joomla templates

 

خطا ب بمقام خانپور موخہ مئی ۶ ۸ ۹ ۱

ضرورت فقہ حنفی اور مسئلہ تروایح

مناظر اسلام تر جمانِ  اہل سنت وکیل احناف

حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی

(خطبات  صفدر،جلد اول)

خطبہ مسنونہ

الحمد للہ وکفی وسلا م علی عبادہ الذین اصطفی اما بعد فاعوذ باللہ من الشطین الر جیم بسم اللہ الر حمن الر حیم ۔

وما کا ن المومنون لینفروا کا فة فلولانفر من کل فر قة منھم طا ئفة لیتفقہوفی الدین ولینذور قومہم اذا رجعوالیھم لعلھم یحذرون ۔

وقال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من یر داللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین ۔

صدق اللہ مو لا نا العظیم وبلغنا رسولہ النبی الکر یم ونحن علی ذالک من الشھیدین والشکرین والحمد للہ رب العلمین ۔

رب اشر ح لی صدری ویسر لی امری واحلل عقدہ من لسانی یفقہوا قولی رب زدنی علماارزقنی وفھما ۔

سبحا نک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم اللھم صل علی محمد وعلی آ ل سید نا ومو لا نا محمد واصحا ب سید نا ومو لا نا محمد وبا رک وسلم علیہ ۔

تمھید

دوستواور بز رگو!میں نے آ پ کے سا منے سورة تو بہ کی ایک آ یت کر یمہ تلا وت کی ہے اورصحیح بخا ری کی ایک حدیث شر یف پڑ ھی ہے ۔ قرآن پا ک کی اس آیت میں بھی فقہ کا تذکر ہ ہے اور نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں بھی فقہ کا تذ کر ہ ہے ۔

اللہ تبا رک وتعالی ارشاد فر ماتے ہیں :وما کا ن المومون لینفرواکافة ....

اور سارے مسلما نوں سے یہ تو نہیں ہوسکتا کہ سب کے سب نکلیں ۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ مسلمان کسی کا م کے لیے جا رہے ہیں اس آیت کے سیا ق وسبا ق سے پتہ چلتا ہے کہ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے فر ما ن پر مسلمان جہا د کے لیے جا رہے ہیں تو اللہ تبا رک وتعالی فرما تے ہیں ۔

فلو لا نفر من کل فرقة منھم طا ئفة لیتفقہوا فی الدین ۔

توکیوں نہ ہو کہ ان کے گروہ میں ایک جما عت نکلے جو دین کی سمجھ حا صل کر یں اورولینذروقومہم اذا رجعو الیھم لعلہم یحذرون ۔اورواپس آکر اپنی قوم ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں ۔

یہ سورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبا رک دور کے آ خر ی سالوں میں ناز ل ہو ئی جس وقت اسلا م عر ب کے بہت سے حصے پر پھیل چکا تھا ، اب با ت یہ تھی کہ جو لوگ نبی اقد س صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حا ضر ہیں تو جب کوئی مسئلہ پیش آ تا خود نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیتے لیکن جو لوگ دوررہتے تھے نہ تو خو د نبی اقد س صلی اللہ علیہ وسلم ہر مسئلہ بتا نے کے لیے وہا ں تشر یف لے جا سکتے تھے اور نہ وہ خود ہر ہر مسئلہ پو چھنے کے لیے حضرت کی خد مت میں حا ضر ہوسکتے تھے تو دین آخر انہو ں نے بھی سمجھناہے تو نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اوران لوگوں کے درمیان وہ کو ن سا واسطہ ہے جس کو اللہ کے رسول قابل اعتما د سمجھیں اوراس کے ذریعہ پہنچا ہوا دین خد ا اور اس کے رسول کے نز دیک پسند یدہ ہو تو اللہ تبا رک وتعالی فرما تے ہیں کہ جما عت فقہا ءکی ہو گی فقہا ءکے ذریعہ سے جو دین پہنچے گا وہ اللہ تعالی وتعالی کے نز دیک قابل اعتما د ہوگا اور نبی اقد س صلی اللہ علیہ وسلم کے نز دیک بھی قابل اعتما د ہوگا ۔

فقہ کی ضرورت اور بنیا د :

آپ کے ذہن میں یہ با ت آ رہی ہوگی کہ اللہ تبارک وتعا لی فقہا ءکے بجا ئے قاری اور حا فظ کا نا م لیتے اللہ تبا رک وتعالی یہا ں محد ث کا لفظ فر ما دیتے قرآ ن وحدیث کا لفظ جا تا آخر اس میں کیا حکمت ہے کہ اللہ تبا رک وتعالی نے یہاں فقہ کا لفظ فر ما دیا ہے تو قرآن پا ک خو دا یک کا مل کتا ب ہے اور اسلا م مکمل دین ہے اس لیے اللہ تبا رک وتعالی نے ایک ہی لفظ ایسا ارشا د فرمادیا کہ جس میں یہ سا ری چیز یں آ گئیں۔

فقہ کی بنیا د اور ماخذ :

چو نکہ فقہ کی بنیا د چا ر چیز یں ہو تی ہیں اول کتاب اللہ شریف (قرآن پا ک ) دوئم سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوئم اجما ع امت اور چہا رم قیا س شرعی ، تو جب فقہ کالفظ بول دیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جا نے والا فقیہ قرآن بھی سا تھ لے کرجا ئے گا ، اللہ کے نبی کی سنت بھی ساتھ لے کر جا ئے گا امت کے اجما عی مسائل بھی سا تھ لے کر جا ئےگا اور جو نئے مسائل سا منے آ ئیں گے ان کا حل بھی قیا س شر عی سے دریا فت کر لے گا دین اسلا م کے لیے فقہ نہا یت ضروری ہے کیو نکہ اس کے بغیر مسائل حل نہیں ہو تے تو اس لیے اللہ تبا رک وتعالی نے فرما یا کہ دین کو پہنچا نے کا جو قابل اعتما د ذریعہ ہے یہ فقہا ءہیں ۔

مثلا ایک آ دمی ایک علا قے میں صرف قرآن پا ک لے کر چلا گیا ،اس نے جا کر قرآن سنا یا کہ اقیمو االصلو ٰة نما ز قائم کرو ، اب وہ لو گ پو چھتے ہیں کہ کتنی رکعتیں پڑھیں؟ تو قرآن میں تو ان رکعتوں کا کوئی تذکر ہ نہیں تو قرآن کے پہنچنے کے بعد بھی ان لوگوں کو نماز کامکمل طریقہ معلوم نہیں ۔

ایک دوسرا شخص حد یث کی کتاب لے کر چلا گیا اس میں یہ توملا کہ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی چا ر رکعتیں ادا فرمائیں پھر دو رکعت ادا فرمائیں لیکن یہ تفصیل نہیں کہ کو ن کون سی رکعتیں سنت ہیں کو ن کو ن سی فرض ہیں کو ن کو ن سی نفل ہیں یہ تفصیل احا دیث میں موجو د نہیں تو اب اس فقہ کی تو ضرورت با قی رہی تو بغیر فقہ کے دین کے مسائل مکمل نہیں ہوتے

اس لیے آج ہم جو نما زیں پڑ ھ رہے ہیں وہ اسی فقہ کے مطا بق پڑ ھ رہے ہیں روز ے کے مسائل معلوم کرتے ہیں تو اسی فقہ سے معلوم کر تے ہیں حج کر تے ہیں تو مکمل مسائل ہمیں فقہ سے ہی ملتے ہیں تو اللہ تعالی نے یہی کا مل اور مکمل ذریعہ بیا ن فرمایا ہے کہ کچھ لوگ فقیہ بنیں ۔

صرف قرآن وحدیث کا تر جمہ سمجھنا فقہ نہیں :

اب یہاں ایک با ت سو چنے کی ہے کہ صحا بہ رضو ان اللہ تعالی علیہم اجمعین جو جہا د کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں ان کی مادری زبا ن پنچا بی تھی یا سرا ئیکی تھی ؟(عربی تھی )تو وہ قرآن پا ک کی عر بی آیا ت سن کر نبی پا ک صلی اللہ علیہ وسلم کی عربی احا دیث سن کر ان کا مطلب سمجھ لیتے تھے یا نہیں (سمجھ لیتے تھے )ہم سے بہتر سمجھتے تھے یا کم سمجھتے تھے ، (بہتر سمجھتے تھے ) ظاہر ہے کہ وہ ہم سے بہت زیا دہ بہتر سمجھتے تھے ، تو اگر قرآن پا ک کا تر جمہ جا ن لینے کا نا م فقہ ہوتا حدیث کا تر جمہ جا ن لینے کا نا م فقہ ہوتا تو ان میں ہر کو ئی ہم سے زیا دہ اچھا سمجھتا تھا ان میں ہر شخص ہم میں سے بہتر حدیث کا مطلب جا نتا تھا تو اللہ تبا رک وتعالی نے ان مطلب اور تر جمہ جا ننے والو ں کو فرما یا کہ ہر جماعت میں سے کچھ آدمی بیٹھ جائیں اور فقیہ بنیں ۔ معلو م ہو اکہ صرف الفا ظ کا یا د کر نا فقہ نہیں صرف تر جمے کا یا د کر لینا فقہ نہیں کو ئی بخاری شریف کا اردو تر جمہ پڑ ھ کر یہ سمجھے کہ میں فقیہ بن گیا ہوں تو اس نے قرآ ن کی اس آیت کو سمجھا نہیں ۔

فقہ گہرا ئی کا نام ہے :

