joomla templates

 

الفرق بین السنة والحدیث

مناظر اسلام تر جمانِ  اہل سنت وکیل احناف

حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی

(خطبات صفدر،جلد اول)

خطا ب بمقام جا معہ خیر المدارس ملتا ن پا کستان

الحمد للہ وکفی وسلا م علی عبا دہ الذین اصطفی اما بعد

تمہید :

دوستو بز گو!ہما رے ملک میں تین فر قے ایسے ہیں جو کتاب وسنت پر عمل کا دعویٰ کرتے ہیں ایک اہل سنت والجماعت حنفی (دیو بندی ) دوسرے بریلوی تیسرے غیرمقلدین جو اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں۔ اس بارے میں پہلے یہ بات سمجھنی ہے کہ عوام اس دھو کے میں مبتلا کر لئے جاتے ہیں کہ سنت کی نسبت بھی اللہ کے نبی پا ک ﷺ کی طر ف ہوتی ہے اور حدیث کی نسبت بھی اللہ کے نبی پا ک ﷺ کی طرف ہو تی ہے اسلئے عوام کو یہ کہا جاتا ہے کہ اہل سنت اور اہل حدیث میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ اس لئے اولا سنت اور حدیث کافر ق سمجھناضروری ہے غیر مقلدین کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ لوگوں کو یہی باور کرا یا جائے کہ سنت اور حدیث ایک ہی چیز ہے لیکن ان کی یہ بات کسی دلیل سے ثابت نہیں ۔

فر ما ن رسول ﷺ :

حضرت ابو ہر یر ہ ؓ سے حدیث مرو ی ہے کہ رسول اقدس ﷺ ارشاد فر ماتے ہیں کہ میری طر ف سے لوگ اختلا فی روایا ت بیا ن کریں گے ان میں سے جو حدیث کتا ب اللہ کے موا فق ہو وہ میری طر ف سے ہو گی اور جو کتا ب اللہ کے خلاف ہو وہ میری طرف سے نہیں ہوگی اور جو حدیث سنت کے موافق ہووہ میری طر ف سے ہو گی اور جو حدیث سنت کے خلاف ہو وہ میری طرف سے نہیں ہو گی تو اس سے معلوم ہو اکہ بعض احا دیث کتاب اللہ کے موا فق ہوتی ہیں اور بعض کتاب اللہ کے مخا لف ہو تی ہیں بعض حدیثیں سنت کے موافق ہوتی ہیں بعض سنت کے مخا لف ہوتی ہیں ۔

اس کا یہ مطلب نہیں معاذ اللہ رسول اکر مﷺ کو ایک کا م کا حکم تھا لیکن آپ اسکے خلاف کر تے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ ﷺ ایک کا م کر تے تھے تو بعد میں دوسرا حکم آ گیا مثا ل کے طو ر پر نماز کس طرف منہ کر کے پڑ ھنی چا ہیے ؟کچھ احا دیث ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقد س کی طر ف منہ کر کے نماز پڑ ھا کرتے تھے ، کچھ احا دیث ہیں کہ بیت اللہ شر یف کی طر ف منہ کر کے نماز پڑ ھا کرتے تھے ، تو اب جب قرآن پا ک میں حکم آیا کہ فو ل وجھک شطر المسجد الحرام ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ آ یت آچکی تھی اور حضو ر ﷺکو اس کا معنی نہیں آتا تھا اور آپ ﷺ بیت المقد س کی طرف منہ کر کے نما ز پڑ ھاکر تے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت کے آ نے سے پہلے حضرت محمد ﷺ بیت المقدس کی طر ف منہ کر کے نماز پڑ ھا کرتے تھے ، اس آیت کے آ نے کے بعد اس حدیث پر عمل جا ری ہوا جو کتا ب اللہ شریف کے موافق ہے ۔

اسی طرح احا دیث میں یہ بھی پتہ چلتا ہے صحا بہ ؓ نماز وں میں باتیں کر لیا کر تے تھے حضو رﷺ ان کو روکتے نہیں تھے اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ صحا بہ نے با تیں کیں اور حضور ﷺ نے ان کو رو کا کہ نماز میں کلا م کرنا جا ئز نہیں قرآن پا ک میں ہے قو موا للہ قانتین حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں جس طرح بخار ی ومسلم کی متفق علیہ حدیث میں ہے ہم کلا م کر لیا کرتے تھے ، جب یہ آیت نا زل ہو ئی قوموا للہ قا نتین ، تو پھر ہمیں خا موش رہنے کا حکم دیا گیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ آیت نازل ہو نے کے بعد بھی صحا بہ کر ام کو یا رسو ل اللہﷺ کو اس آیت کا معنی نہیں آ تا تھا اس لیے آپ با تیں کر لیا کرتھے بلکہ وہ الگ زما نے کی بات ہے اوریہ الگ زما نے کی بات ہے ۔

