
حقانیت اسلام وحقانیت فقہ
مناظر اسلام تر جمانِ اہل سنت وکیل احناف
حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی
(خطبات صفدر،جلد اول)
الحمد للہ وکفیٰ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ان الدین عند اللہ الاسلام ۔
)صدق اللہ العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم (
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوقات میں سے ہمیں انسان بنایا جو اشرف المخلوقات ہے اور پھر انسانوں میں سے مسلمان بنایا کیونکہ دنیا میں جتنے بھی دین ہیں ان میں سچا دین صرف اسلام ہے اگر چہ ہر دین والا کہتا ہے کہ ہمارا دین سچا ہے کوئی بھی اپنے دین کو جھوٹا کہنے کے لئے تیار نہیں ،لیکن چار بنیادی باتیں ایسی ہیں جن کا جواب مسلمانوں کے سوا کسی کے پاس نہیں ۔
حقانیت اسلام کی چار بنیادیں :
پہلی بنیادی بات یہ ہے کہ جب ساری دنیا کا خدا ایک ہے ،ساری کائنات خداکے بندے تو ان کا نبی بھی ایک ہونا چاہئے ۔خاص طور پر اس زمانہ میں جبکہ ذرائع وسائل ایسے ہیں کہ ایک نبی کی تعلیمات ساری دنیاکو پہنچائی جا سکتی ہیں تو آج کل تو خبر چند سکنڈ وں میں پوری دنیا کا چکر لگا جاتی ہے تو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک کسی پیغمبر کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ ساری دنیاکے لئے وہ نبی بن کر آئے ۔
۱۔عالمگیریت :
صرف اور صرف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا دعویٰ ہے کہ جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ رب العالمین ہیں مجھے اللہ تعالیٰ نے رحمة للعالمین بناکے بھیجاہے ،جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ رب الناس ہیں پوری نسل انسانی کے رب اور خداہیں اسی طرح مجھے اللہ تعالیٰ نے کافة للناس بشیر اً ونذیرا ساری نسل انسانی کے لئے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے ۔
نبوت کی ضرورت :
یہاں پہلے یہ بات بھی سمجھ لینی چا ہئے کہ نبوت کی ضرورت کیا ہے ؟ جس طرح اس دنیا میں کا م کر نے کے لئے ہمیں دو روشنیوں کی ضرورت ہے ۔ایک روشنی اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم میں رکھی ہے آنکھ اور دوسری باہر کی روشنی ہوتی ہے خواہ وہ لالٹین کی ہو یا گیس کی ہو یا سورج کی ہو۔ ان دوروشنیوں کے بغیر کام صحیح نہیں ہوسکتا ۔
دیکھئے ہم اندھیرے میں باہر نکلیں تو کو ئی آدمی پیشاب کر نے بیٹھا ہو تو دیکھنے والوں میں اختلاف ہوجائے گا کو ئی کہے گاآ دمی ہے کو ئی کہے گا شاید کتا ہے کو ئی کہے گا شاید کرسی رکھی ہوئی ہے حالانکہ سب کی آنکھ میں روشنی موجو د ہے ،صرف وہ چیز روشنی میں نہیں ۔ اگر اسی وقت ٹارچ جلاکر اس پر روشنی ڈال دی جائے تو سارا اختلاف ختم ہوجائے گا کہ بھائی فلاں چیز ہے ، فلاں نہیں تو اسی طریقے سے دین میں بھی دوروشنیوں کی ضرورت ہے ایک روشنی اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہاں ہمارے جسم میں رکھی ہے دماغ میں ایک چراغ روشن کیا ہوا ہے جس کا نام عقل ہے اور اس کی راہنمائی میں باہر جو روشنی ہوتی ہے اس کو وحی کی روشنی کہاجاتا ہے جس طرح آنکھ کی راہنمائی کے لئے باہر کی رو شنیاں چھوٹی بڑی ہوتی ہیں ،ایک گیس ایک گلی کوروشن کر سکتا ہے لیکن ساری دنیاکو روشن نہیں کرسکتا ایک لالٹین ایک کمرے کو روشن کرسکتا ہے لیکن ساری دنیا کوروشن نہیں کر سکتی لیکن سورج ساری دنیاکو روشنی دیتا ہے اسی طرح عقل کی راہنمائی کے لئے اللہ کی طرف سے جو وحی نازل ہوئی وہ کوئی جزوی وحی تھی ،کبھی تو رات کا گیس آگیا ،کبھی زبور کی لالٹین آگئی ،کبھی انجیل کی بتی آگئی لیکن یہ ساری جزوی چیز یں تھیں ،یہ نبی ایک ایک قوم یا ایک ایک قبیلے کے لئے تھے کیونکہ کوئی گیس یہ دعویٰ کر ہی نہیں سکتا کہ میں ساری دنیاکوروشنی دے رہا ہوں ۔والی مدین اخاھم شعیباً وہ شعیب علیہ السلام مدین کے پیغمبرتھے الی عاداخاھم ھودا عاد کی طرف ان کے بھائی ھود علیہ السلام کو بھیجاگیا اسی طرح موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی تھے لیکن ساری دنیا کے نبی نہیں تھے تو جس طرح سورج کے نکلنے کے بعد کسی لاگئیں یا کیس کی ضرورت باقی نہیں رہتی اسی طرح قرآن پاک کے نزول کے بعد اب کسی تورات کے گیس یا زبورکی موم بتی یا انجیل کی لالٹین کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔اگر چہ جب اس کی ضرورت تھی وہ واقعةً ضرورت کی چیز یں تھیں لیکن اب ان کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔تو باقی پیغمبر جتنے ہیں وہ ایک ایک علاقے کے نبی تھے ساری دنیا کے نبی ہونے کا دعویٰ صرف اور صرف حضرت محمدرسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے تو پہلی بات کی ساری دنیا کا نبی کون ہے ؟اگر دونبی ایسے مل جاتے جن کا دعویٰ ہوتا تو شاید الیکشن یا سلیکشن کی ضرورت ہوتی لیکن اب ساری نبیوں کی تاریخ میں صرف ایک ہی نبی ہیں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جن کا دعویٰ عالمگیر نبی ہونے کا اور ساری دنیا کے نبی ہونے کا ہے تو اس لئے دنیا کو انہی پر ایمان رکھنا چاہئے جو ساری دنیا کو اللہ کا پیغام سنانے کے لئے تشریف لائے تو اور کوئی بھی اپنی کسی کتاب سے اپنے نبی کا عالمگیر ہونا ثابت نہیں کرسکتا ۔
۲ --دائمی نبوت :
دوسرا یہ ہے کہ آج کل دنیا اپنے آپ کو دانشور ،ایجوکیٹڈ (Educated)پڑھی لکھی دنیا سمجھتی ہے یہ کہتے ہیں کہ بات دلیل کے ساتھ ہونی چاہئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو دلائل یعنی معجزات سے سرفراز فرمایا جو ان کے نبی ہونے کے دلائل تھے ۔اب سب نبیوں کے معجزات کتابوں میں مذکور ہیں لیکن وہ پڑھے پڑھائے جاسکتے ہیں سنے سنائے جاسکتے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ کسی نبی کا معجزہ دنیا میں آج بھی موجود ہے جو دکھایا بھی جا سکے تو یہودی موسیٰ علیہ السلام کے معجزات سناسکتے کہ لا ٹھی سانپ بن گئی اور دریا پھٹ گیا عیسی ؑ کے معجزا ت سنا سکتے ہیں کہ کوڑھی پر آپ نے ہاتھ پھیرا وہ تندرست ہوگیا ایک جنازہ جارہا تھا آپ نے فرمایا قم باذن اللہ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا (لیکن بالفعل دکھا نہیں سکتے )ایک ہی پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جن کا معجزہ آج بھی دنیا میں باقی رکھا گیا اور قیامت تک رہے گا وہ ہے قرآن پاک کسی نبی کا معجزہ آج دنیا میں باقی نہیں کیوں ؟ان نبیوں کا دورنبوت چونکہ ختم ہوچکا ہے اس لئے ان کی دلیل نبوت کو دنیا میں باقی رکھنا ضروری نہیں تھا ان کی مثال موسمی پھولوں کی تھی جیسے گرمیوں میں گرمی کا پھول خوب بہار دکھا تا ہے لیکن وہ سردی کو برداشت نہیں کرسکتا ۔تو ،تورات ،انجیل ،زبور،یہ موسمی پھول تھے اپنے اپنے موسم میں انہوں نے اپنے اپنے علاقے میں خوب مہک دکھائی اور ان کو ولولہ رہا لیکن اب سدا بہار پھول قرآن پاک آگیا ہر موسم میں اس کی شان بڑھتی اور چڑھتی جارہی ہے اور جوں جوں زمانہ ترقی کررہا ہے اس کے مسائل اور اس کے احکام اور زیادہ نکھرتے ہوئے لوگوں کے سامنے آرہے ہیں یہ کیسے معجزہ ہے ؟بالکل یہ عام فہم بات ہے اس بات کوسمجھانے کے لئے میں آپ حضرات سے ایک دوسوال پوچھنا چاہتا ہوں ۔
قرآن معجزہ ہے :
یہ فرمائےے کہ آنکھ اللہ نے بنائی ہے یاانسان نے ؟(اللہ نے )اور عینک ؟ (انسان نے) دیوار ؟(انسان نے )سورج ؟ (اللہ نے )تو آپ نے جواب میں کچھ تقسیم فرمادی ہے کچھ کے جواب میں اللہ کانام لیتے ہیں اور کبھی انسان کانام لیتے ہیں آپ سے پوچھا جائے کہ کیا دلیل ہے کہ سورج اللہ نے بنایا ہے اور یہ دیوار انسان نے ؟ٹوپی انسان نے بنائی ہے اور سر خدانے تو آپ ایک ہی دلیل بیان کرینگے کہ ساری دنیا مل کر اس سورج جیسا سورج نہیں بناسکتی ،ساری دنیا مل کر اس سرجیسا سر پیدانہیں کرسکتی، ساری دنیا مل کر اس آنکھ جیسی آنکھ پیدا نہیں کر سکتی ،ساری دنیا مل کر اس پاﺅں جیسا پاﺅں پیدا نہیں کر سکتی ،تو یہ ہر انسان کو یقین ہے کہ جوکام ساری دنیا مل کر نہ کر سکے وہ خداہی کا کام ہوتا ہے تو جو پہچان اللہ کے پاک کام کی ہے وہی پہچان اللہ کے پاک کلام کی بھی ہے ،تو ساری دنیا مل کر اس کلام جیسا کلام لانے سے جیسے آج سے چودہ سوسال پہلے عاجز تھی آج بھی عاجز ہے اور قیامت تک عاجز رہے گی ۔
آپ ماشاءاللہ علماءحضرات ہیں آپ کو پتہ ہے کہ عربی کی بڑی لغت المنجدعیسائی کی لکھی ہوئی ہے جو عربی دان تھا اتنے بڑے بڑے عیسائی عربی دان گزرے ہیں ،یہودیوں میں عربی دان گزرے ہیں وہ لغتیں لکھ گئے ہیں عربی کی بڑی بڑی کتابیں لکھ گئے ہیں لیکن قرآن پاک کے مقابلہ میں سورہ کوثر جتنی ڈیڑھ سطربھی آج تک کسی نے نہیں لکھی ۔مقابلہ کرنے کی کوشش ضرور کی لیکن جو فقرے ہمارے سامنے آئے وہ ایسے تھے کہ خود کافروں نے ان کو تھپڑمارے ”الفیل ماالفیل وماادرک ماالفیل لہ ذنب وخرطوم طویل فانہ من خلفة رکب الجلیل “خود کافروں نے کہا کم بختو اس سے تو خاموش رہنا ہی بہتر تھا جب عربی دان اس فقرے کو قرآن کے مقابلہ میں رکھیں گے تو وہ کیا کہیں گے کہ کتنی گھٹیا ذہنیت کے لوگ تھے ۔ والسماءذات البروج اس کے مقابلہ میں ”والنساءذات الفروج “اب یہ کتنا فحش اور نکما فقرہ تھا جو انہوں نے بنایا آخر انہوں نے ہتھیار پھینک دیئے اور لڑنے مرنے پر آمادہ ہوگئے اپنی بیویوں کوبیوہ چھوڑ گئے اپنے بچوں کو یتیم چھوڑ گئے میدان بدر و احد میں اترے لیکن اگر وہ نہیں کر سکے تو قرآن پاک کے مقابلہ میں ڈیڑھ سطر نہیں لاسکے تو دوسری بات یہ ٹھیک ہے کہ سارے اپنے اپنے نبی کا نام لیتے ہیں لیکن جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ آپ کے نبی کا معجزہ اس وقت دنیا میں کوئی موجود بھی ہے یا صرف پڑھنے سننے کی باتیں رہ گئی ہیں تو سوائے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے کسی کی دلیل نبوت آج دنیا میں موجود نہیں ہے جس سے پتہ چلاکہ آپ ہی کی نبوت کا دور ہے پہلے نبیوں کی نبوت کا دور ختم ہوچکاہے ۔
۳ --تعلیمات نبوی ﷺ محفوظ ہیں :
تیسری بات یہ ہے کہ ہم نے پیغمبر تلاش کرلیا جو عالمگیر نبی ہے ان کی دلیل نبوت بھی سامنے آگئی سورج سے بڑھ کر ان کی نبوت کا یقین ہمیں ہوگیا لیکن فائدہ جب ہی ہوگا کہ نبی جو تعلیمات لے کر آئے تھے وہ بھی محفوظ ہیں یا گم ہی ہوچکی ہیں تو اس کا جواب بھی صرف ہمارے پاس ہی ہے کیونکہ باقی کسی نبی کی تعلیم آج دنیا میں محفوظ نہیں بلکہ میں تو مناظروں میں یہ بات کہاکرتا ہوں عیسائیوں سے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام ،ابراہیم علیہ السلام اور عیسی ٰ علیہ السلام کے اسماءگرامی قرآن پاک میں نہ آتے تو ہزاروں اور نبی تھے جن کے نام سے دنیا واقف نہیں رہی ان کے ناموں سے بھی دنیا واقف نہ ہوتی اللہ تبارک وتعالیٰ نے تکوینی طور پر ان زبانوں کو ہی دنیا سے مردہ کردیا ہے جن زبانوں میں وہ کتابیں نازل ہوئی تھیں ۔
آج عبرانی ،لاطینی ،یونانی زبانیں دنیا میں کسی ایک ملک میں بطور زندہ ابان بولی نہیں جاتیں ،کہیں کوئی ایک آدھ کتاب ہوتوجب تک محاورات زبان کے استعمال نہ ہوں تو اس زبان کو زندہ نہیں کہا جاتا اور اس کو سمجھا بھی نہیں جاسکتا تو اللہ تعالیٰ نے ان زبانوں کو ہی دنیامیں مردہ کر دیا ہے جن زبانوں میں پہلی کتابیں نازل ہوئی تھیں ۔اب ساری دنیا مل کر خداکے مارے ہوﺅں کو زندہ نہیں کر سکتی وہ چشمے خشک ہوچکے ہیں ،ہاں دھوکے میں بعض لوگ ان کی ریت کی چمک کو پانی کی چمک سمجھ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاہد وہاں جاکر پیاس بجھ جا ئے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ وہ پیاسے مرتے چلے جارہے ہیں آج ایک ہی آب حیات کا چشمہ ہے جس کا نام قرآن پاک ہے اس کے سوا اور کہیں روحانی پیاس بجھائی نہیں جا سکتی تو تعلیمات کے سلسلہ میں تورات آج ہمارے پاس پانچ حصوں میں ہے لیکن موسی علیہ السلام سجدے میں کیا پڑھتے تھے ؟آج تک کسی کو پتہ نہیں تو کیا ضرورت ہوئی پانچ حصوں کے محفوظ رکھنے کی جب سجدے کا طریقہ بھی یاد نہیں ۔چار انجیلیں ہیں عیسائیوں کے پاس ۔متی ،مرقس ،لوقا،یوحنا ،لیکن آپ ان سے پوچھیں کی عیسی علیہ السلام اللہ کی بارگاہ میں سجدے کرتے تھے تو کونسی تسبیح پڑھتے تھے ؟کسی کو پتہ نہیں ۔ذکر ہی سرے سے نہیں صرف اتنا ہے کہ آخری دنوں میں جو سجدہ کیا تو یہ فرمارہے تھے کہ اے میرے آسمانی باپ اگر ہوسکتا ہے تو یہ صلیب کا پیالہ مجھ سے ٹل جائے ۔تب بھی تیرے مرضی جو ہے وہ پوری ہو تو یہ کوئی اللہ کی تسبیح نہیں اپنے لئے ایک دعا ہے بس تو مسیح علیہ السلام کی تعلیمات دنیا میں عبادات تک بھی محفوظ نہیں ہیں لیکن اس کے برعکس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں آپ کی عبادات ،آ پ کی عادات بھی محفوظ ہیں آپ ﷺ کے علاوہ کسی بڑی سے بڑی شخصیت کی دنیا میں عادات محفوظ نہیں ہیں ۔
