
اہمیت فقہ وعظمت امام اعظم ابو حنیفہ
حضرت مولا نا امین صفد ر اکاڑوی کا آخر ی خطا ب
مناظر اسلام تر جمانِ اہل سنت وکیل احناف
حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی
(خطبات صفدر،جلد دوم)
جامعہ خیرا لمدا رس ملتان میں تقریب ”ختم بخا ری کے موقع پر استا ذ مکر م
مناظر اہل سنت وکیل احناف حضرت مولا نا امین صفد ر اکاڑوی صاحب رحمة
اللہ علیہ نے تفصیلی خطا ب ارشادفر ما یا یہ جامعہ میں حضرت اکاڑوی صاحب
کا آخر ی خطا ب ہے جو ۳ ۱رجب المر جب ۱ ۲ ۴ ۱ھ مطا بق ۲ ۱ اکتوبر ۰ ۰ ۰ ۲برو ز جمعرا ت بعد از نماز عشا ءجا معہ کے وسیع وعریض پلاٹ میں ہوا اللہ تعالی مر حوم کے در جات بلند فرمائیں اور ہمیں حضرت کے نقش قدم پر چلنے کی تو فیق عطاءفرمائے آ مین .
الحمدللہ ، الحمد للہ وحدہ ،والصلوٰة والسلا م علی من لا نبی بعدہ اما بعد فقدقال اللہ تعالی فلو لا نفر من کل فرقة منھم طا ئفة لیتفقھوفی الدین وقال رسول ﷺ من یرد اللہ بہ خیر اً یفقہ فی الدین صدق اللہ مو لا نا العظیم وبلغنا رسولہ النبی الکریم ونحن علی ذلک من الشاھدین والشاکرین والحمدللہ رب العلمین رب ا شرح لی صدری ویسرلی امر ی واحلل عقدة من لسانی یفقہوا قولی رب زدنی علماً وارزقنی فھما سبحنک لاعلم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم ۔
اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد وعلی ال سیدنا ومولانا محمد وبارک وسلم وصل علیہ
برادران اہل سنت والجماعت ! یہ جامعہ خیر المدارس کی صحیح بخاری شریف کے ختم کی تقریب ہے ۔اور جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ مدرسہ ”جا معہ “ہے جس میں تمام علوم پڑھا ئے جا تے ہیں ۔علوم آلیہ بھی جیسے نحو ،صرف ،منطق وغیرہ اور علوم عالیہ بھی جیسے قرآن پاک احادیث اور فقہ ۔چونکہ یہ تقریب سعید صحیح بخاری شریف کے ختم سے متعلق ہے اور زیادہ توجہ طلباءکی طرف ہے اس لئے طلباءسے ہی میں دوچار باتیں عرض کروں گا۔ خاص طور پر وہ طلباءجو اس سال فارغ ہو رہے ہیں ۔
حدیث اور فقہ میں واضح فرق :
آپ نے ابتداءسے لے کر آخر تک ”کو رس“مکمل کیا ،اس میں صرف بھی پڑھی ،نحوبھی ،قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر بھی پڑھی اور فقہ وحدیث بھی پڑھی ۔آپ کے ذہن میں یہ بات ہونی چاہئے کہ حدیث اور فقہ کی کتاب میں واضح فرق کیا ہے ؟ آپ نے فقہ میں بھی یہی پڑھا کہ نبی اقدس ﷺ وضو میں کلی فرماتے تھے ،ناک میں پانی ڈالتے تھے ،چہرہ انور دھوتے تھے ،پاﺅں مبارک دھوتے تھے اور حدیث کی کتابوں میں بھی یہی پڑھا ۔لیکن اس کے باوجود ان میں (فقہ اور حدیث میں )ایک بہت واضح فرق ہے ۔وہ فرق کیا ہے ؟کہ حضرت پاک ﷺ وضو میں کلی فرماتے تھے اس کی سند آپ کو حدیث کی کتاب میں ملے گی ،فقہ کی کتاب میں (سند )نہیں ملے گی لیکن حضور پاک ﷺ کلی فرماتے تھے اس کا حکم کیا ہے ؟کہ یہ کلی وضو میں فرض ہے یا سنت ہے ،واجب ہے یا مستحب ہے؟یہ بات آپ کو حدیث میں یا حدیث کی کتاب میں نہیں ملے گی ،بلکہ یہ بات آپ کو ”فقہ “کی کتاب میں ملے گی ۔تو حدیث کی ایک سند ہوتی ہے اور ایک متن ہوتا ہے ۔
”سند“اور ”احکام“میں ہم فقہاءکرام اور محدثین کے محتاج ہیں :
یا درکھیں !ان دونوں کے بارے میں ہم حضوراکر م ﷺ کے بعد ”امتیوں “ کے محتاج ہیں ،یہ سند صحیح ہے یا ضعیف ؟اس کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ یا رسول اقدس ﷺ کا کو ئی فیصلہ ہمارے پاس موجود نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرما یا ہو کہ فلاں سند صحیح ہے یا فلاں ضعیف ہے ۔یارسول اقدس ﷺنے فرمایا ہو کہ فلاں ”سند“ صحیح ہے اور فلاں سند ضعیف ہے ۔(بلکہ )اس فیصلہ میں ہم سراپاامتیوں ،محدثین اور ائمہ مجتہدین کے محتاج ہیں ۔
اسی طرح جتنے بھی احکام ہیں کہ کون ساحکم فرض ہے کو ن ساواجب ہے کون ساسنت ہے کو نسامستحب ہے کونسا مباح ہے اور کو نسامکروہ ہے کو نسا حرام ہے ؟اس میں بھی ہم سراپاامتیوں کے محتاج ہیں ۔اور یہ کا م فقہاءکرام اور ائمہ مجتہدین کا ہے ۔
آپ نے فقہ بھی پڑھی ،اس میں احکام آپ کو مکمل شکل میں نظر آئیں گے کہ نماز کی شرطیں اتنی ہیں ارکان اتنے ہیں ،واجبات اتنے ہیں،سنتیں اور مستحبات اتنے ہیں ،مکروہات اتنے ہیں ،اور مفسدات اتنے ہیں ۔لیکن کتب حدیث میں یہ چیزیں آپ کو نظر نہیں آئیں گی ۔چونکہ یہ احکام وہاں مذکور نہیں ہوتے ۔۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ۔۔۔۔اس بارے میں زیادہ ضروری بات کو نسی ہے ؟