تو معلوم ہو اکہ کچھ احا دیث جو ہیں وہ کتا ب اللہ کے موافق ہیں اور کچھ کتا ب اللہ کے خلاف ہیں خلا ف ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ یا توو ہ منسوخ ہیں یا کوئی جھوٹی حدیث ہو گی اسی طرح کچھ احا دیث سنت کے موافق ہیں اور کچھ خلا ف ہیں -

سنت کیا ہے :

تو پہلے سنت کا مطلب سمجھنا چا ہیے کہ سنت سند اور راستے کو کہتے ہیں جو عام شاہراہ ہو اور کسی کھیت سے صرف ایک دو آ دمی گزر جائیں تو اس کو راستہ تو کیا پکڈنڈی بھی نہیں کہتے لیکن جہا ں رات دن لوگ چلتے ہیں وہ راستہ کہلا تا ہے تو حضور پا ک ﷺ کے کچھ کام ایسے تھے جو عام طور پر آپ عادتاً کرتے تھے ۔ جس طرح آپ بھی کچھ کا م عادتاً روزانہ کرتے ہیں اور کچھ کبھی کبھی ضرروتا کرتے ہیں مثلا ایک آ دمی نے اپنی عادت بنا لی ہے کہ وہ روزانہ فجر کی نماز کے بعد ایک پا رہ تلاوت کرتا ہے یہ اس کی عادت ہے ایک دن اس نے تلاوت نہیں کی اٹھ کر چلا گیا دوسرے نے اس سے پو چھا کہ کل آپ نے تلاوت نہیں کی تو اس نے کہا کہ میراایک دوست بیما ر تھا تو میں اس کی بیما رپر سی کے لیے چلا گیا تھا تاکہ دفتر جا نے سے پہلے یہ کام ہو جائے تو اب یہ ضرورت تھی ۔

کا م کے دو حصے :

تو جس طرح ہمارے کا م دوحصو ں میں تقسیم ہیں ایک کا م ہم عا دتا کرتے ہیں اور ایک ضرورتا کر تے ہیں اسی طرح یقینا نبی اقدس ﷺ کے کا م جو ہیں وہ دو حصوں میں تقسیم ہیں کچھ کا م حضور ﷺ عادتا فرماتے تھے اور کچھ ضرورتا فرماتے تھے احا دیث میں دونوں قسم کے کا موں کا ذکر آجا تا ہے جو کا م آپ ﷺ عا دتا فرماتے تھے وہ بھی مذکور ہیں اور ضرورتا فرماتے تھے وہ بھی اب ہم نے ان میں سے عمل کس پر کر ناہے؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ علیکم بسنتی تم نے میر ی عا دت کو عادت بناناہے اور میری سنت کو اپنا نا ہے ،

غیر مقلدین سے بات چیت :

ایک دفعہ ابو بکر داد غز نو ی کا بیٹا مجھے ملنے آیا میں گلشن اقبا ل کر اچی میں بیٹھا ہو تھا سا تھ ہی ان کا مد رسہ جا معہ ابو بکر ہے سا ت آ دمیوں کے سا تھ آکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ مجھے آپ سے ملنے کا بڑا شوق تھا ، میں نے کہا کہ خیر تھی کہنے لگا کہ سناہے کہ آپ اہل حدیث کے بڑ ے خلا ف ہیں تو میں نے اسی وقت کہا کہ میں تو اہل قرآن کا بھی بہت خلا ف ہو ں کیو نکہ وہ جس طرف جا نا چا ہتا تھا میں نے راستہ روک دیا وہ کہنے لگا کہ اہل قرآن کے تو ہم بھی بہت خلاف ہیں تھوڑی دیر بعد مجھے کہنے لگا کہ حدیث بری چیز ہے جوآپ اہل حدیث کے خلا ف ہیں میں نے کہا قرآن ہی بر ی چیز ہے جو آپ نے کہا کہ میں اہل قرآن کے خلاف ہوں کہتا ہے کہ وہ تو قرآن کا نا م لے کر دین میں جھوٹ بو لتے ہیں میں نے کہا کہ آپ حدیث کا نا م لے کر دین میں جھو ٹ بو لتے ہیں تو اس دور میں اہل قرآن وہ ہے جب دین میں جھو ٹ بو لنا ہوتو نام قرآن کا لیتا ہے کہ لوگ بے چارے ڈرجائیں گے کہ بڑا قرآن جاننے والا ہے اہل حدیث اس زمانے میں وہ ہیں کہ جب دین میں جھوٹ بولنا ہوتو حدیث کا نا م لےکر جھوٹ بو لتے ہیں پھر مجھے کہنے لگا کہ ہم تو اس لیے اہل حدیث ہیں کہ ہم فقہ کو نہیں مانتے ۔

