joomla templates

 

حق اجتہا د کا مستحق کو ن ؟

مناظر اسلام تر جمانِ اہل سنت وکیل احناف

حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی

(خطبات  صفدر،جلد اول)

الحمد للہ وکفی وسلا م علی عبا دہ الذ ین اصطفی اما بعد :

فاعوذ با اللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم،

واذاجا ءھم امر من الا من اوالخو ف اذا عوبہ ولو ردوہ الی الر سول والی اولی الا مر منہم لعلمہ الذ ین یستنبتو نہ منھم ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لا تبعتم الشیطن الا قلیلا وقال رسول للہ فقیہ واحد اشد علی الشیطن من الف عابد اوکما قال صدق اللہ ومو لا نا العظیم وبلغنا رسولہ النبی لکریم ونحن علی ذالک لمن الشا ہد ین والشا کرین والحمد للہ رب العالمین ۔

رب شر خ لی صد ری یسر لی امری وحلل عقد ة من لسانی یفقہو قولی رب زد نی علما ورزقنی علما وارزقنی فھما

سبحا نک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم (دور د شریف ) اللہم صلی علی سید نا محمد وعلی آل سید نا محمد وبا رک وسلم علیہ ۔

دوستوبز رگو !اللہ وتبا رک وتعالی کا لا کھ شکر ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی سا ری مخلو قا ت میں سے ہمیں انسا ن بنا یا جو اشر ف المخلو قات ہے اور پھر انسا نوں میں سے اللہ تبا رک وتعالی نے ہمیں مسلما ن بنا یا کیو نکہ سچا دین صرف اور صرف اسلا م ہے اور مسلما ن کہلا نے والوں میں سے اللہ تبا رک وتعالی نے ہمیں اہل سنت والجماعت بننے کی تو فیق عطا فرمائی کیونکہ پا ک رسول ﷺ نے جب یہ فرمایا میری امت ۳ ۷ فر قو ں میں بٹ جا ئے گی تو سا تھ یہ بھی فرما یا کہ نجا ت پا نے والے کو ن ہوں گے ما انا علیہ واصحابی جو میر ی سنت اور میرے صحا بہ کے طریقے پر ہوں گے جس طرح سارے دینوں کے مقا بلے میں سچا دین صرف اسلا م ہے ۔

تہترفرقوں میں نجا ت پا نے والی جماعت :

مسلما ن کہلا نے والے سا رے فر قوں میں نجات پا نے والی جما عت کا نا م اہل سنت والجماعت ہے اور پھر اہل سنت والجماعت میں سے ہمیں اللہ تبار ک وتعالی نے سید نا امام اعظم ابو حنیفہ کا مقلد بنا یا ، ہم اسی لئے حنفی کہلا تے ہیں میں نے آپ کے سا منے اس وقت جو آیت کریمہ تلا وت کی ہے اس میں ایک اہم مضمو ن ہے جس کی آ ج ہر شخص کو ضرورت ہے ۔

ہر شخص کی ضرورت :

وہ ضرورت کیا ہے ؟ہر آ دمی چا ہتا ہے کہ تحقیق والی بات پر عمل کیا جائے بغیر تحقیق کے بات پر عمل نہ کیا جائے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ قرآن پا ک نے تحقیق کا حق دیا کس کو ہے ؟ اب آپ نے کبھی نہیں کیاہوگا کہ ڈاکٹر صاحب سے نسخہ لکھوا کر کمہا ر سے چیک کروایا ہو ، یا سو نے کو آپ چیک کرو انے کے لئے کسی مو چی کے پاس گئے ہوں ساری دنیا ما نتی ہے کہ ہر فن کے کچھ لوگ ہو تے ہیں جو اس فن کی تحقیق کر سکتے ہیں دوسرے لوگ وہ تحقیق نہیں کر سکتے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ایک ہا ئی کورٹ کے حج کے فیصلے کی چیکنگ آپ کسی پٹواری صاحب سے نہیں کرواتے امام ابوحنیفہ کے اجتہا د کی چیکنگ ہر گنڈ یر یاں بیچنے والا شروع کر دیتاہے جو گا نے کی کیسٹیں بیچتا ہے وہ اٹھ کر اما م صاحب کی اجتہا د کی چیکنگ شروع کر دیتا ہے ۔

منا فقین کا طریقہ :

تو کیا دین ایک ایسی سستی چیز ہے جوبھی اٹھے اس کی چیکنگ شروع کر دے اور یہ کہے کہ میں نے تحقیق کر لی ہے اللہ تبار ک وتعالی نے فرمایا واذا جا ءہم امر من الا من اولخو ف پیچھے منا فقین کا تذکر ہ آرہا ہے کہ منا فقوں کی ایک عادت بن گئی کہ جب بھی کوئی خبر امن یا خو ف کی آ تی ہے تو بغیر تحقیق کے اس کو پھیلا دیتے ہیں اگر وہ خبر دین کی ہوگی تو دین کا نقصان ہوگا دنیا کی ہوگی تو دنیا کا نقصا ن ہو گا فر مایا چا ہئے یہ تھا کہ وہ رسول کے پاس خبر لے جاتے وہ تحقیق کر کے بتا تے کہ صحیح ہے یا نہیں ؟اور اگر رسول کے پاس نہیں پہنچ سکتے تو اہل استنبا ط اولی الا مر کے پاس لے جائیں وہ تحقیق کر کے بتا تے تو تحقیق کا حق قرآن پا ک نے دو ہستیوں کو دیا ہے رسول کو اور مجتہد کو اس کے علاوہ تحقیق کا حق دین میں کسی اور کو خدا نے سر ے سے دیا ہی نہیں کہ وہ یہ کہے جی میں نے تحقیق کر لی ہے اسنتبا ط کا لفظ اللہ تبا رک وتعالی نے استعما ل فر مایا اور رسول کا لفظ استعما ل فرمایا ، تو اللہ تبا رک وتعالی ارشاد فرماتے ہیں۔

واذا جاءہم امر من الا من اوالخو ف اذا عوا بہ ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الا مر منھم لعلمہ الذ ین یستنبتو نہ منہم ،

توا س بات کی تحقیق کر لیتے اللہ کے رسول یا وہ لوگ جو تحقیق کا حق رکھتے ہیں اجتہاد کر سکتے ہیں ۔

اللہ تعالی کا احسا ن :

ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لا تبعتم الشیطن الا قلیلا اللہ تعالی اب اپنا احسا ن جتلا رہے ہیں کہ یہ خدا کا احسا ن ہے کہ تحقیق کا بو جھ آپ پر نہیں ڈالا مجتہد ین پر ڈال دیا ، تاکہ آپ کو تحقیق شد ہ بات مل جا ئے آپ اس پر عمل کریں ، یہ اللہ کا فضل ہے اللہ کاحسا ن ہے اگر اللہ تبا رک وتعالی مجتہد ین کو تحقیق کر نے کا حق نہ دیتا اور ہر آ دمی کو حق ہوتا لا تبعتم الشیطن الا قلیلا ، تو پھر تم نا م قرآن کا لیتے اور تا بعداری شیطا ن کی کرتے، نا م حد یث کا لیتے اور تابعداری شیطا ن کی کرتے ، تو اللہ تبا رک وتعالی نے اس آیت کریمہ میں ایک تو یہ بات بتا ئی کہ ہر آ دمی بغیر تحقیق کے جو بات کر تا پھرتا ہے یہ نفا ق کی علا مت ہے اس لئے مشکو ٰة شریف میں حدیث پا ک کی ہے ،حضور ﷺ نے فر مایا کہ منافق کے دل میں دو چیز یں اکھٹی نہیں ہو سکتیں ، اچھا اخلاق اورفقہ فی الدین ، یہ اکھٹی نہیں ہو سکتیں ، جیسے یہاں فرمایا اللہ تعالی نے لا تبعتم الشیطن الا قلیلا اسی طرح خو د رسول پاک ﷺ نے فرمایا ، فقیہ واحد اشد علی الشیطا ن من الف عابد ایک فقیہ شیطان پر ہز ار عابد سے سخت ہے اس سے پتہ چلا کہ فقیہ اور شیطا ن کی آپس میں لگ چکی ہے ، شیطا ن فقیہ کو برداشت نہیں کرتا ، اتنا اللہ تعالی نے ڈانٹ کے سا تھ فرمایا لیکن پھر بھی دنیا میں ایسے لوگ نکل آ تے ہیں جو خدا تعالی کے اس حکم کو نہیں مانتے ہیں عرض کر رہا تھا تحقیق کا حق دو ہستیوں کو دیا تھا :

دوفر قے !اہل قرآن اور اہل حدیث :

کن کن کو ؟رسول کو اور مجتہد کو ، رسول کی تحقیق کا حق چھیننے کے لیے ایک فرقہ کھڑا ہو گیا ، اس نے کہا ہمیں قرآن پا ک خود پڑ ھنا ہے ، رسول سے سمجھنے کی ضرورت نہیں اس نے اپنا نام اہل رکھ لیا اہل قرآن ، کیا نا م رکھ لیا ؟(اہل قرآن ) انہوں نے کہا لغت میں مو جو د ہے عر بی زبا ن میں دنیا بو لی جا رہی ہے قرآن آسا ن کتا ب ہے ولقد یسر القرآن للذکر فھل من مدکر کیا ضرورت ہے کہ ہم رسول سے اس قرآن کوسمجھیں اب رسول سے ہٹا نے کے لیے طریقہ کیا اختیا ر کیا کہ خا لق اور مخلو ق میں جو انتہافاصلے تھے ان کو بیا ن کرنا شروع کر دیا کہ وہ خالق ہے یہ رسول مخلو ق ہے وہ معبو د ہے یہ عابد ہے وہ مسجو د ہے یہ ساجد ہے وہ کھانے پینے سے پا ک ہے یہ کھا تا ہے وہ بیو ی بچوں سے پا ک ہے یہ بیو ی بچوں والا ہے اگر ہم نے رسول کی بات بھی ما ن لی تو کیا ہم نے رسو ل کو خدا کا شریک کر لیا اور انہوں نے (اپنا) نا م کیا رکھا اہل قرآن اللہ تبارک وتعالی نے چو دہ سو سال پہلے ہی جواب سمجھا دیا ۔ لفظ رسول کااستعما ل فر مایا کہ بھا ئی رسول اپنی کہتا ہی نہیں وہ کہتا ہی خد ا کی ہے ، یہ انہوں نے فاصلے قائم کئے کہ معاذ اللہ اللہ تعالی رسول کو بھیجتا ہے وہ رسول دنیا میں آکے ایک آیت خد ا کی سنا تا ہے اور بیس باتیں معاذ اللہ خدا کے خلاف لوگوں کو بتا دیتاہے ، یہ تاثر ان لوگوں نے قائم کیا اور کہا کہ ہم قرآن پا ک سمجھنے میں اللہ کے پا ک رسول کے محتا ج نہیں ، خو د ایک آ دمی مجھے کہنے لگا کہ جی اللہ نے دماغ کس لئے دیا ہے ؟کیا ضرورت ہے سنت کی ؟میں نے کہا اگر صرف دما غ کا فی ہوتا ہے تو اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کو تئیس سال یہاں دینا میں نہ رکھتے نبو ت کے بعد ۔

سنت کیا ہے ؟اور سنت میں دو چیزیں ہیں :

ہر آ دمی سمجھ لیتا وہ تشر یف لا ئے تھے اور قرآن پا ک دے کر چلے جاتے سمجھتے رہوجو کچھ بھی ہے ، نبی اقدس ﷺ نے اس قرآن پا ک کو سمجھا یا ، اس پر عمل کر کے دیکھا یا اور اسی عملی نمو نے کا نا م سنت ہے ، کیا ہے ، ( سنت ) ہم جو اہل سنت کہلا تے ہیں تو سنت میں دو باتیں آ جاتی ہیں ، یا د رکھنا ،