فقہ گہرا ئی کا نام ہے تو نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحا بہ کو اللہ تبا رک وتعالی فر ما رہے ہیں کہ فر قے میں سے ایک ایک آدمی بیٹھ جائے اب آپ سو چیں گے کہ وہ فر قے کیسے تھے ، اس زما نے میں فرقے یہ نہیں تھے جو آج کل بنے ہو ئے ہیں جیسے آپ رائے ونڈ کے اجتما ع کے مو قع پر دیکھنے ہیں کہ ضلع رحیم یا ر خان کے لوگ ایک جگہ پر بیٹھے ہیں تاکہ سفر میں کوئی تکلیف اور پر یشا نی نہ ہو دوسر ے ضلع کے لوگ ایک جما عت بنا کر بیٹھ جا تے ہیں تاکہ آپس میں سہو لت رہے ، اسی طرح صحا بہ اکر ام رضو ان اللہ تعالی علیھم اجمعین جو جہا د کے لیے جا رہے ہیں ان میں مذ ہبی فر قے نہیں تھے کل فرقة کا جو لفظ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایک قوم کے لوگ علیحدہ علیحدہ اپنے علا قے کی جما عت بنا کر جارہے تھے تاکہ سفر میں کسی قسم کی کوئی پر یشا نی نہ ہو تو ایک دوسرے کی واقفیت ہما رے لیے ان پریشانیوں کے دور ہو نے کا سبب بنتی رہے ۔

تو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحا بہ جب جا رہے ہیں اللہ تبا رک وتعالی فرماتے ہیں کہ ہر قوم اور ہر فر قے کا کم از کم ایک ایک آ دمی فقیہ ضرور بنے ، اب جب یہ فقیہ بن جا ئیں گے تو پھر کیا کر یں گے ؟اللہ تبا رک وتعالی فرماتے ہیں ولینذرواقومھم اذا رجعوالیھم لعلھم یحذرون یہ فقیہ بن کرفقہ کو اپنی قوم میں چلا ئے گا ۔

اب سا ری قوم اس فقہ پر عمل کر ے گی اور اس کی تقلید کر ے گی اس سے دین کے مسائل پو چھ کر اس پر عمل کر ے گی اور یہ اللہ تبا رک وتعالی کے حکموں سے ان کو ڈرائیں گے تاکہ یہ لوگ خد ا کی نا فر ما نی سے بچ سکیں ۔

فقہ جا مع المسا ئل ہے :

تو اس آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ کا دین آ گے پہنچا نے کے لیے سب سے قابل اعتما د ذریعہ فقہا ءکا ہے اور فقہا ءکے پا س مکمل دین ہوتا ہے ان کے پا س دین کا ایک خا ص پہلو نہیں ہوتا اس کو آپ ایک مثا ل سے سمجھیں ۔

مثال :

آپ کا بچہ سکو ل میں پڑ ھتا ہے اس کے پاس ایک اردو کی کتا ب ہے ایک معاشرتی علو م کی کتا ب ہے ، ایک دینیا ت کی کتاب ہے ایک انگریز ی کی کتا ب ہے ان ساری کتابوں میں ایک ایک مضمو ن ہے لیکن ایک اس کے پاس گا ئیڈ ہو تی ہے جس میں تمام مضامین یکجا ہو تے ہیں تو فقہ کیا ہے ؟اسلا می علو م کی ایک گا ئیڈ بک ہے قرآن پا ک کے تمام مسائل فقہ میں آجا تے ہیں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام مسائل فقہ میں آ جا تے ہیں امت کے سا رے اجما عی مسائل فقہ میں ا ٓجا تے ہیں اور قیا س شر عی کے بھی تما م مسائل فقہ میں آ جا تے ہیں ۔

فقہ کیا ہے ؟

تو فقہ کو سمجھا نے کے ایک چھو ٹی سی مثا ل عرض کر تا ہو ں کہ کیو نکہ وقت بہت کم ہے اب دیکھئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مکھی تمہا ر ے پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے غو طہ د ے کر نکا ل لر پھینک دو ، اب یہ الفا ظ تومجھے یا د ہیں ، اس کا ترجمہ یا د ہے لیکن ایک آ دمی آ گیا اس کے دود ھ کا گلا س ہے اس میں دو مچھر گرے ہوئے ہیں وہ کہتا ہے کہ یہ مچھر پڑ ے ہوئے ہیں ان کو کس طرح نکا لنا ہے اس کا مسئلہ کیا ہے ؟اب حد یث میں مچھر کا لفظ تو آ تانہیں کہ مچھر گر جائے تو کیسے نکا لا جائے اور سینکڑوں جانور موجود ہے جو چھوٹے چھوٹے ہیں وہ سارے گرجائیں تو کیسے نکالے جائیں نبی اقد س کی حد یث ہے اگر مکھی کسی چیز میں گر جائے تو اسے نکال لیا جائے اور وہ چیز استعما ل کی جا ئے ۔ اس کے لیے اب الفا ظ مجھے بھی آتے ہیں تھے ، تر جمہ مجھے بھی یا د تھا ۔ لیکن فقیہ نے مجھے یہ بتا یا کہ ان کے الفا ظ کے نیچے اللہ کے نبی نے ایک قا عدہ بیا ن فرما یا ہوا ہے جو ہر شخص کو نظر نہیں آ تا ۔ اجتہا د کی خو ر دبین لگا نے سے وہ نظر آیا کر تا ہے ، تو انہوں نے بتا یا کہ اس کے نیچے یہ قاعدہ یہ ہے کہ مکھی ایک ایسا جا نور ہے جس کی رگو ں میں دوڑ نے پھر نے والا خو ن نہیں اب ہر وہ ایسا جانور جس کی رگوں میں ایسا خون نہیں اس کو مکھی پر قیا س کر کے اس کا یہی حکم معلوم کر لیا جائے گا جو مکھی کا ہے تو مچھر کی رگوں میں بھی دو ڑ نے پھرنے والا خو ن نہیں اب مچھر کو مکھی پر قیا س کر کے نکا ل لیا گیا ، اسی طریقے سے بھڑ ہے جگنو ہے ، کیڑیاں ، ہیں چیو نٹیا ں ہیں ، ان کی رگوں میں بھی دو ڑ نے پھر نے والا خو ن نہیں اگر چہ حدیث میں ان کا لفظ نہیں آیاتو یہ پینے کی چیزمیں گر جا ئے تو کیا کیا جائے ؟لیکن فقیہ نے حدیث سے یہ قاعدہ اخذ کر کے ان سب کا حکم معلو م کر لیا اس کو کہتے ہیں فقہ یعنی کتاب وسنت کے الفاظ میں بہت سے مسائل ہیں اور بہت مسائل اس کی تہ میں اللہ تبا رک وتعالی نے مستور رکھے ہیں ان کو نکا لنا فقہ ہے۔

تقلید کیا ہے :

جس طرح سطح سمند ر کی سیر بھی انسا نی صحت کے لیے مفید ہے لیکن بہت سے موتی اس کی تہہ میں چھپا رکھے ہیں ، ان کو حا صل کر نے کے غو طہ خور کی ضرورت پڑ تی ہے ہر آدمی کا یہ کا م نہیں اب غو طہ خو ر نیچے سے نکا ل لا ئے اور ہم شکر یہ ادا کر کے ان سے حا صل کر لیں اس کو تقلید کہتے ہیں اور غیر مقلدیت یہ ہے کہ مجھے غو طہ لگا نا تو نہیں آ تا لیکن میں کہتا ہوں کہ میں اس میں غو طہ خو ر سے موتی لینے کے لیے تیا ر نہیں اب سب دانامجھے یہی سمجھا ئیں گے جب تو غو طہ خو ر نہیں تو غو طہ نہ لگا نا ، میں کہتا ہوں کہ جب یہ خو د غو طہ لگا کر نیچے سے لایا ہے تو میں بھی خو د نیچے جا ں گا تو اس کے بعد میں نے سب کے روکنے کے با وجو د غو طہ لگا دیا اب سا رے دیکھ رہے ہیں با قی غو طہ خو ر تو مو تی لے کر اوپر آگئے لیکن یہ خو د ہی اوپر نہیں آیا۔

تو تقلیدکہتے ہیں کہ غو طہ خو ر سے مو تی لے کو استعما ل کر لیا جائے اور اسی کو مقلد کہتے ہیں ، اور غیر مقلد کہتے ہیں جو خو د ڈوب کر مر جا ئے مو تی نصیب ہواور نہ اس کی زند گی باقی رہے تو اس لیے فقہ جو ہے یہ کتا ب وسنت کی تہہ سے مسائل کے دریا فت کر لینے کا نا م ہے اور دین کے مکمل مسائل صرف فقہ میں ملتے ہیں اور کسی علم میں نہیں ملتے تو یہ جو فقہا ءبنیں گے یہ کیا کام کر یں پور ی قوم کا اعتما د اپنے اس فقیہ پر ہو گا فتویٰ ان ہی کا چلے گا علما حضرات جا نتے ہیں کہ آیت میں جو لفظ لینذروا قومھم اذا رجعوں الیھم آیا ہے اندا زنذیر اوربشیر صفتیں دراصل نبیوں کی اللہ تبا رک وتعالی بیا ن فرماتے ہیں قرآن پا ک میں انا ارسلناک شا ھد ومبشرا ونذیرا (القرآن )

فقہا ءانبیا ءکے حقیقی وارث ہیں :

اس آ یت میں یہ صفت فقہا ءکی بیا ن کر کے فر ما دیا کہ نبیو ں کے اگرکا مل وارث ہیں تو صرف فقہا ءہیں اس لیے علا مہ سر خسی رحمة اللہ تعالی علیہ مبسوط کا خطبہ یہیں سے شر وع فرماتے ہیں الحمد اللہ الذ ی جعل ولا یة الا نذا ر للفقہاءبعد الا نبیا ء ....