اصل دین احکام کا نام ہے :
مثلاً دیکھئے :آج آپ نے عشاءکی نماز اداکی اگر آپ سے کو ئی کہے کہ ”تکبیرتحریمہ“سے لے کر ”سلام “تک جو کچھ آپ نے پڑھا کیا ہر ایک بات کی سند آپ کو یاد ہے ؟تو میرے خیال میں شاہد ہزارمیں سے ایک کو بھی یہ باتیں یا دنہ ہوں ، لیکن پھر بھی یہ بات آپ سوچ رہے ہیں کہ اس سے نماز میں ذرہ برابر بھی نقص واقع نہیں ہوا۔سند یاد ہو یا نہ ہو (اسی طرح )سند کے بارے میں یہ پتہ ہو یا نہ ہو کہ آیا یہ سند صحیح ہے یا نہیں ؟لیکن اصل دین احکام کا نام ہے جو ہمیں فقہاءاور ائمہ مجتہدین سے ملتا ہے ۔اگر آپ کو یہ پتہ نہیں ہے کہ سورة فاتحہ کا حکم کیا ہے ؟یہ واجب ہے اور آپ نے سورة فاتحہ نہ پڑھی تو ترک واجب کی وجہ سے” سجدہ سہو “لازم ہو جا ئے گا ۔تو سند کے چھوڑنے سے کو ئی سجدہ سہو لازم نہیں آئے گا ،سند کے یاد نہ ہونے سے نماز کے کسی حکم پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔تو اس لئے ”اصل دین “فقہاءکے پاس ہے ”سند “ راستہ ہے اور”متن“منزل ہے ۔
حدیث اور فقہ ایک دوسرے کے مخالف نہیں :
ائمہ محدثین راستے کے محافظ ہیں اور ائمہ مجتہدین ”احکام “کے محافظ ہیں ۔ اس لئے پہلی بات تو یہ یادرکھیں کہ بعض لوگ یہ نظریہ پیش کیا کرتے ہیں کہ ”حدیث“ وفقہ میں مخالفت ہے (یہ غلط ہے )اس فن کے دو الگ الگ مقام ہیں ۔فقہاءکاکام ہے احکام بیان کرنا کہ یہ حکم فرض ہے ،واجب ہے یاسنت ہے ۔اور محدثین کا کام ہے ”سند پر بحث کر نا “اس لئے سند کی بحث کی ضرورت صرف محدثین کو ہے ۔لیکن نماز کے فرائض عوام کو بھی یاد ہونے چاہئیں ،محدثین وفقہاءکو بھی ۔قاضی صاحبان وسلاطین اسلام کو بھی اور صوفیاءکر ام کو بھی ۔تو اسی لئے مکمل دین کی جو شکل ہے وہ آپ کو فقہ کی کتابوں میں نظر آئے گی ۔
فقہ اور حدیث میں ایک اور فرق :
ایک اور واضح فرق یہ بھی ہے کہ ”محدثین“ہر زمانے کی احادیث نقل کر دیتے ہیں ۔ابتدائی دور کی بھی درمیانے دورکی بھی اور آخری دور کی بھی ۔اور فقہاءتحقیق کر کے وہی مسئلہ بیان کرتے ہیں جس پر امت نے عمل کر نا ہے ۔
مثلاً آپ کو بعض ایسی احادیث بھی ملیں گی کہ حضورپاک ﷺ بیت المقدس کی طرف (منہ کر کے )نماز ادا فرمایا کرتے تھے اور بیت اللہ شریف کی طرف نماز ادا کر نے کی حدیث بھی ملے گی ۔لیکن فقہ میں آپ کو ایک ہی بات ملے گی کہ شرائط نماز میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اپنا منہ بیت اللہ شریف کی طرف کر نا ہے ۔اس لئے حدیث اور فقہ کی کتاب کو میں مثال سے سمجھایا کر تا ہوں ۔
حدیث کی مثال ڈاکٹر ی کی کتاب ہے جیسے ڈاکٹری کی کتاب کتنی ہی اونچی کیوں نہ ہو،ساری دنیا کے ڈاکٹر اس کی تعریف کرتے ہوں لیکن اس سے نسخہ لکھنے کا حق صرف ڈاکٹر کو ہے مریض کو نہیں ۔مریض اورڈاکٹردونوں اس کتاب کو کھولیں گے تو اس میں چالیس نسخے ”بخار“کے ملیں گے ۔اب جو مریض پڑھے گا تو دیکھے گا کہ یہ ایک اچھا نسخہ ہے ۔آگے پڑھے گا کہ یہ دوسرا بہت اچھا نسخہ ہے ۔اسی طرح اگلا پڑھے گا تووہ اس سے بھی اچھا لگے گا ........لیکن اگر مریض نے خود نسخہ لکھ لیا تو عین ممکن ہے کہ وہ غلط نسخہ لکھ کے اپنے بخارکو اتنا بگاڑلے کہ پھر کو الیفائی ڈاکٹر بھی جو اب دے دے گا کہ اب میرے بس کی بات نہیں ۔بخارکوئی اور تھا اور تو دوائی اور کھاتارہا ہے ۔ لیکن فقہ کی کتاب کی مثال بالکل ”نسخہ“جیسی ہے کہ مثلاً آپ بیمار ہوئے اور ڈاکٹر صاحب یا طبیب کے پاس گئے اور اس نے آپ کی نبض دیکھی ،آپ کا مزاج پہچانا ، موسم کا حال دیکھا اور اس سب کچھ کے بعد پھر آپ کو ایک نسخہ لکھ دیا ۔اب آپ کو حکم یہی ہے کہ آپ بلا دھڑک اس نسخہ پر عمل کر یں ۔تو اسی لئے جس طرح عوام کے لئے ڈاکٹر ی کی کتاب نہیں بلکہ نسخہ ہے اسی طرح عوام کے بھی (حدیث کی کتاب نہیں بلکہ ) فقہ کی کتابیں ہیں ۔ان کے مطابق عمل کرے ۔
تو فقہ اور حدیث کی کتابوں میں یہ دواتنے واضح فرق ہیں ۔ایک تو یہ کہ حدیث میں ”اسناد“ہیں ۔اور فقہ میں ”احکام“ہیں ۔اور اصل مقصود دین میں احکام ہی ہیں ۔اسنا د تو ان کی حفاظت کے لئے ذریعہ ،واسطہ ،اور راستہ ہیں ۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ”فقہائ“کے سپرد کیا ہے ۔
”لیتفقھوافی الدین ولینذرواقومھم اذا رجعو الیھم لعلھم یحذورن “