۱ --علم قرآن

۲ --اور نمو نہ عمل رسول اللہ ﷺ کا ہم نے پڑ ھنا ہے یہاں سے اقیمو الصلو ٰة نماز قائم کرو ا اور دیکھنا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کیسے نماز ادا فر مارہے ہیں ۔

قرآن کے بارے میں ہما را عقید ہ :

ہما را عقید ہ یہ ہے کہ قرآن پا ک لفظی ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اسی قرآن پا ک کی چلتی پھر تی عملی تفسیر ہیں

آپ کی عادت ، آپ کی عبادت

آپ کا جہا د آپ کی قلم

آپ کی نماز آ پ کا حج

آپ کا رو ز ہ آپ کی زکو ة

جو کچھ بھی تھا وہ اسی قرآن کی عملی تفسیر تھی تو اہل سنت وہ لوگ کہلا تے ہیں جو عمل قرآن پر کر تے ہیں لیکن قا دیا نیوں کی طرح خو د غلط تر جمہ نہیں نکا لتے جس طرح رسو ل پاک ﷺ نے عمل کر کے دکھا یا اس طرح عمل کرتے ہیں تو ان لوگوں کا جنہوں نے اپنا نا م اہل قرآن رکھا ۔

اہل قرآن کا دھو کہ :

اور لوگوں کو دھو کہ دنیا شروع کیا ہے کہ بھئی یہ قرآن کب سے ہے ؟سب نے کہا کہ جی حضور ﷺ کے زما نے سے جس دن سے قرآن ہے اسی دن سے ہم اہل قرآن بھی ہیں حا لا نکہ پیدا انگر یز کے دور میں ہو ئے ہم ان سے کہتے ہیں کہ قرآن کی اشا عت میں تمہارا کیا حصہ ہوتا ؟انگر یز کے دور سے پہلے اپنا قرآن کا تر جمہ دکھا دو ، کہا ں ہے ؟جیسے قادیانیوں کا انگر یز کے دو رسے پہلے یقین نہیں اہل قرآن کہلا نے والوں کا بھی نہیں اب وہ آپ کو دھو کہ کیسے دیتے ہیں ، پو چھتے ہیں بھئی قرآن حق ہے یا نہیں ؟آپ کیا کہتے ہیں ؟حق کہتے ہیں جب قرآن تو اہل قرآن حق بھی بر حق ۔ ہم کہتے ہیں قرآن با لکل حق لیکن یہ اہل قرآن پکے با طل پر ست اتبا ع شیطا ن کر نے والے تو اللہ تبا رک وتعا لی نے اس آیت میں رسول کے لفظ سے ان کا ر د کر دیا ہے کہ تم جو یہ پر و پیگنڈ ہ کر تے ہو کہ رسو ل کے خد ا کی باتیں بیا ن کرتا ہے اس کا معنی کہ باقی قرآن کو تم کیا سمجھتے ؟تمہیں تو رسو ل کے لفظ کا معنی نہیں آتا پیغمبر اپنی بات نہیں کہتاوہ تو جس کا پیغا م لا یا ہے اسی کی بات پہنچا تا ہے وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یو حی وہ جو کچھ بھی کہتا ہے اپنی خواہش سے نہیں کہتا اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے تو پیغمنر بیا ن کر تا ہے مو لا نا کا ند ھلو ی  فرماتے ہیں ۔

گفتہ تو اے گفتہ اللہ بود

گر چہ ازحلقوم عبداللہ بود

رسول کا فرما ن خدا کا فرما ن ہوتا ہے اگر چہ زما ن رسول کی چل رہی ہو تی ہے ،

گفتہ او راگفتہ اللہ واں

ہمچو شجرہ موسیٰ عمراں بداں

اس کے فرما ن سمجھو جیسے مو سی علیہ السلا م درخت کے پا س گئے تھے ناں تو آواز آ رہی تھی انی انا ربک فاخلع نعلیک ۔

آنچہ یکہ آمد درا زدرخت

از خدا ابودہ نہ از درخت

اگر چہ آ واز درخت سے سنا ئی دے رہی تھی لیکن وہ آواز خدا کی تھی درخت کی نہیں تھی ، اس طرح زبا ن مصطفی ﷺ کی ہے اور کلا م خدا کا لوگوں کو سنایا جا رہا ہے تو جس کولفظ رسول کا معنی آجا ئے وہ کبھی اس جھو ٹ پر یقین نہیں رکھ سکتا کہ اللہ کے پا ک پیغمبر خد ا کے خلاف با تیں کیا کر تے تھے ، وہ خد اکی با ت پہنچا نے آ ئے تھے ، خد ا کا دین سمجھا نے آ ئے تھے ، اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ رسول خد اکے خلاف با تیں کر تا ہے ، اللہ کہتا ہے کہ وہ متبع الشیطا ن ہے لا تبعتم الشیطا ن الا قلیلا ، اگر چہ نا م اس نے اپنا اہل قرآن ہی رکھ لیا ہو لیکن وہ رسول اور خدا میں جو کشتی کروا نا چا ہتا ہے معاذ اللہ خد اکچھ کہتا ہے رسول کچھ کہتا ہے یہ اس کا سب سے بڑا دھو کہ اور سب سے بڑا فراڈ ہے اب پہلا حق رسول کو تھا دوسرا حق تھا مجتہد کو ۔

دوسرا فرقہ اہل حدیث :

اب جنہو ں نے مجتہد ین سے اجتہا د کا حق چھیننا چاہا انہوں نے فرق بنا یا کہ وہ رسول ہے، یہ امتی ہے ، اگر امتی کی بات بھی مان لی گئی تو گو یا یہ شر ک فی الر سالة ہو جائے ، وہ معصو م ہے ، یہ غیر معصو م ہے اور یہ بتا نا شروع کر دیا کہ معاذ اللہ رسول کچھ فرماتے ہیں اور مجتہد اس کے خلاف کچھ اور ہی کہنا شروع کر دیتے ہیں ، اب مجتہد کو آگے سے ہٹا نے کے لیے جیسے انہوں نے رسول کو آ گے سے ہٹا نے کے لئے نام اہل قرآن رکھ لیا تھا ہمارے دوستوں نے مجتہد کو آگے سے ہٹا نے کے لیے یہ نا م اہل حدیث رکھ لیا اور لوگوں میںیہ تا ثر دیا کہ اجتہا د یہ کتا ب وسنت کی مخالفت کا نا م ہے ، فقہ کتا ب وسنت کی مخا لفت کا نا م ہے ، اللہ تبا رک وتعالی نے چو دہ سو سال پہلے سمجھا دیا فقہ کا ذکر اجتہا د کا لفظ استنبا ط سے فرمایا ، کو ن سا لفظ بیا ن فرمایا ، استنبا ط ، استنبا ط کسے کہتے ہیں ؟اللہ تعا لی نے انسا ن کی زند گی کے لئے پانی کو بہت ضروری بنا یا ہے یہ ضرورت زند گی میںسے ہے ۔کچھ پا نی بارش کے ذ ریعے برسا، دریا ں میں بہہ رہا ہے اور بہت سا ذخیر ہ زمین کے نیچے چھپا رکھا ہے اب زمین کے نیچے چھپا ہو اجو پا نی ہے اس کو نکال لینا کنواں بنا کے نکلا ا ٹیو ب ویل لگا کے اس کو عر بی لغت میں استنبا ط کہتے ہیں ، کیا کہتے ہیں ؟استنبا ط ۔جو زمین کہ تہہ کے نیچے پا نی اس سے ہم اس وقت فائد ہ نہیں اٹھا سکتے جب وہ با ہر نکلے گا تو اس سے فا ئد ہ حاصل کر یں گے ، وضو کریں گے پئیں گے ، کھا نا پکا ئیں گے ، ایک تو استنبا ط کے لفظ میں پہلی بات یہ سمجھا دی کہ بھئی جتنا پانی ضروری ہے انسا نی زند گی کے لئے اتنی ہی فقہ ضروری ہے اسلا می زند گی کے لئے ۔

بھینس حلا ل ہے یا حرا م :