سکندر اعظم بہت بڑا بادشاہ گزرا ہے اشوت اور جیت ہندوﺅںمیں کتنے بڑے مہاراجہ گزرے ہیں کہ صدیوں تک ان کے احکام لاٹھیوں پر لکھے جاتے تھے لیکن کو ئی نہیں بتا سکتا کہ سکندر اعظم کو جس بچی نے اپنے ہاتھوں پر لوریاں دی تھیں اس کا نام کیا ہے ؟سکندر جب تخت پر آتا تھا تو کونساپاﺅں پہلے رکھتا تھا ؟سکندر جب لیٹتا تھا تو اس کے لیٹنے کا طریقہ کیا تھا لیکن حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی یہ عادات مبارکہ بھی محفوظ ہیں جس بچی حضرت شیمائؓ نے آپ ﷺ کو لوریاں دی ہیں اس کا نام بھی قیامت تک کے لئے زندہ ہوگیا آپ ﷺ جو تا پہنتے تو کس پاﺅں میں پہلے پہنتے بیت الخلاءتشریف لے جاتے تو کونسا پاﺅں مبارک پہلے رکھتے زبان پر کونسے کلمات مبارکہ ہوتے آپ ﷺ سرمہ لگاتے تو کس آنکھ میں پہلے لگاتے آپ ﷺ قمیض پہنتے تو کس طرح پہنتے آپ ﷺ آرام کے لئے لیٹتے تو کس کروٹ پر لیٹتے یہ وہ باتیں ہیں جو بڑی سے بڑی شخصیت کی دنیا نے محفوظ نہیں رکھیں لیکن حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں الحمدللہ ہم پورے یقین کے ساتھ کہ سکتے ہیں کہ آپ ﷺ کی پاک سیرت کا ایک نقطہ بھی گم نہیں ہوا جس طرح چودہ سوسال پہلے سورج کی طرح دنیا کے سامنے آپ ﷺ کی سیرت چمک رہی تھی اسی طرح آج بھی محفوظ ہے اور انشاءاللہ العزیز قیامت تک محفوظ رہے گی ۔تو یہ وہ ابتدائی باتیں ہیں جو سچے دین کی پہچان کے لئے ہوتی ہیں تو اگر چہ سارے کہتے ہیں ہمارا دین سچا ہے لیکن کو ئی اپنے نبی کو عالمگیر ثابت نہیں کر سکتا اب عیسائیوں کا انجیلیں تقسیم کرتے پھر نا اسی کو کہتے ہیں مدعی سست گواہ چست کہ عیسیٰ علیہ السلام تو فرماتے نہیں کہ ساری دنیا کا نبی ہوں اور امتی اٹھا کر ساری دنیا کو انجیلیں پکڑا رہے ہیں جاجاکر اور کسی نبی کا معجزہ آج بھی دنیا کو دکھایا جائے کہ یہ ہے مقابلہ کر و سوائے ہمارے پاک پیغمبر ﷺ کے کسی کا معجزہ موجود نہیں اور کسی نبی کی تعلیمات دنیا میں موجود نہیں ہیں بلکہ وہ زبانیں ہی مردہ ہوچکی ہیں جن میں وہ کتابیں نازل ہوئی تھیں اور ان نبیوں پر اسلام کا احسان ہے کہ اگر کسی کا آج نام زندہ ہے تو اسلام ہی کی وجہ سے زندہ ہے لیکن اس کے برعکس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا ایک گوشہ بھی آج تک گم نہیں ہوا اور انشاءاللہ العزیز قیامت تک باقی رہے گا اسی لئے میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اللہ نے ہمیں مسلمان بنایا پھر مسلمان کہلانے والوں میں سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اہل سنت والجماعت بننے کی توفیق عطافرمائی ۔
ناجی فرقہ اہل السنت والجماعت ہی ہے :
جیسے سارے دینوں میں سچا دین صرف اسلام ہے اسی طرح مسلمان کہلانے والے فرقوں میں نجات پانے والی جماعت کا نام اہلسنت والجماعت ہے سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ نام رکھا کس نے ؟تہتر فرقوں کے نام غنیة الطالبین میں شہرستانی کی ملل وغیر ہ میں ملتے ہیں لیکن کو ئی فرقہ اپنا نام اپنے پاک پیغمبر ﷺ سے ثابت نہیں کر سکتا سوائے اہلسنت والجماعت کے ۔جب قرآن پاک میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ کہ میدان قیامت میں کچھ لوگوں کے چہرے سفید اور روشن ہونگے اور کچھ لوگوں کے چہرے سیاہ ہونگے ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت اقدس ﷺ کی خدمت پاک میں عرض کیا کہ حضرت جن کے چہرے میدان قیامت میں روشن ہونگے ان کا نام کیا ہے فرمایا ھم اہل السنة والجماعة ان کا نام اہلسنت والجماعت ہے تفسیر درمنثور میں اسی آیت کے تحت یہ روایا ت موجود ہیں ۔ابن کثیر میں بھی عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے ہے کہ اس سے مراد جن کے چہرے روشن ہونگے اہلسنت والجماعت ہیں ۔کنزالعمال میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت پاک ﷺ کے زمانہ میں اپنے آپ کو اہلسنت والجماعت کہا کر تے تھے ۔سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ کا آخری خطبہ تاریخ کامل ابن اثیر میں موجود ہے آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ناناپاک ﷺ سے سنا تھا فرمارہے تھے حسن اور حسین دونوں بھائی جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور فرمارہے تھے حسن اور حسین دونوں جنت کے پھول ہیں اور فرمارہے تھے حسن اور حسین دونوں بھائی اہلسنت والجماعت کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں تو اس سے پتہ چلاکہ ہمارا نام ہمارے پاک پیغمبر ﷺ کا رکھا ہوا ہے جبکہ اور کوئی فرقہ اپنا نام پاک پیغمبر ﷺ سے ثابت کر ہی نہیں سکتا تو سب سے پہلی اور بنیادی بات تو یہی ہے کہ اللہ کے نبی نے نجات پانے والی جماعت کا نام اہل سنت والجماعت رکھا تھا باقی فرقوں کے غلط ہونے کی پہلی دلیل یہی ہے کہ انہیں نبی پاک ﷺ کا نام پسند نہیں آیا انہوں نے بعد میں اپنے نام الگ الگ خود ہی رکھ لئے تو جو اللہ کے نبی پاک ﷺ کے رکھے ہوئے نام کو پسند نہیں کرتا وہ اگر ہمارے سامنے دعویٰ کرے کہ ہم نبی پاکﷺکے کام کو مانتے ہیں تو یہ دعویٰ عقل ماننے کے لئے تیار نہیں کیونکہ نام آسان ہوتا ہے کام مشکل ہوتا ہے دیکھواللہ تعالیٰ آپ کو بیٹادے نام اس کا رکھیں محمد عمر اس تصور سے کہ یہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تابعداری کرے اسی جو ش اور جذبہ سے جس طرح فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے کی تو یہ نام رکھنا آسان ہے فاروق اعظم جیسا جذبہ یہ اتنا آسان نہیں ہے تو جن کو نبی پاک ﷺ کا رکھا ہوا نام ہی پسند نہیں آیا وہ اگر کہے کہ ہم نبی پاک ﷺ کے کاموں کے محافظ ہیں تو یہ بات ناممکن ہے ۔
اہل سنت والجماعت کامطلب :
اب یہ اس نام کا معنی ٰکیا ہے ؟تو ہمارے نام میں پہلے لفظ سنت آرہا ہے سنت کسے کہتے ہیں ؟قرآن پاک اللہ کی آخری کتاب ہے یہ الفاظ میں نازل ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی کے ساتھ معلم کتاب کو بھی بھیجا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو جنہوں نے اس قرآن پاک پر سب سے پہلے خود عمل کرکے دکھایا تو آپ نے اس کتاب کے مطابق جو عمل کر کے دکھایا اسی عملی نمونہ کو سنت کہا جاتا ہے تو گویا سنت کے لفظ میں دوباتیں آئیں علم قرآن کا اور نمونہعمل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ۔ہمارا تو یہی عقیدہ ہے کہ یہ قرآن پاک لفظی قرآن ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اسی قرآن پاک کی چلتی پھر تی عملی تفسیر تھے ہم نے اقیموا الصلوٰة یہاں پڑھنا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ حضرت ﷺ کس طرح نماز ادا فرمارہے ہیں ۔ وہ یقینااسی آیت کی تفسیر ہے آپ کی عادات آپ کی عبادات آپ کا جہاد آپ کی صلح سب جو کچھ بھی تھا اسی قرآن پاک کی تفسیر ہے تو جب سنت کا پتہ چلاکہ سنت کہتے ہیں علم قرآن اور نمونہ عمل حضرت محمدرسول اللہ ﷺ کا تو صرف آپ ﷺ نے قرآن نہیں دیا اس کا عملی نمونہ بھی سامنے رکھا ہے تاکہ اس کے سمجھنے میں کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے تو اس لئے اہلسنت کا معنیٰ بھی سمجھ آگیا کہ وہ جماعت جو اپنی زندگی قرآن پاک کے مطابق گزارتی ہے لیکن قادیانی وغیر ہ کی طرح قرآن پاک کا نیامطلب نہیں نکالتی جس طرح حضرت محمد رسول پاک ﷺ نے عمل کر کے دکھایا اسی عملی نمونہ کو سامنے رکھ کر قرآن پاک پر عمل کرنے والے کو اہل سنت کہتے ہیں ۔
اہل سنت کے بعد دوسرا لفظ ہمارے نام میں والجماعة ہے اور سوائے ہمارے نام کے کسی فرقہ کے نام میں والجماعة نہیں آتا کوئی نہیں کہتامیں اہل قرآن والجماعة ہو ں کو ئی نہیں کہتا میں اہل حدیث والجماعت ہو ں کو ئی نہیں کہتا میں اہل تشیع والجماعة ہو ں اللہ تعالی نے ایسی حفا ظت فرمائی ہے کہ جب کسی سے پو چھا کہ نجا ت پا نے والے کو ن ہوں گے ؟تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ما انا علیہ واصحا بی ، جو میرے اور میر ے صحا بہ رضی اللہ عنہم کی جماعت کے طریقے پر ہو ں تو صحا بہ کی جماعت کا ذکر ہما رے نا م کے سوا اور کسی نا م میں سر ے سے آ یا ہی نہیں تو اسی لئے پتہ چلا کہ یہی نجا ت پا نے والی جماعت ہے حضور پا ک صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تو تہتر لیتے ہیں سا رے ہی حضرت پا ک ﷺ کا نا م لیتے ہیں لیکن وہ نہیں !میرا طریقہ وہی ہے جس پر عملی نمو نہ پیش کیا ہے میں نے اپنی سنت کے آ گے عملی نمو نے ہی تیا ر کئے ہیں اور جب حضرت ﷺ نے قرآن پا ک پر عمل فرمایا تو اللہ کی نگرانی میں فرمایا اسی لئے کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں اورصحا بہ کہ جب سنت کے عملی نمو نے صحا بہ بنے تو دو نگرا نیا ں تھیں ادھر اللہ تبا رک وتعالی نگرا نی فرما رہے ہیں اور ادھر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نگرا نی فرمارہے ہیں ادھر سے سر ٹیفکیٹ یہی آتا ہے رضی اللہ عنہم ورضو عنہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ تبارک وتعا لی سے راضی ہیں اللہ کے پا ک پیغمبر ﷺ بھی یہی فرما تے ہیں کہ میر ے صحا بہ رضی اللہ عنہم ستا روں کی ما نند ہیں جو جس کے سا تھ بھی جڑجا ئے گا وہ اسے جنت میں لے جائے گا تو ان عملی نمو نو ں کو سا منے رکھ کر حضرت ﷺ کی تا بعداری کر نا یہ شعا ر اہل سنت والجماعت کا ہے جو لوگ کہتے ہیں ہم محمد ی ہیں ابو بکر ی نہیں محمد ی ہیں عمری یا عثما نی یا علو ی نہیں وہ کبھی بھی سچے محمدی نہیں بن سکتے سچا محمد ی بننے کے لیے ابو بکر ی بننا ضروری ہے عمر ی عثما نی بننا ضرور ی ہے جو صحا بہ کو نہیں ما نتا وہ عبداللہ بن ابی رائیس المنا فقین جیسا محمد ی تو بن سکتا ہے لیکن عبداللہ بن مسعو د جیسا محمد ی نہیں بن سکتا ،جو صحا بہ کو نہیں مانتا وہ یز یدجیسا محمد ی تو بن سکتا لیکن امام ابوحنیفہ جیسا محمد ی تو نہیں بن سکتا اسی لئے ہمارے نا م میں دوسرا لفظ والجماعة آیا ہے ۔
ہم حنفی کیو ں کہلا تے ہیں :
اور پھر اس کے بعد ہم حنفی بھی کہلا تے ہیں کیو ں ؟ہمیں نبی پاک ﷺ کی سنت اور صحابہ ؓ کے فہم کی ضرورت ہے اور ہم میں سے کوئی بھی نہ حضرت ﷺ سے ملانہ صحابہ ؓ سے ملا۔تو سید نا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے تقریباً چالیس سال صحابہ رضی اللہ عنہم کا زمانہ پایا ہے اور سنت کے عملی نمونوں کی اپنی آنکھوں سے زیارت کی ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے سنت سیکھی ہے نبی پا ک ﷺ کو آ نکھو ں سے دیکھ کر اور ہمارے امام نے سنت سیکھی ہے صحابہ ؓ کو انکھوں سے دیکھ کر پھراس کو کتابوں میں مرتب کر وادیا ۔وہ امام محمد رحمہ اللہ ،قاضی امام ابو یو سف رحمہ اللہ کی لکھی ہوئی کتابیں آج بھی ہمارے ہاتھوں میں الحمد للہ موجود ہیں تو اسی لئے ہم حنفی بھی کہلاتے ہیں کیونکہ نبی ﷺ کی سنت اور صحابہ ؓ کا فہم جو ہے وہ سید نا امام اعظم ابوحنیفہ ؓکے ذریعہ ہمیں پہنچا۔
تکمیل دین ،تمکین دین ،تدوین دین :