اللہ تعالی کی تعریف ہے کہ تعریفیں خدا ہی کے لیے ہیں جس نے نبیوں کے وراث فقہا ءبنا دیئے ، تو اس آیت میں بھی فقہا کو نبیوں کا وارث قرار دیا گیا ہے یہاں انذار اوریحذرون بچنا اور ڈرا نا ان الفاظ پر غو ر کریں تو با لکل یہی مفہو م قانون ہوا کرتا ہے تو مطلب یہ کہ قانون صرف فقہ کا نافذ ہوگا جب بھی ہوگا ۔

فقہ کے بغیر چا رہ کا ر نہیں :

ایک دوست تقریر کر رہا تھا بڑ ے غصے میں کہنے لگا میں نے پکا ارادہ کر لیا ہے اور قسم کھا لی ہے فقہ کو ملک سے نکا ل کر دم لوںگا میں کہا کہ اللہ کے بند ے ابھی تک تو فقہ اپنے مفتیوں سے نہیں چھین سکا ، تیر ے مفتی ہما ری فقہ پر فتوے دے رہے ہیں

فتا ویٰ نذ یریہ میں فقہ حنفی کو حو الے ہیں ۔

فتاوٰی ثنا ئیہ میں فقہ حنفی کے حوا لے ہیں۔

فتاویٰ ستا ریہ میں فقہ حنفی کے حوالے ہیں۔

فتا ویٰ علمائے اہلحدیث میں فقہ حنفی کے حو الے ہیں۔

فتاویٰ غز نویہ میں فقہ حنفی کے حوالے ہیں۔

تو جو ابھی اپنے مفتیوں سے فقہ نہیں چھین سکا وہ فقہ کو ملک سے کیسے نکا ل دے گا ؟ میں نے کہا کہ آپ تو ابھی تک فقہ کو اپنے مد رسے سے نہیں نکا ل سکے تمہا رے مد ارس میں ہماری کتاب ہدا یہ پڑ ھا ئی جا رہی ہے ، شرح وقا یہ پڑ ھا ئی جا رہی ہے ،چندہ حدیث کے نام پر لیا جاتا ہے اور تنخو اہ فقہ پڑھا نے کی لی جا رہی ہے ، تو تم بتا ں کہ تمہا رے ہاں یہ تنخوا ہ جائز بھی ہے یا ناجائز ہے ؟تو میں نے کہا کہ اگر آپ نے ضرور تجر بہ کر نا ہے تو ملک سے نکالنے سے پہلے اپنے گھر سے پہلے نکا ل دیکھیں ایک گھر سے اس نے کہا کہ نکا ل دی ۔

اب جنا ب ظہر کا وقت آ گیا نما زپڑ ھنی ہے سب بیٹھے ہیں کہتا ہے کہ نماز پڑ ھو اس نے کہا کہ نماز کی تو شر طیں معلوم نہیں کہ کتنی ہیں کیو نکہ فقہ میں لکھی تھیں وہ تو ہم با ہر جا کر رکھ آئے ہیں ، نماز کی رکعتوں کی تقسیم کا علم نہیں کہ سنتوں کی نیت کتنی رکعتوں میں کر نی ہے ؟ فرض کتنے پڑ ھنے ہیں ؟نوافل کتنے پڑ ھنے ہیں ؟یہ تقسیم فقہ کی کتابوں میں تھی اب ہم پڑ ھیں کیا ، نماز کے ارکا ن کا پتہ نہیں ؟سجد ہ سہو کے مسائل کا ایک دو مسائل کے سوا پتہ نہیں چلتا ۔تو اب کیسے نما ز پڑ ھیں ؟وہ کہتا ہے کہ اس کا تو مطلب یہ ہو اکہ صرف فقہ سے ہم نہیں گئے بلکہ ہم تو خد اسے بھی گئے کیو نکہ خد ا کی عبا دت کر نے کا طریقہ ہمیں معلوم نہیں ہے ، تو اس نے کہااچھا چلو سو چتے ہیں صلح کر یں گے ان سے کھا نا تو لے آ ، اس نے کہا کہ کیا لا ں ؟کہتا ہے کہ دو د ھ لے آ اس نے کہا کہ دووھ تو بھینس کا ہے ۔اور بھینس کا لفظ قرآ ن میں بھی نہیں ہے اور حدیث میں بھی نہیں تو بھینس کا دو دھ تو فقہا ءنے قیاس سے جائز کیا تھا ، تو جب فقہ نکالی تو بھینس بھی ہم ان کے گھر با ند ھ آئے ہیں ۔نہ دو دھ قسمت میں رہا نہ چا ئے قسمت رہی نہ گھی قسمت میں رہا ، نہ مکھن قسمت میں رہا ، حتی کہ لسی تک قسمت میں نہیں رہی ، تو ایسی فقہ نکا لی اب کیا کریں ، اس نے کہا پھر اور کوئی چیز ،اس نے کہا کہ دال پکا ئی تھی پا نی میں وہ ہے ،اگر کہیں تو لے آ ں اس نے کہا کے چلو وہی لے آ اب ایسی ھنڈیاتھی اس نے ڈھا نکا نہیں ،اس میں جنا ب مچھر گر کر مر ا ہوا ہے چیو نٹیا ں گر کر مری ہوئی ہیں ، دو تین بھڑ یں اس میں بھنھنا رہی ہیں دو چا ر مکھیا ں ہیں اور آٹھ دس چیو نٹیاں اس میں مر ی ہو ئی ہیں اس نے کہا کہ اللہ کی بند ی اس کو صاف تو کر دیتی اس نے کہا کہ کیسے صاف کر تی ؟فقہ کے بغیر چیونٹیا ں نکلتی نہیں فقہ بغیر مچھر نکلتا نہیں ، فقہ کے بغیر بھڑ نکلتی نہیں فقہ کے بغیر جگنوں نکلتا نہیں فقہ کے بغیر تو یہ صاف ہی نہیںہو گا ، اس لیے جب فقہ کو گھر سے نکا دیا ہے تو اب کیا صورت ہو گی؟ اب تو یہی ہے کہ چیو نٹیاں کھا نی پڑ یں گی ، یہ بھڑ تو زبا ن کو کا ٹ کا ٹ کر کے کھا ئے گی یہ نکل نہیں سکتی کیونکہ وہ زبا ن جو فقہ کے خلا ف بو لتی ہے اس کا علا ج یہی ہے کہ بھڑ یں اس کو کا ٹ کا ٹ کر کے کھائیں اگر فقہ کو نہ ما نا تو یہ نکل سکتی نہیں ۔

فقہ سے دین غا لب رہے گا :

آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دین اس وقت تک غا لب رہے گا جب تک ایک جما عت جہا د میں مصروف رہے اور دوسری جما عت فقہ میں اس وقت تک فرمایا کہ دین کو سر بلند ی حا صل رہے گی ، مجا ہد ین کا کا م کیا ہے کہ ملک گیر ی ملک حا صل کر نا کیا کام ہے ؟(ملک حا صل کر نا )اور فقہا ءکا کا م کیا ہے ؟اس ملک میں اسلا می نظا م کو قائم کرنا تو اسی چیز سے سر بلند ی رہے گی نا ؟(جی )

فقہ حنفی کی ضرورت :

اب دیکھئے قانون جو ہے وہ نا فذ ہوا تو فقہ کی صورت میں نا فذ ہوا اب ہم جب مطا لبہ کر تے ہیں کہ فقہ حنفی کو نا فذ کیا جائے تو کئی طر ف سے آ واز یں اٹھ رہیں ہیں کہ فقہ کو ہم نہیں ما نیں گے صرف اسلا م کا قانون آ ئے اور کتاب وسنت کا قا نون آئے لیکن یہ ایک فریب ہے اس کو ذرا سمجھیں مثال سے ۔

آ پ کے ملک میں اس وقت کو ئی قانون چل رہا ہے یا نہیں ؟(چل رہا ہے ) ایک توآپ کے ملک میں ہوتا ہے متن قانون (آئین )اسی کانام کتا ب وسنت ہے جو آئین ہے اس نام کیا ہے (کتا ب وسنت )اور بعض اوقات آئین میں کوئی چیز قابل تشریح ہوتو قومی اسمبلی خو د اس کی تشریح کر تی دیتی ہے ،تو اس قو می اسمبلی کی جگہ اسلا م میں خلا فت راشدہ ہے اور ہر خلیفہ راشد اس اسمبلی کا خلیفہ راشد ہے تو اب دیکھئے کو ئی شخص صرف آ ئین کا نا م لے کر خلافت راشد ہ کو چھو ڑ نا چاہے قو می اسمبلی سے صرف نظر کر ے تو ہ ملک میںملک کے آئین کو چلا سکتا ہے (نہیں ) پھر اس کے بعد آپ کے ہر صوبے میں ایک ہا ئی کو رٹ ہوتی ہے اس کا چیف جسٹس جو ہے یہ قا نون سا ز نہیں ہوتا قانو ندا ن ہو تا ہے ۔ لیکن اپنے ملک کے قانون کا اتنا ما ہر ہو تا ہے کہ اس کا فیصلہ بطو ر نظیر قانون کی کتاب P.L.D,میں نقل کر لیا جاتا ہے ، اور جتنی ماتحت عدالتیں ہیں ڈی سی صاحب کے ہاں کیس آ ئے تو کمشنر صاحب کے ہاں کیس آئے سنئیر سول جج کے ہاں کیس ا ٓئے تو وہ اس کا فیصلہ P.L.Dکا حوالہ دے کر فیصلہ کر تا ہے اس کے حوا لے کے بغیر کو ئی فیصلہ نہیں کر تا ۔