پچھلے ہفتے کی بات ہے کہ ایک مو لو ی صاحب بڑ ی زور سے تقر یر فرمارہے تھے ہم قرآن حدیث بیا ن کر تے ہیں ، یہ بہشتی زیو ر سنا تے ہیں یہ تعلیم الاسلا م سنا تے ہیں ہم سارے مسئلے قرا ٓن وحدیث سے سنا سکتے ہیں ، میں نے چٹ لکھ کر بھیجی کہ مو لا نا آ پ خا نہ خدا میں بیٹھے ہیں اور قرآن آپ کے ہا تھ میں ہے ، مسند رسول پر بیٹھے ہیں آپ وہ آ یت یا حدیث سنا دیں بیٹھے بیٹھے کہ بھینس حلا ل ہے یا حرام ؟بھینس کو عر بی میں جا موس کہتے ہیں حا فظ صاحبا ن بیٹھے ہو ں گے جا مو س کا لفظ پو رے قرآن میں آیا نہیں کہیں ، اب وہ لڑ کا ہم نے بھیجا کا لج کا ، اس نے کہا کہ جی یہ حدیث سنا دیں اس نے چٹ نیچے رکھ دی نہیں نہیں جی وہ کہنے لگا یہ حدیث ضرور سنا ئیں تا کہ پتہ چل جائے ، آ پ ہر مسئلہ قرآن وحدیث سے سنا تے ہیں اس نے اشا رہ کیا کہ بھئی اسپیکر بند کردو (مو لو ی صاحب نے ) سپیکر بند کروا کے کہتا ہے ہم قیا س سے ما نتے ہیں کہ بھینس حلا ل ہے ، میں نے کہا پھر اتنا شور کیوں مچ رہا تھا ہم قرآن حدیث سے کہتے ہیں فقہ کو ما نتے نہیں؟ادھر سے ہمارے سا تھی نے بھی سپیکر کھو ل دیا، اس نے کہا مو لوی صاحب نے اقرا ر کر لیا ہے ہم اہل قیا س ہیں اہل حدیث نہیں ہیں ، اب وہ مو لو ی صاحب جو تھے ان کو الگ کر لیا گیا دوسر ے مو لوی صاحب کھڑے ہو گئے انہوں نے یہ دلیل بیا ن کی کہ حدیث پا ک میں آ تا ہے کہ جو جا نور داڑھ سے شکا ر کرتے ہیں یا پنجے شکا ر کر تے ہےںوہ حرام ہیں چو نکہ بھینس یہ داڑھ سے شکا ر کرتی ہے نہ پنجے سے شکار اس لئے یہ حلال ہے ، ہم نے پو چھا کہ گد ھا بھی نہ دا ڑھ سے شکا ر کر تا ہے نہ ہی پنچے شکا ر کرتا ہے تو اس کے بھی حلا ل ہو نے کا فتویٰ دیجئے ، اب وہ مو لو ی صا حب بھی پیچھے ہٹ گئے تیسرے آ گئے کہنے لگے کہ جنگی گد ھا حلال ہے حدیث میں ہے کہ جنگلی گدھا حلال ہے ہم کہتے ہیں جس طر ح جنگلی گد ھا کی حدیث سنا رہے ہو ، بھینس کی بھی سنا دو جلد ی سے ہم پوچھتے ہیں کہ بھینس والی حدیث سنا گد ھے والی سنا رہا ہے ہم با ربا ر مطا لبہ کر رہے ہیں کہ اللہ کے بندبھینس والی سنا کہ بھینس حلا ل ہے اور اگر آپ کے پا س کو ئی حدیث نہیں اورقرآن کی کوئی آیت نہیں تو سا ری بھینسیں حنفی مد رسوں میں بھیج دیں ،کیو نکہ آپ کے لئے تو حر ام ہےں بھینس کو قیاس کیا گیا ہے گا ئے پر اب اگر قیا س حلال ہے تو بھینس بھی حلال ہے قیا س حرا م تو بھینس بھی حرا م ہے بھینس حرا م ہو گی تو گو شت بھی حرا م ہو گیا دودھ بھی حرام ہو گیا گھی بھی حرام ہو گیا اس پکی ہو ئی چا ہے بھی حرام ہو گئی لسی بھی حرام ہو گئی اب ہم با ر با ر پو چھتے ہیں کہ خدا لئے بھینس والی حدیث پڑ ھ کر سنا تاکہ ہمیں بہشتی زیور کی طر ف نہ جا نا پڑھے ہم آپ کے مذ ہب میں آ جا ئیں گے ، آ خر دس پند ر ہ غیر مقلد اٹھے انہو ں نے منت کی کہ مو لو ی صا حب بند کردو تقریر یہ سا رے علا قہ میں شور مچ جا ئے گا کہ یہ گد ھا کھا نے والے ہیں اگر بھینس والی حدیث ہے تو سنا دو اور اگر بھنس والی حدیث نہیں ہے تو پھر جلسہ بند کردو کا فی ہوگئی ہے اب تو ہمیں گلیوں میں کوئی نہیں پھر نے دے گا ہم نے پو چھا کہ بھا ئی آ خر آپ کہتے ہیں جنگلی گد ھا حلا ل ہے ، گھروالا گد ھا حر ام ہے کیا وہ داڑھو ں سے شکار کرتا ہے ؟آخر وجہ فرق آپ نے جو بیا ن کی ہے وہ تو یہاں نہیں پا ئی جاتی تو بات یہ ہے کہ اس طرح کہنا آسا ن ہے دلیل سے ثا بت کر نا مشکل ہے ، ایک صا حب اسی طرح تقر یر فر ما رہے تھے ، لیا قت پور میں ، ہم نے چٹ لکھ کر بھیجی ایک عورت فو ت ہو گئی ہے اس کے پیٹ میں بچہ ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ زند ہے کیا اس کے پیٹ چا ک کر کے بچہ نکا ل لینے کی اجازت قرآن وحدیث میں ہے یا نہیں ؟جب لڑ کے گئے ان سے ٹیپ بھی لے کر رکھ لی کیسٹ نکا ل کے جیب میں ڈال لی اور سپیکر بند کر کے کہنے لگے کہ جب تک واقعہ پیش نہ آئے ہم اس کا حکم تلا ش نہیں کرتے ، لکھا کہ یہ آپ کی اپنی مر ضی ہے یا اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ تلا ش نہ کر نا حکم ؟چلو اسی کی حدیث سنا دوکہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ پہلے تلا ش نہ کرنا دیکھئے نا ں ایک آ د می نماز پڑ ھ رہا ہے التحیا ت اس نے پڑ ھ لی ہے دورد شر یف کی جگہ الحمد شریف بھو ل کر شروع کر دی اب وہ نیت توڑ کے پو چھنے جا ئے گا مسئلہ کہ جی میں کیا کروں یاپہلے اس کو مسئلہ یا د کر نا چا ہئے (پہلے ) وہ کہے نہیں پہلے کر نا چا ہیے جب پیش آ ئے گا پھر اس نے کہا حضرت یہاں جب پیش آگیاتو میں آپ کے پیچھے نازنگ منڈی جا ں گا ؟ عورت تو پہلے مر چکی ہو گی بچہ اتنی دیر زند رہے گا َ؟تو کیا فائدہ ہوگا آپ کے پاس وہا ں جانے کا ہمیں آپ مسئلہ یہاں بتا دیں ، ایک ڈاکٹر صاحب پا س بیٹھے تھے انہوں نے دیکھا کہ مولوی صاحب کی جا ن چھڑا نی چا ہیے اس نے کہا میں ڈاکٹر ہوں مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ بچہ پہلے مر تا ہے ماں بعد میں مر تی ہے یہ واقعہ با لکل ہو سکتا ہی نہیں بس پھر کیا تھا سب شور مچا دیا ، یہ واقعہ ہو ہی نہیں سکتا ، یہ ہو ہی نہیں سکتا (مکر ر )آخر لڑ کے میرے بھی بیٹھے ہوئے کچے تو نہیں تھے نا ں انہوں نے جیب سے اخبا ر نکالا کہ یہ ڈاکٹر صا حبا ن کا ہی بیا ن ہے ایسا بچہ ہے نو مہینہ کا ہو چکا ہے الحمد اللہ زند ہ ہے جو نکا لا گیا تھا اس سے پو چھا کہ ڈاکٹر صاحب ہی ڈکٹر ہیں یا یہ بھی ڈاکٹر صاحبا ن ہیں جنہو ں نے یہ رو پور ٹ اخبا ر میںچھپا ئی ہے اب وہ خا مو ش ا ب تو وہ واقعہ ہو چکا نا ں اب یہ حدیث سنا دیں کہ جنہوں نے آپر یشن کر کے بچہ نکا لا ہے ان کو گنا ہ ہوا یا ثواب ہو ا؟گنا ہ ہے تو اس کی حد کتنی ہے ؟ ثواب تو کتنا ثوا ب ہو ا؟بس خا مو ش ، قرآن وحدیث کا نا م بھی بھو ل گئے بے چا رے دوسرے دن پھر ہم نے بھیجا (رقعہ ) کہ میں گھر سے نکلا تھا جما عت سے نماز پڑ ھنے کے لئے راستہ میں دیکھا کہ قربانی کا بکر تھاوہ ٹکراگیا کسی بس سے تڑ پ رہا ہے میں اسے ذبح کرنا شروع کرتا ہو ں تو جماعت جا تی ہے جماعت سے ملتا ہوں تو یہ حرا م ہو رہا ہے ، مجھے حدیث سے بتا یا جائے کہ اب میں ان دو کا موں سے کو ن سا کام کروں ؟کو ن سا چھو ڑ دو ں ؟انہو ں نے پھر کہا کہ یہ کیسٹ بند کردوٹیپ رکھ لی اس کے بعد جوا ب دیا کہ جس وقت جماعت کھڑ ی ہو جائے دنیا میں کسی جگہ ایکسڈنٹ ہو سکتا ہی نہیں ،انہوں نے کہا حضرت یہ تو مسجد وں میں جماعت کھڑ ی ہو تی ہے بم ما ر کے بھا گ جا تے ہیں نماز پڑ ھنے والوں کو شہید کر کے چلے جاتے ہیں اور آپ کہتے ہیں ہو سکتا ہی نہیں تو بات یہ کہ دعو یٰ تو بہت اونچا ہوتا ہے ہما رے دوستوں کا لیکن جب ہم مسائل پو چھتے ہیںتو ہم کہتے ہیں بھئی ہمیں کوئی ضد نہیں آ پ یہ سار ے مسائل ہمیں قرآن حدیث سے دکھا دیں ہم آ پ کے سا تھ ملنے کو تیا ر ہیں ۔

ایک ہیڈ ما سٹر صاحب تھے میرے پا س آ ئے دومو لوی صا حبا ن تھے کہ جی انہوں نے مجھے کتا بیں پڑ ھا ئیں اور میں نے پڑ ھی ہیں میں نے کہا اچھا بخا ری شر یف دیکھی ہے مسلم شر یف دیکھی ہے ارود تر جمہ والی تو یہ بڑ ی فکر ہے کہ سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گا ہمیں نماز صحیح کر نی چا ہیے اور بخا ری مسلم کے مطا بق پڑ ھنی چاہیے یا نہیں ؟میں نے کہا بخا ری مسلم میں مکمل نماز ہے ہی نہیں حسا ب تو مکمل نماز کا ہوتا ہے نا ں ؟نہیں ہے ؟ میں نے کہا آپ تو ایک طر ف ہو جا ئیں کیو نکہ آپ نے دس دن یا ایک ہفتہ یا ایک مہنیہ مطالعہ کیا ہوگا نا ں بخا ری کا ، یہ دو نوں مو لو ی صا حبا ن جنہو ں نے با ر ہ سا ل پڑ ھی ہے قرآن وحدیث پڑ ھا ہے اور اب تیس سال سے پڑ ھا رہے ہیں یہ مجھے سمجھا دیں کہ مکمل نماز کے مسائل ہیں وہا ں ؟مجھ سے خلف کے طو رپر لکھوالیں کہ جس دن سلا م تک پوری نماز سکھا دیں گے میں اہل حدیث ہو جا ں گا ، اب دیر ان کی طر ف سے ہو گی جتنی میر ی نمازیں ان کے خیا ل میں غلط ہوں گی گناہ ان کو ہو گا یہ مجھے آ ج کر لیں اہل حدیث مہینہ کے بعد کر لیں سال کے بعد کر لیں دوسال کے بعد کر لیں مجھے نماز مکمل سکھا دیں اب ان سے جب ہم نے پوچھنا شر وع کیا مسائل کہ بھا ئی دیکھو تکبیر تحر یمہ ہے اما م او نچی کہتا ہے مقتد ی آہستہ ذرا اس فر ق کی حدیث سنا دو ایسے ہی ہو تا ہے یا نہیں ہوتا ؟(سا معین ایسے ہی ہوتا ہے ) کہیں بھی فرق کی کوئی حدیث ہو تو جن کو تکبیر تحر یمہ بھی نہیں ا ٓتی اب میں نے اس ہیڈ ما سٹر صاحب سے پو چھا کہ یہ صاحب جو چا لیس پنتا لیس سال سے مطا لعہ قرآن وحدیث کا کر رہے ہیں ان کو تکبیر تحر یمہ کا مسئلہ بھی نہیں آتا ؟آپ سکول نے میں بھی پڑھا ہے ٹیو شنیں بھی پڑ ھا نی ہے آپ کو یہ دعو ت دے رہے ہیں کہ آپ تھو ڑا سا مطا لعہ کرکے فارغ ہو جائیں اور نماز ہمارے والی پڑ ھنی شروع کردیں جس کا ان کے پا س بھی ثبو ت نہیں ۔

نماز میں آ پ سا رے دورد شر یف آ ہستہ پڑ ھتے ہیںنا ں ۔مو لا نا آ ج سے دس سال پہلے میں نے یہاں مولویوںسے پو چھا تھا کہ اس کی کوئی حدیث سنا دیں گا لی تو نہیں ہے نا آج دس سال ہو چکے ہیں آج تک کوئی حدیث نہیں سنا سکے ، تو ہم اہل سنت والجماعت حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں تحقیق کا حق اللہ تبا رک وتعالی نے رسول کے بعد مجتہد ین کو دیا ہے ہر آد می کو نہیں دیا یہی بات غلط ہے کہ ہر آ دمی پور ی تحقیق دین کی کر سکتا ہے تو یہ یا د رہے کہ کتنوں کو تحقیق کا حق ہے ( دو کو ) کن کن کو ؟رسول کو تحقیقی کا حق ہے اور رسول کی طر ف سے نسبت کر کے ہم اپنے آپ کو اہل سنت کہتے ہیں کیا کہتے ہیں اہل سنت اور اس کے بعد مجتہد کو حق ہے ان کی طر ف سے نسبت کر کے ہم اپنے آ پ کو حنفی کہتے ہیں تو قرآن میں دو تحقیقوں اب جو صرف ایک نسبت بتا تا ہے وہ قرآن کی اس آیت کا انکا ر کر رہا ہے ، میں نے آپ کے سا منے آ ج عر ض کیا ہے کہ سننے کو تو یہ بات بڑ ی عجیب ہو گی کہ ہم قرآن سنا تے ہیں ، یہ بہشتی زیو ر سنا تے ہیں ؟