میں نے کہا اس پر دلیل چاہیے کہ جو فقہ کو نہ ما نے اس کو اللہ نے یا اللہ کے رسول ﷺ نے اہل حدیث فرمایا ہو ہم نے تو یہ پڑ ھا ہے کہ فقہ کے مخالف کو اللہ کے نبی ﷺ نے شیطا ن فرما یا ہے فقیہ واحد اشد علی الشیطن من الف عا بد اس لئے ہم فقہ کے منکر کو شیطا ن سمجھتے ہیں ۔اہل حدیث نہیں سمجھتے ہاں اگر آپ کو ئی حدیث سنا دیں کہ حضور ﷺ نے فرما یا تھا کہ جو فقہ کا انکا ر کرے اس کو تم اہل حدیث کہا کرو تو ہم صبح آ پ کو شیطا ن کہہ دیا کریں گے اور شام کو اہل حدیث کہہ دیا کریں گے تا کہ دو نوں حدیثو ں پر سا تھ ساتھ عمل جا ری رہے ہم کسی حدیث کا انکار نہیں کرتے ۔

پھر میں نے پو چھا کہ تم سے کس نے کہا تھا کہ تم اہل حدیث بننا ۔مجھے کہنے لگا آپ کو کس نے کہا تھا کہ آپ اہل سنت والجما عت بننا میں نے کہا مجھے تو میرے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ علیکم بسنتی وسنة الخلفاءالرشد ین المھدیین علیکم بسنتی میں اہل سنت آ گیا اور خلفا ئے راشد ین میں والجماعت آ گیا ، آپ مجھے دکھا دیں علیکم بحدیثی تو کہنے لگا کہ حدیث اور سنت ایک ہی چیز کا نا م ہے میں نے کہا کہ آپ کی یہ بات بھی غلط ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اختلا فی احا دیث میں بعض حدیثیں قرآن کے خلاف ہوں گی بعض سنت کے خلا ف ہو ں گی تو اس سے پتہ چل گیا کہ سنت اور حدیث ایک چیز نہیں اور یہ بھی پتہ چل گیا کہ اہل سنت اور اہل حدیث میں فر ق کیا ہے ؟

حدیث اور سنت :

اہل سنت وہ لوگ ہوں گے جو اختلا فی حدیثوںمیں ان حدیثوں پر عمل کر یں گے جو کتا ب اللہ کے موافق ہیں اور اہل حدیث وہ ہوں گے جو حدیث کی کتا بوں کا مطا لعہ کر کے ایسی حدیثیں تلا ش کریں گے جو قرآن پا ک کے خلاف ہوں کہ یااللہ ! کو ئی حدیث قرآن کے خلاف مل جا ئے تا کہ ہم بھی عمل کرلیں ۔اہل سنت وہ لوگ ہیں جو اختلافی احادیث میں ان احادیث پر عمل کرتے ہیں جو سنت کے موافق ہوں اہل حدیث وہ ہوں گے کہ جو ایسی چیزیں اور حدیثیں تلاش کریں گے جو سنت کو مٹانے والی ہوں جو سنت کے خلاف ہوں ،

جس طرح قرآن پاک تلاوتاً تواتر سے ثابت ہے جو چیز تواتر سے ثابت ہو وہ ہر جگہ پھیل جاتی ہے جیسے وضو میں کلی کر نا اگر چہ حدیث میں آیا ہے لیکن اس نے مقام سنت کا حاصل کر لیا آپ دنیاکے جس ملک میں جائیں وہاں مسلمان وضو کر رہے ہوں گے تو وہ کلی بھی کررہے ہوں گے تو جہاں،جہاں سورج کی روشنی پھیلی وہاں وہاں سنت بھی پھیلی ۔

لیکن اسی طرح احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ حضورﷺ وضوکے بعد بیوی سے بوس وکنا ر فرماتے لیکن یہ عمل پھیلانہیں آپ وضو کریں اور اس میں کلی جان بوجھ کر نہ کریں تو یقینا آ پ کا دل آپ کو جھنجھوڑے گا کہ آج وضو مکمل نہیں ہوا ایک سنت ضائع ہو گئی ہے اور سنت کا ثواب کم ہوگیا ہے اور آپ نے کتنے وضو کئے اور بیوی سے بوس وکنا ر نہیں کیا تو آپ کے دل میں کبھی یہ وسوسہ اور شبہ آیا کہ آج وضو کا ثوا ب کم ملا ، کیو نکہ حدیث میں یہ بات بھی ہے اور وہ بات بھی لیکن وہ سنت بن چکی ہے اور یہ درجہ حدیث میں رہی ہے ۔سنت کے درجہ میں نہیں ہے ۔