ایک اور انداز میں بھی اس بات کو سمجھیں کہ جب ہم اپنے آپ کو اہلسنت کہتے ہیں تو اپنی نسبت نبیوں کے سردار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے جوڑتے ہیں نبی سارے برحق ہیں ہر گلے رارنگ وبوئے دیگر است لیکن دین کی تکمیل کا اعلان سوائے ہمارے پاک ﷺ کے اور کسی نے نہیں فرمایا الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً تو رسول اقدس ﷺ کے ذریعے دین کو تکمیل نصیب ہوئی ہیں جن کا ذکر ہمارے نام میں سنت کے لفظ میں آرہاہے صحابہ کا ذکر والجماعة میں آرہا ہے ان کے ذریعے دین کو تمکین نصیب ہوئی ہے سورہ نور میں آتا ہے ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم اللہ نے جو اپنا پسندیدہ دین جو اپنے پاک پیغمبر پر کامل فرمایا اس کا کامل اور عام نفاذ جو ہے وہ خلافت راشدہ اور صحابہ کے ذریعے دنیا میں ہوگیا اور مضبوطی کے ساتھ دین اس دنیا میں جڑ پکڑ گیا تو صحابہ کے ذریعے دین کو تمکین نصیب ہوئی اور امام ابو حنیفہ کے ذریعے دین کو تدوین نصیب ہوئی نمازیں پہلے بھی لوگ پڑھتے تھے وضو کر تے تھے لیکن اس تفصیل سے کہ وضو میں اتنی سنتین ہیں اتنے فرائض ہیں اتنی باتوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یہ تفصیل کہیں کتابوں میں لکھی ہوئی نہیں ملتی تھی ضرورت صحابہ کو بھی تھی لیکن صحابہ کی زندگیاں اکثر میدان جہاد میں گزر گئیں انہیں یہ موقع نہیں ملا کہ وہ بیٹھ کر کتابوں کو مرتب فرماتے اور جمع کرتے لیکن چونکہ یہ دین قیامت تک رہنے والا تھا اس لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے سیدنا امام ابو حنیفہ کا دل اس طرف متوجہ فرمادیا اور آپ نے دین کی تدوین فرمائی تو اہل سنت والجماعت حنفی میں گویا تین باتیں آگئیں سنت میں تکمیل دین والجماعت میں تمکین دین اور حنفی میں تدوین دین ۔
امام اعظم کی شان :
ایک دوسرے طریقے سے اس کو سمجھیں کہ رسول پاک ﷺ کی نسبت لفظ سنت میں ہے جو آفتاب ہدایت ہیں قرآن پاک میں ان کو سراج منیر فرمایا ہے والجماعة میں نسبت صحابہ ؓ کی طرف ہے جو نجوم ہدایت ہیں حضرت پاک نے ان کو ستارے فرمایا ہے اور حنفی میں نسبت امام صاحب کی طرف ہے جو ان ستاروں تک پہنچنے والے ہیں آپ ﷺ نے فرما یا لوکان الدین عند الثریا لتناولہ رجل من اہل فارس اوکما قال ﷺ فرمایا پہلے دین دنیا سے اٹھ گئے ایک فرقہ بھی سچے دین پر نہیں رہا عیسائیوں میں ،یہودیوں میں بفرض محال میرے دین پر بھی یہ حال آجائے اور دین دنیا سے اٹھ کر ثریا ستارے تک پہنچ جائے تو بھی اہل فارس میں سے ایساآدمی آنے والا ہے جو مکمل دین میری امت کے سپرد کر دے گا تناول کا لفظ آپ روزانہ استعمال کر تے ہیں کہ جی کھانا تناول فرمالیجئے کس وقت آپ یہ لفظ استعمال کرتے ہیں ؟جب اس کی تیاری کے پورے کام مکمل ہوجائے صرف ایک ہی کام باقی رہ جائے کہ اب اس کو کھانا ہے بیٹھ کر اسی طرح وہ رجل فارس جو ہوگا وہ دین کی پوری تحقیق کر کے اتنی مکمل تحقیق کے بعد مکمل دین امت کے سامنے پیش کر دے گا کہ اس کے بعد کسی نئی تحقیق کی ضرورت نہیں بس اب اس پر عمل کر نا ہی باقی رہ جائے گا کہ بھائی اس پر عمل کر و یہی پیغمبر پاک ﷺ کا صحیح دین ہے آپ حضرات تو یہ الفاظ سمجھتے ہیں عوام کے لئے میں پھر کہا کرتا ہوں کہ پورا مطلب تو نہیں آئے گا لیکن اتنا ہوجائے کہ نبی پاک دین کے لانے والے صحابہ دین کے پھیلانے والے اور ائمہ حضرات دین کے لکھوانے والے ،صحابہ نے وہی دین پھیلایا جو نبی پاک سے لیا تھا اور ائمہ نے وہی دین لکھوایا جو صحابہ کو عمل کر تے دیکھ لیا جو کہتا ہے کہ صحابہ نے نبی کا دین بدلا وہ بھی رافضی ہے اور جو کہتا ہے کہ ائمہ نے نبی کا دین بدلا وہ بھی رافضی ہے نبی کا لایا ہوا قرآن بھی متواتر ہے اور نبی پاک کی نماز بھی متواتر ہے ........قرآن پورا ہر مسلمان پرختم کرنا فرض نہیں لیکن نماز پوری پانچ مرتبہ پڑھنا ہر مسلمان پر فرض ہے تو عجیب بات یہ ہے کہ ایک رافضی ہمارے قرآن کا دشمن ہے وہ کہتا ہے تمہارا قرآن غلط ہے دوسرا رافضی ہماری نماز کا دشمن ہے وہ کہتا ہے تمہاری نماز غلط ہے وہ کہتا ہے یہ نبی والا قرآن نہیں، وہ کہتاہے یہ نبی والی نماز نہیں ۔
فقہ حنفی پر عمل مکمل سنت پر عمل ہے : یہیں جب میں بنوری ٹاﺅن میں تھا تو کچھ آدمی آئے پڑھے لکھے آدمی تھے کوئی پروفیسر تھے وکیل تھے آکر بیٹھ گئے کہنے لگے جی ہم بہت پریشان ہیں میں نے کہا بھائی بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑوں کو چھوڑتا ہے تو سوائے پریشانی کے اس کو کچھ بھی نہیں ملا کر تا مرزا قادیانی اسی پریشانی کی پیداوار ہے نا ! مودودی اسی پریشانی کی پیداوار ہے نا! بڑوں پر اعتماد نہیں کیا خود نئے غلط سلط ترجمے کرتے رہے اور خود بھی پریشان رہے اور امت کو بھی پریشان کیا تو میں نے کہا معلوم یہی ہوتا ہے کہ آپ کو بڑوں پر اعتماد نہیں اس لئے پریشانی کا رونا رورہے ہیں میں نے پوچھا کہ کیا پریشانی ہے آپ کو ؟کہنے لگے جی اختلا ف بہت ہوگیا ہے میں نے کہا کتنا ہوگیا ہے ؟ چار امام ہیں کہتے ہیں چار ؟میں نے کہا اچھاکہاں ؟ یہاں کراچی میں مالکیوں کا تو کوئی مدرسہ ہم نے نہیں دیکھا حنبلیوں کا بھی نہیں دیکھا شافعیوں کا بھی نہیں دیکھا تو یہاں تو صرف اما م ابو حنیفہ ؒ کا مسلک ہے اور تو کسی امام کا مسلک نہیں؟ کہنے لگے جی کسی ملک میں ہونگے ہی نا ،میں نے کہا ان کو پریشانی ہو تمہیں یہاں بیٹھے خواہ مخواہ پریشانی ہورہی ہے یہاں تو ایک ہی مسلک ہے اور ہے ہی نہیں بس جی یہ اختلاف کیوں ہوا؟ میں نے کہا بھائی میں نے تو یہ اختلاف نہیں بنایا شروع سے آرہا ہے لیکن آپ آخر پڑھے لکھے لوگ ہیں آخر آپ نے یقینا فیصلہ کیا ہوگا ؟کہاجی ہاں ،میں نے کہا کیا ؟ کہ جی سب کو چھوڑدو میں نے کہا کہ یہ صرف ائمہ فقہ کے بارے میں ہے یا باقیوں کے بارے میں بھی ہے ؟کہا باقی کیسے ؟ میں نے کہا ہمارے ہاں چار طریقے علاج کے ہیں ایلوپیتھی ہومیوپیتھی آیوویدک ،یونانی اور چاروں میں آپس میں طریق علاج میں یقینا اختلاف ہے تو آپ نے وہاں بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ کوئی مرتا ہے تو مرے علاج بالکل نہیں کروانا ؟ کیاخیال ہے ؟ دوسرا میں نے کہا چار کا اختلاف زیادہ ہے یا دس قراتوں کا جو اختلاف ہے یہ زیادہ ہے؟دس کا اختلاف بڑا ہوتا ہے نا،دس قاریوں میں قراتوں میں اختلاف ہے تو پہلے بڑا اختلاف چھوڑ نا چاہئے تاکہ کام بھی بڑا ہونام بھی بڑا ہو تو قرآن پاک کا انکار کر دیں کہ جن قاریوں سے یہ قرآن پہنچا ہے جیسے یہ تمنا عمادی لکھ رہا ہے انہوں نے بہت اختلاف کیا ہے ہم سرے سے قرآن ہی نہیں مانتے تو جان چھوٹ جائے ؟اور پھر صحاح ستہ میں جو چھ کتابیں حدیث کی ہیں ان میں بھی آپس میں اختلافی حدیثیں ہیں ایک حدیث میں کچھ ہے دوسری اس کے خلاف آجاتی ہے تو چھ کا اختلاف یقینا چار کے اختلاف سے تو زیادہ ہے تو ان بیچارے ائمہ کی آخر میں کہیں باری آئے گی آپ یہیں چھلانگ مار کے پہلے پہنچ گئے ہیں تو پہلے ان دس کو چھوڑ یں پھر ان چھ کو چھوڑ یں اس کے بعد ان ائمہ حضرات کی باری آئے گی اب تھوڑی دیر سوچ کر مجھے کہنے لگے کہ جی کسی حدیث میں ہے کہ ایک ہی کی تقلید کر نا ؟میں نے کہا آپ کو پور ی دس ہی قراتیں یاد ہیں!کہنے لگے جی نہیں میں نے کہا کتنی یا د ہیں کہنے لگے جی ایک ہی میں نے کہا یہ حدیث میں ہے کہ ایک قرات یاد کر ناباقیوں کو چھوڑدینا ؟کہنے لگے جی ہمیں آتی ہی ایک ہے تو میں نے کہا یہاں مذہب ہی ایک ہے کہتے ہیں جی جب چار امام جو ہوئے چاروں برحق ہیں ؟میں نے کہا جی کہتے ہیں پھر ایک امام کی تقلید کرنے سے چوتھاحصہ دین ملے گا ؟تو میں نے کہا اچھا پھر ایک قرات پر قرآن پڑھنے میں دسواں حصہ ملے گا ؟ نو حصے تو ضائع ہوگیا ۔
اب ایک حرف پر حدیث میں آتا ہے دس نیکیاں ملتی ہیں تو آپ کو تو ایک ہی ملتی ہوگی؟کیونکہ دس ہی قراتیں آپ کے خیال میں پڑھی جائیں تو دس نیکیاں ملیں گی ؟کہتا ہے نہیں وہ پورا ثواب ملتا ہے کیونکہ قرآن تو پورا پڑھا نا ؟اگر چہ ایک ہی قرات پرپڑھا تو میں نے کہا یہاں بھی عمل تو پورا کیا حنفیوں نے بھی پورا مہینہ روزے رکھے ہیں شافعیوں نے بھی پورا مہینہ روزے رکھے ہیں حنفی بھی پانچوں نمازیں پڑھتے ہیں شافعی بھی یہ نہیں کہ سواسوا نماز تقسیم کی ہوئی ہے انہوں نے مالکی جاتا ہے وہ پورا حج کر کے آتا ہے چوتھا حصہ چھوڑ کر نہیں آتا تو جیسے ایک قرات پر تلاوت کر نے سے پورے قرآن کا ثواب ملتا ہے اسی طرح ایک امام کی تقلید کر نے سے پوری سنت پر عمل کر نے کا اجر مل جاتا ہے اب تھوڑی دیر سوچتے رہے پھر کہنے لگے جی اچھا یہ بتائیں کہ دین مکے مدینے میں آیا تھا یا کوفے میں ؟میں نے کہا مکے مدینے میں کہنے لگے پھر مکے مدینے والے امام کو ماننا چاہئے یا کوفے والے کو ؟میں نے کہا آخر آپ پڑھے لکھے لوگ ہیں کوئی فیصلہ کیا ہی ہوگا آپ کا کیا خیال ہے جی مکے مدینے والے کو میں نے کہا آپ کو پتہ ہے کہ جھوٹ بو لنا اسلام تو اسلام باقی دینوں میں بھی حرام ہے کہنے لگے ہم نے جھوٹ بولا؟ میں نے کہا ہاں میں نے کہا ان دس قاریوں میں یقینا مکی قاری بھی تھا مدنی قاری بھی تھا تم تو قاری عاصم کو فی کی قرات پر قرآن پڑھ رہے ہو تم سے بڑا کوفی کون ہے دنیا میں ؟تم نے مکی قاری کو چھوڑ دیا مدنی قاری کو چھوڑ دیا قاری عاصم کو فی کی قرات قاری حفص کی روایت ہے اسی پر آپ رات دن تلاوت کر رہے ہیں اور یہی قرآن شاہ فہد ان علاقوں میں تقسیم کر وارہا ہے تو اس لئے میں کہا کرتا ہوں کہ جب کو ئی غیر مقلد ملے تو یہی پوچھو کہ کوفیو آگئے ہو مکے مدینے کانا م سمجھ نہیں آیا کیوں لیتے ہیں صحاح ستہ روس والی ہے اور قرآن کو فے والا ہے مکے مدینے کا ان کے پاس ہے کیا ؟ اور کہتے ہیں کہ جی ہم مکے مدینے والے ہیں تو بہر حال بیٹھے بیٹھے کہنے لگے کہ جی جب چاروں امام برحق ہیں (تو باقی )تین کی تقلید کیوں نہیں کرتے ؟
میں نے کہا کم وبیش ایک لاکر چوبیس ہزارانبیاءکرام برحق ہیں یا نہیں ؟کہا جی ہیں میں نے کہا موسی علیہ السلام بر حق ہیں کہا جی ہاں میں نے کہا عیسی علیہ السلام ؟کہنے لگے جی ہاں میں نے کہا حضور پاک ﷺ َکہنے لگے جی ہاں میں نے کہا حضور پاک کی شریعت کے مطابق آپ جمعہ پڑھتے ہیں نا کہا جی ہاں میں نے کہا موسی علیہ السلام کی شریعت کے مطابق آپ ہفتہ بھی پڑ ھتے ہیں کیو نکہ ان کی عبادت ہفتے کے دن کی تھی اور عیسی ؑ کی شریعت کے مطا بق آپ اتوا ر کو بھی جاتے ہیں گرجا میں اتوار بھی پڑھتے ہیں ؟کہا نہیں جی ، میں نے کہا کیوں وہ بر حق نہیں ہیں ؟جیسے نبی سارے برحق ہیں لیکن ہم اتباع صرف پاک پیغمبر ﷺ کی کررہے ہیںان کے وہ مسائل جو ہما ری شریعت سے ٹکرا رہے ہیں ان کو ہم منسوخ کہتے ہیں اور منسوخ پر عمل جائز نہیں اسی طر ح ئمہ ثلا ثہ کے وہ مسا ئل جو ہمارے امام کے مسائل ٹکرا تے ہیں ان کو ہم مر جو ح کہتے ہیں جس طر ح منسو خ پر عمل جا ئز نہیں مرجوح پر بھی عمل جائز نہیں کہنے لگے جی کیا کریں اماموں میں حلال حرام کا ختلاف ہے میں نے کہا نبیوں میں بھی اختلاف ہے حلال حرام کا ایک نبی کی شریعت میں بہن سے نکاح جائز ہے دوسرے پر آکر حرام ہوگیا یعقوب علیہ السلام کی دونوں بیویاں سگی بہنیں تھیں موسی علیہ السلام کی شریعت میں آکر دونوں بہنوں کو بیک وقت نکاح میں رکھنا حرام قراردے دیا گیا تو اگر یہی اختلاف ہے تو صرف بیچارے امامو ں کی شامت کیوں آئی ہے نبیوں کو بھی چھوڑ ونا ۔کہتے ہاں جی وہ تو الگ الگ زمانے میں تھے تو میں نے کہا یہ الگ الگ علاقوں میں ہیں کسی کا مسلک سری لنکا میں ہے کسی کا کسی جگہ جہاں جس امام کا مذہب متواتر ہے وہاں اسی پر لوگ عمل کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں حکم یہ ہے کہ کنتم خیرامة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر ۔
غیر مقلدیت فتنہ ہے :
جیسے دس قراتوں میں سے جس ملک میں جو قرات عملا ً متواتر ہے اسی پر تلاوت کی جائے گی اسی طرح ائمہ اربعہ کے مذاہب میں سے جس ملک میں جو مذہب عملاً متواتر ہے اسی پر عمل کیا جائے گا اگر سری لنگا میں سارے شافعی ہیں تو ہم کبھی نہیں جا کر کوشش کریں گے کہ ان کو حنفی بنائیں وہ ٹھیک ہے اپنے مسلک پر چل رہے ہیں کسی ملک میں مالکی مذہب متواتر ہے یہ اختلاف بالکل ایسے ہوتا ہے کہ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے یا حلال ؟(حرام)اور روزوں میں عید پڑھ لینا یہ بھی ناجائز ہے نا ؟ (جی)لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ ہر سال کیا ہوتا ہے ؟سعودیہ میں عید ہوتی ہے یہاں روزہ ہوتا ہے حالانکہ عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ پاکستان والے سارے حرام کار ہیں اور رمضان میں عید پڑھنا ناجائز ہے مسئلہ کیا ہے یہاں چاند کا ثبوت ہوگیا وہاں چاند کا ثبوت نہیں تو اجتہادی مسائل اسی قسم کے ہوتے ہیں اگروہاں عید کا تواتر ہے تو یہاں روزے کا تواتر ہے ہاں فتنہ اور جھگڑا جب ہوگا کہ یہاں سب نے روزہ رکھا ہوا ہے اب دوآدمی لاٹھیاں اٹھالیں اور چلانا شروع کر دیں کی توڑو روزے آج مکے شریف میں عید ہے اس کا نام فتنہ ہے یا وہاں کوئی دو آدمی جاکر شور مچا دیں کہ بھائی دیکھوپاکستان سب سے بڑا اسلامی ملک ہے وہاں روزہ ہے ہم عید نہیں پڑھنے دیں گے تو اس کو فتنہ کہا جائے گا اس لئے معلوم ہوا کہ شافعیت جس ملک میں ہے وہ مذہب ہے فتنہ نہیں حنبلیت جہاں متواتر ہے وہ مذہب ہے فتنہ نہیں لیکن غیر مقلدیت فتنہ ہے یہ مذہب نہیں کیونکہ یہ تواتر سے ٹکرا رہی ہے اللہ تعالیٰ نے جب یہ بار بار اعلان فرمایا کہ معروف پر چلومنکر کو چھوڑو یہ منکر کو یہاں لانا چاہتی ہے جو غیر معروف چیز ہے اور معروف کو چھوڑنا چا ہتی ہے ۔