جس کو آپ اپنی اصطلا ح میں ہا ئی کورٹ کا چیف جسٹس کہتے ہیں اس کو اسلا می اصطلا ح میں مجتہد کہا جاتا ہے ، مجتہد بھی قانون ساز نہیں ہوتا قانو کا ما ہر ہوتا ہے اور جس طرح دنیا وی مجتہد ین کے فیصلے ۔P.L,Dمیں محفوظ کر لیے گئے ہیں اسی طرح اسلا م کے مجتہد ین کے فیصلے P-L-Dمیں محفوظ کر لیے گئے یہ ہدا یہ ، یہ عا لمگیری ، یہ شر ح وقا یہ ، یہ کتا بیں بالکل ایسی حیثیت رکھتی ہیں اسلا م میں جس طرح آپ کے ملک میں P-L-Dکی کتا بیں ہیں اور بھی اسطرح ماتحت عدالتیں ا سP-L-Dکا حوالہ دیتی ہیں ، اسی طر ح جو مفتی ہیں وہ قال ابوحنیفہ  ، قال الشا فعی  ، قال احمد  ، کہ کر اپنا فتویٰ نقل کرتے ہیں لیکن بعض اوقات چیف جسٹس ایک ہوتا ہے اور بعض اوقا ت ایک فل بنچ بیٹھتا ہے جسے آپ کی اصطلا ح میں سپر یم کو رٹ کہتے ہیں ، اور اسلا م کی اصطلا ح اجما ع امت کہا جا تا ہے اب اگر کوئی آ دمی یہ کہے کہ صرف پا کستا ن کا آ ئین رہے اور یہ ہا ئی کو رٹ ختم کر دی جا ئیں ، سپر یم کو رٹ کو ملک سے ختم کر دیا جائے ما تحت ساری عدالتیں ختم کر دی جائیں تو کیا ملک کا نظا م چل سکتا ہے؟ (نہیں )آج کل تو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلا م تو آئے لیکن اسلا م میں قیاس شرعی اور اجتہا د اور فقہ کا دخل بالکل نہ ہو یہ با لکل ایسی ہی با ت ہے جس طرح کوئی یہ کہے کہ آئین پا کستان تو نا فذ رہے لیکن میں پا کستان میں رہتا ہوا ہا ئی کورٹ کے فیصلے کو قبو ل نہیں کروں گا اگر ہا ئی کو رٹ کا فیصلہ صوبے میں رہتے ہو ئے قابل قبو ل نہیں تو قانون نا فذ کو ن کر ے گا یہاں ؟اور قانو ن چلے گا کس کے ذریعہ سے ۔

کوئی آ دمی یہ کہے کہ قا نون اسلا م تو آئے لیکن اجما عی مسائل جو ہیں وہ بطو ر قانون نا فذ نہ کئے جائیں تو یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ میں ملک پا کستان میں رہتے ہوئے ملک کے پا کستان کی سپر یم کو رٹ کے فیصلے کو ماننے کے تیا ر نہیں ہوں تو کیا کوئی ملک کسی بے قوف کے کہنے سے ملک کے سپر یم کو رٹ کو ختم کر سکتا ہے ؟کیا کوئی صوبہ بغیر ہائی کو رٹ کے عدالت کے قانون کو آگے چلا سکتا ہے کوئی آ دمی یہ کہے کہ میں ضلع میں رہوں گا لیکن ڈی سی کے فیصلے کا پا بند نہیں ہوں گا میں ڈویژ ن میں آ با د ہوں گالیکن کمشنر کے فیصلے کا پا بند نہیں ہوں گا ۔کیو نکہ یہ پی ایل ڈی کے حو الے دیتے ہیں سید ھے آئین کے حوالے نقل نہیں کر رہے ، تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہ کہے کہ میں مسلمان تو کہلا ں گا لیکن اسلامی مفتیوں کے فیصلے ما ننے کے تیا ر نہیں ہو ں ، کیو نکہ یہ اپنے فتوے میں قال ابو حنیفہ لکھتے ہیں یہ قال الشا فعی  لکھتے ہیں یہ قال احمد لکھتے ہیں یہ قال ما لک لکھتے ہیں تو جس طرح ملک میں قانون نافذ ہوتا ہے اسی طرح ہر قانون ہوتا ہے جس طرح اس میں وہ  ہا ئی کورٹ کو بھی ضرورت ہے اس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا اور ما تحت عدالتوں کی بھی ضرورت ہے اس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ہے جب بھی کوئی عدالت کا فیصلہ سنتا ہے تو اسے ایک ہی پتہ ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ اس جج کی ذا تی رائے نہیں بلکہ پا کستان کے قانون کا فیصلہ ہے جب بھی کوئی ہائی کورٹ کافیصلہ سنتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک ہی با ت ہوتی ہے کہ یہ اس جج کی ذا تی رائے نہیں بلکہ آئین پا کستان کا ہی فیصلہ ہے با لکل اسی طرح حضرات ائمہ مجتہد ین وہ جو فقہ مر تب فرما گئے ہیں یہ ان کی ذا تی فیصلے نہیں بلکہ کتا ب وسنت سے وہ استنبا ط کر کے دئیے ہیں

اب میں آپ حضرات سے پو چھتا ہوں کہ آپ کے سا منے کو ئی آ دمی آئے ، وہ یہ کہے کہ مجھے ووٹ دو میں حکو مت بناں گا ، تو آپ پو چھتے ہیں کہ حکو مت بنانے کے بعد تیر ا منشو ر کیا ہوگا وہ یہ کہے کہ میں سا ری ہا ئی کورٹ کو بند کر دوںگا تمام سپر یم کو رٹ ختم کر دو ں گا تما م ما تحت عدالتوں کو ختم کر وںگا ، تو میں آپ سے پو چھتا ہوں کہ وہ کیا ملک میں قانون چلانے کی اہلیت رکھتا ہے (نہیں )ایسا آ دمی جو ہے وہ تو ہین عدالت کا مر تکب ہے یا نہیں (ہے)تو ایسے لوگ جو تو ہین عدالت کے مرتکب ہوتے ہیں وہ دراصل قانو ن کے ہی منکر ہوا کرتے ہیں ۔

اللہ تبا رک وتعالی نے تو یہ باتیں نہا یت آسا نی کے سا تھ سمجھا ئی ہیں کیو نکہ وجہ یہ ہے کہ فقہ کی ضرورت بہت زیا دہ ہے اور عوام کو ہے اس لئے ایسے انداز میں سمجھا ئی گئی ہے کہ یہ ضرورت کہ ہر آ دمی اس کو سمجھ جائے ۔

فقہ بز با ن قرآن :

قرآن پا ک سے جب یہ پو چھا گیا کہ فقہ کہتے کس کوہیں تو قرآن نے ایک مثال بیا ن فرمائی۔لعلمہ الذین یستنطونہ منھم :یعنی جس طرح جو پا نی اللہ نے زمین کے اوپر پیدا کیا ہے جو بہہ رہا ہے ، دریا ں کی صورت میں بہت سا پا نی ذخیرہ زمین کی تہہ کے نیچے چھپا رکھا ہے تواللہ نے پا نی کی مثال دے کر سمجھا یا کہ جتنا تمہا ری زند گی میں پا نی ضروری ہے خو اہ وہ تم کسی علا قے میں رہتے ہو اتنی ہی تمہا ری زندگی کے لیے فقہ ضروری ہے جس طرح تم پا نی کے بغیر گز ارہ نہیں کر سکتے اسی طرح تم فقہ کے بغیر گز ارہ نہیں کر سکتے ،لیکن آپ ہر جگہ پا نی پیتے ہیں یا کہ نہیں (پیتے ہیں ) استعما ل کر تے ہیں کہ نہیں ؟(کر تے ہیں ) اب وہ پا نی آپ

کسی کے کنو یں سے لے آ ئیں ،

کسی کے نلکے سے لے آئیں

کسی کے ٹیو ب ویل سے لے آئیں

آپ کے دل میں یہ کبھی وسوسہ پیداہوا کہ پانی نلکے والے آ دمی کا پیدا کیا ہوا ہے اللہ کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے ، کبھی آپ کے دل میں یہ وسوسہ آیا ہے کہ پا نی کنوا ں کھو دنے والے نے پید اکیا ہے کبھی آ پ کے دل میں یہ وسو سہ آ یا ہے کہ پا نی ٹیو ب ویل لگا نے والے نے پیدا کیا ہے ،خدا کاپیدا کیا ہوا نہیں ہے ، آ پ روزا نہ پا نی پیتے ہیں ایک نے راستے میں نلکا لگا دیا آپنے پا نی پیا پہلے خدا شکر ادا کیا کہ یا اللہ یہ تیر ی نعمت ہے اورپھر اس کے لیے دعا کی اے اللہ اس کو بھی خو ش رکھ جس نے گر می میں راستے میں نلکا لگا دیا اور تیرے پید اکر دہ پا نی کو ظاہر کر دیا ہے تا کہ اس کا استعما ل آ سان ہو جائے تو جس طرح ٹیو ب ویل میں پا نی ہے کنویں میں پا نی نلکے میں پا نی ہے یہ خدا کا ہی کا پیدا کیاہوا ہے یہ نلکا لگا نے والے نے آ سا نی بنا دی ہے ہمارے لیے تاکہ اس پا نی کا استعما ل ہما رے لیے آسان ہو جائے ورنہ ایک قطرہ بھی اس نے پا نی خود پیدا نہیں کیا ۔

