آپ کیوں اتنی دعا ئیں پڑ ھتے ہیں کہ جی میت والے خو ش ہو جائیں اس لئے ہم ساری دعا ئیں اکھٹی کر لیتے ہیں تو میں نے کہا کہ ثنا ءکے بھی بہت سے صیغے ہیں خدا کو خوش کر نے کے لیے وہ بھی سا رے پڑ ھ لیا کریں کیو نکہ اللہ کو بھی خوش کر لینا چاہیے اور درود بھی چا لیس سے زائد ہیں وہ بھی سا رے پڑ ھ لیا کریں تاکہ اتنی دیر میں اور بھی جنازے تیا ر ہو جائیں آدمی اسی میں لگا رہے اللہ بھی خو ش ہو جائے اللہ کا رسول بھی خوش ہو جائے اور میت والے بھی خوش ہو جائیں اور جن کے نئے جنا زے بھی آ جا ئیں وہ بھی خوش ہو جائیں چو تھی تکبیر کے بعد سلا م بھی آپ دکھا دیں ۔

انہو ں نے کیا کیا کہ جا کر پو چھا کہ جی آپ جو نماز جنا زہ پڑ ھتے ہیں یہ کہاں ہے؟صحیح بخا ری شر یف میں ہے ، اس نے کہا کہ ذرا ہمیں دکھا دیں میں دکھاتا ہوں اند ر گیا حکیم محمدصادق سیا لکو ٹی کی کتاب الصلو ٰة لر سول کتا ب لے کر آگیا ، اس نے کہا کہ یہی بخاری شریف ہے آ پ کی کہتا ہے کہ بخا ری شر یف یہاں نہیں ہے ، دوسری مسجدمیں ہے اس نے کہا کہ آپ مجھے بخا ری شر یف دکھا ئیں لا کر میں نے اس کو سمجھا کر بھیجا کہ تھا اس نے کہا کہ اگر آپ مجھے بخار ی میں مکمل جنا زہ دکھا دیں میں غیر مقلد بھی ہوتا ہوں اور دس ہز ار روپیہ آپ کو انعا م بھی دیتا ہوں ۔

ہمارے تو تعلیم الا سلا م میں پورا جنا زہ لکھا ہوا ہے ، اب اس کو غصہ آیا کہ دیکھو کیا کہ رہا ہے ، دوسر ے مد رسہ میں گیا اور بخا ری شر یف سے جنا زہ دکھا نا ہے لایا ، اب کتا ب الجنائز تو کئی صفحے ہیں لیکن جنازہ نہیںاس میںدیکھتا رہا دیکھتا رہا مل گیا ، کیا ملا ؟

حضرت نجا شی کی نماز جنا زہ پڑ ھا ئی چا رتکبیر کہیں اس نے کہا ٹھیک ہے اس نے بھی چا دفعہ کہا اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، کہا کہ آپ کا جنا ز ہو گیا ہے ؟ہم تو اتنا ہی پڑھیں گے کیو نکہ بخا ری میں ملا ہے ، اس سے زیا دہ نہیں بڑا پر یشا ن پسینہ بہ رہا ہے بے چا رے کا کہاکہ اچھامیں اور کتا ب لا تا ہوں کہتا ہے پہلے جھوٹ کیو ں بو لا تھا ، بخا ری شر یف کا نا م لے کر پھر کہنے لگا فا تحہ کا لفظ بھی ہے یہ اللہ پا ک کے نبی کی حدیث میں ہے یا صحا بی کے قول میں ہے ، اس نے کہا کہ نبی کی حدیث تو نہیں صحا بی کا قو ل ہے ، اس نے کہا پھر آپ لکھ دیں کہ ہم چا ر تکبر یں تو نبی پاک کے جنا زے والی کہتے ہیں اور جو فاتحہ پڑ ھتے ہیں یہ صحا بی کا قول ہے ۔