ایک واقعہ :

ایک مو لو ی صا حب بڑ ے جو ش سے تقریر فر مارہے تھے میںبخا ری لے کے آ تا ہوں تو قد روی لے کر آ میں مسلم لے کے آ تا ہوں تو بہشتی زیو لے کر آ ، میں نہ قدوری لی نہ بہشتی زیور میں تعلیم السلا م لے کر چلا گیا ، کو ن سی کتا ب لے کر چلا گیا تعلیم الا سلا م میں نے کہا بھئی یہ تعلیم الا سلا م ہے اس میں یہ نما ز کی شر طیں لکھی ہیں آپ بخا ری مسلم سے یہ حدیث دکھا دیں کہ یہ شر طیں غلط ہیں میں اسی وقت تو بہ کر لوںگا کس بات سے ؟ان شر طو ں سے جو فقہ کی کتا ب میں لکھی ہیں نماز تو نہیں چھوڑ نی ہے نا ں میں نے اس کے بعد مجھے وہ حدیث دکھا جس میں نماز کی صحیح شر طیں لکھی ہوں کیو نکہ نماز تو میں نے پڑ ھنی نا ں آخر ، یہ دو حدیثیں میں نے پو چھیں ایک حدیث وہ کہ ان شر طوں کو غلط کہہ دیا گیا ہو دوسری وہ کہ یہ غلط ہو ں گی ہم نے جھوڑدیں بس لکھ دیں ہم نے چھوڑ دیں نماز تو ہم نے نہیں چھوڑنی نہیںوہ تو ہم نے پڑ ھنی ہے ناں نماز کی شر طیں ہمیں کسی حدیث سے دکھا دیں تر جمہ سے ہر عا م آ دمی بھی پڑ ھ کے دیکھ لے کہ یہ نماز کی شر طیں ہیں اب میں قرآ ن اٹھا کر آگے کر تا ہوں وہ کہتا ہے ادھر کو لے جا اور قرآن کا تو دشمن ہے میں بخا ری اٹھا کر اس کے آ گے کر تا ہوں یہ لو بخا ری شر یف سے نماز کی شر طیں نکا لو وہ بخا ری کو ہا تھ نہیں لگا تا میں مسلم اٹھا کے دیتا ہوں ہا تھ نہیں لگا تا ، آ خر سوچ کر مجھے کہتا ہے کہا آ پ کا خیا ل ہے بخا ری مسلم میں پو ری نماز نہیں ہے ؟امام بخا ری نماز پڑ ھتے تھے امام مسلم نماز نہیں پر ھتے تھے ، میں نے کہا تو ہم نے پو چھنا ہے آپ سے کہ جب بخا ری میں نماز نہیں تو وہ کیسے پڑ ھتے تھے ہمارے پا س تو جواب ہے کہامام شا فعی کی فقہ کے مطا بق پڑ ھتے تھے ان کے مقلد جو تھے آپ کے پا س کیا جوا ب ہے ؟کیو نکہ اس (بخاری مسلم ) میں تو مکمل نما ز نہیں ہے ، میں عر ض کر رہا تھا کہ استنبا ط کسے کہتے ہیں ؟جو پا نی زمین کی تہہ سے نکا ل لیا جائے پا نی انسا نی زند گی کے لیے ضروری ہے یا نہیں اس کے بغیر گز ار ہ ہو سکتاہے ؟نہیں ۔

ہرنما زی مجتہد ین سے مسئلے لیتا ہے :

جو بھی شخص دینا میں نما ز پڑ ھتا ہے وہ مجتہد ین سے مسئلے لیتا ہے اگر چہ چو ری ہی کر کے لے جائے ایک شخص کہنے لگا جی ہم نہیںلیتے میں نے کہا آپ کی نماز شروع بھی فقہ سے ہوتی ہے اور ختم بھی فقہ پر ہوتی ہے آپ کا امام اللہ اکبر اونچی کہتاہے ، مقتدی آہستہ کہتا ہے آپ کا اما م السلا م علیکم ورحمة اللہ اونچی کہتاہے اور مقتد ی آ ہستہ کہتا ہے یہ فر ق فقہ کی کتاب میں ہے حدیث میں کہیں مو جو د نہیں ہے تو جس طرح پا نی کے بغیر گز ار ہ مشکل ہے فقہ کے بغیر گز ارہ مشکل ہے ، فر ق صرف یہ ہے کہ وہ چو ری کے کے مسئلے لے لیتے ہیں ہم پو چھ کر لیتے ہیں اور ہم ان سے ما نگ کر لے لیتے ہیں (مجتہد سے) کہ جی ہمیں سمجھ نہیں ا ٓئی آپ ہمیں سمجھا دیں اب میں آپ سے پو چھتا ہوں کہ ایک زمیندا ر ہے اس کا گنے کا کھیت ہے میں نے اس سے گنا ما نگ کر لیا اور ایک نو جو ان نے گنا چو ری توڑ لیا سمجھے مثا ل کو گنا ایک ہی کھیت کا ہے میں نے ما نگ کر لیا ہے اس نے چو ری توڑ ا لیکن حر ام حلا ل کا فر ق ہو گیا یا نہیں ؟ہو گیا ، میں نے ما نگ کر لیا وہ حلا ل ہے گنے کو نہیں دیکھا جائے گا ، یہ دیکھا جائے گا کہ کس طریقہ سے ہے ؟جا ئز طریقہ سے لیا ہے یا ناجائز طریقہ سے لیا ہے تو اللہ تبارک وتعا لی نے جب یہ تحقیق کا حق دیا رسو ل کے بعد مجتہدین کو دیا ہے ۔

تقلید کب سے شروع ہو ئی :

تو اسلا م میں پہلے دن سے تقلید چلی آ رہی ہے یا د ر کھنا امام غز ا لی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں المستثفی میںعلا مہ واقد ی ، احکا م میں شا ہ ولی اللہ فرما تے ہیں کہ اسلا م میں ایک دن بھی ایسا نہیں گز را کہ فتویٰ لینے یا دینے پر پا بند ی لگا ئی گئی ہو کہ کبھی مفتی پر پا بندی نہیں لگائی گئی کہ وہ دلیل بھی پو ری بیا ن کر ے وہ صر ف مسائل بیا ن کر دے اور لوگ اس مسائل پر عمل کرتے تھے اب دیکھئے یہ کہتے ہیں صحا بہ حدیث ما نتے تھے دلیل کیا ہے ؟چا ر ہزار متن ہیں احا دیث کے کتنے ؟چا ر ہز ار متون ہیں احکا م کی احا دیث کے پھر یا د کر لیں کتنے ہیں ؟چا ر ہزار وہ صحا بہ سے مرو ی ہیں تو پتہ چلا کہ صحا بہ نے جو حدیث کی روایت کی ہے وہ حدیث کو ما نتے تھے کتنے متن میں ؟چا ر ہز ار ۔

صحا بہ کے فقہی فتا ویٰ :

اور چھتیس ہز ار سے زیا د ہ صحا بہ کے فقہی فتا ویٰ ہیں کتنے ہیں؟چھتیس ہز ار سے مصنف ابن ابی شیبہ سو لہ جلدوں میں منصف عبد الر زاق گیا رہ جلد وں میںتہذیب آلا ثا ر کتاب الا ٓثا ر امام محمد یہ کتا بیں بھر ی پڑ ی ہیں صحا بی نے صرف مسئلہ بتا دیا ہے دلیل کے تحت کو ئی حدیث یا آیت بیا ن نہیں کی با قی سب نے ان سے مسئلہ سن کر عمل کر لیا ہے کسی نے دلیل کا مطا لبہ نہیں اب چا ر ہز ار حدیثیں صحا بہ روایت کر دیں تو اہل قرآن کے پیچھے لوگ لٹھ (لاٹھی) لے کر پھریں کہ وہ سنت کو ما نتے تھے ، صحا بہ سنت کو مانتے تھے چھتیس ہز ار کے قریب ان کے فقہی فتاویٰ موجو د ہوں پھر وہ فقہ کو ما نتے تھے یا نہیں مانتے تھے ؟علما ءحضرات موجو د ہیں صحا بہ کرام کی تعداد ایک لا کھ سے ز اہد ہے بعض نے ایک لا کھ چو بیس ہز ار لکھی ہے بعض نے ایک لا کھ چو الیس ہز ار لکھی ہے کتنی ؟ایک لاکھ چو الیس ہز ار ایک لا کھ سے ز ائد ہوئی ناں ڈیڑھ لا کھ کے قر یب ،وہ سا رے عر بی دا ن تھے یا نہیں ان کی مادر ی زبا ن عر بی تھی یا نہیں ۔

فتویٰ صرف چھ صحا بہ دیتے تھے :

لیکن آپ کتابیں اٹھا کر دیکھیں فتویٰ صرف چھ صحا بہ دیتے تھے ابن قیم نے بہت زور لگا یا ہے تو انہوں نے لکھا ہے کہ چھ تو عام طور پر فتویٰ دیتے تھے اور بائیس وہ ہیں جن کے چند فتوے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کا ایک آ د ھ فتویٰ ملتا ہے ، ان ان کی ما در ی زبا ن عر بی تھی ان کو بھی یہ جر ات نہیں ہوتی تھی کہ ہر آ دمی مفتی بن بیٹھے ۔

حضرت معا ذ کی اجتہا د والی حدیث :