تو اس لئے اہل سنت اور اہل حد یث کی پہچا ن ایسے کی جاتی ہے کہ وضو دو نوں نے کیا تو اہل سنت تو وضوکے بعد جماعت کے اند شا مل ہو جائے گا کہ مجھے جما عت مل جائے اور کعت نہ چھوٹ جائے اور اہل حدیث وضو کے بیوی کی تلا ش میں جائے گا کہ میں بو سہ لے لوں تاکہ اس حدیث پر عمل نہ رہ جائے ۔

توہم اہل سنت ہیں ، اہل سنت ان احا دیث پر عمل کر تے ہیں جو کتاب اللہ کے موافق ہوں ، سنت رسول اللہ کے موافق ہوں اس سے ایک بہت اہم بات معلوم ہوئی کہ سنت کا ثبوت اتنا واضح ہوتا ہے کہ جیسے سورج تو لھذا سنت کی تحقیق کے لیے سندوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور حدیث وہ جو سنت کے درجے تک نہیں پہنچی اس کی حیثیت ہوتی ہے پہلی رات کے چا ند کی تو پہلی رات کے چا ند کے لیے تو غور کی ضرورت بھی پڑ جا تی ہے پھر گواہ دیکھیں جا ئیں گے کہ عادل ہیں بھی یا نہیں تو اس لئے حدیث جو ہے یہ سندوں کی محتاج ہے جس طرح متواتر قرآن پا ک سندو ں کا محتا ج نہیں متو اتر سنت بھی سندو ں کی محتا ج نہیں ہے تو ا س لئے یقین تواتر سے ہوتا ہے سندوں سے نہیں ہوتا وہ زینت کے درجے میںہوتی ہے ۔

ظنی اور یقینی :

غیر مقلدوں کا دین ظنی ہے اور ہمارا دین یقینی ہے کیو نکہ ہم سنت پر عمل کرتے ہیں پھر یہ کہ حضور ﷺ نے فرما یا علیکم بسنتی اور علیکم بحدیثی تو نہیں فرمایا کیو نکہ حدیثوں میں منسوخ حدیثیں بھی ہوتی ہیں سنت ایک بھی منسوخ نہیں ہوتی سنت تو کہتے ہی اس کو ہیں جس پر عمل جا ری رہا فرمایا کہ العلم ثلا ثة علم تین چیزوں کا نام ہے آیة محکمة وسنة قائمة وفریضة عادلة تو سنت اس کو کہتے ہیں جو قائم رہے تو اس لئے عین ممکن ہے کہ اہل سنت والجماعت کے مقا بلے میں اہل حدیث وہ ہو جو منسوخ باتوں پر عمل کررہا ہودوسرایہ کہ اہل سنت اس کو کہتے ہیں جو سنتوں پر عمل کرے اور ہر ہر سنت قابل عمل ہو تی ہے کوئی اہل سنت یہ نہیں کہتا کہ سنتوں میں سے کو ئی ایسی بھی سنت ہے جو قا بل عمل نہیں کیو نکہ سنت تو عملا متواتر ہے لیکن اہل حدیث کبھی یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ ہر ہر حدیث قابل عمل ہے وہ کسی حدیث کو ضعیف کہتاہے کسی کو مو ضوع کہتا ہے کسی کوحسن کہتا ہے کسی کو صحیح کہتا ہے کسی کو مسند کہتا ہے اگر اللہ کے نبی ﷺ فرماتے کہ علیکم بحدیثی پھر اتنی قسمیں ہوتیں توکوئی صحیح اہل حدیث ہوتا کوئی موضوع اہل حدیث ہوتا کوئی مسند اہل حدیث ہوتا کوئی حسن اہل حدیث ہوتا کوئی ضعیف اہل حدیث ہوتا تو جنتی حدیث کی قسمیں تھیں اتنے ہی اہل حدیث بن جاتے چو نکہ دین پر عمل کر نے کا حکم ہے ہر سنت قابل عمل ہے لیکن ہر حدیث قابل عمل نہیں کیو نکہ کوئی منسوخ بھی ہو سکتی ہے کوئی ضعیف بھی ہو سکتی ہے تواس سے معلوم ہوا کہ اہل سنت کے مقا بلے میں جو فرقہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہتا ہے وہ عین ممکن ہے کہ وہ کسی ضعیف حدیث پر عمل کر رہا ہو ، اس لیے اسے ضعیف اہل حدیث تو کہا جا سکتا ہے ،منسو خ حدیث پر عمل کر رہا ہے اس لئے اسے منسوخ اہل حدیث تو کہا جاسکتا ہے اہل حدیث اس کے لیے لفظ استعما ل کر نا صحیح نہیں ہے ، تو اس لیے سنت اور حدیث کا فر ق حدیث میں بھی موجو د ہے اور عر ف میں بھی موجود ہے ۔