اور یہ بخا ری سے دکھا ئیں کہ فاتحہ پہلی تکبیر کے بعد ہے یا دوسری تکبیر کے بعد یا تیسر ی تکبی کے بعدحدیث سے دکھا ئیں اب یہ وہاں ذکر ہی نہیں ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد فا تحہ ہے یا دو سری کے بعد ہے یا تیسری کے بعد ہے یا چو تھی کے بعد ہے جنا زے پڑ ھنے جا تے وقت راستے میں پڑ ھنی ہے یا واپس آ کر پڑ ھنی ہے ، وہ مجھے تکبیر بتا دے تا کہ میں لوگوں کو بتاں کہ جو جنا زہ پڑ ھ کے آ یا ہوں وہ خا لص نبی والا جناز ہ نہیں تھا کچھ نبی والا تھا کچھ امتی والا تھا اور چا ر تکبیر ہو گئیں ایک فاتحہ ہو گئی اس میت کے لیے کچھ نہیں کوئی دعا بھی نہیں بخاری میں اب اس نے کہا کہ اچھا آپ کل تک ٹھہر یں اس نے کہاکہ میں ہفتہ ٹھہر جا تا ہوں اس میں کو ن سی بات ہے میں ایک ہفتہ رہتا ہوں میرے تو سسرا ل کا گھر ہے ویسے بھی آپ کو پتہ ہے کہ سسرا ل کے گھر میں اچھی خد مت ہو تی ہے تر و تا زگی بھی ہوتی ہے کہتے ہیں میں کہ مو لو ی صاحب یو ں غائب ہو ئے چھ دن میں وہاں رہا ہر نماز کے بعد لو گ مجھ سے لڑ یں کہ تونے ہمارا مو لو ی بھگا دیا ہے میں کہتاتھا کہ یا تو بے چا رہ کہیں مر گیاہے اس کو تو جنا زہ ہی نہیں آتا تھا پڑ ھیں گے کیا ؟کیو نکہ جو جنازہ ان کو پسند ہے وہ ہمیں نہیں آتا۔

جو تعلیم الا سلا م میں لکھا ہے وہ ان کو پسند نہیں تو آپ ان کو کسی حدیث پر پکڑ لیں نماز مکمل سکھا دیں بس ختم ہو جائے گا ، حا لا نکہ دین ہمارا کا مل ہے آ ج تک تکبیر تحر یمہ سے آگے تک کوئی نہیں نکلا ۔

میلسی میں خطا ب :

میں میلسی میں بیٹھا تھا تو تین چا ر آ گئے غیر مقلد ان کا طریقہ دیکھو کیسا عجیب ہوتا ہے بیٹھ گئے یا اللہ تیر ا لا کھ لا کھ شکر ہے ، یہ الفا ظ پا نچ چھ مر تبہ کہے مجھے تو پتہ تھا کہ انہوں نے کہنا ہے میں نے کس با ت پر شکر ادا کرر ہو ہے ؟بس جی امتیوں سے جان چھوٹ گئی ہم تو نبی والی نماز پڑ ھتے ہیں میں نے کہا کیوں جھو ٹ بو ل رہے ہو ؟کہا یہ جھوٹ ہے ؟میں نے کہا کہ با لکل میں نے کہا کہ آپ تو تکبیر تحر یمہ کے مسا ئل ہی مجھے حدیث میں نہیں دکھا سکتے کیسے میں نے کہا یہ بتا کہ تکبیر تحر یمہ فرض ہے وا جب ہے یا سنت ہے ؟ایک کہنے لگا فرض ہے ، فرض کہا ں سے ثا بت ہوتا ہے ؟کہتا ہے قرآن سے میں نے کہا کہ وہ آ یت نکا ل دیں جس میں لکھا ہوا کہ تکبیر تحر یمہ فرض ہے ، قرآن میں نہیں ہے ایک کہتا ہے کہ تو نے یہ کہا تھا ، ؟دوسرا کہنے لگا کہ نہیں جی وا جب ہے ،میں نے کہا کہ آ پ واجب کا لفظ دکھا دیں ، ہم نے کو ن سا لڑ نا ہے ، کہنے لگے کہ سنت ہے ، آ پ سنت کا لفظ دکھا دیں ، قرآن یا حدیث سے دکھا ئیں چو تھا کہتا ہے کہ نہ فر ض ہے نہ واجب ہے نہ سنت ہے میں نے کہا آپ یہی دکھا دیں کہ تکبیر تحر یمہ نہ فر ض ہے نہ واجب ہے نہ سنت ہے ۔