حضور نبی کریم ﷺ نے جب حضرت معا ذ کو یمن بھیجا تو یمن والے سا رے سرائیکی بو لتتے تھے ناں ؟ نہیں ۔ عر بی بو لتے تھے تو جب منشو ر طے ہو اہے کہ فیصلہ کس طر ح کرو گے ؟کہا کہ کتا ب اللہ سے فرمایا فا ن لم تجد فیہ اگر کتاب اللہ میں مسئلہ نہ ملا پھر کیا کرو گے ؟ کہا بسنة رسول اللہ اگر سنت سے بھی نہ ملا تو پھر کیا کروگے اجتہد بر ائی کہ میں اپنی را ئے سے اجتہا د کر کے فیصلہ کردوںگا ، تو ان کے فیصلے یمین والے ما نتے تھے یا انکا ر کرتے تھے ؟ما نتے تھے یمن والوں کی زبا ن کیا تھی ؟عر بی ، قرآن کی زبا ن کیا ہے ، عر بی حدیث کی زبا ن کیا ہے؟عر بی ، اب حضرت ﷺ نے یہ نہیں فرما یا کہ معاذ وہ تو سا رے عر بی ہیں جا نتے ہیں بس ان کو قرآن وحدیث دے دینا ہر آ دمی خو د مسئلہ نکا لتا رہے گا اور عمل کرتا رہے گا میں با ر با ر یہ مطا لبہ اپنے دو ستوں سے کیا کہ پو رے ملک یمن میں حضرت پا ک ﷺ کے زما نے میںحضرت کے حکم سے سا رے لو گ حضرت معاذ کی تقلید کر تھے ایک نا م ایسا نکال دیں جس نے اٹھ کر کہا ہو کہ معا ذ تم قرآن سنا گے میں ما ن لو ں گا تم حدیث سنا گے میں ما ن لوں گا لیکن جب اجتہا د کی بار ی آ ئے گی تو میں عر بی جانتا ہوں ؟کسی نے نہیں کہا ، اسی وقت حضرت ابو بکر صد یق بھی زند ہ تھے ،اور حضرت عمر بھی زند ہ تھے یا نہیں تھے ؟ کسی نے بھی اٹھ نہیں کہا کہ معاذ جب اجتہا د ی با ری آ ئے گی تو ہم سا رے تیرا فیصلہ نہیں مانیں گے کوئی ابو بکر کا اجتہاد ما نے گا کوئی عمر کا اجتہا د ما نے گا کوئی عثما ن اور علی کا اجتہا د ما نے گا کوئی عثما ن کا اجتہا د ما نیں گے کسی نے بھی نہیں کہا کیوں ؟جس یقین کے تحت حضرت معاذ کا فتویٰ ان کو مل سکتا تھا اس یقین کے سا تھ ابو بکر کا فتویٰ ان تک نہیں پہنچ سکتا تھا جب فتویٰ دے دیا سب عمل کر تے نظر آئے رہے ہیں تو بات یقینی ہو گئی ناں ، وہا ں سے جو فتویٰ لے کر آئے گا پتہ نہیں فتویٰ لے کرآ نے والا اعتما د والا بھی ہے کہ نہیں ؟( مکہ یا مد ینہ سے ) تو حضرت پا ک ﷺ کے زما نہ میں مسا ئل معلو م کر نے کے تین طر یقے تھے ، کتنے تین ، جو حضرت پا ک ﷺ کی خد مت اقد س میں رہتے تھے وہ ذات اقدس سے پو چھ لیتے تھے ، جب بھی کچھ بھو ل گیا کو ئی مسئلہ پیش آ گیا ، حضرت محمد ﷺ یہ بات ہو ئی ہے وضا حت فر ما دیں ، تو ذات اقدس سے جو دور رہتے تھے حضور ﷺ سے ان میں جو مجتہد ہوتا وہ اجتہا د کرتا جیسے یمن میں حضرت معاذ جو گی غیر مجتہد ہوتا وہ اپنے مجتہد کی تقلید کرلیتا جیسے سا رے اہل یمن تو کتنے طریقے تھے تین گیا رہ ہجر ی میں حضر ت کا وصال ہو گیا اب دو طر یقے با قی رہ گئے تھے کیا کیا ؟مجتہد ین اجتہا د کرتے تھے ، پو رے مکہ مکر مہ میں صرف عبدا للہ بن عبا س کا فتویٰ چلتا تھا ان کے فتو ے حدیث کی کتا بوں میں بھر ے ہو ئے ہیں بغیر کسی آیت اور حدیث کے فتو یٰ دیتے تھے اور سا رے مکے والے ان کے فتو ے پر عمل کرتے تھے ۔پو رے مد ینہ میں حضرت زید بن ثا بت کا فتویٰ چلتا تھا بخا ری شر یف میں روایت مو جو د ہے کہ مد ینہ کے لوگ مکہ کے لیے گئے ایک مسئلہ کی ضرورت پڑ ی مکہ کے مفتی حضرت عبدا للہ بن عباس سے پو چھا انہو ں نے مسئلہ بتا یا بعد میں کسی مد ینہ والے نے بتا یا کہ یہ ہمارے مفتی صاحب زید بن ثا بت کے خلا ف بتا یا ہے بخا ری میں الفا ظ ہیں بقو لک یا ابن عبا س کہ ہم اپنے مفتی کا فتو یٰ نہیں چھو ڑیں گے اس سے زیا دہ تقلید شخصی اور کیا ہوتی ہے ؟پو رے کوفہ میں عبدا للہ بن مسعو د کا فتویٰ چلتا تھا پور ے بصر ہ میں حضرت انس کا فتویٰ چلتا تھا عبدا للہ بن مسعود کے فتو ے حد یث کی کتا بیں اٹھا کر دیکھیں کتا ب الا ٓ ثا ر امام محمد ؒ میں دیکھیں ، بغیر کسی آیت اور حدیث بیا ن کئے مسئلہ بتا تے ہیں اور عمل کر نے والے بغیر مطا لبہ دلیل کے اس پر عمل کر رہے ہیں ۔

تا بعین کا دو ر :

اب تا بعین کا دو ر پورے مکہ میں حضرت عطا ءبن ابی ربا ح کا فتویٰ چلتا تھا تو یہ تین میں بتا رہا تھا تین چیزیں تھیں۔

۱- -ذات اقدسﷺ

۲- -اجتہاد

۳--تقلید ۔

گیا رہ ہجر ی میں یہ بات ختم ہو گئی خیر القررون کے بعد اجتہا د پر بھی پا بند ی لگا دی گئی اب صرف تقلید با قی رہی لیکن تقلید آج سے شروع نہیں ہو ئی لیکن تقلید چو تھی صدی میں شروع ہو ئی ہے شروع نہیں ہے چو تھی صدی کے بعد صرف تقلید با قی رہی اجتہا د ختم ہو گیا اس با ت کا یہ جھو ٹ بو لتے ہیں اور اسی جھو ٹ سے لوگوں کو گمرا ہ کر تے ہیں لوگ سوچتے ہیں کہ یار وہ پہلے جو تقلید نہیں کرتے تھے وہ مسلما ن تھے یا نہیں حا لا نکہ وہ تقلید کر تے تھے ۔

تقلید کی مثا ل سے :

اس کی مثال حدیث سے دیتا ہوں یہ قرآن پا ک حضرت محمد ﷺ کے زما نہ میں جمع نہیں ہوا یمامہ میں لڑ ائی لڑ ی گئی مسلیمہ کذا ب جھو ٹے مد نی نبو ت کے سا تھ تو بہت سے قاری شہید ہو ئے حضرت عمر ؓ بخا ری شر یف ص ۵ ۴ ۷جلد دوم کی حدیثیں سنا رہا ہوں انہوں نے آکر عر ض کیا کہ حضرت قرآن کو جمع کر دیا جائے صحا بی اس طرح شہید ہو نے لگے تو قرآن ضا ئع ہی نہ ہو جائے اب گفتگو سنیں شیخین کی حضرت ابو بکر فر مارہے ہیں کہ نہیں جو کا م نبی نے نہیں کیا وہ میں نہیں کرو ں گا ۔حضرت عمر فر ماتے ہیں با ر با ر واللہ خیر اللہ کی قسم بڑا اچھا کا م ہے اب حضر ت عمر نہ کو ئی آیت سنا رہے ہیں کہ اس آیت میں آتا ہے قرآن جمع کرو اور نہ کو ئی حدیث سنا رہے ہیں کہ اس حدیث اس حدیث میں آتا ہے کہ جمع کرو بلکہ مان رہے ہیں کہ حضرت ابو بکر فرماتے ہیں کہ حضرت جمع نہیں فرمایا پھر ابو بکر فرماتے ہیں کہ میر بھی سینہ کھل گیا اور میں نے زید بن ثا بت کو کہا کہ جمع کرو یہ قرآن جو جمع ہوا تقلید اًجمع ہوا ناں۔ اگر تقلید شر ک ہے تو جو قرآن شر ک کی طرح جمع ہوا ہے اس کی تقلید ان کو جائز ہو گئی ، حضرت عثما ن کے زما نہ میں یہ بخا ری ص ۶ ۴ ۷کی حدیث ہے یہ بات چلی کہ لوگوں کو اختلاف ہو گیا ہے لغا ت کے بارے میں حضرت ﷺ نے دعا ئیں ما نگ کے اجاز ت لی تھی کہ ہر لغت پر اجا ز ت دی جاتی ہے قرآن پا ک کی جب تک عر ب میں دین رہا تو یہ بات فتنہ نہیں تھی دیکھئے نا ں آ پ کے سرا ئیکی میں بھی پنچا بی میں بھی رنگ رنگ قسم کی لغتیں ہیں ناں کوئی ولی محمد کہتا ہے کوئی بلی محمد کہتا ہے دا کو با بو لتے ہیں جا لند ھر والے ایسا ہو تا ہے ناں ، کوئی کور کہتا ہے کوئی گور کہتا ہے لیکن آپس میں سمجھ تو لیتے ہیں کہ یہی چیز ہے با ہر والے سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں وہ کچھ اور کہہ رہا ہے یہ کچھ اور کہہ رہا ہے ۔

حکا یت :

وہ جیسے علا مہ رو م نے حکا یت نقل فرمائی ہے کہ چار آ د می جا رہے تھے ایک رو می ٹرکی تھا ( تر کی ) ایک ایرا نی اور ایک عر بی تھا بھو ک لگی ہو ئی ایک دوسے کی زبا ن سمجھتے نہیں تو راستہ میں کسی نے ایک رو پیہ دیا انہیں اب سب پیٹ پر ہا تھ ما رتے ہیں کچھ کھا نے کے لیے چا ہیے ایک دوسر ے کی با تیں سمجھتے نہیں رو می کہنے لگا اوس اوس تر کی نے ہا تھ ما را کہ نہیں استا فیل ، ایرا نی نے کہا انگو ر ، عر بی نے کہا نہیں نہیں عنب سب لڑ رہے ہیں ایک رو پیہ ایک چا چیز یں کیسے آئیں ایک آ د می چاروں زبا نیں جا ننے والا آگیا اس نے کہا بھی لڑ تے کیو ں ہو رو پیہ مجھے میں سب کو را ضی کرتا ہوں وہ انگو رلے لے آیا اب رو می کہے یہی تو اوس ہے جسے میں کہہ رہا تھاٹر کی والی کہتا استا فیل کہہ رہا تھا وہ یہی تو ہے عر بی کہے میں جو عنب کہہ رہا تھا یہی تو ہے ایرا نی کہنے لگا جو میں انگو ر کہہ رہا تھا وہ یہی تو ہے تو نا جا ننے سے بھی بڑ ی لڑائیا ں ہو جا تی ہیں ناں ۔

تو میں عر ض یہ کر رہا تھا لغت قریش والی حضرت عثما ن نے جو سب مہا جر ین انصار کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ چو نکہ حضور پا ک ﷺ کی اصل لغت قریش ہے اس پر قرآن جمع کیا جائے با قی لغا ت سے رو ک دیا گیا اب سا ت لغا ت پر حضور ﷺ کے زما نہ میں قرآن پڑ ھا جا تارہا یا نہیں ؟پڑ ھا جاتارہا ، ابو بکر کے زما نے میں پڑ ھا جا تا رہا حضرت عمر کے زما نے میں پڑ ھا جا تا رہا یا نہیں ؟پڑ ھا جا تارہا ، حضرت عثما ن کے زما نے میں با قی لغا ت سے رو ک دیا ، صرف لغت قریش پر جا ری رہا تو کوئی یہ جھو ٹ بو لتے ہیں کہ لغت قر یش پر حضور ﷺ کے زمانہ میں قرآن نہیں پڑ ھا جا تا تھا عثما ن کے زما نہ میں شروع ہو جھو ٹ ہے یا نہیں ؟جھو ٹ ہے ، ابو بکر کے زما نہ میں نہیں پڑ ھا جاتا تھا جھو ٹ ہے یا نہیں جھو ٹ ہے با قی لغتوں سے روکا گیا اب جب یہ رو کا فیا تو مشور سے روکا کسی نے کوئی آیت بیا ن نہیں کی کوئی حدیث بیا ن نہیں کی پھر اس کے بعد دیکھو ، اس جو اعرا ب لگا ئے گئے ہیں حضرت ﷺ کے زما نہ میں زیر زبر اس پر تھی اوقاف تھے ؟کچھ بھی نہیں تھا یہ تو بعد میں حجا ج بن یو سف نے لگائے ہیں ناں تو یہ اعرا ب کسی آیت یا حدیث سے ثا بت ہے ( اب ویسے انہو ں نے شرو ع کر دیا ہے میرے پاس ہے مسنو ن قرات والا قرآن پڑ ھتے ہی خد شہ ہو ا کو ئی بات ہے ) تو زیر زبر تو ابھی نہیں نکا لی اوقاف نکا ل دیئے میں نے ان کے ایک مولو ی سے کہا بھئی یہ کیا کہا ؟جی حضور پا ک ﷺ کے زما نے میں ( اوقاف ) نہیں تھے ۔