مثلا داڑھی کو ہر ایک کہتا ہے کہ سنت ، اگر آپ کہیں کہ داڑھی حدیث ہے تو سب کہیں گے کہ یہ پہلی اصطلا ح ہے پہلے کبھی سنا نہیں اگر حدیث اور سنت با لکل ہم معنی ہو ں جس طرح النکا ح من سنتی نکا ح سنت ہے کوئی یہ نہیںکہتا میری بیوی حدیث ہے ۔ یہ نکا ح کے موافق ہے ۔

لطیفہ :

یااسی طرح ایک لطیفہ آیا سیف المقلدین مولا نا عبدالعزیز پشا وری نے لکھا ہے فارسی میں ان کی کتا ب ہے اس میں لکھتے ہیں کہ سب سے پہلا غیر مقلدجو پشاور میں آیا اس کا نا م حافظ محمد صدیق تھا ان بے چا روں کا دین دوتین مسئلوں کا ہوتا ہے باطل ہمیشہ ایک دو مسئلے ہوتے ہیں قدریہ کا ایک ہی مسئلہ تقدیر ہے انہوں نے جہاں بیٹھنا ہے انہوں نے یہ بات کرنی ہے یہ بے چا رے اس طرح آ گئے رفع یدین پر ، بریلوی حا ظر ناظر پر دو چار سب کے مسئلے ہوتے ہیں مکمل دین تو ان میں سے کسی کے پا س بھی نہیں ہوتا ۔

اب نئی بات کو جب ہی لوگ ما نیں گے جب تک پر انی بات کی غلطیاں نکا لی جائیں کہ حنفی سارے غلط ہیں اس لئے وہ حنفیوں کے خلاف بولتا ہے اور اپنا دعویٰ کرتا ہے کہ ہم سچے دین پر ہیں مو لا نا فرماتے ہیں کہ میں نے دو طالب علم بھیج دیئے کہ اس کی جمعے کی تقریر میں عوام کے سا منے اس سے سوال کرو تاکہ پتہ چلے کہ اس کو کچھ آتا ہے یا نہیں ؟ انہوں نے طلبا ءکے ذریعے سوال جو لکھ کر بھیجا وہ یہ تھا کہ فرض اور سنت کی تعریف کیا ہے اور دونوں میں فر ق کیا ہے ؟ اب یہ ضروری سوال تھا لیکن غیر مقلدوں کے بس کی بات نہیں ہے۔

اس نے کہا فرض وہ ہوتاہے کہ جس کا ہمیشہ کر نا لا ز م اور ضروری ہو اور سنت وہ ہوتی ہے جس کو کبھی کیا جائے اور کبھی چھوڑا جائے اس کے بعد اس نے بڑا زور دیا کہ آج کل لوگ بے وقوف ہیں دین سے نا واقف ہیں جاہل ہیں دین کو بد ل رہے ہیں یہ سنتوں کو بھی اتنا ضروری سمجھتے ہیں جتنا فرض حا لا نکہ ضروری ہے کہ فرض کو فرض کے درجے میں رکھا جا ئے اور سنت کو سنت کے در جے میں رکھا جائے اور فر ض پر ہمیشہ عمل ہو اور سنت کبھی عمل کیا جائے اور کبھی چھوڑ ا جائے وہ اس کو بڑے جو ش سے بیان کر تا رہاتھا اب یہ بھی طا لب علم تھے ان میں سے ایک جلد ی سے بو لا کہ آپ کے چہر ے پر جو داڑھی ہے یہ فرض ہے یا سنت ؟اگر فرض ہے اس کی دلیل کیا ہے اگر سنت ہے تو جس دن سے رکھی اس سے پو چھا ہے کہ کد ھر جارہی ہے تو اس لئے آپ دین میں تحر یف کر رہے ہیں ایک ہفتہ داڑھی رکھا کریں اورایک ہفتہ منڈوایا کریں تا کہ لوگوں کو دھو کہ نہ ہو کہ داڑھی فرض ہے اور سنت کودیکھ کر لوگوں کو یقین ، ہو دوسراطالب علم زیاد ہ ذہین تھاا س نے کہا کہ حدیث پا ک میں النکاح من سنتی نکا ح میری سنت ہے لیکن آپ نے جب سے نکاح کیا بیوی کو سا تھ رکھا ہوا ہے تو دیکھو دین میں کتنی تحریف ہورہی ہے آپ ایک مہینہ اپنے پاس رکھا کریں ایک مہینہ ہمیں دیا کریں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کے بیوی کو رکھنا سنت ہے فر ض نہیں ۔