تو اللہ تعالی نے لفظ استنبا ط یہاں استعما ل فرما کر یہ بات سمجھا دی کہ جس طرح ہر علا قے میں تمہیں پا نی کی ضرورت ہے اور پا نی پیتے ہوئے کبھی تمہیں وسوسہ نہیں آیا کہ نلکے کا پا نی خدا نے پیدا نہیں کیا ۔

اسی طریقہ سے آ ج تک آپ کے دل میں ایسا وسوسہ آیا کبھی ؟( نہیں ) اب اگر کوئی بیو قو ف اور پا گل یہ شو ر مچا ئے کہ دیکھو جو پا نی بر اہ راست آسما ن سے آ تا ہے اس کے نیچے یہ منہ کر کے پینا یہ خد ا کا پا نی پینا ہے نلکے سے پا نی پینا شر ک ہے کیو نکہ اس میں انسا نی محنت کا دخل ہو گیا ہے کنو ئیں سے پا نی پینا حرام ہے کیو نکہ یہ پا نی انسان نے محنت کر کے نکا لا ہے ٹیو ب ویل سے پا نی پینا شر ک ، کفر ہے ، بد عت ہے ، کیو نکہ اس میں انسا نی محنت کا دخل ہو گیا ہے ۔

تو دیکھو اللہ تعالی نے ہمیں ایسی آسا ن فہم مثال سے با ت سمجھا دی ، اب آپ سے پو چھتا ہوں کہ ایک فرقہ اور جما عت کھڑی ہو جائے کہ آپ ہمیں ووٹ دیں ہم ملک میں قانون بنا نا چا ہتے ہیں آپ ان سے پو چھیں کے آ پ کا منشو ر کیا ہے ، وہ کہیں جب ہم بر سر حکو مت میں آ ئیں گے تو کسی گھر میں نلکا نہیں رہنے دیں گے جب ہم بر سر حکو مت ا ٓئیں گے تو کوئی کنوا ں نہیں رہنے دیں گے جب ہم بر سر حکو مت آئیں گے تو کوئی ٹیوب ویل باقی نہیںرہنے دیں گے ، صرف با رش کے پا نی پر گز ار ہ ہو گا اس کے سوا کسی کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم خدا کے ما ننے والے ہیں ہم ان کے بندوں کے پیچھے لگنے والے نہیں تو آپ حضرات سے پو چھتا ہوں کہ کہ ایسا فرقہ ملک کو کا میاب کرے گا یا اجا ڑ ے گا (اجا ڑے گا)۔

تو اب دیکھئے یہ کہنا کہ ہم اسلا م چا ہتے ہیں لیکن اسلا می فقہ کا قانون نہیں آئے گا یہ با لکل ایسی ہی جہا لت ہے اور بے قوفی کی با ت ہے کہ ہم ملک میں قانو ن چا ہتے ہیں پا نی کی ضرورت ہے لیکن نلکے کی ضرورت نہیں نلکا ہوگا تو اکھا ڑ دیا جائے گا ٹیو ب ویل ہوگا بر با د کر دیا جانے لگا ، تو کیا ایسا فرقہ کبھی ملک کو چلا سکتا ہے ؟(نہیں ) جو فرقہ آج تک ہمارے سامنے اس با ت سے عا جز ہے کہ وہ ایک رکعت نماز کے مسا ئل نہیں بتا سکتا وہ بھی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں ملک کو چلا سکتا ہوں جو ایک رکعت نماز کے مسا ئل نہیں بتا سکتا جو چا ئے کی پیا لی میں پڑا ہوا مچھر نہیں نکا ل سکتا ہے جیسے جھو ٹے خدا کو مچھر نے ما ر ڈالا تھا یہ جھو ٹا مذ ہب تو ایک مچھر سے مر جا تا ہے ۔وہ مچھر سا منے ٹو ں ٹوں کر رہا ہے ہمت ہے تو نکا لو مجھے ارے جو مچھر سے ما ر کھا جا ئے وہ ملک کا قانون چلا سکتا ہے ؟ان کو کیا حق ہے کہ ملک میں قانون چلا نے کا نا م لیں ۔

فقہ بز با ن سید ولد آ دم ﷺ

صحیح بخا ری شر یف میں ایک اور مثال ہے ، آ نحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تبا رک وتعالی نے جو دین مجھ پر نا زل فرما یا اس کی مثال با رش کے پا نی کی ہے ، جب یہ با رش زمین پر نا زل ہو تی ہے تو زمین تین قسم کی ہو تی ہے ایک وہ زمین جہاں پا نی تالاب کی شکل بن کر کھڑا ہو جا تا ہے ، ایک وہ کھیت ہیں جس کو بخا ری شریف میں حضرت ﷺ نے ارض طیبہ ....فرما یا کہ وہ پا کیز ہ زمین اس نے اپنا سینہ کھو ل دیا اور پا نی اند ر جذب ہو گیا ، اب ہما ری زندگی کی تمام ضروریا ت اللہ تعالی نے اسی پا نی کی بر کت سے اس کھیت میں پیدا فر ما دی ہیں ہمیں گند م کی ضرورت ہے تو وہ تلا ب میں ہو تی ہے یا کھیت میں (کھیت میں) ہمیں گنے کی ضرورت ہے وہ کہاں ہوتا ہے (کھیت میں ) ہمیں جوا ر باجرے کی ضرورت ہے وہ کہاں ملتا ہے (کھیت میں ) ہمیں کپا س کی ضرورت ہے وہ کہاں ہو تی ہے (کھیت میں ) ہمیں آم ،انا ر ، کیلا ، سیب ، پھلو ں کی ضرورت ہے وہ کہا ں ہوتے ہیں ؟ہمیں پھو لو ں کی ضرورت ہے خو شبو کے لیے کہاں ہو تے ہیں ہمیں جڑ ی بوٹیوں کی ضرورت ہے دوا کے لیے وہ کہاں ہو تی ہیں ؟تو اس کو حضرت محمد ﷺ نے فقہ سے تعبیر فرمایا۔ تا لا ب کی مثا ل ہے حدیث کی کتاب کی جس طرح تا لا ب میں ہرپڑ ھا لکھا ان پڑ ھ اپنی آنکھو ں سے دیکھ لیتاہے قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ نظر آجا تے ہیں لیکن کھیت میں ہر ایک کو پا نی نظر نہیں آتا ، عقید ہ یہی ہوتا ہے کہ اس کھیت میں جتنی بھی فصل پیدا ہو تی ہے وہ سا ری اسی پا نی کی ہی بر کت ہے ، اب کھیت مکمل ہے تالاب اس میں مکمل چیز یں نہیں اس لیے یہ تا لا ب والا خو د بھی جا کر کھیت والے سے چیزیں وصو ل کرتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جتنے بھی محد ث ہوئے ہیں وہ کسی نہ کسی امام کے مقلد ہوئے ہیں محد ثین کے حا لات پر جو کتا بیں خو دمحدثین نے لکھی ہیں وہ چا رہی قسم کی ہیں ۔

طبقا ت حنیفہ

طبقات شا فعیہ،

طبقات ما لکیہ ،

طبقا ت حنا بلہ ،

طبقا ت غیر مقلدین نا می کو ئی کتاب کسی محدث نے محد ثین کے حا لا ت میں نہیں لکھی تیسری زمین وہ ہے جو ایک ٹیلہ تھا تو وہا ں پا نی نہ تالا ب کی شکل میںکھڑا ہواور نہ وہاں کھیت کی طرح فصل اُگی ، لیکن جو لوگ یہا ں آ با د ہیں ان کو بھی ضرورت زند گی کی ضرورت ہے یا نہیں (ہے ) اب یہ ضروریات زندگی حا صل کر نے پر کھیت والے کے پا س آ ئیں گے اور حا صل کر نے کے طریقے دو ہیں ایک جا ئز اور دو سرا نا جا ئز ہے تو جائز طریقے سے ان سے چیز لے لینا اس کو کہتے ہیں تقلید اور چور ی کر لینا گنے یہاں سے اکھا ڑے اور کھا گئے چھلیاں اگلے کھیت سے جا کر اتا ر لیں آخر زند گی تو بے چا رے نے گز ارنی ہے نا؟(جی ) تو اسے کہتے ہیں غیر مقلدیت تو اسی طرح

کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا

بھا ن متی نے کنبہ جو ڑا

لطیفہ :

بے چا روں کا کوئی مذ ہب ہی نہیں ، اس پر ایک لطیفہ یا د آ یا شا دی تھی کسی کی ، تو شادی میں مہما ن دوطرفہ ہوتے ہیں ، ایک برات کے سا تھ آ تے ہیں اور ایک لڑ کی کے گھر والوں کی طرف سے ۔ ایک آ دمی نے روٹی کھا نی تھی، ان کا رشتہ دار نہیں تھا اس نے کہا کہ کسی طرح میں بیٹھ جاں اب سو چنے لگا کہ بارات والوں میں بیٹھوں یا میل والوں میں بیٹھو ں ؟ تو سو چتا رہا آخر در میان میں بیٹھ گیا ایک جگہ اب با را ت بیٹھی ہے آپس میں تعا رف ہو رہا ہے کہ یہ کون ہے ، یہ کون ہے ، یہ لڑ کی کا سسر ہے چلتے چلتے رشتے پو چھتے جا رہے ہیں اب اس پر بھی آئے تو کون ہے ، اس نے کہا کہ میںلڑکی ٹٹورا ہوں ، یہ لوگوں نے کہا یہ کوئی نیا ہی رشتہ ہے غیر مقلدوں والا پہلے تو کبھی سنا نہیں ٹٹو را کیا ہوتا ہے ، اس نے کہا کہ لڑ کی کا باپ اور میں کسی زما نہ میں ٹٹو چلا یا کر تے تھے اب وہ سمجھ گیا کہ یہ صر ف کھا نے کا بہا نہ ہے ، یہ رشتہ ہم نہیں جا نتے تو غیر مقلدوں میں کوئی ایسا رشتہ تو ہوگامگر عام لوگوں میں کوئی ایسا رشتہ نہیں ہوتا ، انہوں نے کہا کہ آ پ جا ئیں ہمیں تو ایسے رشتے تو پہنچا نتے نہیں اب یہ بے چا رہ بڑا پر یشا ن ہو اکہ کھا نا کھانا تھا نیا رشتہ بھی گھڑا لیکن کھا نا نہیں ملا تو اس کے پا س ایک ڈنڈا تھا جو اس نے منہ کو لگا لیا اوربا جے والو ں کے پا س جا کر کھڑا ہو گیا لیکن اب جب با جے والے روٹی کھانے لگے با قیوں کے پاس با جے ہیں لیکن ایک ڈنڈا والاہے یہ کو ن ہیں اس نے کہا ٹھیک ہے تم سب رو ٹی کھا لو لیکن تم سا رے اپنا اپنا با جا بجا کر دکھا اب سب نے اپنا اپنا باجا بجا کر سنا یا جب اس کی بار ی آ ئی تو کہا تم بھی بجا میرا اکیلا نہیں بجتا سب میں ملا جلا بجتا ہے۔