وقف بد لنے سے معنی بد لتے ہیں :

میں نے کہا وقف کر نے سے معنی بد لتے ہیں کوئی نہیں بد لتے ، میں نے مثا ل دی میں ایک فقرہ بو لتاہوں روکو ....مت جا نے دو ، میں دقف روکو پر کیا ہے نا ں ۔ اب دوبارہ بو لتا ہوں روکو مت.... جا نے دو ، معنی بد ل گیا ہے یا نہیں بد لا ؟تو کوئی لفظ کم وپیش ہوا ہے یا صرف وقف آ گے پیچھے ہوا وقف آ گے پیچھے ہوا ہے اب جو اپنو ں نے وقف نکا ل دیئے اب پتہ نہیں بے چا رہ کہاں وقف کرے معنی کیا ہوگا اس کا ؟یہاں تلا وت کر ے گا وہا ں جو تے پڑنا شروع ہو جائیں گے (قبر میں ) مو لا نا روم نے ایک مثا ل دی ہے نا ں ۔

حکا یت مو لا نا رو م :

ایک بیچا رہ بہر ہ تھا پتہ چلا کہ اس کا دوست بیما ر ہے کہ بھئی عیا دت تو سنت ہے میں بیما ر پر سی کر آ ں اب اسے پتہ تھا کہ میں جو کچھ پو چھو ں گا وہ سنے گا جو جو اب وہ دے گا وہ میں سنو ں گانہیں اس نے خود بیٹھ کر ایک جو اب بنا لیا کہ میں کہوں گا اسلا م علیکم وہ کہے گا وعلیکم السلا م میں کہوں گا کیا ہے وہ کہے گا اللہ شکر ہے میں پو چھا گا کون سے دوا ئی کھا تے ہو وہ دوا ئی کا نا م لے گا میں تعر یف کرو ں گاا چھی دوا ئی ہے بھئی کس حکیم صاحب کے علا ج شروع ہے وہ کسی حکیم کا نا م لے گا میں کہو ں گا وہ اچھا حکیم ہے یہ خو د سوال جو اب بنا کے چلا گیا وہ بے چا رہ زیا د ہ ہی بیما ر تھا اسلا م علیکم اس نے کہا وعلیکم السلا م کیا حال ہے اس نے کہا مررہا ہوں اس نے کہا اللہ کا شکر ہے اب اس کی پیشا نی پر بل آ گئے کہ بھئی میں اس کے گھر کھا نے جاتا ہوں کہتا ہے اللہ کا شکر ہے اس نے پو چھا کو ن سی دوا ئی پیتے ہو غصہ میں تھا کہنے لگا زہر ما شا اللہ بڑی با بر کت دوا ہے تو غصے میں طا قت بھی آ جا تی ہے نا ں وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اس نے پوچھا کس ڈا کٹر صاحب کا علا ج شروع ہے اس نے کہا عز رائیل کا ما شا اللہ جہاں آتا ہے ستر بر کتیں لے کر جا تا ہے اس نے دھکے دے دے کر با ہر نکا ل دیا پا نی تک نہیں پو چھا اب بیٹھا سو چ رہا ہے میں نے کوئی گنا ہ کی با ت نہیں کی دوست ہے عیا دت سنت ہے بیما رپر سی کر نے گیاہوں اور یہ سا ت سال کی دوستی ختم ہو گئی پر ائے کو بھی آ دمی اتنی گر می میں پا نی پوچھتا ہے اس نے پا نی بھی نہ پو چھا دھکے دے کر نکا دیا یہی حا ل غیر مقلدین کا قیا مت کے دن ہو گا سو چے گا پڑ ھا تو قرآن ہی تھا لیکن وقفوں کا پتہ نہیں کہا ں کہا ں کرتا رہا ہے اس لئے وہاں جب جو تا بازار شرو ع ہو گا تو سو چے گا بھئی حنفیوں کو قرآن پڑ ھنے پر ثواب مل رہاہے اورہمیں جو تے پڑ رہے ہیں قصہ کیا ہے ؟تو اب انہوں نے کچھ شروع کیا ہے تھو ڑا سا جس طرح لغت قریش جو ہے اس پر پہلے ہی عمل آ رہا ہے تقلید پہلے دن سے آ رہی ہے ۔

چیلنج :

یہ دوست رقعے لکھ رہے ہیں یہ بھی لکھ پر بھیجیں صرف ایک صحا بی کا نا م جس کے بارے میں کسی تا ریخ میں لکھا ہو کا ن لا یجتہد ولا یقلد نہ نہ وہ اجتہا د کر سکتا تھا نہ وہ تقلید کر تا تھاغیر مقلدین تھا دس ہز ار روپیہ انعام ہو گا ایک تا بعی دکھا دو ایک تبع تا بعی کا نا م دکھا دو اور لکھ کر بھیجے خیر القرو ن میں ایک بھی غیر مقلد ثا بت نہیں ایک بھی ۔

غیر مقلد ملکہ وکٹو ریہ کے سکے میں :

یہ سکے تو ملکہ وکٹو ریہ کے دور میں کے ہیں وہاں کیسے ہو تے ؟تو میں ہم اہل سنت والجماعت ہیں عرض کر رہا ہوں کہ سنت اللہ کے نبی ﷺ کی صحا بہ نے لی نا ں آ نکھو ں سے دیکھ کر یا سن سن کر ؟آنکھو ں سے دیکھ کر اور صحا بہ سے ملا قات ہما رے امام نے کی تو ہما ری سند متصل ہے یا نہیں ؟متصل ہے ، ہماری سند متصل ہے پھر خا ص اس لئے کہ نسائی میں با ب ہے متصل ہے باب غز وہ الہند دوسری جلد میں ۔

فاتحین ہند حنفی تھے :

حضرت ﷺ نے فرما یا کہ جو ہند فتح کر یں گے اور وہ عیسیؑ کے سا تھ مل کر جہا د کر نے والو ں کا در جہ ایک فرمایا ہند کے فا تح با لا تفا ق حنفی ہیں ۔

محمو د غز نو ی حنفی ہیں

غوری خا ندا ن حنفی،

سعا دات خا ندان حنفی ہیں

سوری خا ندا ن حنفی ،

تغلق خا ندا ن حنفی ،

مغلیہ خا ندا ن حنفی

سب حنفی تھے آج بھی جو جہا د کررہے ہیں ان میں سب سے آ گے حنفی ہیں اگر کوئی جا تا ہے تو بے چا رہ ان کا طفیلی بن کے جاتا ہے تو ساری دنیا میں ہمیشہ جہاد کو حنفیو ں نے ہی زند رکھا ہے اب اہل سنت والجماعت حنفیوں کے ذ ریعہ یہاں اسلا م آیا قرآن آیا نبی کی سنت آئی اسلا می قا نون آیا کتنے بڑ ے بڑ ے ملک حنفیوں نے فتح کر کے اسلا می حکو مت میں شامل کئے ہم بھی پو چھنے کا حق رکھتے ہیں ایک ملک نہیں ایک صوبہ نہیں ایک ضلع نہیں ایک تحصیل نہیں ایک تھا نہ نہیں چا ر انگل زمین کا فر سے وہ چھین کر کسی غیر مقلد اسلا می حکومت میں شا مل کی ہو ہمیں دیکھا دیں چا ر انگل زمین کبھی بھی قیامت تک یہ با ت ثا بت نہیں کر سکتے تو جنہو ں نے یہاں اسلا م پھیلا آج ان کے اسلا م کو مشکو ک کہا جارہا ہے جنہوں نے میاں جنڈی دیو ی اور بتوں کی پو چا سے ہٹا کر نماز پڑ ھنے کا طریقہ سکھا یا آ ج ان کی نماز کو غلط کہا جا رہا ہے ہز ار سال تک اس نماز کو کسی نے غلط نہیں کہا ۔

امام صاحب نے صحا بہ کے زما نہ پا یا مختلف اقوال میں ۰ ۳ سال بھی ۰ ۴ سال بھی ۹ ۵سال بھی چلو ۰ ۳ سال ہی مانوتو تیس سال کی عمر میں مسلما ن نماز پڑ ھنا شرو ع کر دیتے ہیں یا نہیں ؟شروع کر دیتے ہیں تو جب تیس سال زما نہ پا یا تو جب امام صاحب نماز پڑ ھتے تھے امام صا حب صحابہ کو دیکھ لیتے تھے یا کوئی روکا وٹ تھی ؟کو ئی روکا وٹ نہ تھی دیکھنے میں صحابہ بھی امام صاحب دیکھ لیتے تھے دیکھو ایک نماز میں یہاں آپ کے ہا ں پڑ ھوں اللہ اکبر کہہ کر سر پر ہا تھ با ند لو ں سبحا نک اللہم وبحمد ک تو آپ مجھے رو کھیں ٹو کیں گے یا نہیں رو کیں گے ، میں نے کوئی فر ض ضا ئع کیا کوئی واجب ضا ئع کیا کو ئی سنت ضا ئع کی تو آپ روکیں گے اس کا مطلب ہے کہ پند رو ی صدی کے مسلما ن کا ایما ن اتنا مضبوط ہے کہ ایک کا م بھی سنت کے خلا ف نہیں کر نے دیتا تو صحا بہ کا ایما ن کیا پند رھو یں صد ی کے لو گوں کے (معاذ اللہ ) بر ابر تھا یا نہیں کیا وہ سنت کے خلاف دیکھ کر خا مو ش رہ سکتے تھے اگر ایک مسئلہ بھی ہماری نماز کے خلاف ہو تا تو اعترا ض صحا بہ ؓ ضرور کر تے تا بعین کر تے صحا بہ استا ذ ہیں تا بعین ہم جماعت ہیں تبع تا بعیں شا گر دہیں تو ہماری نمازصحا بہ کے سا منے پڑھی گئی تا بعین کے سا منے تصد یق ہو ئی تبع تا بعین کے سا منے تصد یق ہو ئی کسی صحا بی نے غلط نہیں کہا ہا ں انگر یز کے دو ر میں امر تسر سے آ وا ز اٹھی کہ ابو حنیفہ کی نماز ٹھیک نہیں ۔

غیر مقلدین کی بنیا د :

سکھو ں کے شہر روپھن سے آ واز اٹھی ابو حنیفہ  کی نماز غلط تھی ایک جگہ تقریر میں کر رہا تھا کہ ایک نو جوان غصے میں کھڑا ہو گیا کہ تمہا ری نماز کی تصد یق ہو ئی ہما ری نماز کی نہیں ہو ئی ، آپ فرمائیں کہ حکیم محمد صادق صاحب نے سیا لکو ٹ میں کتا ب لکھی صلو ٰة الرسول جنگ اخبا ر نے تصد یق کی کہ بڑ ی اچھی کتا ہے نوا ئے وقت اخبا ر نے تصدیق کی کہ بڑ ی اچھی کتا ب ہے صحیفہ عز یز نے تصد یق کی کہ بڑ ی اچھی کتا ب ہے میں نے کہا کہ ہما ری نماز کی تصد یق صحا بہ اور تا بعین سے ہو ئی اور ان کی تصد یق پر خد نے کی

والسا بقو ن الا و لو ن من المھا جر ین والا نصار والذ ین اتبعو ھم باحسان رضی اللہ عنہم ورضو عنہ