مو لا نا نذ یر صاحب فرماتے ہیں کہ جمعہ کے بعدروتا ہوا میرے پا س آیا اور ہا تھ جو ڑ کر کہہ رہا تھا کہ میں آپ کو کچھ نہیں کہتا ، آپ ا ن لڑ کوں کو میر ے پا س نہ بھیجا کریں مجھے بڑی تکلیف ہو تی ہے یہ بہت زیا دہ تنقید کرکے آئے ہیں ۔

حدیث کی پہلی مثال :

دیکھو ان بے چاروں کا علم تو اتنا ہی ہو تا ہے تو اس لئے میں بتا رہا ہوں کہ سنت تو عملی تواتر سے ثا بت ہوتی ہے اب دیکھئے ہمیں دو حدیثیں ملیں ایک بخا ری ، مسلم میں مل گئی کہ حضور ﷺنے کھڑ ے ہو کر پیشا ب کیا بلکہ صحا ح ستہ کی ہر کتاب میں اور ایک تر مذی ابودا دمیںمل گئی کہ حضور نبی کریم ﷺ نے بیٹھ کر پیشا ب فرمایا ، اب ہم ان دونو ں کو پڑ ھ لیں گے لیکن عملی طور پر دیکھیں گے کہ امت میں تواتر سے جو عمل پھیلا ہے وہ کھڑ ے ہو کر پیشا ب کر نے کا پھیلا ہے یا بیٹھ کر پیشا ب کر نے پھیلا ہے ۔

تو جو حضور نبی کریم ﷺکے زما نہ سے آ ج تک عمل پھیلا ہے اس کو سنت کہا جا ئے گا تو یہ کہا جائے گا کہ بیٹھ کر پیشا ب کر نا سنت ہے اور کھڑے ہو کر پیشا ب کر نے کی حدیث تو ہے لیکن اس کو سنت نہیں کہا جائے گا ، اب عمل کس پر کیا جائے گا ، جس پر حضرت نے فرمایا تھا علیکم بسنتی تم میر ی سنت کواپنا نا تو اس لئے جو بیٹھ کر پیشا ب کر تا ہے وہ اہل سنت کہلائے گا اور کھڑ ے ہو کر پیشا ب کرے گا ، خو اہ مر د ہو یا عورت وہ اہل حدیث کہلا ئیں گے کیونکہ وہ حدیث پر عمل کررہے اوراسے یہ بھی پتہ ہے کہ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور جو بیٹھ کر پیشا ب کر نے کی حدیث ہے وہ متفق علیہ نہیں ہے ۔

تو چو نکہ میں نے عرض کیا کہ سنت جو ہے اس کا ثبوت تو عملی تواتر سے ہوتا ہے یہ سندوں کی محتا ج نہیں ہوتی تو اس لئے جنہوں نے سندوں پر ہی سا رے دین کا مدار رکھا ہے وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اس کی سند بخا ری مسلم میں ہے یا ابو داود میں ہے کیو نکہ ان کے ہاں وہ سند راجح ہوتی ہے جو متفق علیہ ہو تو اس لئے اس لئے ان کو (کھڑ ے ہو کرپیشا ب کر نے کی طرف ) جا نا چا ہتے ہیں تو ہم انہیں یہی کہیں گے کہ ٹھیک ہے آپ اہل حدیث بنتے ہیں بنیں ہمیں حضرت نے علیکم بسنتی فرمایا ہے اس لئے ہمیں بیٹھ کر ہی پیشا ب کر نے دیا کریں ہم اہل سنت والجماعت ہیں ۔

ہاں اگر آپ لوگ اہل حدیث ہی بننا چا ہتے ہیں تو ہم آپ کی مدد کرنے کو تیار ہےں جب دیکھا کہ جب کوئی غیر مقلدبیٹھ کر پیشا ب کر رہا ہے عورت ہو یا مر د تو اسے پیشاب کر تے کر تے کھڑا کر دیا کہ تو تو اہل حدیث ہے تو کب سے اہل سنت بننے لگا تو اس لئے یہ کا م ہم کر سکتے ہیں تاکہ اہل حدیث بننے میں آپ کی مدد کر سکیں تو چو نکہ ہم اہل حدیث نہیں بننا چا ہتے ، اور ہم چو نکہ اہل سنت ہی رہنا چا ہتے ہیں اس لئے بیٹھ کر پیشا ب کریں گے ،