اب وہ بڑ ے حیرا ن کہ کہا ں جائیں ؟کہا کہ چلو ہم لکھ لیتے ہیں ہم حدیث لائیں گے ، میں نے کہا ٹھیک ہے دوسرا میں نے کہا کہ آپ امام مسجد ہیں ؟کہتا ہے کہ نہیں جی، میں نے کہا کہ جب آپ اکیلے نما ز پڑ ھتے ہیں تو آپ تکبیر تحریمہ بلند آواز سے کہتے ہیں یا آ ہستہ آواز سے ؟( آ ہستہ ) میں نے کہا کہ ذرا اس کی حدیث دے دیں ۔

خا مو ش کہا کہ ہم یہ لکھ لیتے ہیں ، میں نے کہا کہ یہ لا کھ لا کھ شکر کس با ت پر ہو رہا تھا ، جس کوتکبیر تحر یمہ نہیں آ تی تو تو کہ رہا تھا ، یا اللہ تیر ا شکر ہے تکبیر تحر یمہ بھی ہمیں نہیں آتی ہے تو جو لوگ بے چا رے ہمیں نماز کی شر ائط نہیں بتا سکتے ان کو کیا حق ہے ؟

ایک واقعہ :

لا ہور میں ایک دفعہ بات ہوئی کالج کے لڑ کے چلے گئے کہ ہمیں نماز سکھا دو ، پو ری دکھا ، اس نے پو چھ لیا کہ نماز کے شرا ئط کتنی ہیں ؟واجبات کتنے ہیں ؟وہ سمجھ گئے یہ پڑ ھا ہوا ہے کچھ پو چھا کہ کہا ں رہتا ہے اس لڑ کے نے کہا اوکاڑہ میں غیرمقلد ین مو لو ی نے کہا او کاڑہ میں چلا جایہاں سے لڑ کے نے کہا کیو ں جی اوکا ڑہ والے اللہ کے نبی پا ک کی امت میں نہیں ہیں ؟ان کو نبی پا ک والی نما ز سکھا نی گنا ہ ہے ؟بس ہمیں پتہ ہے تو جاتا ہو گا اس شیطا ن کے پا س اس نے کہا وہ شیطا ن کیسے وہ تو فقہ کو ما نتا ہے

جا کو ئی نماز سیکھنی ہے تو مو لا نا عبدا للہ در خو استی کو لا لڑ کے نے کہا حضرت پہلے مجھے سکھا دیں بعد میں ان کو کیا واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سیکھنے والے کو کہا کر تے تھے کہ نماز سیکھنی ہے تو بڑ ے کو سا تھ لا یہی کسی حدیث میں دکھادیں ۔

مناظر ے کا حا ل :

پیر بد یع الد ین شا ہ سے منا ظرے میں ، جب منا ظر ہ شروع ہوا تو اس نے قرآن ہا تھ میں لیا ، یہ میرے ہاتھ میں قرآن ہے میں بھی خو ش ہوا کہ آج پہلا منا ظر ہ ہے جس میں غیر مقلد وں نے قرآن ہا تھ میں لیا ہے ، ور نہ ہر مسئلے میں قرآن ہمارے ساتھ ہے ان کے سا تھ نہیں ہے اب میں سو چتا تھا کہ قرآن سے کوئی آیت پڑ ھے گا کہ اجتہا دی مسائل میں مجتہد کی تقلید نہیں کر نی چا ہیے ۔

مگر اس نے یہ کہنا شروع کیا اس میں فر عو ن کا لفظ ہے اس میں ابو حنیفہ کا نا م نہیں ہے ، اس میں قارون کا ذکر ہے اس میں تقلید کا لفظ نہیں ہے ، اب یہ اس کا طر ز تھا بڑ ے نعر ے لگ رہے تھے ، مسلک اہل حدیث زند با د خیر اس نے کہاکہ اس میں کتے کا ذکر ہے تقلید کا نہیں ہے ، مسلک اہل حدیث زند با د میں نے کہا یہ آ د می خطر نا ک ہے وہ کہتا ہے ہم قرآن ما ننے والے ہیں ہم کیاما نیں ان لوگو ں کی بات ؟

میں نے کہا کہ سو چتا تھا کہ مو لا نا کو ئی آ یت پڑ ھیں گے لیکن مو لا نا نے جو انداز اختیا ر فرمایا ہے اگر یہی انداز ہے تو مو لا نا فرمائیں کہ چو نکہ قرآن میں جناز ے کالفظ نہیں ہے اس لئے جب میں مر جا ں تو مجھے اسی طر ح پھینک دینا بغیر جنا زے کے کیو نکہ میں نے تقلید سا ری زند گی اس لئے نہیں کی تھی کہ تقلید کا لفظ قرآن میں نہیں تھا ۔