اور دوسرا یہ کہ حدیث کی کتاب میں تو ہر زمانے کی احادیث ہوتی ہیں ۔ان میں متعارض احادیث بھی ہوتی ہیں ۔اور یہ تو بالکل واضح ہے کہ تمام ”متعارض احادیث“پر کوئی جماعت بھی عمل نہیں کررہی ”احادیث راجحہ“پر عمل کرتے ہیں ۔
ائمہ مجتہدین ”شارح“ہیں نہ کہ ”شارع “:
اب ایک یہ ہے کہ ہم جیسا ان پڑھ تلاش کرے کہ راجح حدیث کو نسی ہے اور ایک یہ ہے کہ خیرالقرون کے امام ۔سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ تعالیٰ علیہ ہمیں بتادیں کہ ان متعارض احادیث میں یہ احادیث راجح ہیں (ان پر عمل کرو)اس لئے ائمہ مجتہدین کو ہم ”شارع“یعنی ”عین“ کے ساتھ نہیں سمجھتے بلکہ ”شارح“یعنی ”حا “ کے ساتھ سمجھتے ہیں وہ ”واسطہ فی البیان “اور ”واسطہ فی التفہیم “ہیں ۔وہ دین بناتے نہیں بلکہ دین کی باتیں ہمیں بتاتے اور سمجھاتے ہیں ۔
امام اعظم ابوحنیفہ کا مقام تمام فقہاءمجتہدین سے اونچاہے :
تو سیدنا امام اعظم ابو حنیفہپہلے ہوئے (گزرے)ہیں ۔چیچہ وطنی سے مولوی عبدالباقی صاحب نے ”نورانی قاعدہ“دوبارہ شائع کیا ہے تو ہر صفحہ پر کو ئی نہ کوئی فقرہ لکھ دیا ہے اور شروع میں امام صاحب کے اساتذہ اور ان کے تلامذہ کا نقشہ دے دیا ہے میں جب وہاں گیا تو مولوی صاحب نے مجھے ایک بچہ دکھا یا (اور بتایا کہ ) یہ بچہ قاعدہ پڑھتا ہے اور اس کے ”نانا ابو“غیر مقلد ہیں ،تو یہ پڑھنے کے لئے آنے سے پہلے ناشتہ کر رہا تھا اور ”نانا ابو“کہیں باتیں کررہے تھے کہ امام بخاریکا مقام سب سے اونچا ہے ۔وہ بچہ ناشتہ چھوڑ کر اٹھا اور کہا کہ ”ناناابو“! آپ نے قاعدہ نہیں دیکھا ؟آپ ”قاعدہ“بھی نہیں پڑھے ہوئے ؟امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام مالک ہیں امام مالک کے شاگرد امام شافعی ہیں امام شافعی کے شاگرد امام احمد بن حنبل ہیں اور امام احمد بن حنبلکے شاگر د امام بخاری ہیں ۔
امام ابوحنیفہکے شاگرد امام قاضی ابویوسفؒ ہیں اور قاضی ابویوسفکے حدیث میں شاگرد امام احمد بن حنبلہیں اور امام احمد بن حنبل ؒکے شاگرد امام بخاریہیں ۔
امام ابوحنیفہکے شاگرد امام محمدہیں اور امام محمدکے شاگرد امام یحییٰ بن معینہیں ۔یہ امام یحییٰ بن معینکون بزرگ ہیں ؟فرماتے ہیں کہ ”میں نے اپنے ہاتھ سے دس لاکھ حدیث لکھی ہے ۔اب آپ دس لاکھ احادیث کا لفظ سن کر حیران ہورہے ہوں گے کہ یہاں تو کسی کو اگر ایک حدیث ہی آجا ئے تو وہ غیر مقلد ہو جا تا ہے ۔تو یہ یحییٰ بن معین جنہوں نے دس لاکھ احادیث اپنے ہاتھوں سے لکھی ہیں پتہ نہیں وہ غیر مقلد تھے یا نہیں ؟(۱)(۱)ح۲
نمبر۱ --امام بخاری نے علم حاصل کیا ہے یحیی بن معین سے انہوں نے عبد اللہ بن مبارک سے انہوں نے امام ابو حنیفہ سے
نمبر۲-- بخاری نے حمیدی سے انہوں نے امام شافعی سے انہوں نے سفیان بن عیینہ سے انہوں نے امام ابوحنیفہ سے
نمبر۳-- بخاری نے امام ذیلی انہوں نے فضل بن وکین سے انہوں نے امام ابوحنیفہ سے
نمبر۴-- بخاری نے محمد بن عبد اللہ انصاری سے انہوں نے امام زفر سے انہوں نے امام ابوحنیفہ سے
نمبر۵-- بخاری نے معلی بن منصور سے انہوں نے امام محمد سے انہوں نے امام ابوحنیفہ سے
نمبر۶-- بخاری نے علی بن مدینی سے انہوں نے امام ابو یوسف سے انہوں نے امام ابو حنیفہ سے
نمبر۷-- بخاری نے امام احمد سے انہوں نے امام ابوحنیفہ سے
نمبر۸-- بخاری نے شعیب دمشقی سے انہوں نے امام ابوحنیفہ سے
نمبر۹-- بخاری نے مکی بن ابراہیم سے انہوں نے امام ابوحنیفہ سے
نمبر۰ ۱-- بخاری نے یحیی بن اکثم سے انہوں نے امام محمد سے انہوں نے امام ابوحنیفہؒ سے
امام یحییٰ بن معین(جنہوں نے دس لاکھ احادیث لکھی ہیں )
مقلد ابو حنیفہ تھے :
حافظ ذہبی ”لکھتے ہیں کہ یہ دس لاکھ احادیث اپنے ہاتھ سے لکھنے والے امام یحییٰ بن معین بھی سید نا اما م اعظم ابوحنیفہکے مقلد تھے ۔کیوں ؟اس لئے کہ احادیث کی ”اسانید“تو ان کو یاد تھیں لیکن ”احکام“میں یہ محتاج تھے سید نا امام ابو حنیفہکے ۔
روایت حدیث کے دوطریقے :
اور جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ حدیث پاک میں ایک سند ہوتی ہے اور ایک متن ہے اور متن بھی احکام ۔اسی لئے حدیث کے روایت کر نے کے دوطریقے ہیں ۔ ایک یہ کہ حدیث سے وہ احکام بیان کئے جائیں جن کی عوام کو ضرورت ہے (یادرکھیں ! ) اس بارے میں سید نا امام اعظم ابوحنیفہ کا ان کے بعد آج تک دینا میں کوئی شریک پیدا نہیں ہوا ۔