یہاں سے ایک بڑ ی اہم بات وہ بھی سمجھ لیں کہ اب جو کھڑے ہو کر پیشاب کر رہا ہے اور بیٹھ کر پیشا ب نہیں کرتا وہ لوگوں میں ایک جھوٹ بو لتا ہے کہ میں بخا ری مسلم کی حدیث پر عمل کر رہا ہوں اور یہ لوگ فقہ حنفی پر عمل کررہے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ ایک طرف حدیث ہے اور ایک طرف فقہ حنفی ہے حا لا نکہ یہ جھوٹ ہے وہ حدیث پر عمل کرکے فقہ پر اعتراض نہیں کر رہا بلکہ اللہ کے نبی ﷺ کی سنت مٹا رہا ہے ۔

جس طرح حضور نبی کر یم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اختلا فی احا دیث میں ایسی حدیثوں پر عمل کریں جو اللہ کے نبی ﷺ کی سنت کو مٹا نے والی نہ ہوں تو اس دور میں اہل حدیث وہ ہے جو ان احا دیث پر عمل کر ے جو رسول اللہ ﷺ کی سنت کو مٹا نے والی ہوں ۔

حدیث کی دوسری مثا ل :

ایک مثال اور دیتا ہوں دیکھئے روزے میں سحر ی کھا نا سنت ہے اس کا ذکر بھی حدیث پا ک میں ہے ، اگر ایک دن آپ کی سحر ی رہ گئی تو آپ اس دن با ر با ر کہتے ہیں کہ آج سحر ی رہ گئی ہے آج سنت پور ی نہیں ہو ئی اور روزے کی حا لت میں بیو ی سے بو س وکنار کر نا اس کا ذکر بخا ری ومسلم کی متفق علیہ حدیث میں ہے بلکہ صحا ح ستہ کی ہر کتا ب میں ہے اب یہ سنت نہیں ہے لیکن کتنے روزے آپ نے رکھے جن میں بیوی سے بو س وکنا ر نہیں کیا تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ بڑافسوس ہے کہ آج میرا روزہ سنت کے خلاف ہو گیا ہے اس لئے کہ بیوی سے بو س وکنا ر نہیں کیا ، اہل سنت تو وہ ہے جو روز ہ رکھ لے اور عبادت میں مشغول ذکر کر تا ہے ، تلا وت کرتا ہے اور اہل حدیث وہ ہے جو روزہ رکھ کر صرف بیو ی کو چا ٹنا شروع کر دے اور جب تک رو زے میں ہے یہی کا م کرتا رہے تاکہ وہ اہل حدیث رہے تو اہل حدیث کی پہچا ن یہ ہے اہل سنت کے نزدیک روزے کی حالت میں اگر وہ بیوی کو چا ٹ رہا ہے تو وہ سنت کے خلاف کا م کررہا ہے یہ سنت نہیں ہے ۔

اس لئے سب سے پہلے یہی ہے کہ ہم اہل سنت ہیں اور وہ اہل حدیث کہلا تے ہیں ،تو اہل حدیث بننے کا ہم کو حکم نہیں دیا گیا ہمیں اہل سنت والجما عت بننے کا حکم دیا گیا ہے۔

لاہور میں خطا ب اور غیر مقلدین کی بو کھلا ہٹ :

یہ تقریر سب سے پہلے میں نے لا ہور میں کی تھی احسا ن الہی ظہیر بھی پاس غیر مقلدوں کے مکا ن پر بیٹھا تقریر سن رہا تھا، وہ مو لا نا ضیاا لقا سمی صاحب کا دوست تھا ، اس نے کہا کہ یہ امین نے جو سنت اور حدیث کے فرق پر تقریر کی ہے اس نے ہمار ی کمر توڑ کر رکھ دی ہے کیو نکہ ہم اسی دھو کے پر چلا تے تھے کہ نبی ﷺ کی حدیث ہی نبی ﷺ کا طریقہ ہے لہذانبی ﷺکا طریقہ ہما رے پاس ہے تو اس نے بتا دیا کہ طریقہ وہ ہے جو تواتر سے چلا آرہا ہے جو سندبن چکا ہے ، یہ جن حدیثوں پر عمل نہیں ہے وہ حدیث تو ہے مگر سنت نہیں تو اس لئے یہ فرق جو اس نے نکا لا ہے یہ ہمارے لئے مصیبت بن گیا ہے ۔

سنت کا مل ہو تی ہے :