تبع تا بعین کی تصد یق امام الا نبیا ءنے کی۔

خیر النا س قر نی ثم الذین یلو نہم ثم الذ ین یلو نہم

تو اگر جنگ اخبا ر کی تصد یق ہے تو پڑ ھ دیں کس حدیث میں ہے ۔

سوال : تو جب سر ڈھا نپ کرنماز پڑ ھنا فر ض نہیں تو ننگے سر پڑ ھ لی جائے تو کیا حر ج ہے؟

جواب : اس کا مطلب ہے کہ صرف فرض پو رے کر نے چا ہیں سبحا نک اللہم فرض نہیں چھوڑیں دیں گے تو کیا حر ج ہو گا ، سبحا ن ربی الا علی سبحان ربی العظیم فرض نہیں تو چھو ڑ نے میں کیا حر ج ہوگا تو سا ری سنیتں چھو ڑ دی جا ئیں سا رے واجبا ت چھو ڑ دیں جا ئیں سا رے مسحبا ت چھو ڑ دئیے جا ئیں تو ان کے ہاں کوئی حر ج ہو گا یا نہیں ؟

ایک ہے کبھی کبھی بھو ل کر چھو ڑ دینا ایک ہے عا دت بنا لینا سبحا نک اللہم چھو ڑ نے کی عا دت بنا لینے میںحر ج ہے یا نہیں اس پر اشتہا ر چھپا ہوا ہے ہما ری طر ف سے ان کے فتویٰ وہ مسا جد میں آپ لگا ئیں قا ضی صاحب کے ہا ں وہ ہے تو دیکھئے صرف نا ف سے لے کر گھنٹے تک ہما رے ہا ں ستر ہے ان کے ہا ں ڈونڈ ی اور سور اخ ستر ہے صاف وحیدالزمان نے لکھا ہے صاف بخا ری میں ہے لیس علی فر جہ شئی ران بخا ری حدیث کے مطا بق ستر نہیں لکھا ہے کہ حضور ﷺ خبیر کی جنگ میں ران ننگی کر کے جا رہے تھے (معا ذ اللہ معاذ اللہ ) تو پھر وہا ں بھی اتنا ہی فرض سمجھا کر یں یہ صرف سر کا قصہ کیوں ہے تو دیکھئے فرض واجبا ت سنتیں پو ری کر نی چاہئیں یا نہیں؟ ہم کہتے ہیں مستحبات بھی نہیں چھوڑ نے چا ہئیں آ دا ب کو بھی نہیں چھوڑ نا چا ہیے ۔

اہل حدیث سے سوال :

خو د اسی قسم کا سو ال ان کے امیر محمد اسما عیل سے ہوا ، فتا ویٰ علما ءحدیث کی جو تھی جلد میںسا ئل نے سوال کیا کہ ننگے سر نماز پڑ ھنے سے خصو صی پر حضور ﷺ نے منع فرما یا ہے تو حدیث سنا ئیں سوال کر نے والا ان کا آ دمی ہے اور جوا ب دینے والا بھی ان کا امیرمحمد اسماعیل سلفی ہے اگر آپ نماز میں ٹا نگیں او پر اور سر نیچے کر لیں تو کسی حدیث میں منع نہیں لیکن دیکھنے والا آ د می یہ سمجھے گا بے ہو دہ آ د می ہے اسی طرح کی ایک حر کت ننگے سر نماز پڑ ھنا بھی ہے خو د انہوں نے لکھا ہے کہ مو لا نا داود غز نو ی جوا ن کے دوسرے امیر جما عت تھے انہوں نے لکھا ہے کوئی اس وجہ سے ننگے سر نماز پڑ ھتا ہے یہ زیا دہ ثوا ب ہے تو عیسا ئیوں کا مسلک ہے ، اسلا م کا طریقہ نہیں ، گر جامیں جا کر دیکھیں وہ ننگے سر نماز پڑ ھتے ہیں اور اگر سستی کی وجہ سے نہیں تو یہ منا فقوں کا طریقہ ہے واذا قامو الی الصلوٰة قامو کسالی تو یہ سر چھپا نے کا لکھا ہے وہ جو دس سال کا قر ضہ ہے دور د شر یف آ ہستہ پڑ ھنے کی حدیث سبحان ربی العظیم آہستہ پڑ ھنے کی حدیث دیکھو اتنا رحمد ل ہو تا ہے آ دمی دس سال بعد قر ضہ ما نگ لے اور دس سال نا م بھی نہ لے لیکن جو دس سال کے بعد بھی نہ چکا سلے اس کے پلے میں کچھ ہے دورد شر یف کے بعد پڑ ھنے والی حدیث دعا کے بارے مین حدیث آ ہستہ پڑ ھنی چا ہیے (یہ سوالات تو لکھ رہے ہو ) دس سال ہو گئے ہیں میرے سوال آپ پر قرض ہیں ان کا جواب بھی دو ۔

سوال: عورت اور مر د کی نماز میں فر ق ہے یا نہ احا دیث سے ثا بت کریں ؟

جوا ب : اس پر تو میرا رسالہ بھی چھپا ہوا ہے اور حد یث اہلحدیث میں بھی کا فی فر ق لکھا ہے بھئی عورت اور مر د میں بھی فر ق ہے یا نہیں ؟کیا خیا ل ہے یہ آ تے ہیں اور ٹو پی وہا ں پھنکتے ہیں اللہ اکبر کہتے ہیں عورتیں دوپٹہ پھینکتی ہیں یہ آ دھی پنڈ لی ننگی کرتے ہیں عو رتیں بھی آدھی پنڈ لی ننگی کر تی ہیں کیا خیا ل ہے یہ جو سوال ہے مر د عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں نہ خدا کا فر ما ن ہے نہ رسول کا ان کا اپنا قیا س ہے یا کہ حضرت کا فرما ن ہے عورت مردکی ما نند نہیں اس کو ستر کا خیا ل رکھنا چا ہیے جس طرح ایک علت قرآن میں آ گئی یسئلو نک عن المحیحض تو اس کا جوا ب اتنا ہی کا فی تھا قر یب نہ جا قل ھو اذاًکہ وہ نا پا کی ہے اب نفا س کا لفظ نہیں لیکن اس کا حکم سمجھ میں آ گیا وہ بھی نا پا کی کے دن میں بلکہ اسی سے یہ بھی سمجھ آگیا جو مقا م عا رضی طو ر پر نا پا ک ہے وہ قا بل استعما ل نہیں لیکن جو سر ے سے ہے ہی ناپاک اسی طرح حضرت ﷺ نے عو رت کے لئے فرما دیا کہ اس کو پر دہ کا اہتما م کر نا چا ہیے اسی قا نون کو رکھو علما ءائمہ فقہ فقہا ءنے لکھا ہے خو د ان کے فتو یٰ غز نو یہ میں مو جو د ہے اب سینے تک ہا تھ اٹھا نے میں پر دہ زیا دہ کھلتا ہے یا کا ن کی لوتک اٹھا نے میں تو حدثیں دو نوں میں اسی قا عدہ کو رکھ کر ہم یہاں تک اٹھا تے ہیں کا نوں تک اور وہ سینے تک اٹھا تی ہیںتا کہ دو نوں حدیثوں پر عمل ہو جائے۔

اب ہا تھ نا ف کے نیچے تک با ندھنے میں پر دہ زیا دہ کھلاتا ہے یا سینے تک باندھنے میں تو دو نو حدیثیں تھیں اس قا عدہ کو سا منے رکھ کو جو اللہ کے نبی نے ارشا د فرما یا ہم یہاں نا ف کے نیچے ہا تھ با ند ھتے ہیں وہ یہاں سینہ پر با ندھتی ہیں یہ جو کہتے ہیں کہ یہ فر ق قیا س ہے قیا س ہے قیاس ہے، اور چا روں امام حنفی ، ما لکی ، شا فعی ، حنبلی ، کا اجما ع ہے عو رت اور مر د کی نماز میں فر ق ہے ۔

رحیم یا ر خا ن میں کتنی عو رتیں امام ہیں فر ق تو کر تے ہیں نا خو د بھی ، اس طرح بخاری میں بھی حدیث ہے کو ئی ایسا واقعہ پیش آ ئے عورت تا لی بجا ئے مر د سبحا ن اللہ کہے تو ہم نے جو کچھ بیا ن کیا ہے وہ رسالہ میں بھی ہے حدیث اور اہل حدیث میں بھی ہے ان کے پاس قیا س ہے کوئی آیت حدیث لکھ کر بھیجیں کہ اللہ تعالی یا اللہ کے رسول نے فرمایا ہو مر د عورت کی نما ز میں کوئی فر ق نہیں اللہ کے رسول نے فر ما یا ہو ان کی دلیل ہم نہیں ما تنے کیو نکہ ہمار ی چا ر دلیں ہیں ان کو ہم خدا بھی نہیں ما نتے ان کو ہم رسول بھی نہیں ما نتے اجما ع امت بھی نہیں مجتہد ین بھی نہیں ما نتے آپ کس حیثیت سے اپنی با ت منوا نا چا ہتے ہیں ؟پہلے اپنی حثیت ظا ہر کر یں کہ کیا بن کر آپ ہمیں دلیلیں دیتے ہیں ۔

سوال : تین امام رفع ید ین کے قا ئل ہیں حنفی مما نعت کیوں کرتے ہیں فا تحہ کی سات آیات بسم اللہ سمیت بن جا تی ہیں حنفی بسم اللہ فاتحہ کا جز کیو ں نہیں ما نتے حا لا نکہ سعودی قرآن بسم اللہ سمیت فا تحہ شما ر کی ہے حنفی اس کو کیو ں نہیں ما نتے ؟

جواب : یہ جو بات ہے پتا نہیں جھو ٹ بو لنے کی ان کو عادت پڑ گئی ہے ، رفع ید ین والے معا ملے میں ایک امام بھی ان کے سا تھ نہیں ہے ۔ کیو نکہ یہ دس سنت ما نتے ہیں وہ نو جگہ ہے ایک سنت چھوڑ نے سے نماز خلاف سنت ہو تی ہے یا نہیں ؟ان کے ہا ں تو چا روں امامو ں کی نماز خلاف سنت ہے یہ اماموں کا نا م کیوں لیتے ہیں قرآن حدیث کو چھوڑ کر اماموں کا نا م لیتے ہیں پھر امام ما لک فرماتے ہیں میں نے مد ینہ منو رہ میں کسی رفع ید ین کر تے ہو ئے نہیں دیکھا ان کے سا تھ نہ صحا بی ہے نہ تا بعی ہے نہ کوئی امام ان کو تو پر چی میں یہی لکھنا چاہیے ، اتنے بڑ ے جہاں میں کوئی نہیں ہما را ۔

سنت اور حدیث میں فر ق :

مو لا نا داود غز نو ی کے پو تے میر ے پا س آ ئے گلشن اقبا ل میں بیٹھا ہو اتھا ، سا تھ ہی ان کا مد رسہ ابوبکر “پا نچ ان کے طا لب علم بھی تھے ، ہما رے بھی تھے ، کہنے لگا جی مجھے آپ سے ملنے کا بہت شو ق تھا ، سنا ہے کہ اہل حدیث کے بڑ ے خلاف ہیں میں نے کہا میں تو اہل قرآن کا بھی بڑا خلاف ہو ں کہنے لگا وہ تو ہم بھی ان کے خلاف ہیں اب کہنے لگا حدیث کو ئی بر ی چیز ہے ؟میں نے کہا قرآن کوئی بری چیز ہے جس کے تم بھی خلاف ہو ہمیں تو ہمارے نبی پا ک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علیک بسنتی میر ی سنت کولا زم پکڑو فمن رغب عن سنتی فلیس منی ، جس نے میری سنت سے اعر ض کیا وہ ہم میں سے نہیں اس لئے ہم سنی بن گئے من احب سنتی فقد اجبنی ومن احبنی کان معی فی الحنة ، جس نے میر ی سنت سے محبت کی اس نے میرے سے محبت کی جس نے میرے سے محبت کی وہ میرے سا تھ جنت میں ہوگا ، ہم تو انشا اللہ قیا مت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو ں گے فرما یا من تمسک بسنتی عند فساد امتی فلہ اجر ما ئة شھید