تو بالکل یہی با ت غیر مقلدکہتا ہے کہ میرا اکیلا مذ ہب نہیں سب کا ملا جلا میرا مذہب ہے تو ان بے چا روں کا مسلک کیا ہے چو ری ڈاکے کا مسلک ہے دو چار مسئلے شا فعیوں سے چرا لیے کہتے ہیں کہ جی ہم تمہا رے جیسے ہیں ہم آپ جیسے ہیں ، ان کے سا تھ مل گئے اور پھر دو چا رمسئلے حنبلیو ں سے لے لیے ان کے پا س چلے گئے جی ہم آپ جیسے ہیں ، اب پاکستان میں ہما رے فر قے کے چند آدمی رہتے ہیں وہ با لکل یتیم ومسکین فر قہ ہے جو آپ کے پاس زکو ٰة ہو تو ہم یتیمو ں مسکینوں کو دے دیا کرو کیو نکہ اور دنیا میں ہما را فر قہ موجو د نہیں ہے۔

اتنے بڑ ے جہا ں میں کوئی ہما را نہیں ۔

فقہ کی مثا ل :

تو اب اندازہ لگا ئیں اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فقہ کی مثا ل دی ہے کھیت سے اور با قی جتنے لوگ ہیں ان کو بھی ضروریا ت زند گی کے کھیت کی ضرورت ہے یا نہیں (ہے )

اب ہم لوگ امام اعظم ابو حینفہؒ نے محنت کر کے جو کھیت پکا یا تھا س کی فصل کھا رہے ہیں اور عقید ہ یہی رکھتے ہیں کہ اس فصل کا پیدا کر نے والا خدا ہے ، اور اوپر محنت کر نے والا امام ابو حنیفہ ہیں ہم خدا کا بھی شکر ادا کر رہے ہیں اور امام ابو حنیفہ کو بھی دعا ئیں دے رہے ہیں ۔

اب آپ کے پا س کو ئی جما عت آ ئے ووٹ لینے کے لیے بھا ئی ووٹ لے کر آپ کیا کر یں گے ؟کہ ہم ملک میں قا نون چلا ئیںگے آپ کا منشو ر کیا ہو گا اس نے کہا اس نے کہا کے سب سے پہلے ملک میں سب کھیتوں کو آ گ لگا ئیں گے اجا ڑ دیں گے کیو نکہ کھیت مثال ہے فقہ کی اور یہ مثال میں نے اپنی طر ف سے بیان نہیں کی ،بخا ری شر یف میں اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے مثا ل بیا ن فرما ئی ہے تو دیکھئے جس طرح کھیت کی لیے پا نی ضروری ہے اس طرح اسلا می زندگی کے لیے فقہ ضروری ہے کوئی کھیت بغیر پا نی کے پنپ نہیں سکتا ۔

اور جو کھیت کا دشمن ہے وہ ملک کا دشمن ہے اسی طرح جو فقہ کا دشمن ہے وہ اسلا م کا دشمن ہے ، تو جب بھی قا نون آئے گا فقہ کی صورت میں آئے کاکہنا کہ اسلا م تو نا فذ ہو لیکن فقہ نافذ نہ ہو ، یہ ایسی بات ہے کہ ملک کے بارانی زمینیں رہیں لیکن کھیت وغیر ہ سے فصل ہم اگنے نہیں دیں گے بس بارش کا پا نی پی پی کر ہم گز ارہ کریں گے اور آ پ کو بھی با رش کے پا نی پر ہی رکھیں گے ۔

فقہ حنفی کیا ہے ؟اور فقہ جعفر ی کیا ہے ؟

اب ہم جب واضح دلیلو ں سے یہ با ت سمجھا دیتے ہیں کہ فقہ کے بغیر کبھی بھی کسی ملک میں کوئی قا نون نا فذ نہیں ہوا ، فقہ ہی کی شکل میں قانون آئے گا تو اب دو با توں سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے ۔

ایک تو یہ بات کہی جا تی ہے فقہ کتنی ہی ضر روی سہی لیکن آ پ نا م نہ لیں ، کیو نکہ فقہ حنفی کا نا م لیں گے تو وہ فقہ جعفر ی کا نا م لیں گے اس لیے آپ کم ازکم ان کا خیا ل کر یں آپ فقہ حنفی کا نا م لینا چھو ڑ دیں ۔

میں نے آپ سے پو چھا کہ فقہ کی بنیا د کتنی چیز یں ہیں (چا ر ) تو فقہ جعفری والو ں کا قرآن غا ر میں ہے ، تو ان کی فقہ کی پہلی بنیا دی ہی نہیں ، وہ فقہ کیسی جس کے بنیا د میں قرآن نہ ہو اور دوسری بنیا د سنت ہے تو شیعہ کے پا س حدیث کی کوئی کتاب ہی نہیں گو یا کہ دو سری بنیا د بھی موجو د نہیں ، اجما ع امت تیسری بنیا د ہے اس کو وہ ما نتے نہیں ورنہ صد یق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو خلفیہ بر حق ما ننا پڑ ے گا ور نہ فاروق اعظم ؓ کو خلیفہ بر حق ما ننا پڑ ے گا اس لیے کہ وہ اجما ع کو بھی ماننے کے لیے تیا ر نہیں ہیں ، تو فقہ کی تیسری بنیا د بھی ان کے پاس موجود نہیں اور چو تھی بنیا د قیا س شرعی ہوتا ہے کتا ب وسنت کو سا منے رکھ کر جب کتا ب وسنت ہی نہیں قیا س ہو گا کہاں سے ؟اس لیے ان کے پاس نا م ہے فقہ کا لیکن بنیا د ایک بھی نہیں تو وہ جھو ٹا نا م ہوا ۔

تو اب میں آ پ سے پو چھتا ہوں کہ دنیا میں لوگوں نے سچے خد اکے مقا بلے میں جھو ٹے خد ابنا ئے یا نہیں (بنا ئے ) تو کیا خدا کا نا م لینا اب چھو ڑ دیں ؟(نہیں ) اسی طرح اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا نا م لیں تو کوئی ڈرائے کہ وہ بیشک وہ سچے سہی لیکن اگر آپ نا م لیں تو قا دیا نی بھی مز ا غلا م احمد قا دیا نی کا نا م لیں گے اس لیے جھو ٹے نبی سے ڈر کر آپ سچے نبیﷺ کا نا م لینا چھو ڑ دیں تواس کو آپ عقل مند ی کہیں گے ؟(نہیں ) ضعیف اور جھو ٹی حدیثیں دنیا میں مو جو د ہیں یا نہیں ؟(ہیں ) اب میں نے پڑ ھی حد یث اور دوآ دمی کھڑ ے ہو جائیں مجھے مشو رہ دینے لگتی کہ آ پ با لکل کو ئی حدیث نہ پڑ ھیں خو اہ کتنی ہی سچی کیو ں نہ ہو ؟ورنہ لوگ جھو ٹی پڑ ھیں گے پھر تو کیا اس مشورے سے ہم سچی حدیثں پڑھنا چھو ڑ دیں گے ؟(نہیں ) آپ کے ملک میں جعلی کرنسی ہو تی ہے یا نہیں (ہو تی ہے ) اب مشورہ دے کہ خبر دار اپنے پاس کو ئی کھر اپیسہ بھی نہ رکھنا کیونکہ ملک میں جعلی کرنسی بھی موجو د ہے آپ کے پیسے پاس رکھنے سے ان کو خواہ مخواہ شہ مل جا ئے گی اور وہ جعلی سکہ بازارمیں چلانا شروع کر دیں گے تو کیا واقعی آپ اس ڈر سے اپنے سارے پیسے پھینک دیں گے ؟(نہیں )جعلی دوائیں دنیا میں بنتی ہیں یا نہیں ؟(بنتی ہیں )تو اب آپ یہی کہیں گے نا کہ خبر دار ! کو ئی اچھی دوانہ پینا کیونکہ ملک میں جعلی دوا فروش موجود ہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو بھی اس گناہ میں شرکت کر نی پڑے اور آپ کے اس صحیح دوا پینے کی وجہ سے ان لوگوں کا خواہ مخواہ حوصلہ بڑھ جا ئے اور وہ اپنی جعلی اور جھوٹی دوائیں بیچنا شروع کر دیں۔