امام ابو حنیفہنے بارہ لاکھ نوے ہزاراحکام استنباط فرمائے ہیں :
امام صاحبنے بارہ لاکھ نوے ہزار احکام استنباط کرکے امت کے سپر د کئے ہیں (سبحان اللہ )کفایہ (شرح ہدایہ)میں لکھا ہے کہ یہ (احکام )امت کے سامنے رکھے ہیں قانون کے اتنے مسائل امت کو دیئے ہیں (نعرہ .... )
اسی لئے یہ جو طریقہ ہے کہ ”حدیث کے احکام کی روایت “اس میں سارے ائمہ خوشہ چیں ہیں امام اعظم ابوحنیفہ کے ۔(۱)(۱)ح۴
قیل ماوضعہ اصحابنا من السمائل الفقھیہ ھو الف الف ومائہ الف وسبعون الفا ونیف مسئلہ
(الکفایہ ص۶ج۱بیچ حاشیہ )
روی انہ عضع ستین الف مسئلہ قیل وضع خمس مائة الف مسئلة وذکر الخطیب الخوارزمی انہ وضع ثلاثة آلاف وثما نین الف مسئلة فھا ثمانیة وثلاثون الفا فی العبادہ (الجواھر المضیہ مناقب امام الاعظم ص۲ ۷ ۴ج۲)
ایک واقعہ :
ایک دن ایک آدمی میرے پاس آیا ۔حقیقتة فی الفقہ نامی کتاب اس کے ہاتھ میں تھی کہتا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ کی کو ئی کتاب بھی نہیں لکھی ۔میں نے کہا کہ امام شافعی نے امام ابو حنیفہ سے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر جو کتابیں پڑھی ہیں کیا وہ بغیر لکھے پڑھی گئیں ؟وہ (امام شافعی )فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمدسے امام اعظم ابو حنیفہ کی اتنی کتابیں لیں کہ ایک اونٹ اس بوجھ کو اٹھا کر لایا تھا اور پڑھنے کے بعد وہ (امام شافعیؒ )ریمارکس کیا دیتے ہیں ؟فرماتے ہیں من لم ینظر فی کتب ابی حنیفة لم یتبحر فی الفقہ اور مزید فرماتے ہیں کہ اگر دین میں سمجھ پید اکر نی ہے تو امام ابو حنیفہ کو ”اباجی“ماننا پڑھے گا ۔(۱)(۱)ح ۵
نمبر۱-- وقال اشافعیرحمہ اللہ تعالی مارایت اعلم بکتاب اللہ من محمد بن الحسن مواشاءان اقول ان القران نزل بلغة محمد بن الحسن لقلتہ لفصاحتہ(تاریخ بغداد ۲/۵ ۷ ۱)
نمبر۲-- وقال الشافعی ایضا حملت عن محمد بن الحسن وقوبخش ۔ای جمل کتیا وقال ایضا امن الناس علی فی الفقہ محمد بن الحسن (تاریخ بغداد۲/۶ ۷ ۱)
نمبر ۳-- وقال الشافعیایضا مارایت رجلا اعلم بالحرام والحلال والعلل والناسخ والمنسوخ من محمد بن الحسن (اخبار ابی حنیفةؒ واصحابہ المصیمری ۳۲۱)
فقہ میں امام ابو حنیفہکا کو ئی شریک نہیں ہے :
قیامت تک آنے والے (سب )ان کی نسل ہیں اور وہ فقہ میں سب کی اصل ہیں (سبحان اللہ )تو سید نا امام اعظم کا اس بارے میں کو ئی شریک آج تک پید ا ہی نہیں ہوا ۔۔۔رہی اسانید۔۔۔۔تو اس میں بھی بہت بڑے بڑے مجتہدین ومحدثین گزرے ہیں ۔لیکن امام صاحبکی ”مسانید“سترہ محدثین نے جمع فرمائی ہیں اور کم از کم میرے علم میں یہ بات رہی کہ کسی اور محدث کی مسانید اتنے محدثین نے جمع نہیں کیں ۔اور پھر اس اعتبار سے محدثین میں یہ بات بھی ہوتی ہے کہ کس کی سند ”عالی“ہے اور کس کی سند ”نازل“ہے ۔
جتنے واسطے کم ہوں گے راوی ا ور اللہ کے نبی پاک ﷺ کے درمیان تو یہ سمجھاجاتا ہے کہ یہ سند عالی ہے ٭چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ۲۲احادیث ایسی ہیں جن کو ”ثلاثیات “کہا جا تا ہے یعنی جس حدیث میں تین واسطے ہوں اور یہ اعلیٰ ترین روایت سمجھی جا تی ہے ٭ابن ماجہ میں پانچ احادیث ایسی ہیں جنہیں” ثلاثیات“ کہا جاتا ہے ٭ترمذی میں صرف ایک حدیث ثلاثی ہے ۔٭ابوداﺅدشریف میں بھی صرف ایک ”ثلاثی“حدیث ہے ۔ح۹
ہمارے شیخ کاندھلوی ؒلامع الدراری کے مقدمے میں فرماتے ہیں کہ صحیح بخاری میں بائیس ثلاثی احادیث ہیں محدثین اس کو اہتمام سے ثلاثیات بخاری میں سے شمار کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے ہیں کہ ان میں بیس امام اعظم کے تلامذہ یا تلاسندوں کی تلامذہ کی ہیں پس امام بخاری نے گیارہ روایات مکی بن ابراہیم سے تخریج کی ہیں اور وہ گیارہ روایات پہلے چار اور چحٹی اور ساتوں اور گیارہویں اور بارہویں اور چودویں اور ساسترویں اور انیسویں ہیں اور چھ روایات ابوعاصم النبیل ضحاک بن مخلد سے لی ہیں اور یہ بھی اصحاب ابوحنیفہ میں سے ہیں ان کی روایات چانچویں اور آٹھویں اور نویں اور پندرہویں اور اٹھارویں اور اکیسویں ہیں اور باقی تین محمد بن عبد اللہ الانصاری سے لی ہیں (تببض الصحیفة ص۸ ۹،مناقب الامام ابی حنیفة )
امام اعظمرﺅیت وروایت دونوں اعتبار سے تابعی ہیں :