شافعی رفع یدین اور غیر مقلدین کی رفع یدین میں فرق :
تو یہ جو کہتے ہیں کہ جی شافعی رفع یدین کرتے ہیں ان کو آپ کچھ نہیں کہتے ہمارے پیچھے آپ ناراض ہیں ہم کہتے ہیں اسی لئے کہ شافعیوں کی رفع یدین دلیل پر مبنی ہے ان کے مجتہد نے اجتہاد کر کے بتایا کہ اس پر عمل کر و اور تمہاری رفع یدین کسی دلیل پر مبنی نہیں ہے دلیل کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ حدیث میں رفع یدین ہے حدیث تو نہ کرنے کی بھی ہے بات تو یہ ہے کہ ان دونوں میں انتخاب کس نے کیا ہے عمل کے لئے حدیث کا شافعیوں کو اگر رفع یدین والی حدیت کا انتخاب کر کے دیا ہے تو امام شافعی نے جو مجتہد ہیں اور مجتہد کا اجتہاد شریعت میں حجت ہے ہمیں اگر ترک رفع یدین والی حدیث کا انتخاب کر کے دیا ہے عمل کے لئے تو امام اعظم ابو حنیفہ نے اور مجتہد کا اجتہاد حجت ہے غیر مقلدین نے جو انتخاب کیا ہے وہ خود کیا ہے وہ مجتہد نہیں ہیں اس لئے کہ وہ نا اہل لوگ ہیں تو جس طرح ڈاکٹر جب ڈاکٹری پڑھتا ہے تو معصوم وہ بھی نہیں ہوتا لیکن ماہر ماناجاتا ہے اپنے فن کا وہ انجکشن لگائے تو اس کو گورنمنٹ نہیں پکڑتی لیکن اگر شیخ الحدیث انجکشن لگادیں ڈاکٹری نہیں پڑھے ہوئے اتنی معزز ہونے کے باوجود شخصیت تو قانونی جرم سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے قانونی جرم کیا ہے تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ دیکھووہ بھی ٹیکہ لگا رہے تھے یہ بھی ٹیکہ لگا رہے تھے تو ان کو کیوں مجرم کہا جارہا ہے اور ان کو کیوں مجرم نہیں کہا جارہا ہے جس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہے معصوم وہ بھی نہیں ہوتا ایکسیڈنٹ اس سے ہوجاتے ہیں لیکن اس کے پاس ایک اتھارٹی تو ہے نالیکن دوسرا کتنا بڑا آدمی کیوں نہ ہوجس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں اس کو گاڑی پولیس نہیں چلانے دیتی اس کو جرم سمجھا جاتا ہے تو اسی طریقے سے شافعیوں کی رفع یدین ایک دلیل پر مبنی ہے غیر مقلدوں کی رفع یدین کسی اتھارٹی اور دلیل پر مبنی نہیں نہ ہی یہ فرقہ کسی دلیل پر مبنی ہے تو میں عرض یہ کر رہا تھا کہ انہوں نے یہ کہا کہ ائمہ میں حلال حرام کا اختلاف ہے میں نے کہا یہ تو انبیاءعلیہم السلام میں بھی ہے اس کے بعد وہ بیچارے اٹھ کے چلے گئے تو مقصد یہ ہے کہ ہم اہلسنت والجماعت حنفی ہیں میں نے تینوں کا الگ الگ مقصد عرض کردیا اور ایک سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہمارا جو مسلک ہے یہ مشاہدہ پر مبنی ہے اہلسنت والجماعت حنفی صحابہ کی جماعت نے آنکھوں سے دیکھ کر نبی سے سنت لی ہے اور ہمارے امام نے چالیس سال صحابہ کا زمانہ پایا ہے ان کی زیارتیں کی ہیں تو مسلمان چالیس سال کی عمر میں نماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں یا نہیں کیا خیال ہے ؟خاص طور پر خیرالقروون کے مسلمان تو امام صاحب صحابہ کے دور میں نماز پڑھا کر تے تھے یانہیں؟یقیناپڑھتے تھے آپ اگر صحابہ کو دیکھتے تھے تو صحابہ بھی آپ کو دیکھتے ہونگے یا نہیں ؟ خاص طور پر اگر کوئی نیاکام کرے تو سارے دیکھتے ہیں مثلاًمیں آپ کی مسجد میں نماز پڑھنے آیا اور اللہ اکبر کہہ کر میں سر پر ہاتھ باندھ لوں سبحانک اللھم وبحمدک وتبارک ا سمک تو آپ مجھے روکیں گے یانہیں روکیں گے ؟ کیوں میں نے کسی فرض کی مخالفت نہیں کی ایک سنت کی مخالفت کی ہے حضرت علی کر م اللہ وجہہ فرماتے ہیں من السنة وضع الکف علی الکف تحت السرة سنت طریقہ یہی ہے کہ ہتھیلی ہتھیلی پر ناف کے نیچے ہاتھ باندھے جائیں مسند امام احمد اور ابو بکر ابن ابی شیبہ میں یہ حدیث موجود ہے تو میں نے اس سنت کے خلاف ہاتھ سرپر رکھ لئے تو آپ مجھے روکیں گے یا نہیں روکیں گے ؟تو یہ بھی فرمائیں ۔
جس زمانے کو حضرت پاک ﷺ نے خیر القرون فرمایا ہے ان کا ایمان زیادہ مضبوط تھا یا آج پندرھویں صدی کے مسلمانوں کا ایمان زیادہ مضبوط ہے ؟(ان کا ایمان ) کیسے زیادہ مضبوط ہے میں ایک سنت کے خلاف کام کرتا ہوں آپ سارے ٹوکتے ہیں اور معاذ اللہ امام ابو حنیفہ ساری نماز غلط پڑھتے تھے کسی نے ٹو کا ہی نہیں کبھی، اب دو ہی باتیں ہیں یا تو یہ بات غلط تھی کہ امام صاحب کی نماز غلط تھی ہاں تو جب میں نے ان (سائلین )کو کہا کہ آپ قرآن قاری عاصم والا پڑھتے مجھے کہنے لگے کہ جی کوفے والوں نے قرآن نیاتو نہیں بنایا مکہ مدینہ سے صحابہ کرام ؓ کو فے آئے تھے وہ قرآن لے آئے تھے میں نے کہا جب وہ مکے سے چلے تھے تو قرآن لے کر چلے تھے نمازوہیں پھینک آئے تھے کہ نماز کوفے میں جا کر نئی بنالیں گے یا نماز بھی مکے سے ساتھ لے آئے تھے اور مدینہ شریف سے ہی ساتھ لے کر آئے تھے اگر مدینہ شریف سے ہی یقینانماز بھی ساتھ لے کر آئے ہیں تو اگر اہل کوفہ پر قرآن کے بارے میں اعتماد ہے تو نماز پر بھی اعتماد کر لواور اگر نماز جو پانچ بار پڑھی جاتی ہے اس میں ان پر بے اعتمادی ہے تو قرآن پاک پر آپ کیسے اعتماد کر رہے ہیں ؟(جو یقینانماز سے کم پڑھاجاتا ہے )تو الحمد للہ ہمیں اس پر فخر ہے کہ ہم جو نماز پڑھتے ہیں اس کی تصدیق صحابہ کے سامنے ہوچکی ہے اور تابعین کے سامنے ہو چکی ہے صحابہ امام کے استاذ ہیں تابعین ہم جماعت ہیں تبع تابعین شاگرد ہیں اس نماز کی تصدیق تبع تابعین کے سامنے بھی ہوچکی ہے ان کی تصدیق کے بعد اب ہمیں کسی کی تصدیق کی ضرورت نہیں کہ کو ئی کیسٹیں بیچنے والا کہے کہ تمہاری نمازصحیح ہے تو ہم کہیں صحیح ہے اور اگر کو ئی گا نے کی کیسٹیں بیچھے والا کہے کہ تمہا ری نماز غلط ہے تو ہم کہیں کہ ہماری نماز غلط ہے میں گوجرانوالہ میں یہی بات عرض کر رہا تھا کہ ہماری نماز کی تصدیق خیرالقرون میں ہوچکی تو ایک نوجوان کھڑا ہوگیا کہنے لگا جی ہماری نماز کی تصدیق نہیں ہوئی ؟میں نے کہا آپ بھی فرمائیں حکیم صادق صاحب نے صلوٰة الرسول کتاب لکھی سیالکوٹ میں بیٹھ کر اور نوائے وقت اخبار نے تصدیق کی کہ بڑی اچھی کتاب ہے جنگ اخبار نے بھی تصدیق کی ہے کہ بڑی اچھی کتاب ہے صحیفہ اہل حدیث کراچی نے تصدیق کی ہے کہ بہت پیاری کتاب ہے اورتواور مرزائیوں کے رسالے شہاب نے تصدیق کی ہے کہ بہت اچھی کتاب ہے تومیں نے کہا کہ ہماری نماز کی تصدیق صحابہ تابعین کے سامنے ہوئی ،اور ان (صحابہ)کی تصدیق عرش والے نے کر دی والذین اتبعوھم باحسان رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ ہماری نماز کی تصدیق تبع تابعین کے سامنے ہوئی اور ان کی تصدیق فرش والے نے کر دی خیرالناس قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم تو ذرا شہاب اور نوائے وقت کے لئے بھی کو ئی آیت یا حدیث پڑھ دیں کہ ان کی تصدیق بھی اللہ تعالیٰ نے فرمادی ہو کہ جس کی تصدیق یہ کریں گے وہ تصدیق قابل قبول ہوگی اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں تو بہرحال ہمارا یہ نام ہماری متصل سند بھی ہے اس لئے ہم تو سند والے ہیں اور غیر مقلد بیچارے بے سند ے ہیں اور شور سب سے زیادہ تھوتھا چناباجے گنا اب آخر میں جو بات میں نے عرض کر نی ہے وہ یہ کہ یہ اپنا نام میں نے اس لئے سمجھا یا کہ ہم کیا ہیں تا کہ ہم ان کے دھوکے میں نہ آئیں انہوں نے جو دھوکہ دیاوہ کیا دیا یہ نہیں کہا کہ تم اہل سنت والجماعت ہو اور ہم اہلحدیث ہیں بلکہ یہ کہا کہ تم حنفی ہو اور ہم اہل حدیث ہیں ظاہر ہے کہ حنفی میں نسبت امتی کی طرف ہے اور حدیث میں نسبت نبی پاک کی طرف ہے تو اس مغالطے میں انہوں نے لوگوں کو ڈال دیا ایک مجھے کہنے لگا جی میں بھی پہلے آپ جیسا تھا اب میں اہلحدیث ہوں میں نے کہا آپ جیسا ہونے کا کیا مطلب ؟پورا بتائیں کیا تو اہلسنت والجماعت حنفی تھا ؟کہتا ہے نہیں میں حنفی تھا ،حنفی تھا میں نے کہا پھر تو نے صرف حنفیت چھوڑی ہے تو میں نے کہا پھر تو کم از کم اتنا نام تو رکھتا کہ میں اہل سنت والجماعت ہوں تجھے اگر حنفیت سے ہی ضد تھی تو چلو ہم کہتے ہیں کہ ہم اہل سنت والجماعت حنفی ہیں تو حنفی کا لفظ چھوڑ دیتا تو کہتا کہ میں اہل سنت والجماعت ہوں لیکن تو نے حنفیت کے ساتھ جماعت والا لفظ بھی چھوڑا ہوا ہے اور سنت کا لفظ بھی چھوڑا ہوا ہے اور اپنا نام تو نے اہلحدیث رکھ لیا ہے تو اس لئے یہی سمجھیں کہ یہ بات غلط ہے کہ انہوں نے صرف حنفیت چھوڑی ہے بلکہ پہلے نمبر پر انہوں نے سنت کو چھوڑا ہے اور اپنا نام اہلحدیث رکھا ۔
سنت اور حدیث میں فرق :
سنت اور حدیث میں فرق کیا ہوتا ہے؟حدیث کی کتابوں میں جو حدیثیں ہیں یہ دوقسم کی ہیں ایک وہ حدیثیں ہیں جو حدیث بھی ہے اور ساتھ عملی تواتر بھی آرہاہے اس کو سنت کہاجاتا ہے کیونکہ سنت شاہراہ اور سڑک کو کہتے ہیں جس پر لوگ رات دن چلتے رہتے ہیں اور جس کے ساتھ عملی تواتر موجود نہ ہو اس کو حدیث تو کہا جائے گا سنت نہیں کہا جائے گا ۔ اس کو مثالوں سے سمجھےں آپ روزانہ وضو میں کلی فرماتے ہیں نا تو حدیث کی کتابوں میں کلی کی حدیث موجود ہے لیکن ساتھ عملی تواتر بھی موجود ہے ۔
آپ نے زندگی میں ایک دفعہ بھی ایسانہیں کیا کہ وضو کیا ہو اور کلی نہ کی ہو اور اگر کبھی آپ جان بوجھ کر چھوڑدیں تو آپ کا دل ضرور جھنجھوڑے گا کہ آج سنت پوری نہیں ہوئی جن حدیث کی کتابوں میں کلی کر نے کی حدیث ہے ان میں یہ بھی ہے کہ وضو کے بعد حضرت ﷺ نے بیوی سے بوس وکنار فرمایا لیکن آپ نے کتنے وضو کےے جس کے بعد یہ عمل بھی نہیں کیا لیکن کبھی آپ کے دل نے نہیں جھنجھوڑا کہ آج وضو کی ایک سنت رہ گئی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ یہ سنت ہے ہی نہیں یہ حدیث ہے تو یہیں سے فرق سمجھ آجائے گا کہ اہلسنت والجماعت وضو کر کے جماعت کی طرف بھاگے گا کہ صف میں مل جائیں اور اہلحدیث وضو کر کے بیوی کو تلاش کر تا پھر ے گا کہ بوسہ لے آﺅں تاکہ حدیث پر عمل ہو جائے تو یہ فرق ہوجائے گا کہ یہ اہلسنت ہے اور اس حدیث کی تلاش میں ہے جس کے ساتھ عملی تواتر بھی ہے اور یہ بیچارہ اہلحدیث ہے اب دیکھئے جو تا پہن کر نماز پڑھنے کی احادیث بخار ی مسلم میں موجود ہیں لیکن جو تے اتارکر نماز پڑھنے کی حدیث ابو داﺅد ترمذی میں تو ہے بخاری مسلم میں قطعاً موجود نہیں لیکن عملی تواتر کس حدیث کے ساتھ ہے ؟جو تے اتار کر نماز پڑھنے والی کے ساتھ جو تے پہن کر نماز پڑھنے والی کے ساتھ کو ئی عملی تواتر موجود نہیں اب اہلسنت وہ ہے جو جو تے اتار کر نماز پڑھتا ہے اور اہلحدیث وہ ہے جو کہتا ہے جی بخاری مسلم میں چونکہ یہ حدیث ہے میں تو جوتے پہن کر ہی نماز پڑھوں گا ۔
اہل حدیث سنت کے مٹانے والے ہیں :
تو اگر چہ ہم اسے کہیں گے کہ وہ ہے پکا اہلحدیث کہ جوتے پہن کر نماز پڑھ رہا ہے لیکن یہ بھی سوچنا ہے کہ وہ مٹا کس چیز کو رہاہے ؟کیا ابو حنیفہ ؒ کے قول کو یا نبی پاک ﷺ کی سنت کو ؟اہلحدیث ہے اور مٹا رہا ہے نبی پاک ﷺ کی سنت کو اور دھوکہ یہ دے رہا ہے کہ جی میں ابو حنیفہ ؒ کا قول نہیں مانتا حالانکہ اللہ کے نبی پاک ﷺ کی سنت کو مٹا رہا ہے اسی طریقے سے حضرت ﷺ نے بچی کو اٹھا کر نماز پڑھی کان یصلی بخاری شریف میں تو ماضی استمراری ہے اب اس کے ساتھ کو ئی عملی تواتر نہیں ہے بچہ کو اٹھا ئے بغیر نماز پڑھنا یہ اصل سنت ہے کو ئی ضد ہی کرے کہ میں بچی کو اٹھا کر ہی نماز پڑھوںگا تو و ہ اہلحدیث تو ہے لیکن نبی کی سنت کا مخالف اور دشمن ہے اب جہاں یہ تقابل آجائے کہ ایک طرف سنت ہے ایک طرف حدیث تو ہمیں کس طرف جانا چاہئے ہمیں حضورپاک ﷺ نے فرمایا علیکم بسنتی میری سنت کو لازم پکڑنا اس لئے ہم انہیں یہی کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت پاک ﷺ کا حکم سنی بننے کا ہے اس لئے ہمیں تو سنی ہی رہنے دو۔ اگر آپ سنت کو چھوڑ کر اہلحدیث بنناچاہتے ہیں تو ہم اُ سے لڑتے جھگڑتے نہیں آپ کی مدد کر یں گے مثلاً کبھی دیکھا کہ بیٹھ کر پیشاب کرنے لگا اسی وقت کھڑا کر دیا پیشاب کر تے کرتے کہ بھائی تو کب سے اہل سنت بننے لگا تو تو اہلحدیث ہے کبھی دیکھا کہ نماز جوتی اتار کر پڑھنے لگا ہے تو بس نماز میں اس کے پاﺅں میں جوتا ڈال دیا کہ خوامخواہ لوگ دھوکے میں آجائیں گے کہ یہ اہلسنت والجماعت ہے تو تو بھائی اہلحدیث ہے کبھی دیکھا کہ اکیلانماز پڑھ رہا ہے تو کسی کا بچہ اٹھا کر سوارکر دیا تاکہ دیکھنے والوں کو پتہ چلے کہ وہ اہلسنت والجماعت ہے اور یہ اہلحدیث ہے تو انہوں نے صرف حنفیت کو نہیں چھوڑا بلکہ سنت کو چھوڑا ،اب سوال یہ ہے کہ سنت کو چھوڑنے والے کو کہیں اہلحدیث کہا گیا ہے تو سخت الفاظ ہیں کہ من رغب عن سنتی فلیس منی جو میری سنت سے منہ پھیر تا ہے وہ میرا کہلانے کا حقدار نہیں بلکہ مستدرک حاکم کی روایت جو مشکوٰة شریف باب القدر میں ہے کہ چھ آدمی ملعون ہیں ان پر اللہ اور رسول کی لعنتیں ہیں ان میں ایک سنت کا تارک بھی ہے اب اللہ کے نبی فرماتے ہیں کہ سنت کے تارک کو لعنتی کہواور یہ کہتے ہیں کہ سنت کے تارک کو اہلحدیث کہو ہم اللہ کے نبی کی بات کو مانیں یا ان لوگوںکی بات کو ؟