اب قیا مت کے دن حضرت جی فر عو ن کو تلا ش کر تے پھر یں گے یا اللہ ! فر عو ن آج مل جائے کیونکہ فرعو ن کا لفظ قرآن میں تھا بخا ری سے بھا گیں گے کہ بخا ری کا لفظ قرآن میں نہیں ہے ، میں نے کہا کہ خنز یر کو تو تلا ش کریں گے یا اللہ ! آ ج خنز یر مل جائے میں ا س کے سا تھ ہی کہیں چلا جا کیو نکہ خنز یر کالفظ قرآن میں ہے لیکن تر مذی شریف کو ہاتھ لگا نے کے لیے تیار نہیں ہو ں گے کیو نکہ اس کا نا م قرآن وحدیث میں نہیں ہے عجیب بات ہے کہ جب فاقرو ما تیسر من القرآن آیت پڑ ھی جاتی ہے تو پھر اس کے بعد یہ مطا لبہ کو ئی نہیں کرتا کہ قاری حفص کا نا م دکھا ئیں گے تو ہم قرآن پڑ ھیں گے قا ری عا صم کا نا م دکھائیں گے تو ہم قرآن پڑ ھیں گے ور نہ نہیں پڑ ھیں گے ۔

اطیعو الر سول سے جب مراد واحد یث لی جاتی ہے تو کوئی مطا لبہ نہیں کرتا کہ حدیث کا لفظ قرآن میں دکھا پھر ہم حدیث پڑ ھیں گے ور نہ نہیں تر مذی ابو دا ود کا نا م کا حدیث میں دکھا تو ہم ما نے گے ور نہ نہیں مانے گے لیکن فقہ کے با رے میں ائمہ کے نا م کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ہمیں امامو ں کے نام دکھا جب ہم مانیں گے ور نہ نہیں ما نیں گے کہ جی فقہ حنفی کو اس لئے نہیں مانتے کہ یہ کوفہ سے آ ئی ہے میں نے یہ کہا قرآن بھی کوفہ سے آیا ہو ا ہے قاری عا صم بھی کوفی ہے قاری حفص بھی کو فی ہے تو پہلے اس قرآ ن کو طلا ق دو اس کو چھوڑ دو ۔

اب میں نے جب یو ں بیا ن کیا تو وہا ں ایک غیر مقلد پر وفیسر بیٹھے تھے کھڑ ے ہو گئے انہوں نے کہاکہ پیر صاحب نے بڑا غلط انداز رکھا ہے پہلے تو نعر ے لگتے رہے مسلک اہل حدیث زند ہ با د اب وہ کہنے لگے پیر صا حب نے غلط انداز رکھا تھا اس لئے ہم پیر صاحب سے مطا لبہ کرتے ہیں آ ئندہ آیا ت پڑ ھ کر مطلب بیا ن کردیں ، اس قسم کی جذ با تی اور غلط با تیں نہ کردیں ، امین صاحب سے بھی ہماری یہی در خواست ہے کہ وہ بھی اس قسم کی باتیں نہ کرے ۔

اب پیر صاحب اٹھے التقلید وظیفة الجا ہل میں پو چھنے کہ کس سورت میں کی آیت ہے ؟آپ نے تو قرآن وحدیث سنا نا ہے ، اب میں اس پر زیا دہ نہیں بو ل رہا تھا کہ میں اس کی بے اد بی نہ کر وں یہ عمر میں بڑا ہے آ دمی اس نے سمجھا کہ یہ بات لاجواب ہے اگلی تقریر میں پھر کہی التقلید وظیفة الجا ہل ، مقلد جا ہل ہوتا ہے میں نے کہا کہ چلو رہنے دو ایک دفعہ اور معا ف کردو ، اس نے سمجھا کہ شا ید یہی ایک بات ہے جو لاجواب ہے پھر کہا التقلید وظیفة الجاہل مقلد جا ہل ہوتا ہے میں نے کہا حضرت آپ بار بار فرما رہے ہیں کہ آپ یہ سمجھا دیں کہ کتنا یہ وظیفہ آ پ کی زند گی میں نمایا ں ہے ۔

وآخر دعو نا الحمد للہ رب العلمین

 

آن لائن مہمان

We have 13 guests and no members online