یہاں بھی سوچنے کی بات یہ ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ کی ”وحدانیات“بھی موجود ہیں کہ جو صرف ایک واسطہ (صحابیؓ)سے براہ راست امام صاحب نے روایت کی ہیں ۔امام دارقطنیجو امام شافعی کے مقلد ہیں ان سے پہلے کسی نے بھی امام ابوحنیفہکی ”روایت حدیث “کا انکار نہیں کیا ۔تابعیت کا انکارتووہ (امام دارقطنی)بھی نہیں کر رہے فرماتے ہیں کہ صرف رﺅیت کے اعتبار سے بھی امام صاحب تابعی ہیں لیکن ہم کہتے ہیں کہ رویت کے اعتبار سے بھی امام صاحب تابعی ہیں اور اور ”روایت “ کے اعتبار سے بھی تابعی ہیں اور ”ثنائیات“میں تو امام صاحب کی روایا ت بہت زیادہ ہیں ۔
الف -- ابوحنیفہ عن نافع عن ابن عمر ؓ
ب --ابوحنیفہ عن عطاءعن ابی اہریرہؓ (وغیرہ )
مسند امام اعظم اور کتاب الاثار میں دیکھ لیں کہ اتنی ثنائیات ہیں کہ صرف دوواسطے ہیں جبکہ ”صحاح ستہ“میں تو ایک بھی ”ثنائی حدیث“موجود نہیں ہے ۔
امام اعظمکی مردم شناس نظر :
اور آپکی نادر ترین احادیث ”ثنائیات“ہیں ،پھر امام بخارینے جو ”ثلاثیات“لی ہیں ان میں سے اکثر ”ثلاثیات“مکی بن ابراہیم سے لی ہیں جو ۶ ۲ ۱ھ میں بلخ میں پید ا ہوئے ۔اور۰ ۴ ۱ھمیں تجارت کی غرض سے کو فہ پہنچے ۔سیدنا اما م اعظمکی مردم شناس نظر نے جب ان کو تجارت کر تے دیکھا تو بلایا ۔اور فرمایا کہ اس (تجارت)سے زیادہ ایک اور اہم کام ہے جو دنیا اور دین دونوں میں آپ کو چمکادے گا۔
امام اعظمکی تو ہین کر نے والا بڑا بے وقوف ہے :
چنانچہ مکی بن ابراہیمفرماتے ہیں کہ اب میں ہر نماز کے بعد اور جب بھی کسی مجلس میں امام صاحبکا ذکر آتا ہے تو میں ان کے لئے دعا ئیں کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مقام (ومرتبہ)پر امام صاحبکی برکت سے پہنچایا ہے ۔اور جب وہ امام صاحب کی سند سے کو ئی حدیث روایت کر تے ہیں (ایک دن حدیث سنا رہے تھے تو ایک آدمی کھڑا ہوگیا اور کہا حدثنا عن ابن جریج کہ ہمیں ابن جریج ؒکی احادیث سنائیں نہ کہ امام ابو حنیفہکی ۔ تو آپ نے فرمایا کہ بس یہاں سے نکل جا ۔سفہاء(بے وقوف گستاخ)پر حدیث بیان کرنا ہمارے نزدیک حرام ہے اور جو امام ابو حنیفہکی احادیث نہیں سنتا اس سے بڑا بے وقوف دنیا میں کوئی نہیں ۔اس کو نکال دیا اور اس کے بعد امام صاحبکی احادیث لکھائیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ میں نے جتنے اساتذہ سے علم حدیث حاصل کیا امام ابو حنیفہ اعلم اہل زمانہ(یعنی امام ابو حنیفہاپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم تھے )
امام عبداللہ بن مبارکبہت بڑے حنفی تھے ،اور اما بخاریان کے شیوخ میں آتے ہیں ۔وہ جب بھی حدیث پاک کا درس دیتے حدیث سناتے اس کے بعد قال ابو حنیفہ کہہ کر وہ احکام سناتے جو اما م صاحبنے احادیث سے استنباط فرمائے تھے ۔ ایک دن ایک شخص کہنے لگا کہ ہمیں قال رسو ل اللہ لکھوایا کر یں قال ابو حنیفہ نہ لکھوائیں تو انہوں نے فرمایا یہاں سے نکل جا ! یاد رکھنا لاتقولوا رای ابی حنیفة (کبھی یہ نہ کہنا کہ یہ ابو حنیفہکی رائے ہے )بل تقولوا انہ تفسیر الحدیث (بلکہ یہ کہا کرو کہ یہ حدیث کی تفسیر ہے )اللہ نے نبی کے ارشادات کی تشریح ہے
صحیح بخاری میں ۴ ۳بڑے ائمہ احناف کی روایات ہیں :
امام وکیع بن جر احجو اما م صاحب کے شیوخ میں سے ہیں تقریباً چونتیس بڑے بڑے حنفیہ کے امام ہیں جن سے لی گئی روایات ”صحیح بخاری شریف “میں مو جو د ہیں ۔ان میں امام وکیع بن جراحؒ بھی ہیں ۔ان کی بھی عادت مبارکہ یہی تھی کہ جب حدیث پاک کا درس دیتے تو حدیث کے ساتھ ساتھ امام صاحب(کے استنباط کر دہ ) مسائل بھی لکھواتے ....ایک دن کسی نے کہہ دیا کہ مسائل لکھوانے کی کیا ضرورت ہے ؟تو امام وکیع نے فرما یا :یا د رکھو! قرآن ”وحی متلو“ہے اور اس کی صرف تلاوت کرنے میں ثواب مل جا تا ہے معنی آئیں یا نہ آئیں لیکن حدیث پاک ©”وحی متلو“نہیں ہے ۔اس سے مقاصد تو اس کے مسائل ہیں اگر تجھے مسائل کا پتہ نہ چلا تو تجھے حدیث پڑھنے کا کیا فائد ہ ہو گا ؟