اہل حدیث جماعت صحابہ کے تارک ہیں :
تو جس طرح انہوں نے سنت کو چھوڑا صحابہ کی جماعت کو بھی چھوڑا دیکھو بیس تراویح کے قریب تک نہیں جاتے ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں باریک جرابوں پر مسح کر نا سارے صحابہ اورائمہ کی مخالفت ہے تو انہوں نے صحابہ کرام کی جماعت کو بھی چھوڑا حالانکہ قرآن پاک اور احادیث سے ثابت ہے کہ ا جماع کا مخالف دوزخی ہے
ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدیٰ ویتبع غیر سبیل المومنین نولہ ماتولیٰ ونصلہ جھنم وسات مصیرا
حدیث پاک میں بھی آتا ہے جو جماعت سے کٹتا ہے اسے کاٹ کر الگ کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا اب مصیبت یہ ہے کہ ہمیں تو قرآن وحدیث نے یہ بتایا کہ جو اجماع سے کٹتا ہے اس کو شیطان کانوالا کہو اس کو جہنمی کہو اور یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اھل حدیث کہوہم ان کو برابھلانہیں کہتے لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ ہمیں کو ئی حدیث کم از کم دکھادیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہو کہ میری سنت کو چھوڑنے والے کو اہل حدیث کہنا یا اجما ع کو چھوڑنے والے کو اہلحدیث کہنا تو پھر تو ٹھیک ہے لیکن وہاں تو اس کے بالکل خلاف باتیں ملتی ہیں پھر یہ بھی کتنا بڑا دھوکہ ہے کہ جی ہم نے حنفی فقہ کو چھوڑا ہم پوچھتے ہیں کیا تم نے شافعی فقہ کو مانا کہتے ہیں نہیں مالکی کو مانا کہتے ہیں نہیں حنبلی کو مانا کہتے ہیں نہیں تو مطلق فقہ کو چھوڑا اور عجیب انداز ہوتا ہے مغالطہ دینے کا ، ایک دفعہ جلسہ کر نے لگے مولوی صاحب نے تقریر شروع کی آﺅ دین قرآن اور حدیث میں بند ہے قرآن وحدیث میں ہم تمہیں قرآن سناتے ہیں حدیث سناتے ہیں جبکہ یہ تمہیں بہشتی زیور سناتے ہیں تعلیم الاسلام پڑھاتے ہیں قرآن اور بخاری ہمارے پاس ہے میں بخاری لے کر آتا ہوں تو قدوری لے کر آ،میں مسلم لے کے آتا ہوں تو ہدایہ لے کے آ۔
قیاس مجتہد ہی کر سکتا ہے :
میں نے دوکالج کے لڑکے بھیجے انہیں چٹ لکھ کے دی کہ مولوی صاحب ہم بہشتی زیور بھی چھوڑتے ہیں ساری فقہ چھوڑتے ہیں لیکن یہ بتائیں کہ بھینس حلال ہے یا حرام ؟ چونکہ روزانہ ضرورت ہوتی ہے دودھ پیناہوتا ہے لسی چائے ہر جگہ گھی وغیر ہ کی ضرورت پڑتی ہے توہماری روزانہ کی ضرورت ہے آپ یہ فرمائیں کہ بھینس حلال ہے یا حرام ؟ہم اہلحدیث ہوجائیں گے آپ حدیث سے ثابت کر دیں تو کہنے لگا کہ یہ شرارت ہے انہوں نے کہا جی شرارت تو نہیں ہے ہمیں تو روزان مسائل کی ضرورت پڑتی ہے تو ہمیں مسئلہ معلوم ہونا چاہئے وہاں تو لکھا ہے کہ بھینس حلال ہے لیکن اس کو تو ہم نے چھوڑ دیا آپ کے فرمانے سے ہم تو صرف قرآن حدیث پر آئیں گے جب دیکھا کہ یہ کالج کے لڑکے جاتے نہیں تو اس نے سپیکر والے سے کہا ذرا سپیکر بند کردو اس نے بند کر دیا تو کہا کہ بھائی یہ ہم بھینس حلال کہتے ہیں قیاس سے تو انہوں نے کہا پھر تم اہل قیاس ہوئے اہلحدیث تو نہ ہوئے یا کیوں جھوٹ بولتے ہو کہ ہم اہلحدیث ہیں تم تو اہل قیاس نکلے وہ بھی کالج کے لڑکے تھے اور میرے بھیجے ہو ئے تھے میں نے کہا کہ وہ قیاس کا نام لیں گے ان سے پوچھنا کہ آخر علت قیاس کی کیا ہے ؟اور کس پر قیاس کیا ہے ؟اس نے کہا کہ علت یہ ہے کہ ہم نے گائے پر قیاس کیا ہے بھینس کے بھی چار پاﺅں ہوتے ہیں گائے کے بھی چار پاﺅں ہوتے ہیں اس کی بھی دوآنکھیں ہوتی ہیں اس کی بھی دوآنکھیں ہوتی ہیں انہوں نے کہا کہ یہ مشابہت تو پھر کتیا کے ساتھ بھی ہے تو وہ بھی حلال ہو گی یا حرام ہوگی ؟کیا خیال ہے ؟اور اگر اس قسم کی مشابہت کر نی ہے تو پھر آپ کی بیوی اور میری بیوی میں اس قسم کی مشابہت ہے تو کیا آپ کی بیوی بھی اس قیاس سے میرے لئے حلال ہو جائے گی ؟
غیر مقلد کھڑے ہوئے انہوں نے مولوی صاحب کو کہا کہ مولوی صاحب بند کر دو جلسہ کیا ستیاناس کر دیا ہے ؟یہ لڑکے واپس آگئے انہوں نے آکر بتایا کہ جی یہ کہتے ہیں کہ ہم نے قیاس سے حلال کیا ہے دیکھونا قرآن پاک نے باقاعدہ چار جانوروں کا ذکر کیا ہے تو فقہاءنے اس کی علت نکالی ہے جگالی کر نا تو جگالی کر نے میں بھینس بھی آجا تی ہے اور کئی سارے جانور آجاتے ہیں جو حلال ہیں لیکن ان بیچاروں کو کیا پتہ کہ علت کیا ہوتی ہے کہتے ہیں جی اس کی بھی چار ٹانگیں ہیں اس کی بھی چار ٹانگیں ہیں اس کے بھی دو کان ہیں اس کے بھی دو کان ہیں اور اس کو علت سمجھتے ہیں وہ کسی نے صحیح کہا کہ جس کاکام اسی کو ساجھے اور کرے تو ٹھینگا باجے ان بیچاروں کو کیا پتہ کہ قیاس کیا ہوتا ہے لڑکوں نے آکر ہمیں بتایا کہ جی وہ اہلحدیث نہیں اہل قیاس ہیں ہم نے سپیکر کھول کر اعلان کیا کہ دیکھو....بھائی ہم نے دولڑکے بھیجے تھے کہ جاﺅ اہلحدیث ہوجاﺅ وہ بیچارے واپس آگئے ہیں کہ ہم اہلحدیث کیسے ہوں وہ تو خود اہل قیاس ہیں ۔دوسرے مولوی صاحب سپیکر پر آگئے کہ نہیں حدیث سے ثا بت کر تا ہوں حدیث سے کہ بھینس حلال ہے ہم نے کہا کہ کون سی حدیث ہے ؟اس نے کہا کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ جو جانور ڈاڑھ سے شکار کر تا ہے یا پنجے سے شکار کر تا ہے وہ حرام ہے اور بھینس نہ ڈاڑ ھ سے شکار کرتی ہے نہ پنجے سے شکار کرتی ہے اس لئے بھینس حلال ہے مسلک اہل حدیث زندہ باد تو ہم نے پوچھا کہ گدھا بھی نہ ڈاڑھ سے شکار کر تا ہے نہ پنجے سے شکار کر تا ہے تو اس کے بارے میں کیا ارشاد ہے اب وہ کہتا ہے کہ ہاں ہاں جنگلی گدھا حلال ہے جنگلی گدھا حلال ہے اب وہ کہتا ہے کہ جنگلی گدھا حلال ہے اور ہم سپیکر میں کہ رہے ہیں کہ اللہ کے بندوہم کہتے ہیں کہ حدیث پڑھو کہ بھینس حلال ہے وہ کہتا ہے گدھا حلال ہے کہتا ہے نہیں نہیں جنگلی گدھا حلال ہے جنگلی ۔خیر دو چار دفعہ جب اس نے کہا تو ہم نے کہا بھائی آپ کہتے ہیں جنگلی گدھا حلال ہے تو گھر والے گدھے نے شکا ر کھیلنا شروع کر دیا ہے کیا وجہ ہے آخر کچھ سمجھ تو آئے وجہ کیا ہے اس کی ؟تو غیر مقلدوں نے کھڑے ہوکر کہا کہ مولوی صاحب خدا کے واسطے جلسہ بند کردو تین سال پہلے تم نے یہاں گھوڑا ذبح کر وایا تھا ہم سے، اور یہ لوگ آج تک ہمیں گھوڑا گروپ والے کہتے ہیں اور آج گدھا حلال ہوگیا ہے اور اب سارے علاقے میں مشہور ہوجائے گا کہ گدھا گروپ پھر رہا ہے ۔گدھا گروپ پھر رہا ہے ۔جب آپ قیاس مانتے ہیں تو پھر ان سے کیوں لڑتے ہیں ۔
مطلقاً فقہ کا منکر شیطان ہے :
مقصد یہ ہے کہ یہ بات غلط ہے کہ انہوں نے صرف فقہ حنفی چھوڑی ہے ساری فقہ کو چھوڑا ہوا ہے اور فقہ کو چھوڑنے والے کو حدیث میں شیطان تو کہا گیا ہے اہل حدیث کہیں نہیں کہا گیا حدیث میں ہے فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد تو عابد نمازیں پڑھتا ہے یا نہیں معلوم ہوا کہ شیطان کو نمازی سے اتنی چڑ نہیں جتنی فقیہ سے ہوتی ہے شیطان کو حاجی سے اتنی چڑ نہیں جتنی فقیہ سے ہوتی ہے شیطا ن کو صدقہ دینے والے سے اتنی چڑنہیں جتنی فقیہ سے ہوتی ہے تو یہ جو فقیہ سے چڑنے والے ہیں حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ ان کو شیطان کہو۔ اندازہ لگائیں ....یہ کہتے ہیں کہ ہم صرف فقہ حنفی کے تارک ہیں بلکہ یہ مطلق فقہ کے تارک ہیں صرف فقہ حنفی کے تارک نہیں ہیں تو اس لئے بات جو سچی ہے وہی ان کو سامنے لانی چاہئے تو عوام کو دھوکہ اس لئے دیا جارہا ہے کہ تقابل نبی اور امتی میں معاذاللہ پیدا کر دیا ۔یاد رکھیں جہاں ہم امام صاحب کی تقلید کر تے ہیں وہاں حدیث ہے ہی نہیں اور ہمیں اس بارے میں قطعا کو ئی جھجھک نہیں ہم بالاتفاق چار دلیلیں مانتے ہیں دیکھئے آپ نے ابھی ظہر کی نماز پڑھی تو اس میں رکوع کیا ہے یا نہیں تو رکو ع کا حکم ہمیں قرآن میں ملا وارکعوا مع الراکعین وارکعو ا و اسجدو الیکن رکوع کو جاتے ہوئے آپ نے اللہ اکبر کہی رکوع میں جاکر آپ نے سبحان ربی العظیم پڑھی رکوع سے اٹھتے ہوئے سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد پڑھا تو یہ تینوں چیزیں قرآن پاک میں نہیں ۔ہمیں سنت سے ملیں تو ایک رکوع میں ہمیں قرآن کے ساتھ سنت کی بھی ضرورت پڑی یا نہیں ؟یہیں یہ بھی سمجھتے جائیں یا مجھے سمجھا دیں کم از کم کہ یہ جو تین مسئلے سنت سے ملے ان کو قرآن کے خلاف کہا جائے گا یا یہ کہا جائے گا کہ قرآن خاموش ہے یہ اس کی زائد تشریح ہے ؟ایک ہوتا ہے زائد ہونا اور ایک ہو تا ہے خلاف ہونا ۔اب کو ئی منکر حدیث قرآن کے خلاف ہے تو یہ کہاں قرآن میں ہے کہ رکوع جاتے وقت اللہ اکبر نہ کہنا سبحان ربی العظیم نہ پڑھنا سمع اللہ لمن حمد ہ ربنا لک الحمد نہ کہنا ؟ خلاف ہونا اور ہے اور زائد وضاحت ہونا اور ہے تو سنت قرآن کے خلاف نہیں ۔
اجماع وقیاس کی ضرورت
اب دیکھئے آپ نے یہ تینوں تسبیحات آہسة آواز سے پڑھیں کہیں قرآن اور حدیث میں ان کے آہسة پڑھنے کی صراحت نہیں ہے بلکہ علماءحضرات موجود ہیں احادیث میں تو اونچی پڑھنے کا ذکر آتا ہے جتنے صحابہ ؓ نے بھی رکوع کی تسبیحات روایت کی ہیں وہ یہی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ﷺ رکوع میں یہ پڑھ رہے تھے میں نے سن کر یاد کر لیا حضرت اٹھے میں نے سمع اللہ لمن حمد ہ ربنا لک الحمد سنا تو سنا تو وہ جاتا ہے جو اونچی پڑھا جائے لیکن آج ساری امت آہسة پڑھ رہی ہے تو یہ امت کے اجما ع سے مسئلہ ثابت ہوا۔تو دیکھو ہمیں ایک رکوع میں اجماع کی ضرورت پڑگئی ورنہ اس کے بغیر ہم رکوع پورا نہیں کہ سکتے قیاس جو ہوتاہے وہ ہوتا ہے کہ کو ئی نیامسئلہ پیش آجاوے تو اس کا حل کیسے کیا جائے کیونکہ دین قیامت تک چلنا ہے اور نئے سے نئے مسائل پیش آتے رہنے ہیں مثلاً یہیں آپ رکوع میں گئے تو روزانہ آپ پڑھتے ہیں سبحان ربی العظیم ایک دن بھول کر پڑھ بیٹھے سبحان ربی الاعلی ایسا ہوجاتا ہے یا نہیں ہوتا ؟اب دیکھویہ پتہ کر نا ہے کہ ایسا ہونے سے اس کا کیا حکم ہوگا نماز کا ؟تو جب مسئلہ سامنے آیا تو اس کا کو ئی حکم سامنے آنا چاہئے یا نہیں ؟
قیاس شرعی قاعدوں کانام ہے :