تم بھی کوئی حدیث سنا جس میں ہوعلیکم بالحدیثی من تمسک بحدیثی ، مجھے کہتاہے میں سمجھتا تھا آپ تھو ڑے مخا لف ہیں آپ تو بہت ہی مخا لف ہیں میں نے کہا میں نے مخا لفت کی با ت نہیں کی حدیث خو د سنا تا ہو ں پھر آ پ سے مطالبہ کرتاہوں میں نے کہا اچھا حدیث کی تعریف سنا کہنے لگا نبی ﷺ کے قول فعل تقریر کو حدیث کہتے ہیں میں نے کہا یہ تعریف کس نے کی ہے ؟کسی حدیث میں یا قرآن مین ہے یہ تو امتی کی کی ہو ئی تعر یف ہے کہنے لگا میں نے واذاسر النبی الی بعض ازواجہ حدیثا میں نے کہا ادھر رسول اللہ ﷺ نے قو ل چھپا یا تھا یا فعل کیا چیز تھی حدیث بھی امتیوں سے لیتے ہیں حدیث کے ضعیف صحیح ہو نا امت سے لیتے ہیں تو جب بھی کوئی کہتا ہے حدیث صحیح ہے میں نے کہا تم اپنی را ئے سے کہہ رہے ہو یا کسی محدث نے بتلا یا ہے ؟کہنے لگا محدثین نے میں نے کہا فقہا ی کی بات ما ننے کا حکم قرآن نے دیا ہے محد ثین کی بات ما ننے کا حکم قرآن نے دیا ہو تو دکھلا فقہا ءحضور ﷺ کے زما نہ تھے محد ثین تو حضور ﷺ کے زما نے میں نہیں تھے اسما ءالر جا ل والا تھا نہیں مسلم شریف میں ہے اس وقت کو ئی سند کا اعتبا ر نہیں تھا ، پھر بعد میں خا ئن لو گ آ ئے تو اس لئے اسما الر جا ل کا فن مد ون کیا گیا اس وجہ سے یہ بد عت حسنہ ہے قرآن وحدیث سے اس کا ثبو ت نہیں ہے سنت اور حدیث میں فر ق یہ ہے اہل سنت کہتے ہیںنبی کے طر یقہ پر چلنے و الے سنت کا معنی ہی طریقہ ہے ، حدیث کہتے ہیں باتیں بڑی بتا تا ہے دلیل پیش نہیں کر سکتا یا یو ں سمجھیں حدیث ضد ہے قد یم کی قد یم پر نے کو کہتے ہیں حدیث جدید چیز کو کیونکہ یہ نیا ہے وجو د کے اعتبا ر سے بھی اور نا م کے کے اعتبا ر سے بھی اہلحدیث کا معنی ہے بد عتی فر قہ ایک اپنے سا تھی نے بہا و لہور میں سوال کیا کہ یہ تو تم نے لغت کے اعتبا ر سے بتایا ہے کیا حدیث سے دکھا سکتے ہیں میں نے کہا ہا ں غنیة الطا لبین میں حدیث ہے ۔

اہل حدیث کا ما خذ ۔

غنیةالطا لبین میں حدیث لکھی ہو ئی ہے کہ ایک دن شیطا ن نے اپنی دن دبر میں ڈالی اس سے سا ت انڈ ے نکلے جو چو تھا انڈا اس کا نا م حدیث اس کی ڈیو ٹی نماز یوں کے دل میںوسوسہ ڈالنا ہے تیر ی نہیں ہوتی ، تیر ی نہیں ہوتی اب دیکھئے فو ج میں آپ کودکھا دی ہے چور آپ نے پکڑ ناہے اب انہو ں نے غنیة الطا لبین چھا پی ہے اس مقا م پر انہوں نے حدیث کو حدث بنا دیا ہے بلکہ موجو د ہے مذ ہب تو صرف اسلا م ہے چا ر مذ ہب کہا ں سے آ ئے ہیں ؟آ گے تو علم کے در یا بہہ رہے ہیں اول من قاس ابلیس حضرت علامہ انور شا ہ کشمیری امر تسر میں تقریر فرمارہے تھے ، ان کے منا ظرہ مو لا نا ثنا اللہ صاحب اسٹیج پر بیٹھے تھے ، انہوں نے غصہ میں رقعہ لکھا ، آپ کب تک حدیث کا انکا ر کریں گے اقرا بھا فی نفسک ، رواہ مسلم تر جمہ بھی لکھ دیا میں پڑ ھئے روایت کیا ہے اس کو کسی مسلما ن نے علا مہ صاحب نے فرمایا امام ابو حنیفہ کے مقا بلہ میں جو یہ مجتہد ین تیا ر فرمارہے ہیں ان کے ذرا علمی انوار ملا حظہ فرمالیں یہ بے چا رہ قاس کو (ص) کے سا تھ لکھ رہا ہے اور کہتا ہے مجھے امامو ں کی کوئی ضرورت نہیں صحابہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں خو د  قرآن کو سمجھ کر اس پر عمل کر وں گا ۔

مثا ل :

جیسے پنچا بی میں کہتے ہیں ( پا ئنہ پڑ ی وقت نو پھر ی ) با قی چا ر مذ اہب کہا ں سے آئے ؟بھا ئی اسلا م ہما ری منزل ہے یہ چا را را ستے ہیں مذہب کا معنی را ستہ ہوتا ہے ہمارا مذہب حنفی ہے منز ل محمد ی ہے ، جب کو ئی مذ ہب پو چھتا ہے اس کا مقصد یہ ہو تا ہے کہ حضور ﷺ کو گز ر ے ایک زما نہ ہو چکا ہے آپ تک حدیث کیسے پہنچی ہے ؟آپ کے ملک میں راستے ہیں خو د راستہ مقصود نہیں بلکہ کسی منزل کے را ستہ بنا یا جا تا ہے کسی جنگل میں را ستہ نہیں ہوتا ہما را مذ ہب حنفی ہے منز ل محمدی ﷺ ہے اور ایک شہر کو چا ر راستے جا تے ہیں بلکہ دس بھی ہو جائیں کوئی حر ج نہیں جیسے ایک مسجد میں آ نے کے کئی راستے ہو تے ہیں تو مذ ہب کا معنی راستہ ہے اور راستے چلنے کے لئے ہو تے ہیں لڑ نے کے نہیں ہو تے ، اب مذ ہب کا معنی یا د ہو گیا ہے جو ملک کے را ستوں کو ٹو ڑتا ہے ۔ وہ ملک کا غدا ر ہے جو نبی ﷺ کی سنت کے راستوں کو ٹو ڑتا ہے وہ سنت کا غدار ہے پھر مذ ہب کا معنی راستہ ہے سر کا ری لو گ بھی سفر کررہے ہیں گنہگا ربھی کر رہے ہیں اللہ والے بھی کر رہے ہیں یہ راستہ جس پر سارے چل رہے ہیں لیکن کو ئی چھا ڑ ی کے پیچھے چھپا ہو ابیٹھا ہو پو لیس والے کہتے ہیں میں آ وارہ گر دہ ہے ہم کہتے ہیں غیر مقلد ہے راستہ چھو ڑ دیا ہے راستہ وہی ہے فقہ حنفی ان مسا ئل کا نا م ہے جن پرعمل کر تے ہیں جس طرح قرآن اسی کتا ب کا نا م ہے جس کی ہم تلا وت کر تے ہیں شاذ قراتیں کہیں ملیں تو اس کا نام قرآن نہیں اسی طرح شا ذ مسائل کا فقہ حنفی نہیں ہے تو مذہب پر میں نے چا ر با تیں کی ہیں ۔

اہل حدیث کی مثا ل :

ان کی مثا لیں بڑ ی عجیب ہو تی ہیں وہ پھڑ ی صاحب کہنے لگے یہ چا ر مذ ہب بھینس کے چار تھن ہیں ایک سے حنفیوں نے دو د ھ نکا لا ایک سے ما لکیو ں نے ایک سے شافعیوں نے ایک سے حنبلیو ں نے ہم ان چا ر سے دودھ لے کر مکھن نکا ل کر لسی ان کو دے دی مکھن خو د لے لیا مسلک اہل حدیث زند با د میں چٹ لکھی کیا واقعی نبی پا ک ﷺ کی حدیث میں ہے مجتہد بھینس کے تھن کو کہتے ہیں یا یہ اپنے مو لو یوں کی بات کو حدیث کہتے ہیں میں نے جو اب میں کہا خدا کی جس نعمت کی نا شکر ی کر ے اللہ تعالی وہ نعمت اس سے چھین لیتے انہوں نے فقہ کی نا شکر ی کی اللہ تعالی وہ نعمت اس سے چھین لیتے ہیں انہوں نے فقہ کی ناشکر ی ہے خدا نے ان سے سمجھ چھین لی مثا ل جو دی ہے وہ ہما رے خلا ف نہیں دود ھ جو پیدا ہو تا ہے وہ تھنو ں میں نہیں ہو تا بلکہ پیدا آ گے ہوتا ہے تھن صرف دودھ پہنچا رہا ہے ، اسی طرح اگر مجتہد ین نبی کی حدیث کو آ گے پہنچا رہے ہیں ایک مسئلہ بھی انہوں نے نہیں نکا لا تھن چا ر ہیں مقصد ایک ہے دو دھ مذ اہب چار ہیں مقصد ایک اتبا ع سنت پھر میں نے پو چھا کہ چا ر تھن تو آ پ نے ہما رے حو الے کر دئےے پا نچواں تھن کو ن سا ہے جس سے آپ نے سا را دودھ نکا ل لیا کوئی بھینس ایسی نہیں جس کے پا نچ تھن ہو ں ، شا ید غیر مقلدین کی ہو جب میں نے اس مثا ل کی مر مت کی ہے تو پھر فیصل آبا د میں میٹنگ ہو ئی کوئی اور مثا ل گھڑ ی جائے تین ما ہ کے بعد دوسری مثال آئی ۔

مثال :

یہ محمد ی گا ڑ ی جا رہی ہے چھک چھک چھک ابو حنفیہ ٹیٹی ہے شا فعی ما لک ٹیٹی ہے میں نے کہا کسی حدیث میں ہے مجتہد کا نا م ٹیٹی ہے نعر ہ لگ گیا ، مسلک اہل حدیث زند با د حدیث تو آپ پڑ ھتے نہیں صرف نعرہ لگا تے ہیں پھر میں نے کہا اگر امام صاحب ٹیٹی ہیں تو پھر آ پ گھر نہ جا ئیں گے کیو نکہ ٹیٹی اسے پکڑ تے ہیں جس کے پا س ٹکٹ نہ ہو ٹکٹ بھی گا ڑی کی چا ہیے اور ٹکٹ بھی آج کی ہو چو دہ ہ سو سال پرا نی نہ ہو میں نے کہا جس ٹکٹ پر آ پ جا نا چا ہتے ہیں وہ امام صاحب کی تحقیق کے مطا بق منسو خ ہو چکی ہے تو مذ ہب کے با رے میں آدھی با ت پو چھتے ہیں آپ پو ری طر ح جو اب دیا کر یں ہما را مذہب حنفی منزل محمد ی ہے تاکہ بات واضح ہو جائے اللہ تعالی اہل حق کے سا تھ رہنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔

آ خر دعونا الحمد للہ رب العا لمین ۔

 

آن لائن مہمان

We have 13 guests and no members online