اس کے بعد فرمایا کہ اگر تجھے پسند نہیں توتُو یہاں سے چلا جا ۔اس نے کھڑے ہو کر کہا ”اخطاءابوحنیفة “کہ امام ابو حنفیہسے خطاءہوئی امام وکیع نے اسے نکال دیا اس کے بعد فرمایا اولیک کالانعام بل ھم اضل یعنی یہ جانوروں سے بھی گئے گزرے لوگ ہیں اس کے بعد فرمایا میں یہ نہیں کہتا کہ امام ابو حنیفہ معصوم تھے ان سے خطاءہو ہی نہیں سکتی ،میں اس کا قائل نہیں ہو ں ۔لیکن امام صاحب نے جہاں بیٹھ کر مسائل استنباط فرمائے امام صاحب اکیلے نہیں تھے ان کے پاس چمکتے چہر ے مجتہدین بیٹھے ہوئے تھے وہا ں ”لغت“کے سپشلسٹ امام محمدفضیل بن عیاض جیسے اللہ والے ابو یوسف جیسے محدث اور ہر فن کے سپشلسٹ وہاں موجو د ہو تے تھے ۔تو جیسے تراویح میں قاری صاحب قرآن پاک سناتے ہیں تو وہ (قاری )معصوم نہیں ہوتے ان سے بھول ہو جا تی ہے لیکن لقمہ دینے والا اس غلطی کو چلنے نہیں دیتا ۔اسی لئے امام وکیعفرماتے ہیں کہ ”میں واضح لفظوںمیں کہتا ہوں کہ اگر امام صاحبسے کو ئی خطاءہو ئی تو اس خطاءکو چلنے نہیں دیا گیا “۔۔۔ایک ہے غلط لگنا اور ایک ہے غلط چلنا ۔اس کے متعلق فرمایا کہ ”کتاب اللہ “ایک ایسی کتاب ہے جس میں کو ئی غلطی نہیں ۔ذالک الکتاب لاریب فیہ انسانوں کی لکھی ہو ئی کو ئی بھی ایسی کتاب نہیں جس میں غلطی کا امکان نہ ہو ۔لیکن ایک بات یا درکھیں !غلطی کسی کو لگی ہے تو ”جماعت“نے وہ غلطی چلنے نہیں دی ۔
ہمارا نام اہل سنت والجماعت ہے :
کیونکہ نبی بذاتہ معصوم ہےں ان کے بعد ایک ذات بھی معصوم نہیں بلکہ ”جماعت“معصوم ہے یداللہ علی الجماعة ۔اگر کسی محدث سے کو ئی غلطی ہوگئی تو محدثین کی جماعت نے اسے فوراًدرست کر دیا اگر کسی فقیہ سے لغزش ہوئی تو فقہاءکی جماعت نے اس کو چلنے نہیں دیا ،اگر کسی مورخ سے کو ئی غلطی ہو ئی تاریخ میں تو مورخین کی جماعت نے بھی اس کو چلنے نہیں دیا ۔
جماعت سے کٹنے والا گمراہ ہو جا تا ہے :
یہیں سے اگر آپ یہ بات سمجھ لیں کہ ہمارے ہاں معیار ”جماعت “ہے تو آج جتنے نئے فتنے کھڑے ہو رہے ہیں سب کا یہی ایک علاج ہے ۔
ایک کتاب میں لکھا تھا کہ میں نے تاریخ کی اسی کتاب سے حوالے لئے ہیں جہاں سے فلاں نے لئے ۔فلاں نے لئے ،فلاں نے لئے ۔۔۔۔لیکن ہم کہتے ہیں کہ ”تاریخ “میں تو صحیح وضعیف روایات موجو د ہیں ،تا ہم ان سے انتخاب کا حق مجھے (آپ کو )نہیں ہے ۔کسی ایک ذات کو نہیں بلکہ صرف مورخین کی جماعت کو یہ حق ہے ۔جن لوگوں نے ایک ایک آدمی کو معیار بنایا وہ نئے نئے فرقے بنتے چلے گئے اور جنہوں نے جماعت کو معیار رکھا وہ آج تک جماعت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔
اسی طرح امام وکیع بن جراحکی احادیث بخاری میں ہیں ۔اور میں تو کہا کر تا ہوں کہ اگر ”صحاح ستہ“سے ”اہل کوفہ “کی روایا ت نکال دی جائیں تو وہاں خاک اڑنی شروع ہو جا ئے گی ۔
بخاری شریف کی آخری حدیث کا ہر ہر راوی کوفی ہے :
آج کل امام صاحبکی ضد میں مجھے ایک آدمی کہنے لگا کہ اہل کو فہ کی روایات واحادیث حجت نہیں تو یہ آج بخاری شریف کی آخری حدیث کا سبق ہے ،میں کہتا ہوں کہ بخاری شریف کی اس آخری حدیث کا ہر ہر راوی کوفی ہے ۔ایک راوی بھی ایسا نہیں جو کو فہ کے علاوہ کسی دوسرے شہر کا ہو ۔تو امام بخاریتو ہمیں اہل کوفہ کے سپر د کر کے چلے گئے ۔خود (امام بخاری)فرماتے ہیں کہ میں یہ تو بتا سکتا ہوں کہ فلاں شہر میں کتنی دفعہ گیا ۔فلاں شہر میں کتنی دفعہ گیا ،فلاں شہر میں کتنی دفعہ گیا ،لیکن یہ گنتی میں نہیں کر سکتا کہ کوفہ میں کتنی دفعہ حاضر ہو ا ۔(۱)(۱)
امام بخاری نے طلب حدیث میں بخارا سے مصر تمام اسلامی شہروں کا سفر کیا تھا دو دفعہ جزیرہ گئے چار دفعہ بصرہ گئے چھ سال تک حجاز میں مقیم رہے مگر اس کے باوجوہ کوفہ اور بغداد کی وہ اہمیت تھی کہ فرماتے ہیں
لا احصی کم دخلت الی الکوفة مع المحدثین میں شمار بھی نہیں کرسکتا کہ کوفہ اور بغداد میں مجھے محدثین کے ساتھ کتنی بار جانا پڑا (مقدمہ فتح الباری از حافظ ابن حجر عسقلانی ج۲ص۹ ۷ ۴طبع میریہ مصر بحوالہ ابن ماجہ اور علم حدیث مولفہ مولانا محمد عبد الرشید نعمانی )امام ابو داود کا طلب علم کے لئے کوفہ جانا جس سن میں کوفہ میں طلب علم کے لئے پہنچا میرے پاس صرف ایک درھم تھا جس کا میں نے تقریبا ایک من لوبیا خریدلیا اور محدث کوفہ سے احادیث کا سماع اور انکی کتابت شروع کردی حتی کہ جس دن تیس ہزار احادیث لکھ جکا تو اسی سن لوبیا بھی ختم ہوگیا (بحوالہ تذکرہ المفسرین ص۴ ۶)
امام بخارینے فقہ پہلے پڑھی ہے اور حدیث بعدمیں :
اور کو فہ میں امام بخاریکی حاضری صرف حدیث کے لئے نہیں ۔فقہ کے لئے بھی تھی ۔فرماتے ہیں کہ میں نے سولہ سال کی عمر میں عبداللہ بن مبارکسے فقہ حنفی کی کتابیں پڑھیں اور وکیع بن جراحسے امام ابو حنیفہ کی فقہ کی کتب پڑھی ہیں تو جس طرح آپ کے نصاب میں فقہ پہلے ہے اور حدیث بعد میں ہے ،اسی طرح امام بخارینے بھی فقہ پہلے پڑھی ہے اور حدیث بعد میں ۔