تو قیاس کیا ہوتا ہے قیاس شرعی قاعدوں کا نام ہے ۔یا درکھیں جس طرح حساب کے قاعدوں سے جو جواب نکالا جاتا ہے وہ کسی کی ذاتی رائے نہیں ہوتی حساب کا جو اب ہوتا ہے = 9x 8 72 ،9 x 9 = 81 پوری دنیا میں مجھے کو ئی بے وقوف نہیں ملے گا جو کہتا ہو کہ 72 =9 8 x تیری ذاتی رائے ہے بلکہ سب یہی کہیں گے کہ حساب کا قاعدہ ہے 81= 9 9x کو ئی بےوقوف نہیں کہے گا یہ میری ذاتی رائے ہے اب مجتہد کے سامنے جب یہ مسئلہ رکھا گیا کہ سبحان ربی العظیم کی جگہ سبحان ربی الاعلی پڑھ لیا ہے کیا کریں ؟انہوں نے پہلاقاعدہ دیکھا کہ نماز میں فرض رہ جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے چونکہ یہ فرض نہیں تھا اس لئے نماز نہیں ٹوٹی پھر دوسرے قاعدے پر نظر کی کہ واجب رہ جائے تو سجدہ سہو لازم آتا ہے چونکہ اس کا واجب ہونا بھی ثابت نہیں اس لئے سجدہ سہو بھی لازم نہ آیا اور سنت کے ترک سے نماز ہوجاتی ہے اس لئے نماز ہوگئی اس سنت کا ثواب نہیں ملااور چونکہ بھول کر رہی ہے اس لئے گناہ بھی کوئی نہیں ہوا تو یہ ہے قیاس ،قیاس وہ نہیں کہ وہ کوئی اٹکل پچوباتوں کا نام ہوتا ہے باقاعدہ اس کی کوئی بنیاد ہوتی ہے اور اسی بنیاد اور شرعی قاعدہ کے مطابق احکام دریافت کئے جاتے ہیں تو ان قاعدوں سے جو احکام نکلتے ہیں وہ شرعی احکام ہوتے ہیں وہ ائمہ کرام کی ذاتی رائے بالکل نہیں ہواکرتے تو دیکھئے ایک رکوع ہم ان چاردلیلوں کے بغیر مکمل نہیں کر سکتے ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ بھائی تم قرآن پاک جو پہلے نمبر کی دلیل ہے اگر قرآن پاک سے پوری نماز کا مکمل طریقہ دکھا دو ہم بالکل اہل قرآن بننے کو تیار ہیں کیونکہ ہمیں قرآن میں حکم ہے نماز پڑھو وہ پڑھنی تو ہے نا !،اس کا طریقہ دکھا دو اگر قرآن حدیث دونوں میں دکھا دو تو بھائی ہم آپ کے ساتھ ملنے کو تیار ہیں ،قیاس اور اجماع کو چھوڑ دیں گے لیکن جب پورے مسائل حل نہیں ہوتے تو ضرورت کے مطابق تو ہمیں آگے جانا ہی پڑتا ہے نا اور چار دلائل کے بغیر پورے مسائل حل ہوتے ہی نہیں تو اس لئے پہلے جو دومسئلے ہیں رجو ع کر نا اور یہ تین تسبیحات اور تکبیر اور تسمیع وغیر ہ ان میں ہم اہلسنت ہیں اور جو وظیفوں کو آہستہ پڑھا اس میں ہم والجماعت ہیں کیونکہ وہ مسئلہ اجماع سے ثابت ہے اور حنفی ہم کس مسئلے میں ہیں ؟کہ سبحان ربی العظیم کی جگہ جب سبحان ربی الاعلیٰ پڑھا گیا اب ہمارے امام نے قیاس سے مسئلہ بتایا اور قیاس شرعی قاعدے سے نکال کر بتایا تو حنفی ہم صرف اس مسئلے میں ہیں اب ہمیں سارے مسائل میں حنفی ہی کہنا اور ہمارے اہلسنت والجماعت ہونے کا انکار کر نا دنیا میں اس سے بڑا اور کوئی جھوٹ نہیں ہے تو مقصد یہ ہے کہ ہم اہلسنت والجماعت حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں تو میں نے یہ بتایا کہ سنت میں نسبت نبی پاک ﷺ کی طرف ہے والجماعت میں صحابہ کی طرف وہ تکمیل دین والے تھے یہ تمکین دین والے اور امام صاحب سے تدوین دین ۔
علماءدیوبندکے ذریعے تطہیردین کاکام ہوا :
اب آپ کے ذہن میں یہ سوال ہوگا کہ علماءدیوبند کی بھی لوگ بڑی قدر کر تے ہیں انہوں نے کون ساکام کیا ہے ؟تو بھائی دین کے تعمیری کام جو تینوں تھے وہ تو خیر القرون میں مکمل ہوگئے تکمیل بھی ہوگئی تمکین بھی ہوگئی تدوین بھی ہوگئی جب کام مکمل ہوجاتا ہے تو پھر تخریب کاروں کی باری بھی آجایا کر تی ہے تو اب تخریب کاروں نے نبی کی سنت پر دوطرف سے حملے کر نے شروع کر دیئے ایک فریق نے عشق رسول کے نام سے نبی کی سنتیں مٹانی شروع کر دیں ،سنت کو مٹا کر اس کی جگہ بدعت لانا چاہتے ہیں اور ایک فریق نے حدیث رسول کے نام لے کر نبی کی سنتیں مٹانی شروع کر دیں علماءدیوبند نے ان دونوں کو پیچھے ہٹا کر سنت کی حفاظت فرمائی اس لئے علماءدیوبند نے جوکام کیا ہے اس کانام ہے تطہیر دین ،تو یہ چار لفظ ہوگئے اہل سنت میں تکمیل دین والجماعت میں تمکین دین اور حنفی میں تدوین دین دیوبندی میں تطہیر دین اس کو عام فہم مثال سے عوام کو سمجھانے کے لئے یادرکھیں کہ آپ کے ملک میں ایک کرنسی نوٹ ۰ ۰ ۵روپے کا چلتا ہے لیکن عید کے موقع پر دیکھتے ہیں کہ پانچ پانچ پیسے پر بھی پانچ سو کا نوٹ بکا کر تا ہے اس پر لکھا ہوتا ہے عید مبارک اور ایک سوکا (اصلی ) نوٹ پہلے چلتا تھا اب وہ نہیں چلتا منسوخ ہوچکا ہے ،حکو مت اب اس کو نہیں لیتی تو اہل سنت کی مثال تو اس چالونوٹ کی ہے اہل بدعت کی مثال وہ عید مبارک والے نوٹ کی ہے کہ لکھا اس پر ۰ ۰ ۵ ہوتا ہے اور پانچ پیسے بھی کو ئی اس پر خرچ کر نے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور غیر مقلدین کی مثال اس منسوخ نوٹ کی ہے اب کو ئی منسوخ نوٹ دے کر چالو نوٹ چھیننا چا ہے اس کو بھی فراڈ ہی سمجھا جاتا ہے کہ دھوکہ دے دیا کسی نے کو ئی عید مبارک والا نوٹ دے کر پانچ سووالا نو ٹ چھیننا چاہے اس کو بھی فراڈ ہی سمجھا جاتا ہے تو یادرکھیں اللہ تعالیٰ کی صفات اگر چہ بہت سی ہیں لیکن بنیادی صفات صرف دو ہیں باقی سب ان کے پھل اور پھول ہی ہیں ایک ہے صفت محبت اور ایک ہے صفت عدالت ،صفت محبت کی تجلی بیت اللہ شریف پر ہے اور صفت عدالت کی تجلی بیت المقدس پر ہے اس لئے ان دونوں کو قبلہ قرار دیا گیا ہے بیت اللہ شریف اللہ اتعالیٰ کا دیوان خاص ہے اور بیت المقدس دیوان عام ہے اس لئے دیوان عام میں جو نبی ہوئے ان کو حکومتیں بھی دی گئیں اور مکہ میں حضرت پاک ﷺ کو حکومت نہیں دی گئی مدینہ منورہ میں لاکر ان کو حکومت سے سرفراز فرمایا گیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا دیوان خاص ہے
فقہا ءانبیاءکے وارث ہیں (صفت نذیر میں( :
اسی طرح انبیاءعلیہم السلام کی بے شمار صفات ہیں لیکن بنیادی صفتیں دوہی ہیں بشیر ہونا اور نذیر ہونا صفت نذیر میں نبیوں کے وارث فقہاءکر ام ہیں
فلو لا نفر من کل فرقة منھم طائفة لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذارجعو الیھم لعلھم یحذرون
علامہ سرخسی مبسوط کے شروع میں لکھتے ہیں پہلے شروع یہیں سے کرتے ہیں
الحمد للہ الذی جعل ولایة الانذار للفقھاءبعد الانبیاء
تو صفت نذیر میں نبیوں کے وارث فقہاءہیں اور صفت بشیر میں نبیوں کے وارث صوفیاءکرام ہیں سورة یو نس میں اولیاءکا ذکر فرمانے کے بعد ہی فرمایا ہے
لھم البشریٰ فی الحیوٰة الدنیاوفی الآخرة
اور ویسے بھی دین دو ہی پہلو رکھتا ہے تعمیر الظاہر والباطن ظاہر کے مسائل جب صحیح ہوں گے کہ فقہ کے مطابق ہوں اور باطن کی صحت جب ہی ہوگی کہ تصوف کے احکام کے مطابق ہوجائے تو اس لئے دین کے یہ دواہم پہلو ہیں
ہدایت کے دوراستے :اجتہاد یا تقلید:
اسی طرح ہدایت کے دوہی راستے ہیں (یا د رکھنا )یا خود سمجھ ہویا سمجھ والے کی بات مان لے پہلے کو اجتہا د کہتے ہیں دوسرے کو تقلید کہتے ہیں
فاسئلوا اھل الذ کر ان کنتم لاتعلمون
اور ایک آیت میں ہے
ان فی ذلک لذکر یٰ لمن کا ن لہ قلب پہلی بات او القی السمع وھو شہید (دوسری )یا تو خود صاحب دل ہو دین کو اچھی طرح سمجھتا ہو یا پھر دل والے کی بات غور سے سن لے مجھ سے ایک دن پوچھنے لگے کہ جی قبر میں پوچھا جائے گا کہ تقلید کی بھی یا نہیں میں نے کہا دین اتنا ہی ہے جتنا قبر میں پوچھا جا تا ہے تو وہاں پانچ نمازوں کا بھی سوال نہیں اس کو چھوڑدینا چاہئے وہاں تو رمضان کے روزوں کا سوال بھی نہیں وہاں تو شراب کی حرمت اور جوئے کی حرمت کا بھی سوال نہیں ہوگا تو ان پر بھی عمل کر لینا چاہئے اگر دین اتنا ہی ہے یہ سوال جو اب تو ایک دومنٹ ہوگا لیکن قیامت تک جو پٹائی ہونی ہے وہ تقلید پر ہی ہونی ہے ۔صحیح بخاری شریف صفحہ ۸ ۷ ۱جلد۱، پر حدیث ہے کہ منافق کو جب فرشتہ گرز مارے گا تو ساتھ ساتھ کہے گا لا دریت ولا تلیت نہ تو صاحب درایت مجتہد تھا اور نہ تو نے تقلید کی تھی کیونکہ دو ہی راستے ہیں یا خود دین کو جانتا ہو یا جاننے والے سے پوچھ کر عمل کر لے کو ہاٹ کے مناظرے میں انہوں نے کہا موضوع لکھو میں نے لکھا کہ اجتہادی مسائل میں مجتہد پر اجتہاد واجب ہے غیر مجتہد پر تقلید واجب ہے اور غیر مقلد پر تعزیر واجب ہے اب اس پر چیخنے لگے تو تعزیر میں جو میں نے پھر دلائل دیئے ان میں یہ حدیث بھی سنائی بخاری شریف کی کہ ان کی تعزیر تو اتنی لمبی ہے کہ قبر میں بھی ختم نہیں ہوگی وہاں بھی فرشتہ مارے گا قیامت تک مارکھاتے رہیں گے (فرشتہ کہے گا )لادریت ولاتلیت ،لادریت ولاتلیت بارہ مولوی بیٹھے تھے کھڑے ہوگئے کہنے لگے یہ تحریف معنوی کی ہے آج تک کسی نے تلیت کا معنی تقلید نہیں کیا میں نے کہا اس کا معنی کیا ہوتا ہے ؟کہنے لگے اس کا معنی تو تلا یتلو پیچھے چلنا ہوتا ہے میں نے کہا تقلید اسی کو کہتے ہیں پھر میں نے قسطلانی شرح صحیح بخاری رکھی میں نے کہا دیکھو قسطلانی نے لکھا ہے ولا اتبعت العلماءبالتقلید فیما یقولون صاف تقلید اس کا مطلب بیان فرمایا ہے علامہ قسطلانی نے خود بخاری کے حاشیہ پر بھی صفحہ۸ ۷ ۱پر یہی معنی لکھا ہے عبار ت موجود ہے تو وہ جو غیر مقلد سلطان احمد تھا وہ بھاگ کر آیا کیا تقلید کا لفظ ہے ؟میں نے کہا ہاں لے جاﺅ دکھاﺅ ان کو ذرا پھر دیکھ کر کہنے لگے اچھا اس کا مطلب ہے کہ قبر میں پٹائی ہوگی تو جب نکل جائیں گے قبر سے پھر میں نے کہا پھر روتے ہوئے جارہے ہو نگے لو کنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحاب السعیر کیونکہ ہدایت کے راستے ہی دوہیں تیسر اکو ئی راستہ ہی نہیں یا خود سمجھ ہو یا سمجھ والے کے پیچھے چل پڑے اس لئے غیر مقلد کا معنی میں بتایا کرتا ہوں نہ عقل نہ موت تو جس طرح ہدایت کے دوہی راستے ہیں تیسرا کو ئی راستہ نہیں ۔
گمراہی کی بنیاد الحادوبدعت :
گمراہی کی بھی یاد رکھیں دوہی بنیادیں ہوتی ہیں تیسری کو ئی بنیاد نہیں جتنی بھی گمراہیاں ہیں اس کی دوہی بنیادیں ہیں ایک کو بدعت کہتے ہیں اور دوسری کو الحاد کہتے ہیں بدعت کہتے ہیں جو چیز دین میں ثابت نہ ہو اس کو دین سمجھنا ۔الحادکہتے ہیں جو دین میں ثابت ہوا س کا انکار کر دینا تو گمراہ جتنے بھی فرقے ہیں ان کی بنیاد آپ کو ان دوہی چیزوں میں سے ملے گی یا بدعت میں اور یا الحاد میں بدعت کی مثال میں دیا کر تا ہوں جڑی بوٹیوں سے اب گندم تو زمیندار گھر سے لے کر گیا تھا بو کے آیا ہے اور اس میں جو جڑی بو ٹیاں اگ آئی ہیں وہ تو زمین میں بو کے نہیں آیا اور پھر جڑی بوٹیا ں ہر صوبے کی الگ ہوتی ہیں بہاولنگر کی اور ہیں ،سندھ کی اور ہیں ،سرحد کی اور ہیں ،اسی طرح رسمیں اور بدعتیں ہر ہر علاقے بلکہ ہر ہر خاندان کی الگ ہو ا کر تی ہیں حضرت مولانا خیر محمد جالندھر ی نے ایک دفعہ لطیفہ سنا یا کہ ہم ایک جگہ تقریر کر لئے گئے حضرت قاضی صاحب امیر شریعت ساتھ تھے دن کو وہاں تقریر ہوئی تو کھانا چونکہ دن کے بعد کھاتے ہیں تو وہاں ایک عجیب نقشہ دیکھا کہ جو پلیٹ آرہی ہے ساتھ ایک رنگدار ڈنڈا بھی آرہا ہے (اول )روٹیاں آئیں ہیں تو اس میں بھی ایک ڈنڈا رنگ دار رکھا ہے ہم پوچھتے ہیں کہ اللہ کے بندے یہ کیا ہے کہنے لگے جی ہمارے خاندان کی رسم اور ریت ہے آخر اس کو کو ئی مقصد ؟اللہ تعالیٰ نے زبان میں یہ قوت رکھی ہے کہ وہ نوالہ نیچے کی طرف دھکیلتی ہے تو یہاں ڈنڈے کے ساتھ دھکیلنا پڑےگا ؟ مقصد کیا ہے ؟کہنے لگے جی مقصد کا تو ہمیں پتہ نہیں لیکن یہ ہے کہ ہماری ریت اور رسم ہے کہتے ہیں خیرہم ان ڈنڈوں کو دیکھتے رہے اور کھانا کھاتے رہے بعد میں باقی حضرات تو سوگئے میرے دل میں شوق ہوا کہ پتہ تو کریں اس رسم کی کوئی اصل بنیاد بھی ہے یا نہیں ؟تو میں نے پوچھا کہ آپ کے خاندان کا کوئی بڑی عمر کا آدمی ہو ؟کہنے لگے جی وہ ایک کھیت میں رہتا ہے وہ بیچارہ یہاں آنہیں سکا تو میں وہاں چلا گیا اپنا تعارف کر ایا بہت خوش ہوا رونے لگا کہ مجھے کو ئی لے جانے والا نہیں تھا ورنہ میں بھی آپ حضرات کی زیارت کر تا تو خیر میں نے پھر باتو ں میں پوچھا کہ آپ کے ہاں جو رسم ہے کہ ہر پلیٹ کے ساتھ ڈنڈا آتا ہے یہ کیا رسم ہے ؟اس نے کہا بیٹا ہماری رسم ڈنڈا نہیں سرکنڈا ہے جس کی قلم بناتے ہیں تو ہم سرکنڈارکھا کر تے تھے اب چونکہ ہمارے لڑکے کالجوں میں پڑھنے لگ گئے ہیں تو سرکنڈے کو ہاتھ لگاکے ان کی توہین ہے اس لئے رسم چھوڑنا بھی نہیں چاہتے تو اس کو فیشن لیول کر لیا ہے کہ چلورنگدار ڈنڈا ویسے بھی ہاتھ میں اچھا لگتا ہے تو رسم بھی باقی رہے اور فیشن لیول بھی ہو جائے تو اصل رسم ڈنڈانہیں سرکنڈا ہے میں نے کہا جی اس کا کیا مقصد تھا ؟کہنے لگا یہ مجھے بھی نہیں پتہ میں نے کا بھائی نیندبھی خراب کی اور مسئلہ بھی حل نہ ہو ا پھر پتہ کیا کہ ساتھ والے گاﺅں میں کو ئی اس سے بھی بڑی عمر کے بزرگ رہتے ہیں خاندان کے تو میں وہاں چلاگیا میں نے کہا جی آپ کی رسم ہے ڈنڈا جو آج کل ہے کہتے ہیں پہلے سرکنڈاتھا ۔اس نے کہانہیں اصل رسم سرکنڈا بھی نہیں کنڈا ہے ۔تو یہ کنڈے سے سر کنڈا بنا اور سرکنڈے سے ڈنڈا بنا کہ ہم بڑے بڑے کنڈے لے کر آتے اور آگے سے توڑ کر رکھ دیتے تا کہ مہمان کو خلال کی ضرورت پڑے تو تنکا وغیر ہ نہ اٹھا ئے تو یہ اس کا مقصد تھا چونکہ جو عام مہمان ہوتے ہیں ان کے چھوٹے بچے کھانا لے کر جاتے ہیں تو وہ کبھی گر جاتاکبھی نیچے آجاتا تو مہمان بے چارے کو وہیں پریشانی ہوجاتی پھر ہم نے سوچا کہ پاک سرکنڈا رکھ دو تا کہ خود مہان اس سے خلا ل اتار لیا کرے ۔ اصل مقصد تو لوگوں کو یاد نہیں رہا اب وہ رسم کنڈے سے سرکنڈا بنی اور سرکنڈے سے ڈنڈا بنی۔تو ایک اصول تو گمراہی کا بدعت ہے کہ جو دین میں ثابت نہ ہو اس کو دین بنالینا دوسرا الحاد ہے کہ جو دین میں ثابت ہے اس کا انکار کر نا تو اس کی مثال میں جڑی بوٹیوں سے دیا کر تا ہوں اور ا س کی مثال کیڑوں سے دیا کر تا ہوں کہ کئی کیڑے فصلوں کو لگ جاتے ہیں کو ئی پتے کھاجاتے ہیں کو ئی ٹہنیاں کھا جاتے ہیں کو ئی جڑیں کاٹ جاتے ہیں کسی کیڑے کا نام مودودی ہے کسی کا نام طاہر القادری ہے ۔اسی طرح کے کئی کیڑے ہیں جو دین کے ثابت شدہ مسائل کا انکار کر تے ہیں آپ کہیں گے کہ بدعتی کو تو ہم جلد ی تلاش کر لیتے ہیں یہ کیڑے کہاں ملتے ہیں ؟تو دیکھئے ناں ایک آدمی کہے گا کہ جی میں فقہ کو نہیں مانتا دیکھوایسا کیڑا جو ہزاروں مسائل کا ایک ہی دفعہ انکار کر گیا جو فقہ سے ثابت ہیں دوسرا آدمی کہتا ہے جی میں قرآن کو مانتا ہوں حدیث کو نہیں مانتا تو حدیث سے ثابت شدہ ہزاروں مسائل کا انکار کر گیا تو ایسا کیڑا ہے جی میں حیات النبی کا قائل نہیںہوں حیات مسیح کا قائل نہیں ہوںمیں امام مہدی کو نہیں مانتا جیسے یہ تمنا عمادی کتابیں لکھ رہا ہے جی میں قراة عشرہ اور قراة سبعہ کو نہیں مانتا ۔یہ جو ثابت شدہ چیزیں دین میں ہیں ان کا انکار کر نے والے کیڑے ہیں ان کو ملحدین کہا جاتا ہے ۔