تو میں آپ سے پو چھتا ہوں کہ کیا یہ جو بات ہے کہ اس طریقہ سے آپ سچ کو چھوڑ تے ہیں اور جھو ٹ کو مانتے ہیں تو فقہ میں با ت کیو ں نہیں ما نی جاتی ؟ہم کہتے ہیں کہ سچی فقہ کو ہم کسی صورت میں بھی چھوڑ یں گے نہیں جھوٹی فقہ کو کسی قیمت پر ما نی گے نہیں ؟

اور ڈراوہ دیا جاتا ہے کہ اگر ضرور ہی فقہ نافذ کر نی ہے تو آج کل کے وکلا میں جسٹس ہیں پر وفیسر ہیں ،عر بی جا نتے ہیں یہ بھی عربی سے واقف ہیں تو ان لوگوں کو بیٹھا دیا جائے یہ ایک فقہ مر تب کر لیں تو پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بات مجھے ایک غیر مقلدوکیل نے کہی ایک تقریر میں ، تو میں نے کہا کہ پہلے آپ یہ بتا ئیں کہ کل جج آپ کے ملک میں ہیں کتنے ہیں ؟کہتا ہے کہ تقریبا دو ہز ار ہیں میں نے کہا کہ پہلے ہیں چار مذا ہب ان میں صرف ایک یہاں ہے با قی تین مذ اہب یہاں نہیں ہیں لیکن آپ شور مچا تے ہیں کہ چا روں مذ ہبوں میں اختلاف ہے تو جب دو ہز ار فقہیں بنیں گی ان میں اختلا ف ہو گا یا نہیں ؟کسی ملک میں دوہزار فقہیں بیک وقت نا فذ ہو سکیں گی ؟( نہیں ) نافذ تو ایک ہی ہوگی تو خیر وہ فقہ جو خیرا لقروں میں مر تب ہوئی اس نے کیا گنا ہ کیا ہے کہ اس کو چھوڑ کر ان لوگوں کو بیٹھا یا جا ئے جو کردار کے ارعتبا ر سے زا نی بھی ہیں ، جو شرا بی بھی ہیں اور ان کو کہا جائے کہ تم قا نون اسلا می مر تب کر و جو اپنے جسمو ں کے لیے قانون اسلا می مر تب کر نے کے لیے تیا ر نہیں ، اصل بات یہی ہے کہ خدا کی کسی نعمت کی نا شکر ی کی جاتی ہے تو پھر اللہ تعالی عقل کو چھین لیتے ہیں انہوں نے فقہ کی نا شکر ی کی اب دیکھوں یہ امام اعظم ابو حنیفہ   کی فقہ کی کے خلاف رات دن بو لیں گے اگر کوئی زانی کہے کہ یہ فقہ ہے تو کہیں گے امنا وصدقنا کو ئی شرا بی کہے کہ میں فقہ بنا تا ہوں تو سارے اس کے پیچھے لگ جائیں گے،تو میں تو کہا کر تا ہوں کہ یہ خدا کاعذا ب اور قہر ہے کہ خیرا لقرون کے مقا بلے میں ایسی فقہ کی اجاز ت دینا اور ایسی فقہ کے پیچھے پڑ نا ۔

غیر مقلدین کی جہالت :

یہ لکھا ہے کہ مسئلہ تروایح ضروربیا ن کر یں کہ تروایح آٹھ ہیں یا بیس بھا ئی آٹھ اور بیس کا تو دنیا میں کوئی جھگڑا ہی نہیں ہے ، تروایح ہیں ہی بیس یہ جو لوگ آج کل جھگڑا ڈال بیٹھے ہیں ، یہ اصل میں جھگڑا آٹھ اور بیس کا نہیں ہے ، جھگڑا ہے کہ نماز تروایح کو ئی نماز ہے بھی یا نہیں ۔شیعہ کھل کر کہتے ہیں کہ نماز تروایح ہے ہی نہیں اور وہ پڑ ھتے بھی نہیں ۔اہل سنت والجما عت کھل کر کہتے ہیں کہ نماز تروایح ایک مستقل نماز ہے جو صرف رمضا ن شر یف میں پڑ ھی جا تی ہے جیسے جمعہ صرف جمعہ کے دن پڑ ھا جاتا ہے وہ بھی با قی گیا رہ مہینے میں نہیں پڑ ھی جا تی ۔

اب نہ تو غیر مقلددوں نے شیعوں کی طرح کھل کر انکا ر کیا اور نہ سنیوں کی طرح کھل کر اقرار کیا ، انہوں نے کہا کہ وہ جو تہجد والی نماز ہے گیا رہ مہینے اس کا نا م تہجد ہوتا ہے اور با رہویں مہینے اس کا نا م تر وایح ہوتا ہے نماز ایک ہی ہے گیا رہ مہینے نام اور ہوتا ہے بارہویں مہینے نا م اور ہوتا ہے ۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ میں گیا رہ مہینے میں اپنی بیوی کو بیوی کہا کرتا ہوں اور با رہو یں مہینے میں ماں کہا کرتا ہوں ، تو اب کوئی عقل مند پو چھے گا کہ اب وہ گیا رہ مہینے بیو ی رہی اور با رہو یں مہینے ماں کیسے بن گئی ؟

اب یہ کہتے ہیں کہ نماز ایک ہے لیکن فر ق ہو گیا ہے گیا رہ مہینے نا م تہجد با رہویں مہینے نا م تروایح گیا رہ مہینے اس کا وقت رات کا آخر ی حصہ اور با رہو یں مہینے وقت اس کا اول حصہ گیا رہ مہینے وہ اکیلے پڑ ھی جا ئے گی ، اور با رہو یں مہینے جما عت کے سا تھ پڑ ھی جائے گی گیا رہ مہینے گھر میں اور با رھویں مہینے مسجد میں ، گیا رہ مہینے اس میں قرآن ختم کر نا کوئی ضروری نہیں با رہو یں مہینے قرآن ختم کر نا ضروری ہے گیا رہ مہینے اس کا نا م نفل ہوگا اور با رہو یں مہینے اس کو سنت مو کدہ کہا جائے گا ، اب یہ جو چھ فرق ہیں انہوں نے بیان کیے ہیں ہم کہتے ہیں کہ اسی چھ فرق کی ایک حدیث ہمیں سنا دیں قیا مت تک یہ ایسی حدیث نہیں سنا سکتے کہ حضرت ﷺ نے خو د فرما یا ہو کہ گیا رہ مہینے اس کانا م یہ اور با رہو یں مہینے نا م اس کا یہ ہوگا ۔

تروایح کا معنی :

ان بے چا روں کو تو تروایح کا معنی بھی نہیں آتا تروایح جمع کا لفظ ہے اس کا واحدترویحہ ہے ، آپ چاررکعتوں کے بعد تھوڑی دیر آرام کرتے ہیں کوئی تسبیح پڑ ھ لی اس کو کہتے ہیں ترویحہ تو عر بی میں جمع تین سے شروع ہو تی ہے کم ازکم اس سے پہلے شروع نہیں ہوتی تو جب آ پ نے چا ر رکعت پڑ ھ کر ایک دفعہ آرام کیا تو ہم کہیں گے کہ یہ ترویحہ ہے ، آٹھ رکعتیں پڑھ کر پھر آرام کیا تو ہم کہیں گے ترویحتین دو تر ویحے ہو گئے ہیں تو با رہ رکعتیں پڑ ھ کرجب تیسر ی دفعہ آرا م کر یںگے کم ازکم اس پر تروایح کا استعما ل ہوسکتا ہے اس سے پہلے تروایح کا لفظ استعما ل ہو سکتاہی نہیں اگر ان بے چا روں کو تروایح کا معنی بھی آ تا ہوتا تو یہ کبھی آٹھ کے سا تھ لفظ تروایح استعما ل نہ کرتے ۔

غیر مقلدین کا دھو کہ :

یہ جوحدیثیں آ پ کو دکھا تے ہیں وہ سا ری تہجد کے بارے میں ہیں یہ ایسے ہی مثال سمجھیں ،آپ یہاں عصر کے کتنے فرض پڑ ھتے ہیں (چار)آج میں علا ن کرتا ہوں کہ عصر کے تین فرض ہیں آپ کہیں گے وہ کیسے ؟میں کہوںگا کہ حدیث شر یف میں ہے کہ ایک حد یث بھی پڑ ھ دیتا ہوں جس میں تین کا لفظ آ گیا تو مولوی صاحب اٹھے کہ آپ کو حدیث کیو ں نہیں ملی ہم خو اہ مخوا ہ ایک رکعت زیا دہ پڑ ھا تے رہے ،انہوں نے اس حدیث دیکھی ٹھیک لکھا تھا کہ تین رکعت لیکن سا تھ لفظ مغر ب کا تھا عصر کا نہیں تھا ، تو یہ مجھے کہنے لگے آپ نے تو عصر کی رکعتیں بتا نی تھیں ، یہ تو مغر ب کی رکعتیں ہیں تو میں کہتا ہوں کہ آپ کو نہیں پتہ کہ یہ عصر اور مغر ب ایک ہی نماز کے دو نا م ہیں ۔

با لکل یہی کیفت ان کی ہے ، کہتے ہیں کہ اما ں عا ئشہ صدیقہ ؓ فرما تی ہیں کہ رسول پا ک صلی اللہ علیہ وسلم رمضا ن اور غیر رمضا ن میں گیا رہ رکعت سے زیا دہ نہیں پڑ ھا کر تے تھے تو ہم کہتے ہیں کہ سا ری دنیا جا نتی ہے کہ جو نماز سارا سال پڑ ھی جا تی ہے اس کانام تہجد ہے تو یہ تہجد کی حدیث ہے ،تو کہتے ہیں کہ پھرتم کو پتہ نہیں ، یہ تہجد اور تروایح ایک ہی نماز کے دو نام ہیں ۔