فقہ کی ضرورت حدیث سے مقدم ہے :
اور ویسے بھی امت کو فقہ کی ضرورت پہلے ہوئی ہے فقہ کے چاروں اما م پہلے گزرے ہیں اور صحاح ستہ والے امام ان چاروں کے بعد ہوئے ہیں ۔(۱)(۱)ح۶۱
چنانچہ ائمہ فقہاءکی تاریخ وفات مندرجہ ذیل ہے ۔
۱- امام اعظم ابوحنیفہ۰ ۵ ۱ھ
۲- امام مالک۹ ۷ ۱ھ
۳ - امام شافعی۴ ۰ ۲ھ
۴- امام احمد حنبل۱ ۴ ۲ھ
اور صحاح ستہ والوں کی مندرجہ ذیل ہے
۱- بخاری شریف متوفی۶ ۵ ۲ھ
۲- مسلم شریف متوفی ۱ ۶ ۲ھ
۳- ابو داود شریف متوفی۵ ۷ ۲ھ
۴- ترمذی شریف متوفی۹ ۷ ۲ھ
۵- ابن ماجہ شریف متوفی۳۷ ۲ ھ
۶- نسائی شریف متوفی۳۰ ۳ ھ
اللہ تعالیٰ نے عجیب انداز رکھا ہے کہ جیسے چاروں خلفائؓ بر حق ہیں تو حضرت علی کر اللہ وجھہ آخر میں آئے اور انہوں نے پہلوں کی تصدیق فرمادی ۔کسی کی تردید نہیں فرمائی ،اب اگر کو ئی پہلوں کے بارے میں انگلی اٹھائے تو ہم کہتے ہیں کہ تیراعلم زیادہ ہے یا ”باب مدینة العلم “حضرت علی ؓ کا علم زیادہ ہے ؟انہوں نے تو حضرت ابو بکرحضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ کو قریب سے دیکھا ،ان کے ساتھ رہے ،ہم نوالہ وہم پیالہ رہے سب کے ساتھ نمازیں پڑھیں لیکن اس کے باوجود حضرت علی ؓ نے ان پر کچھ اعتراض نہیں کیا اورتم آج چودہ سو سال بعد ان پر کیسے اعتراض کر سکتے ہو؟
چاروں ائمہ فقہاءپہلے گزرے ہیں اور صحاح ستہ والے بعد میں :
اسی طرح ....آج اگر کو ئی کہتا ہے کہ فقہ حدیث کے خلاف ہے تو ہم کہتے ہیں کہ فقہ کے چاروں امام (امام ابو حنیفہ،امام مالک،امام شافعی ،اما م احمد)پہلے گزرے ہیں اور اصحاب صحاح ستہ بعد میں ....بخاری شریف میں جہمیہ فرقہ کے رد میں عنوان ہے ،کتاب الرد علی الجہمیہ ،دنیامیں اگر آج اس فرقہ کو تلاش کر یں تو کوئی بھی نہیں ملتا ،تو اس چھوٹے سے فرقہ کے رد میں تو امام بخارینے کتاب لکھی ہے اور ساری دنیاجو حنفیوں سے بھری پڑی ہے ،ان کے خلاف کو ئی کتاب یاباب نہیں لکھا ۔ اگر حنفی بھی غلط ہوتے تو ان کے خلاف بھی ضرورلکھتے اور فرماتے کہ (معاذاللہ )یہ گمراہ ہے ۔
امام بخاریکی پیدائش ۴ ۹ ۱ھ میں ہے اور امام سفیان بن عیینہ کی وفات ۸ ۹ ۱ھ میں ہے ،اما م سفیانفرماتے ہیں کہ فقہ حنفی آفاق تک ،زمین کے کناروں تک پہنچ چکی ہے (۱)(۱)ح۷۱
شئیان ما ظننتھما یتجاوزان ونظرہ الکوفة وقد بلغاالآفاق (مناقب امام اعظم ذیل الجواہرالمضیة ،مناقب ذھبی ۰ ۲، مناقب امام اعظم ۲ ۳)
یہ محدث ِحرم ہیں ،حرم پاک میں بڑے بڑے حلقے ہیں لیکن سب سے بڑا حدیث کا حلقہ امام سفیان بن عیینہ کا ہوتا تھا ،ایک دن کسی نے پوچھا کہ حضرت ! اور بھی تو استاد ہیں ۔کسی کے پاس چار کسی کے پاس پانچ طلباءہیں دس سے زیادہ نہیں ہیں ۔اور آ پ کے پاس سینکڑوں طالب علم ہیں ؟فقہ پڑ ھا کر آپ کو اما م محدث بنا یا آپ خو فر ما تے ہیں ۔(۱)(۱)ح۷ ۱
شئیان ما ظننتھما یتجاوزان ونظرہ الکوفة وقد بلغاالآفاق (مناقب امام اعظم ذیل الجواہرالمضیة ،مناقب ذھبی ۰ ۲، مناقب امام اعظم ۲ ۳)
’اول میں صیر نی محدثاً فھو ابو حنیفة “ کہ مجھے سب سے پہلے حدیث کی سند امام ابو حنیفہ نے دی ہے ....ایک غیر مقلد مولوی صاحب مجھے کہنے لگے کہ کیا امام سفیان بن عیینہ کے پاس ہوائی جہاز تھا ؟کیا وہ ساری دینا میں دیکھ کر آئے تھے کہ یہاں حنفی ہیں ؟میں نے کہا کہ انہیں ہوائی جہاز کی ضرورت نہیں تھی وہ تو حرم پاک میں بیٹھتے تھے اور حرم پاک میں دنیا کے ہر کونے کا مسلمان حج کے لئے پہنچ جاتا ہے اس لئے انہیں دنیا میں پھر نے کی ضرورت نہیں تھی ۔ تو سید ناامام اعظم ابو حنیفہ کے بہت سے تلامذہ ہیں جس سے امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں احادیث لی ہیں تو امام بخاریکی حدیث کی کتاب صحیح بخاری شریف کو ”اصح الکتب بعد کتاب اللہ “کہا جا تا ہے اس لئے کہ خیر القرون کے بعد احادیث کی جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں ان سب سے زیادہ صحیح کتاب یہی ہے ۔
فقہ حنفی اعلیٰ ترین فقہ ہے :
لیکن بات پوری یا دی رکھنی چاہئے ! جس طرح صحاح ستہ میں اعلی ترین کتاب صحیح بخاری ہے اسی طرح چاروں فقہوں میں اعلیٰ ترین فقہ ”فقہ حنفی “ہے ،تو کیا اس پر فیصلہ کر نے کے لئے کوئی ہمارے ساتھ تیار ہے ؟کہ سند کی بحث میں بخاری کی سند کو اعلیٰ مانا جائے اور جب احکام کی بات آئے تو اس میں اما م ابو حنیفہ کے علاوہ کسی اور کی نہ مانی جا ئے ۔