الحاد کا فتنہ عام طور پر پڑھے لکھے طبقہ میں پھیلتا ہے منکر حدیث آپ کو جج ہوتے ہیں منکر حدیث وکیل ہوتے ہیں غیر مقلد ٹیچر بنتے ہیں پروفیسر بنتے ہیں کیونکہ ان کو ذرا تھوڑی سی پھونک بھر نی ہوتی ہے ناں کہ آپ تو خود پڑھے لکھے ہوئے ہیں ،آپ کوکیا ضرورت ہے ابو حنیفہ سے سمجھنے کی ،آپ خود سمجھ سکتے ہیں ناں حدیث یہیں ایک دن میں جب بنوری ٹاﺅن میں تو یہاں طارق روڈ پر ایک دوکان ہے شاید آپ جانتے ہونگے تزکیہ شاپ اس کا نام ہے وہاں قرآن لے کر بیٹھا ہے سلمان اس کا نام ہے قرآن لے کر بیٹھا ہوتا ہے کہ بھائی آﺅ قرآن سیکھنا ہے تو ۔اور کبھی اٹھ کر ادھر ادھر مدرسوں میں بھی پھر نا شروع کر دیتا ہے تو میں چونکہ جمعرات کو احسن العلوم چلا جاتا تھا میں وہاں گیا ہوا تھا وہ کہیں دارالافتاءمیں آکر ٹکریں لگاتا رہا ۔ادھر کہیں طلباءسے لڑرہا ہے ۔میں عشاءکے وقت آیا تو مجھے دورہ حدیث کے طلباءنے بتایا کہ جی وہ ایک ہے پتہ نہیں منکر حدیث معلوم ہوتا ہے مجھے بخار تھا میں نے کہا یہیں لے آﺅ بیٹھک میں تو آگیا آکے بیٹھ گیا میں نے کہا بھائی جو بات چیت ہمارے درمیان ہوگی وہ دلیل کے بغیر ہوگی یا دلیل سے ہوگی ؟کہا جی دلیل سے ہوگی ۔میں نے کہا میں تو اہلسنت والجماعت ہوں چار دلیلیں مانتا ہوں ۔کتاب ،سنت ، اجماع ،قیاس ۔ آپ بھی فرمائیں آپ کو نسی دلیل مانتے ہیں ؟صرف قرآن کافی ہے جی صرف قرآن کافی ہے ۔میں نے کہا میں اگر چہ چار دلیلیں مانتا ہوں لیکن ان چار میں میرے ہاں بھی پہلا نمبر قرآن کا ہے تو بھائی اگر تو قرآن پاک سے سب کچھ ثابت کر دے تو ٹھیک ہے میں تیرے ساتھ ملنے کو تیار ہوں ہاں جی پوچھیں آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں ؟میں نے کہا نماز کا مکمل طریقہ قرآپ پاک سے ثابت کر دیں آخرا ہمارا مشہور اعتراض ہے نماز سوچ کے آیا تھا ؟ کہتا ہے جی فول وجہک شطر المسجد الحرام میں نے کہا کیا مطلب ؟ کہا جیسی نماز مکہ شریف میں پڑھی جاتی ہے ویسی پڑھ لی جائے میں نے کہا نماز کس لفظ کا ترجمہ ہے ؟ کہتا ہے مسجد نما ز کے لئے ہوتی ہے ناں !میں نے کہا یہاں تو حیث عام ہے کہ کوئی پیشاب کے لئے نکلے جب بھی منہ ادھر کر ے کو ئی پاخانے کے لئے نکلے جب بھی منہ ادھر کرے ؟ کہنے لگا نہیں جی ۔میں نے کہا اچھا مسجد حرام جو ہے یہ امریکہ میں ہے جاپان میں ہے پتہ تو چلے کہاں ہے ؟آخر آج تو آپ سے قرآن سمجھنا ہے ناں!ہم نے ۔جی للذی ببکة مبارکا میں نے کہا کیا مطلب ؟کہتا ہے بکہ مکے کو کہتے ہیں تو میں نے کہا یہ کیسے پتہ چلا کہ بکہ مکہ کو کہتے ہیں اور مکہ میں ہی مسجد حرام ہے ۔پھر میں نے کہا چلوہم مان بھی لیں تو مکہ میں ایک ہی مسجد ہے یا کئی مسجد یں ہیں ؟کس مسجد کو ہم مسجد حرام کہیں ؟اب مجھے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ کا ضمیربھی دیا ہے ناں !سوچنا چاہئے میں کہا اللہ کے بندے میں نے تو اس نبی کو معاذاللہ تیر ے کہنے سے چھوڑدیا جس پر قرآن نازل ہوا تھا کہ چلوحضرت آج آپ سے قرآن نہیں سمجھنا ۔ سلمان سے سمجھنا ہے ۔آپ کے خیال میں اس کو رواداری کہتے ہیں اور ہمارے خیال میں اس کو سب سے بڑے بے غیر تی کہتے ہیں کہ جس پر قرآن نازل ہوا ہے اس کو چھوڑکر سلمان کے پاس بیٹھ جائیں قرآن سمجھنے کے لئے تو جب نبی ہم سے تو نے چھڑا لیا کا نشز کیا چیز ہوئی ہے کس مصیبت کا نام ہے کہ اب کانشز اور ضمیر پر تو آگیا کہا نہیں جی یہ تو آخر ماننا ہی پڑتا ہے ناں ! تو میں نے کہا پھر نبی کو کیوں نہ مان لیں اگر کسی اور کو بھی ساتھ ملانا ہے تو نبی کو ہی مان لیتے ہیں اب وہ پھنس تو گیا مجھے پتہ تو نہیں تھا کہ کیا مصیبت ہے میں صرف منکر حدیث سمجھ رہا تھا کہنے لگا بس جی قرآن آپ پر بھی نازل ہوا ہے ناں! میں نے کہا نہ حضور ﷺ پر کہتا ہے آپ پر بھی نازل ہوا ہے میں نے کہا مجھ پر ؟ کہاہاں۔ وہ کیسے ؟ کہتاہے سب پر قرآن نازل ہوا ہے موسی ٰ پر بھی قرآن نازل ہوا ہے عیسیٰ پر بھی قرآن نازل ہوا ہے میں نے کہا یہ تو کوئی اس سے بھی اگلی بلا نظر آتی ہے ۔میں نے کہا تو رات کس پر نازل ہوئی ؟کہا تو رات تو کتاب ہی نہیں ہے ۔میں نے کہا زبور ؟کہا کتاب ہی نہیں ہے ۔میں نے کہا انجیل ؟ کہا کتاب ہی نہیں ہے ۔میں نے کہا قرآن پاک میں تو لفظ آتا تو رات ، زبور،انجیل ہم نے سورہآل عمران کی ابتدائی آیتیں نکال کے رکھ دیں کہ کر و ترجمہ ! تو کہتا ہے یہ تورات ،زبور انجیل جو ہیں نئی کتابیں نہیں ہیں یہ اسی قرآن پاک کی صفات ہیں اس نے تورات کا ترجمہ کیا قانون کی ہم نے تمہیں کتاب دی جس میں قانون ہے ،جس میں دعائیں ہیں ۔یہ زبور کا ترجمہ کیا دعائیںجس میں خوشخبریاں اور پیشن گوئیاں ہیں انجیل کا ترجمہ یہ کیا ،اب میں حیران ہوں کہ یہ تو کوئی نئی مصیبت آگئی ہے میں نے کہا سب نبیوں پر قرآن نازل ہوا ہے ؟ کہتا ہے جی سب پر ۔میں نے کہا نبی ہیں کتنے ؟کہتا ہے کتنے ہی ہیں۔ میں نے کہا کوئی نام کہا آپ کو پتہ نہیں ؟میں نے کہا مجھے تو صرف اتنا ہی پتہ ہے کہ میں اکیلاہی نبی ہوتادنیا میں ۔قرآن میں آتا ہے میں آتاہے انی لکم رسول امین میں نے کہا اور کسی نبی کا نام قرآن میں مجھے تو نظر نہیں آیا کہتا ہے آدم ؟ میں نے کہا میرے صفت ہے ناگندمی رنگ کا میں ہوں آدم میری صفت ہے رسول تو میں اکیلا ہی ہوں ۔جی ابر اہیم ؟میں نے کہا میری بھی اولاد ہے میں بھی رحم دل باپ ہوں تو یہ تو میری صفت ہے ۔جی اسماعیل ؟ میں نے کہا اللہ نے میرے بھی کئی دکھ سنے ہیں تکلیفیں کاٹی ہیں تو یہ میری صفات ہیں ناں ! یعقوب ؟ میں نے کہا آخر میں بھی والدین کے بعد دنیا میں آیا ہوں اس لئے میں یعقوب بھی ہوں یہ تو میری صفت ہے اب وہ جس نبی کا نام لے میں بھی اس کا معنی بتا تا جاﺅں اور اس کو اپنی صفت بناتا جاﺅں ۔آخر وہ ایسا خاموش ہو ا کہ آٹھ دس منٹ منہ پر ہاتھ رکھ کر ایسا بیٹھا رہا پھر مجھے خود ہی کہتا ہے بے ایمان تو میں بھی بہت بڑا ہوں کہتا ہے بیس سال ہوگئے میں قرآن کے معنی بگاڑرہا تھا لیکن آج تو آپ نے چاروں طرف سے راستے بند کر دیئے ہیں کسی طرف آپ نے نکلنے نہیں دیتے تو دنیا میں نئے نئے فتنے آٹھ رہے ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ محفوظ رکھے
تو بہر حال میں نے کہا دیکھو یہ قرآن پاک اگر پرانسان بھی سمجھ سکتا تھا ناں تو اللہ تعالیٰ کو تئیس سال اپنے پیغمبر کو دنیا کے دکھوں کے گھر میں رکھنے کی ضرورت نہیں تھی اگر صرف عقل سے سمجھا جا سکتا ہے یا لغت سے سمجھا جا سکتا ہے تو پاک پیغمبر ﷺ جو تیئس سال یہاں پتھر کھاتے رہے ماریں کھاتے رہے گالیاں سنتے رہے ان کو کیا ضرورت تھی یہاں رکھنے کی ان کو اس لئے یہاں تیئس سال رکھا گیا ہے کہ وہ اچھے طریقے سے اس کو سمجھا دیں اور عملی نمونہ پیش فرمائیں اس لئے ان کو قرآن نے معلم کتاب فرمایا ہے سلمان کو معلم کتاب نہیں فرمایا ان کو فرمایاہے لتبین للنا س تاکہ تو اس کی وضاحت کر ے مجھے اور تجھے نہیں فرمایا کہ تو اس کی تبیین کر سکتا ہے اس کی وضاحت اور تشریح کر سکتا ہے خیر وہ خاموشی سے اٹھ کے چلاگیا اگلے دن ظہر کے بعد ہارون قاسمی آیا میرے پاس وہ بھی ادھر ہی رہتا ہے طارق روڈ پر سپاہ صحابہ والا مجھے کہنے لگا جی صبح صبح میرا دروازہ اس نے کھٹکھٹایا میں نے دیکھا تو میں نے کہا یہ مصیبت صبح صبح کہا ں سے آگئی ہے کہنے لگا یا ر ہارون میں تو ساری رات سویا نہیں میں نے پوچھا کیا بات تھی ؟اس نے کہا تو روز کہا کر تا تھا نا کہ امین کے پاس جانا ،میں رات وہاں جاکے پھنس گیا اس نے تو ایسا مجھے چکر دیا ہے کہ میں رات سویا نہیں ،جو پہلا پڑھا تھا وہ سارا بھو ل گیا ،اب میں کروں کیا ؟کہنے لگا میں نے اسے کہا کہ آپ اسی کے پاس ہفتہ کے ایک دوگھنٹے وقت لے لیں اور انہی کے پاس چلے جایا کر یں تو پھر آپ کو کچھ بات سمجھ آجائے گی تو مقصد یہ ہے کہ آج کل تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہر کسی کو مجتہدبن کر نبی بننے کا شوق ہورہا ہے جیسے کسی نے کہا ہے کہ
عجب یہ دور ہے اور عجب اس کی روانی ہے کہ معمولی کلرکوں نے نبی بننے کی ٹھانی ہے
نہیں شیو ہ نبیو ں کا کہیں انگر یز سے جا کر ہما ری کیا نبو ت ہے تمہا ری مہر با نی ہے
حنفیت کی عظمت :
تو آج کل قرب قیامت ہے حالات ایسے ہورہے ہیں اس لئے اللہ کا احسان ہے اور ہمیں اللہ کا شکر ادا کر نا چاہئے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے مسلمان بنایا اور مسلمانوں میں سے اہلسنت والجماعت بنایا اور حنفی بنایا حنفی ہونے کی وجہ سے ڈبل شکر ادا کر نا چاہئے کہ ہمارا نبی بھی عالمگیر ہے اور ہمارا امام بھی عالمگیر ہے باقی ائمہ کے مقلدین ایک ایک دو دو ملکوں میں ملتے ہیں جیسے باقی نبیوں کا ایک ایک آدھ آدھ علاقہ تھا لیکن ہمارے امام کے مقلدین دنیا کے ہر ملک میں موجود ہیں الحمد للہ آخر میں یہی بات کہہ کر میں ختم کر نا چاہتا ہوں کہ یہ دین سارے دنیا کے لئے آیا تھا یا صرف مکے اور مدینے کے لئے ؟ ساری دنیا میں پہنچنا چاہئے تھا یا نہیں ؟پہنچ چکا ہے یا نہیں ؟تو کن کے ذریعے پہنچا؟ یا درکھنا حنفیوں کے ذریعہ آج ہوائی جہاز کے دور میں بھی شافعی پوری دنیا میں قرآن کے مدرسے نہیں بنا سکے آج ہوائی جہاز کے دور میں بھی حنبلی اور مالکی پوری دنیا میں قرآن کے مدرسے نہیں بنا سکے خدا کا قرآن ساری دنیا میں پہنچانے کا سہر اصرف اور صرف حنفیوں کے سرپر ہے نبی ﷺ کا کلمہ ساری دنیا کو پڑھا یا ہے تو صرف حنفیوں نے قال قال رسول اللہ کی گو نج ساری دنیا میں پہنچائی ہے تو صرف حنفیوں نے ۔ہارون الرشید کا شوق ہوا کہ میں ذرا ملک کی سیر کروں خراسان کی طرف نکل گئے وہاں جب پہنچے ملکہ بھی ساتھ تھی اور بھی کئی ساتھی تھے اور سامان کھانے پینے کا ساتھ تھا ،فوجی دستے بھی ساتھ تھے ۔ملکہ پالکی میں بیٹھی باہر دیکھ رہی ہے کہ انسان ہی انسان نظر آرہے ہیں ۔یہ دیکھ کر حیر ان ہوئی امیرا لمومنین سے کہا کہ امیرا لمومنین یہ کو ن لوگ ہیں یہ جو لوگ نظر آرہے ہیں سب کا لباس ایک جیسا نہیں سب کے رنگ ایک جیسے نہیں زبانیں بھی مختلف ہوں گی تو یہاں کیا ہورہا ہے کہ دنیا بھر کے لوگ جمع ہیں اتنے لوگ اکٹھے ہیں ان کی گنتی تو کراﺅ تو سرکاری آدمی گتنی کے لئے بھیجے گئے انہوں نے بہت بڑا رسہ لیا وہ ناپے گئے پھر ایک رسے کے سامنے جو آئے ان کو گنا تا کہ کچھ اندازہ ہو جا ئے تو سرکاری گنتی ایک لاکھ ساٹھ ہزار آدمیوں کی تھی یہاں کیا ہورہا ہے ؟کہ امام ابو حنیفہ کے شاگرد علی بن عاصم یہاں حدیث پڑھا رہے ہیں جس زمانے میں لاﺅڈ سپیکر کا تصور بھی نہیں تھا چار سو آدمی درمیان میں صرف آگے آواز پہنچانے والے کھڑے ہیں تو یہ وہ علاقے ہیں دنیا کے جہاں امام صاحب رحمة اللہ علیہ کے شاگردوں نے اور امام صاحب نے مقلدوں نے پوری دنیا کو دین سکھا یا حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری جب کر ت وہراج کے علاقہ میں پہنچے تو اکیلے تھے لیکن جب حضرت کا جنازہ اٹھا تو نوے لاکھ کا فر آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہو چکا تھا۔ یہ جو نو ے لاکھ کا فر مسلمان ہو ا سنی حنفی بنا یا کچھ اور ؟یقینا سنی حنفی بنا ۔تو میں اس لئے غیر مقلد دوستوں سے کہا کرتا ہوں کہ میرے ایک بزرگ کی محنت ہے کہ نوے لاکھ کا فر کو مسلمان کیا ۔یہ جتنی اسلام کی رونق دنیا میں نظر آرہی ہے یہ ہمارے بزرگوں کی محنت کا نتیجہ ہے تم نو ے لاکھ نہیںنوے ہزار نہیں نو ے سونہیں نو ے سکھوں کو غیر مقلد بنالیتے تو ہم بھی سمجھتے کہ چلو کو ئی کا م کیا ہے ناں !
٭سائلین کے سوالات٭
سوال : تین طلاقوں سے متعلق ذرا وضاحت فرمادیں !