اب ہم یہ پو چھتے ہیں کہ فاروق اعظم ؓ کے زما نہ میں جب بیس رکعت با جما عت ہوررہی تھی اما ں عا ئشہ صدیقہ ؓ حیا ت تھیں یا نہیں (تھیں ) ان میں نبی کی سنت کا اتنا جذ بہ تھا جتنا آج کے غیر مقلدو ں میںہے ؟(زیا دہ تھا ) وہ کیسے ؟پہلے آ ج کا جذ بہ سن لیں ۔

غیر مقلدین کا جذبہ اتبا ع سنت :

آج ایک آ دمی رمضا ن میں اس نے با لکل روزہ نہیں رکھا ، کوئی نماز نہیں پڑ ھی اس کے خلاف غیر مقلدکو ئی بھی اشتہا ر شا ئع نہیں کریں گے ، نہ اسے کچھ کہیں گے ، جا کر یہ ہماری بے چا ری تبلیغی جما عت ہے نا ، لوگوں نے ان کو نا م رکھا لسوڑہ پا رٹی یہ جس کو چمٹ جاتے ہیں اس کو ایک دفعہ میں دکھا دیتے ہیں ، آ گے اس کی مرضی ، تو دیکھئے ان کا کا م ہے بے نماز یوں کے پا س جا نا بے چا رے منتیں کر تے ہیں ان لے آ تے ہیں مسجد میں ایک دفعہ غیر مقلد کبھی بے نماز ی کے پا س نہیں جا تے جب ہما ر ی تبلیغی جما عت نے منتیں کر کے نماز پر لگا لیا اب وہ ہو گیا نماز ی ، اب یہ غیر مقلد آ جا تا ہے ، کو ئی ادھر سے آ ئے گا کو ئی ادھر سے آئے گا تیر ی نہیں ہوتی دوسرا ادھر سے آ ئے گا تیر ی نہیں ہوتی یہ فر قہ ہے نما زیوں کے دلوں میں وسوسے ڈالنے والا ، جب تک کوئی نماز نہیں پڑ ھتا اس وقت تک یہ کچھ نہیں کہتے جا کر ، تو یہی حا ل رمضا ن شر یف میں ہے جس نے پا نچوں نماز یں نہیں پڑ ھیں روزہ نہیں رکھا نہ اس کے خلاف کو ئی تقریر ہے ، نہ اس کے خلاف کوئی اشتہا ر ہے نہ کوئی انعا می چیلنج ہے ۔

اب جس بے چا رے نے روزہ رکھا ، پا نچوں جماعتوں میں تکبیر اولی میں شریک ہوا اب رات کو بے چا رہ تروایح بیس پڑ ھ بیٹھا ، جناب اس کے کپڑ ے پھا ڑیں گے بیس ہزار روپے کا چیلنج پچیس ہز ار روپے کا چیلنج اس بے چا رے نے یہ گنا ہ کر لیا بیس تروایح پڑ ھ کربیٹھا ۔

اب دیکھئے کہ فرشتے گیا رہ مہینے جنت کو آراستہ کر تے ہیں رمضا ن کی خو شی میں اور غیر مقلدگیا رہ مہینے میٹنگیں کر تے ہیں پچھلے سال خا نپور کی کس مسجد میں تروایح لڑ ائی نہیں کر ائی تھی اس دفعہ وہا ں جا کر ضرور لڑ ائی کر انی ہے ۔

اب آ پ بے چا روں کا مشن دیکھیں ہے کیا ، ہماری تبلیغی جما عت نماز پر لگا تی ہے اب یہ کہتے ہیں کہ تیر ی نہیں ہوتی تیر ی نہیں ہوتی یہ پھر بڑ ے خو ش ہیں ۔

یہ تبلیغی جما عت والے جب واپس جا تے ہیں نارا ئے ونڈ تووہا ں اپنی کا روائی سناتے ہیں ہم نے یہ کہا اور ہمیں یہ کہا ہم نے یو ں کیا ،یہ بھی رات بیٹھ جاتے ہیں اور کا روائی سنا تے ہیں ایک کہتا ہے کہ آج میں نے حا جیوں کو کہا تھا کہ تو بے نماز ہے دوسرا کہتا ہے کہ میں کہاتھا کہ تو مشر ک بھی ہے ، وہ کہتے ہیں شا با ش تو زیا دہ اچھا ہے تیسرا کہتا ہے کہ میں آ ج ساراد ن چھٹی لی تھی ، اور پھر پھر کر ایک ایک دو کا ن پر کہ رہا تھا کہ بے نماز ہو تمہا ری نماز نہیں ہوتی کہتے ہیں کہ جنت کا سر ٹیفکیٹ آ ج تو لے کر آ یا ہے ، سب کچھ تو کر کے آیا اتنا اچھا کا م ۔

اب دیکھئے بعض ہما رے حنفی دوست بھی ان کی دیکھا دیکھی نکل جا تے ہیں آٹھ پڑ ھ کر میں آپ سے ایک مسئلہ پو چھ کر ختم کر تا ہوں ظہر سے پہلے آ پ کتنی سنتیں پڑ ھتے ہیں (چا ر) یہ مو کد ہ ہیں یا غیر مو کد ہ ؟(مو کد ہ ) ایک مشو ر ہ میں آ پ کو دو ں گا مہینے میں آپ ایک دن چا ر کی بجا ئے دو پڑ ھا کر یں ٹھیک ہے ؟(نہیں ) کیو ں ؟مہینے میں ایک مر تبہ آ پ دیکھو آپ کے تصور میں بھی کبھی یہ بات نہیں آ ئے گی کہ ہم چا ر سنتوں کو دو پڑ ھیں آ ئے گی ؟ (نہیں ) اسی طرح بیس رکعت تروایح سنت مو کد ہ ہے جس طرح ظہر کی چا ر رکعتوں کو دو پڑھ کر لے جا نا نہ آ پ کا دل مطمئن ہو گا میں سنت پڑ ھی ہے جو لو گ آٹھ پڑ ھ کر چلے جاتے ہیں وہ دو سنتوں کو ضا ئع کر تے ہیں اور کس مہینے میں جس میں نفل کا ثواب فرض کے برابر ہوتا ہے دو سنتیں کو ن سی ضا ئع کر تے ہیں ایک تو یہ آ ٹھ پڑ ھ کر چلے گئے با ر ہ نہیں پڑھیں تو سنت پو ر ی نہیں ہو ئی دوسراقرآن بھی پو را نہیں سنا ایک قرآن پڑ ھنا یہ سنت ہے ۔

تواب اندازہ لگا ئیں رمضا ن شر یف میں تو لوگ کو شش کر تے ہیں نوافل بھی زیادہ پڑ ھے جا ئیں ، کو شش کر تے ہیں نا ؟(جی)اللہ کے نیک بند ے اور غیر مقلد بے چاروں کی تو یہ بات ہی نہیں دیکھو وہ نماز کے دشمن ہیں نا ؟(جی ) غیر مقلد تو خدا نے ان پر ایک عذاب بھیجا ہوا ہے شا ید آپ نے دیکھا ہوا ہے آ گے پیچھے خا رش ہویا نہ ہو نماز میں ان کو ضرور خا رش ہوتی ہے کبھی یہاں انگلی ہے کبھی یہاں ہے اب جب نماز شروع ہوئی تو اللہ تعالی ان پر خا رش مسلط کر دی ہوئی ہے بس جب نماز سے فارغ ہو ئے نہ کوئی خا رش نہ کچھ سکو ن سے نماز پڑ ھ سکتا ہی نہیں غیر مقلدیہ کہتا ہے کہ تمہا ری نماز نہیں ہوتی لیکن ان کا نقشہ دیکھنے والا ہوتا ہے ان کی کیسے ہوتی ہے ؟

تو اس لیے بیس رکعت تروایح جو ہیں یہ سنت مو کد ہ ہیں جو کہیں کہ آ ٹھ ہیں آپ صرف ان سے ایک با ت پو چھیں کہ آ ٹھ رکعت کے سا تھ تروایح کا لفظ اللہ کے نبی ﷺ نے کسی خلفیہ راشد سے کسی ایک صحا بی سے کسی ایک تا بعی سے کسی ایک تبع تا بعی سے دکھا دیں ہم پچیس ہز ار انعام دیں گے ۔

پو رے خیر القرون میں آ ٹھ رکعت کے سا تھ نما ز تر وایح کا لفظ ملتا ہی نہیں بیس کے سا تھ ہم دکھا ئیں گے ۔

حضرت علی اکھٹا کر تے ہیں قا ریوں کو فرماتے ہیں کہ تروایح پڑ ھا خمس ترویحات عشر ین رکعة تروایح کا لفظ سا تھ مو جو د ہے بیس رکعت کے سا تھ ہم دکھا سکتے ہیں لیکن آ ٹھ کے سا تھ تروایح کا لفظ یہ سا رے مل کر نہیں دکھا سکتے ۔

تو اس لیے ہما رے حنفی دوست اتنی سستی کرتے ہیں ان کے بارے میں کہ رہا ہوں کہ آ گے پیچھے تو لوگ تہجد کے لیے مشکل اٹھتے ہیں رمضا ن میں اٹھ کر بھی تہجد سے محرو م ہیں وہ تہجد نہیں پڑ ھتے لیکن آپ لوگ جو ہیں یہ تہجد بھی پڑ ھیں اور تروایح بھی بیس پو ری پڑھیں ۔

وآخر دعو نا ان الحمد للہ رب العلمین

٭٭٭٭٭٭

 

آن لائن مہمان

We have 13 guests and no members online