اصح ہو نے کا صحیح مطلب ؟
جب تم اصح ہونے کا یہ مطلب لیتے ہو(حالانکہ جو مطلب یہ غیر مقلدین لیتے ہیں کہ اس کے مقابلے میں کوئی اور حدیث نہ مانی جا ئے )جبکہ یہ مطلب تو خود امام بخاری بھی نہیں مانتے ،چنانچہ ”باب الفخذ“میں امام بخاری فرماتے ہیں کہ آیا ران کا پردہ ہے یا نہیں ؟تو فرماتے ہیں کہ وی حدیث انس ؓ ہے جس میں آیا ہے کہ ران کا پردہ نہیں ہے یہ بہت زیادہ صحیح سند والی روایت ہے لیکن اس کے مقابلے میں وہ حدیث جس میں اس کے ”پردہ“ہونے کا ذکر ہے وہ ضعیف سند کے ساتھ ہے ،لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ پردہ کر نے والی (ضعیف السند حدیث)پر ہی عمل کیا جائے ۔ اسی بخاری شریف میں کتنی اور حدیثیں ہیں ،کہ اگر ادخال ہو ،انزال نہ ہو تو غسل فرض نہیں ہو تا ،لیکن امام بخاری غسل فرض ہونے کی صریح روایت نہ لانے کے باوجود فرماتے ہیں کہ غسل پر عمل لازم ہے ....اس لئے جو یہ مطلب لیتے ہیں میں ان سے کہا کر تا ہوں کہ اصح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ صحیح بخاری کے مقابلے میں کوئی اور حدیث نہ مانی جا ئے تو پھر یہ بھی کہو کہ جب احکام کی بات آئے گی تو چونکہ امام ابو حنیفہ سب کے استاد ہیں اس لئے ان کے مقابلے میں کسی اور فقیہ کا استنباط کر دہ حکم بھی نہ مانا جا ئے ....؟یا تو اصول ایک ہی رکھا جا ئے (ناں!)یہ دوکشتیوں میں پاﺅں نہیں ہونا چاہئے ۔بہرحال اللہ تعالیٰ نے ان کو جو مقام عطافرمایا ہے (وہ بہت اعلیٰ مقام ہے)
صحیح بخاری کا انتخاب چھ لاکھ احادیث سے کیا گیا :
سیدنا امام بخاری نے جو محنت فرمائی چھ لاکھ احادیث میں سے اس کتاب کا انتخاب فرما یا ،اور اتنا حافظہ تھا کہ سواحادیث میں امتحان لیا گیا اور آپ نے تمام سندیں بالکل صحیح صحیح سنا دیں ۔
امام بخاری کی قبر روضة من ریاض الجنة ہے :
امام بخاریکا جب وصال ہو ا تو آپ احادیث میں پڑھ آئے ہیں کہ یہ جو قبر ہے یہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہو تی ہے یا دوزخ کے گڑھو ں میں سے ایک گڑھا ہوتی ہے ۔میرے پیرومرشد شیخ التفسیر سلطان العارفین حضرت لاہوریؒ ارشاد فرما یا کرتے تھے کہ اگر دل کی آنکھیں کھل جا ئیں تو قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے پتہ چلتا ہے کہ (واقعی )یہ جنت کا باغ ہے یا دوزخ کا گڑھا ؟
حضرت امام بخاری کو جب قبر میں اتار ا گیا تو یہ تو آ پ نے پڑھا کہ جنت روح الریحان ہے ،خوشبوئیں ہی خوشبوئیں ہیں اور یہی قبر جس کا دنیا آج انکارکر رہی ہے جنت کا باغ ہے ۔تو بعض اوقات جنت کی یہ خوشبواتنی مہکتی ہے کہ وہ برزخ کا پردہ پھاڑکر باہر بھی آجا تی ہے ۔امام بخاری کو جب قبر میں رکھا گیا تو اتنی خوشبوپھیلی کہ وہ برزخ کے پردہ سے باہر آئی اور لوگ سونگھ رہے تھے کہ واقعی یہی قبر ہے کہ جسے روضة من ریاض الجنة کہا جا تا ہے اور سارے ہی کہہ رہے تھے کہ یہ خوشبوان خوشبوﺅں میں سے نہیں ہے جو دنیا میں موجود ہیں ۔
اکابر علمائے دیوبندکی قبروں سے جنت کی خوشبو سونگھنا:
یہی حال اپنے بہت سے اکابر (حضرت لاہوری ،شیخ مو لا نا محمد موسیٰ خان وغیر ہ )کے ساتھ ان کے قبروں میں ہوا کہ ان کی قبور سے ہزاروں لوگوں نے خوشبوئیں سونگھی ہیں تو مقصد یہ ہے کہ یہ تقریب صحیح بخاری شریف کے بارہ میں ہے اس لئے اپنے طلباءکے سامنے میں نے ایک دوباتیں رکھیں ہیں کہ (۱)احکام میں ہم فقہاءکرام کے پابند ہیں (۲)سند میں محدثین کے پابند ہیں ہم کسی کا حق چھیننے کے لئے تیار نہیں اور کسی کا حق دوسرے کو دینے کے لئے بھی تیار نہیں ۔سیدنا (امام اعظم ابو حنیفہ )اور فقہاءنے ہمیں مکمل دین دیا تمام فرائض صحیح پہنچائے ہیں ۔
تمام محدثین کسی نہ کسی امام کے مقلد تھے :
محدثین نے یہ کوشش نہیں کی کہ تمام مسائل کو جمع کیا جائے بلکہ سارے کے سارے محدثین خود کسی نہ کسی امام کے مقلد تھے ،کیونکہ محدثین کے حالات میں چار قسم کی ہی کتابیں ملتی ہیں (۱)طبقات حنفیہ (۲)یا طبقاب مالکیہ (۳)یا طبقات شافعیہ (۴)یا طبقات حنابلہ۔”طبقات غیر مقلدین “نامی کتاب محدثین کے حالات میں آج تک دنیا میں نہیں لکھی گئی ۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین
We have 13 guests and no members online