جو اب : قرآن پاک میں بھی آتا ہے الطلاق مرتان طلاق دومرتبہ ہوتی ہے (یعنی دو سے زائد مرتبہ نہ دینی چاہئے کیونکہ پھر رجو ع کی صورت باقی نہیں رہتی )اسلام سے پہلے یہ طریقہ تھا دوفرقے چلے آرہے تھے ایک مشرکین اور دوسرا یہود کا کہ ہزاروں طلاقیں دینے کے بعد بھی رجو ع کر لیا کر تے تھے اور ایک عیسائیت کا طریقہ تھا ،وہ طریقہ یہ تھا کہ طلاق دی ہی نہیں جا سکتی اسلام چو نکہ فطری دین ہے اس نے بتا یا کہ ایک رشتے وہ ہیں جو نسبی ہیں اللہ کے جو ڑے ہوئے ہیں ان کو تم نہیں تو ڑسکتے ۔بھائی سومرتبہ بہن کو کہے تو میرے بہن نہیں ہے وہ پھر بھی بہن ہی رہتی ہے بیٹا سومرتبہ کہے تو میرا باپ نہیں ہے وہ پھر بھی باپ ہی رہتا ہے کہونکہ یہ رشتے نسب کے اللہ کے جو ڑے ہوئے ہیں اور جو رشتے انسان نے خود جوڑے ہیں جس مقصد کے لئے جو ڑے ہیں اگر وہ مقصد پورا ہوتا نظر نہیں آتا تو ان کو توڑنے کا بھی انسان کو اختیار ہے اس لئے ان کو نسبی رشتوں کی طرح عیسائیوں کی طرح نہیں ہونا چاہئے کہ اگر کو ئی بیوی پلے پڑگئی ہے تو جب تک زہر دے کر مارے نہیں کو ئی صورت جان چھڑانے کی نہیں ہے ۔
اب رہا یہ کہ یہ طریقہ رکھا جائے کہ چاہے جتنی طلاقیں دیتے رہو پھر بھی رجو ع کرتے رہو اسلام نے اس پہلے طریقے کو ختم کر دیا اب مرد کو تین طلاقوں کا اختیاردیا ۔اب یہ جو تین طلاقیں ہیں یہ جس طرح بھی دے گا وہ واقع ہو جا ئےں گی ۔اس میں وہ لوگ ایک قیاس پیش کر تے ہیں کہ دیکھوجی نماز میں جو داخل ہو نے کا طریقہ ہے وہ اللہ اکبر ہے اگر کسی اور طریقے سے جو غیر شرعی طریقہ ہے اس سے نماز میں داخل ہو تا وہ نماز میں داخل نہیں سمجھا جا تا اسی طریقے سے وہ کہتے ہیں کہ طلاق شرعی طریقے سے دی جائے وہ طریقہ سے کیا ہے ؟ کہ ایسے طہر میں طلاق دی جائے جس میں صحبت نہ کی ہو تو پھر تو صحیح طریقہ سے طلاق واقع ہو جا ئے گی لیکن اگر غیر شرعی طریقہ سے طلاق دی جائے تو طلاق واقع نہیں ہو گی ۔یہ ان حضرات کا قیاس ہے اصل میں انہوں نے یہ قیاس رافضیوں سے چوری کیا ہے ۔امام طحاوی نے اسی وقت اس کا جواب دے دیا تھا جس کا آج تک کسی کو جواب نہیں آیا ،انہوں نے فرمایا کہ طلاق کو نماز میں داخل ہو نے پر قیاس کر نا غلط ہے نماز سے نکلنے پر قیاس کر نا چاہئے نماز میں داخل ہو نے کے لئے تو شرعی طریقہ ضروری ہے غیر شرعی طریقے سے نماز میں داخل ہو گا تو ہو نمازی نہیں کہلائے گا لیکن نماز سے نکلنے کے لئے اگر باقاعدہ السلام علیکم کہہ کر نماز سے نکلتا ہے تو نماز سے نکل بھی گیا اور گناہ بھی کو ئی نہیں ہوا لیکن اگر کو ئی بات کر لی یا اٹھ کر بھاگنا شروع کر دیا تو یہ نماز سے یقینا نکل گیا اگر چہ گناہ بھی ہو ا کو ئی یہ نہیں کہے گا کہ اسکی نماز نہیں ٹوٹی کیونکہ اس نے شرعی طریقے کے خلاف ایک انداز اختیار کیا ہے ۔
تو فرمایا اسی طرح طلاق جو ہے یہ چونکہ ایک عقد کو چھوڑنا ہے اور اس عقد سے نکلنا ہے اس کا قیاس اگر کرنا ہی ہے تو نماز سے نکلنے پر کرنا چاہئے اب جس طرح سلام پھیر کر نکلے گا تو نکل گیا گناہ بھی نہیں ہوا لیکن بات کر دی پھر نکل گیا گناہ ہوا کیونکہ واجب رہ گیا ، اسی طریقہ سے اگر شرعی طریقے پر طلاق دی جائے تو طلاق بھی واقع ہوگی لیکن گناہ نہیں ہوگا ، اگر غیر شرعی طریقے سے طلاق دیگا تو طلاق واقع ہوگی اور گناہ بھی ہوگا جیسے غیر شرعی طریقے سے نماز سے نکلنے میں بھی گناہ ہوتا ہے تو امام طحاویؒ نے اس پر بہترین بحث فرمائی ہے مقصد یہی ہے کہ اس مسئلے پر پوری امت کا اتفاق ہے کہ طلاقیں جو تین ہیں وہ تین ہی ہوتی ہیں سب سے پہلے ابن تیمیہ نے اس بات کا انکار کیا تھا لیکن خود فتاویٰ ثنائیہ میں مو لوی ثناءاللہ نے لکھا ہے کہ ابن تیمیہ نے جب فتویٰ دیا تو حکومت اسلامیہ نے اس کا منہ کالا کیا اور اس کو گدھے پر سوار کر کے پھر ایا اور پورا اعلان کیا کہ آج کے بعد یہ فتویٰ نہیں دے گا اور جو اس سے فتویٰ لینے جائے گا اس کو بھی یہ سزا دی جائے گی ۔یہی بات قاضی شوکانی کے تاج المکلل میں بھی لکھی ہے ۔اس کے بعد اب غیر مقلدین نے فتویٰ دیا ان میں بھی دو گروہ ہیں عبداللہ روپڑی تو مانتا ہے کہ وہ تین ہی ہوتی ہیں لیکن یہ لو گ کہتے ہیں کہ وہ تین نہیں ہوتیں ایک طلاق ہوتی ہے ہم ان سے یہ پوچھتے ہیں کہ اگر کوئی کہے تجھے تین طلاق تو ایک ہوئی اگر نو کہے پھر کتنی ہونگی ؟آخر ہمیں بھی پتہ چلنا چا ہئے کہ ایک شخص نے کہ دیا تجھے نو طلاق ، احادیث میں ان کے پلے میں کو ئی چیز نہیں ہے ۔
اصل میں جو انہوں نے دھوکہ دیا ہے وہ اس بات سے دیا ہے کہ ابن عباس ؓ کا ایک قول نسائی ،ابو داﺅد ، ابن ابی شیبہ اور مسلم وغیرہ میں ہے کہ حضور پاک ﷺ کے زمانہ میں ابو بکر صدیق ؓ کے زمانہ میں اور حضرت عمر ؓ کے ابتدائی دور میں تین طلاقیںایک شمار ہوتی تھیں تو اس سے یہ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں لیکن حضرت عمر ؓ نے کیا فرمایا وہ کبھی بھی بیان نہیں کرتے انہوں نے فرمایا ان الناس قد استعجلوا فی امر کانت لھم فیہ اناة فالزمناہ کہ لوگوں نے طلاق دینے میں ایک نیاطریقہ اختیار کیا ہے جو جلد بازی کا طریقہ ہے اور ایک طریقہ وہ بھی جس میں کچھ اناة اور کچھ ڈھیل تھی وہ انہوں نے چھوڑ دیا ہے خود ابن عباس ؓ سے ابن ابی شیبہ میں اس کی تشریح موجود ہے کہ یہ غیر مدحولہ کے بارے میں ہے غیر مدخولہ کو تین طلاق دینے کے دوطریقے ہیں ایک وہ جس میں اناة اور ڈھیل ہے وہ کیا ؟وہ یہ کہ اسے کہا تجھے طلاق ، طلاق ،طلاق تو اسے ایک ہی واقع ہوگی کیونکہ پہلی طلاق سے وہ بائنہ ہو جائے گی ،اب جب اس نے دوسری اور تیسری مرتبہ طلاق ،طلاق کہا تو وہ محل طلاق ہی نہیں تھی ہاں اگر کو ئی شخص اسے بھی یہ کہے تجھے تین طلاق تو یہ تین اکٹھی ہی واقع ہو جائیں گی تو حضورپاکﷺکے زمانہ میں ابو بکرصدیق ؓ اور عمر فاروق ؓ کے ابتدائی دور میں صحابہ کرام ؓ اگر غیر مدخولہ کو (ایسی بیوی کو جس کی رخصتی نہیں ہوئی )طلاق دیتے تھے تو وہ اس طرح دیتے تھے طلا ق ،طلاق، طلاق، اس کے بعد یہ ڈھیل مو جود تھی کہ نکاح کر نا چاہے تو کر سکتاہے ۔
فاروق اعظم ؓ کے زمانے میں جب فتوحات بہت پھیل گئیں لونڈیان بکثر ت آئیں نکاح طلاق کے مسئلے بہت پھیلنے لگے تو بعض نو مسلم کو مسئلے سے واقف نہیں تھے وہ ایسی عورت کو بجائے طلاق ،طلاق، طلاق، کہنے کے یوں کہنے لگے کہ تجھے تین طلاق تو یاد رکھئے حضرت عمر ؓ نے کو یہ مسئلہ تبدیل نہیں کیا جو مسئلہ حضورپاک ﷺ کے زمانے کا طریقہ تھا اس کا آج بھی وہی حکم ہے اور جو انہوں نے بعد میں اختیار کیا اس کا حضور پاک ﷺ کے زمانہ میں بھی وہی حکم تھا تو یہ الگ طریقہ اصل میں طلاق دینے والوں نے بدلا ہے غیر مقلدین اس قول کو اس انداز میں پیش کر تے ہیں کہ جس سے سارے صحابہ پر اعتراض آتا ہے کیونکہ وہ حدیث کے مطابق یہ مانتے ہیں کہ ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دینا یہ کتاب اللہ کے ساتھ استہزاءہے اور اللہ کے نبی ﷺ کے ناراضگی کا باعث ہے تو گویا سارے صحابہ حضور ﷺ کے زمانے میں یہ گناہ کر تے رہے معاذا للہ ،حضرت ابو بکر ؓ کے زمانہ میں کر تے رہے اور یہ بھی مانتے ہیں کہ حرام کو حلال کر نا خلیفہ راشد کے بس کی بات نہیں ہوتی یہ تو احبار ورھبان کی بات ہے کہ وہ حلال کو حرام ،حرام کو حلال کر تے تھے حضرت عمر ؓ کے ذمہ یہ تہمت لگانا کہ جو عورت پہلے حلال تھی اس کو انہوں نے حرام کر دیا یہ بہت بڑی تہمت ہے میں نے جو عرض کیا ہے کہ جو مطلب خود ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے اس پر یہ سارے اعتراضات ختم ہوجاتے ہیں تین طلاق کے بارے میں تو بہت سی روایات ملتی ہیں بات اصل یہ ہے کہ یہ لوگ پوری وضاحت نہیں کر تے ابن ابی شیبہ میں پورا باب ہے کہ جس نے غیر مدخولہ عورت کو تین طلاقیں دیں تینوں واقع بھی ہوگئیں اور گناہ بھی ہوا اور ظاہر ہے کہ غیر مدخولہ کو تین طلاقیں ایک مجلس ہی نہیں ایک لفظ سے دی جا سکتی ہیں اور کو ئی طریقہ ہی ان کو تین طلاقیں دینے کا نہیں ہے اور اماں عائشہؓ اسی پر پڑھ رہی ہیں فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ اور یہ بھی ایک باب آتا ہے کہ جس نے بدعی تین طلاقیں دیں وہ تین ہی نافذ ہونگی اور اس کو گناہ بھی ہوگا اور بدعی تین طلاقیں گناہ والی وہی ہیں جو اکٹھی دی جائیں پھر نسائی والی حدیث ہے محمود بن لبید کی روایت میں کہ حضرت ﷺ نے سنا کہ ایک شخص نے تین طلاقیں دی ہیں حضرت اتنے غصہ ہوئے کہ ایک صحابی کو کہنا پڑا کہ حضرت میں اس کو قتل کر دوں ؟اب ظاہر بات ہے کہ اگر تین ایک ہی ہوتی ہے تو ایک طلاق پر حضرت ﷺ کبھی غصہ نہیں ہوئے ۔ غصہ ہونے کا مقصد کیا تھا ؟ اگر تین کے بعد رجو ع کی گنجائش ہوتی تو حضرت کبھی بھی غصہ نہ ہوتے تو یہ مسئلہ غیر مقلدوں نے شیعوں سے لیا ہے پیران پیر نے غنیة الطالبین میں جہاں شیعوں اور یہودیوں کی مماثلتیں لکھی ہیں وہاں یہی لکھا ہے کہ تین طلاقوں کے بعد بیوی کو رکھ لینا یہودیوں کا مذہب تھا اور وہاں سے شیعوں سے چوری کر لیا ہے اور اب وہ چوری کا مال غیر مقلدوں کے ہاں بھی مل رہا ہے ۔
سوال : حیات انبیاءکے بارے میں فرمائیں ؟
جو اب : حیات انبیاءکا مسئلہ قطعاً اختلافی نہیں ہے ایک بھی عالم دیوبند کا نام نہیں لیا جا سکتا جو حیات النبی کا منکر ہو جو اختلاف کر تے ہیں معتزلی ہیں آپ دیو بند ی کہتے ہیں وہ تو اہلسنت والجماعت بھی نہیں ہیں وہ معتزلی لو گ ہیں ۔
سوال : اہل حدیثوں کے پیچھے نماز ہوتی ہے ؟
جو اب : اہلحدیث کی اپنی نماز ہی نہیں ہوتی تو ان کے پیچھے کیسے ہوگی ؟مولانا سروری صاحب ہیں احسن العلوم کے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو چار صاحبزادیوں کے بعد بیٹا دیا تو انہوں نے عقیقہ کیا مفتی عبدالرﺅف صاحب اور دوسرے مفتی حضرات بھی بیٹھے تھے تو ایک مولوی صاحب دارالعلوم میں پڑھاتے ہیں وہ مجھ سے پوچھنے لگے کہ مجھے ایک نماز غیر مقلدوں کے پیچھے پڑھنی پڑتی ہے تو ہو جاتی ہے یا نہیں ؟ مفتی عبدالرﺅف صاحب نے بھی میری طرف دیکھا کہ اب یہ کیا جو اب دیتا ہے اور دیگر مفتی صاحبان بھی بیٹھے تھے تو میں نے یہی کہا کہ جب ان کی اپنی نہیں ہوتی تو پیچھے کیسے ہو جائے گی مفتی عبدالرﺅف نے مجھ سے پوچھاکہ جی کیوں نہیں ہوتی ؟ میں نے کہاوہ نیت نہیں کر تے اور نیت کے بغیر نماز نہیں ہوتی کہنے لگے یہ کیسے پتہ چلا؟ میں نے کہا آپ ان سے لکھوادیں نیت کیا ہے انہوں نے جھگڑا تو یہ ڈالاتھا کہ زبان سے نیت نہیں کر نی چاہئے دل میں کر نی چاہئے اب دل میں کس کس چیز کی نیت کر چاہئے ؟ یہ ان کو پتہ ہی نہیں یہ وہ بتا سکتے ہیں دوماہ بعد پھر ایک اور دعوت میں ہم اکھٹے ہوئے تو مفتی عبدالرﺅف صاحب بڑے ہنس رہے تھے فرمانے لگے کہ آپ کا چٹکلہ واقعی عجیب ہے میں نے کئی مدرسوں میں لکھ کر بھیجاکہ بھائی نیت لکھونہیں لکھ کر دی میں نے کہا وہ مرجائیں گے لکھ کر نہیں دیں گے کیوں ؟ وہ اگر لکھ دیں کہ مثلاً وقت کی یا فرض کی تو ہم کہتے ہیں کہ دکھاﺅ حدیث میں یہ کہاں ہے ؟ وہ ان کو ملتا نہیں تو اس لئے جب انہوں نے نیت کر نی ہی چھوڑ دی تو بیان کر نی ہی چھوڑ دی تو اب واقعةًان کی عوام کو تو نیت آتی ہی نہیں سرے سے ان سے آپ پوچھیں توکہیں گے جی گھر سے چلے ہی نماز پڑھنے کے لئے تھے نا ،
ملتان میں ایک دفعہ جلسہ تھا حضرت امیر شریعت حیات تھے اس میں صدارت تھی حضرت مولانا خیرمحمد جالندھری کی تو یہ غیر مقلد ایسے موقعے پر شرارتیں کر تے ہیں تو چونکہ مولانا خیرمحمد ان کے خلاف مناظر تھے حضرت امیر شریعت ؒ کو چٹ دی کہ اہلحدیثوں کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے ؟حضرت نے فرمایا کہ بھائی ہماری تو سب کے پیچھے ہوجاتی ہے مولانا خیر محمد صاحب فوراً کھڑے ہوئے فرمایا کہ ....بھائی یہ فتویٰ کی باتیں مفتیوں سے پوچھی جاتی ہیں کو ئی اور بات پو چھنی ہے تو شاہ صاحب سے پوچھ لیں میں کہتا ہوں کہ ان کے نماز ہوتی پھر آپ نے چو دہ وجہیں بیا ن فرما ئیں جن ایک تو یہ بھی تھی کہ مثلا ان کے ہا ں خو ن اور منی پاک ہے جیسے ہما رے ہا ں تھو ک پا ک ہے تو کپڑ ے پر صا ف کر لی تو نماز سے پہلے دھو نے ہم کو شش نہیں کریں گے تو ان کے ہا ں یہ خو ن پا ک ہے تو جب ان کے جسم اور کپڑ ے ہی نا پاک ہو تے ہیں تو ان کی نماز ہی نہیں ہو تی ان کے پیچھے والو ں کی کیسے ہو ئی پھر انہو ں نے دو وضو کے فرض خرا ب کئے ہو ئے ہیں جرا بوں پر مسح کر لیتے ہیں پگڑ ی پر مسح کر لیتے ہیں تو ایک فرض رہ جا ئے تو وضو نہیں ہو تا جب اس کی نماز نہ ہو ئی تو ان کے پیچھے والو ں کی کیسے ہو ئی بعض نماز یں وقت سے پہلے پڑ ھ لیتے ہیں مثلا عصر نماز کی ابھی وقت ہی نہیں ہوتا تو مو لا نا محمد صدیق صا حب شیخ الحدیث جا معہ خیر المدا رس ملتا ن ) فرماتے ہیں تھے کہ اس طرح حضرت نے چو دہ با تیں گن کر سنا ئیں اور پھر یہ کہ ان کے ہا ں بے وضو امام نما ز پڑ ھا ئے تو بھی جائز ہے بلکہ یہ لکھا ہے نز ل الا بر ابر میں کہ امام نے نماز پڑ ھانے کے بعد کہا کہ میںکا فر ہوں تو بھی کہتے ہیں کہ نماز جا ئز ہے مولو ی معین الدین لکھوی جو زند ہ ہے اس کا قلمی فتویٰ ہمارے پا س ہے ایک آ د می نے سوال کیاکہ میں سفر میں تھا وضو میرا تھا مسجد نظر آ ئی تو میں بھاگ کر گیا صف کے قر یب پہنچا تو دیکھا کہ لکھا تھا کہ مسجد احمد یہ ( مرز ئیو ں کی مسجد ) تو کہتے ہیں کہ پیچھے دو وضو کر رہے تھے تو میں نے سوچا اگر پیچھے مڑتا ہو ں تو یہ مجھ سے پو چھیں گے تو میںنے وہا ں نماز پڑ ھ لی اب میں وہ نماز دہرا ﺅں یا نہ دہر اﺅ ؟اورآ ئند ہ کبھی ایسا واقعہ پیش آ جائے تو میں کیا کرو ں ؟تو مو لو ی معین الد ین صاحب نے لکھا کہ مسئلہ تو یہی ہے کہ نیک لوگوں کو امام بنا نا چا ہیے لیکن اگر آپ نے ان کے پیچھے نماز پڑ ھ لی ہے تو اس کا دہرا نا ضرور ی نہیں کیو نکہ جب ہم اپنی فا تحہ خو د پڑ ھ لیتے ہیں ہمیں امام سے کیا تعلق ؟یعنی فاتحہ خلف الا ما م کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ کا فرو ں کے پیچھے بھی نماز جا ئز ہو گئی ہے مو لو ی ثناءاللہ کا یہی فتو یٰ تھا کہ مر زائیوں کے پیچھے نماز جائز ہے بلکہ عنایت اللہ اثر ی وزیر آبا دی نے پو ری تروایح مرزائیوں کے پیچھے پڑ ھی ہیں قا دیا ن میں اس کی کتا ب العطر البلیغ اس میں لکھا ہے کہ میں گیا مرز ا محمو د سے میں نے کہا میں حا فظ ہو ں میں چا ہتا ہوں کہ آ پ کی خد مت میں یہا ں رمضا ن گزاروں اور یہا ں قرآن سنا د وں تو اس نے کہا آپ کے پیچھے ہمارے لوگ تروایح نہیں پڑ ھیں گے کہتے ہیں میں نے کہا جب میں آپ کو پو ری دیا نتد ار ی سے مسلما ن سمجھتا ہوں تو پھر آپ کے لو گ کیو ں نہیں پڑ ھیں گے ؟ تو مرزا محمو د نے کہا یہ لوگ پو ری دیا نتدا ری سے آ پ کو کا فر ما نتے ہیں اس لئے یہ نہیں پڑ ھیں گے تو کہتے ہیں پھر عبدالکریم مرزائی نے تروا یح پڑ ھا ئیں اور میں نے اس کے پیچھے پڑھیں ۔
سوال : بر یلو ی حضرات کے پیچھے نماز کیسے ہے ؟
جوا ب ؛ جو لو گ بشریت کا انکار کر تے ہیں ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی با قی مسائل میں کچھ نہ کچھ تا ویل کی گنجا ئش ہو تی ہے لیکن یہ توبا لکل نص قطعی کی مخا لفت ہے ویسے پتہ نہیں وہ کہتے کیا ہیں منا ظرہ ہمارا ان سے ڈیر ہ اسما عیل خا ن میں ہوا تھا وہ کیسٹو ں میں ہے وہا ں تو انہوں نے پہلے ہی لکھ کر دے دیا تھا کہ ہم تما م انبیا ءعلیہم السلا م کو بشر مانتے ہیں جو کسی نبی کو بشر نہیں مانتا وہ کا فر ہے تو اصل با ت یہ ہے کہ منا ظروں میں ان کا مسئلہ اور ہوتا ہے تقریرں میں اور ہو تا ہے ۔
We have 13 guests and no members online