تومقصد یہی ہے کہ حدیث پر عمل کر نے کے لیے اس لئے ہم محتا ج ہیں فقہا ءکرام کے تاکہ وہ ہمیں بتا ئیں کہ اس حدیث پر عمل جا ری رہا ہے یا نہیں رہا ؟فقہا ءحدیث کو جا نتے ہیں کہ یہ قرآن کے موافق ہے یا مخا لف ؟یہ سنت کے موافق ہے یا مخالف ہے اور اس پر عمل کا درجہ بھی کو ن سا ہے ؟اس سے جو چیز ثا بت ہورہی ہے وہ فرض کے در جے میں ثابت ہو رہی ہے یا سنت کے در جے میں ثا بت ہو رہی ہے یا مستحب کے در جے میں ثا بت ہورہی ہے ۔یا واجب کے درجے میں ثابت ہو رہی ہے ۔

پھر سنت جو ہوتی ہے وہ کا مل ہوتی ہے فقہ سے اس کا پتہ چلتا ہے اور حدیث کے لیے ضروری نہیں کہ اس میں سا رے مسائل ہوں ، ایک بھی حدیث ایسی نہیں ہے جس میں وضو کا طریقہ ہو ۔

بخا ری میں وضو کا طریقہ :

مثا ل کے طو رپر بخا ری شریف سے وضو کی حدیث پڑھتا ہوں ، حضرت عثما ن نے پا نی کا بر تن منگوایا پہلے اپنے ہاتھ دھوئے اور ان کو دھویا پھر کلی کی ناک صاف کی پھر اپنا منہ تین باردھویا دونوں ہا تھ کہنیوں تک تین تین با ر دھو ئے پھر سر پر مسح کیا ایک ہی بار پھر دو نوں پا ں کو گھٹنو ں تک دھو یا اور پھر کہا کہ آ نحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو میرے اس وضو کی طرح وضو کر ے پھر دو رکعت تحیة الو ضو کی پڑ ھے اور دل میں کوئی خیا ل دنیا وغیر ہ کا نہ لا ئے تو اس کے اگلے پچھلے گنا ہ بخش دیئے جا ئیں گے ۔

تو دیکھئے وضو کا طریقہ بخا ری شریف کی حدیث میں ہے اس میں اور بھی اختلافات ہیں جن کا میں ذکر نہیں کرتا کہ ایک د فعہ دھو یا ہے اور یہ تین دفعہ کیوں نہیں دھو یا ہے ؟

اب دیکھئے یہ کتا ب میرے سا منے ہے ، اس میں وضو کا طر یقہ ہے کہ وضو کر نے والے کو چا ہے کہ وہ وضو کرتے وقت قبلہ کی طر ف منہ کر ے او نچی جگہ بیٹھے تاکہ چھینٹیں اوپر نہ پڑ یں اور وضو شروع کر تے وقت بسم اللہ کہے ،

دیکھئے اب بخا ری کی حدیث میں بسم اللہ نہیں آیا یہاں بسم اللہ بھی ہے اور چھنٹوںسے بچنے کا ذکر بھی آگیا اور یہاں عجیب بات ہے کہ جو حدیث تر مذی وغیرہ میں بیان کی ہے کہ وضو سے پہلے بسم اللہ پڑ ھنی چا ہیے وہ ضعیف ہے ۔

بسم اللہ کا حکم امام بخاری نے دوسرے باب میں لکھا ہے لیکن دلیل یہ ہے کہ رسول اقدس ﷺنے فرمایا کہ جب بیوی سے صحبت کریں تو اس سے پہلے اللہ کا نا م لے لیا کریں،تو اس سے قیا س کیا ہے جب صحبت سے پہلے اللہ کا نا م لینا ہے تو وضو سے پہلے بھی لے لیا جائے ، اب پتہ چلا کہ امام بخا ر ی اہل قیا س میں سے ہیں ، اہل حدیث میں سے نہیں اور سب سے پہلے تین دفعہ گٹوں تک ہا تھ دھو ئے یہ حدیث میں بھی آگیا پھر تین دفعہ کلی کریں پھر مسواک کریں اب یہ مسواک کا بھی ذکر اس حدیث میں نہیں آیا ۔

پورا وضو فقہ میں ملے گا :

تو کئی حدیثوں کو جمع کر نے سے آپ کو وضو ملے گا لیکن فقہ میں ایک ہی جگہ پورا ہوگا تو عوام کو تو مسائل چاہیں اگر مسواک نہ ملے تو کسی موٹے کپڑ ے سے دانت صاف کرلیں تا کہ میل جا تا رہے اگر روزہ دار نہ ہو غرغرہ کر کے اچھی طرح سا رے منہ میں پا نی پہنچا ئے اور اگر روزہ ہو تو غر غرہ نہ کرے کہ پا نی اندر نہ چلا جائے اب دیکھو یہ ایک حدیث میں نہیں آیا کتنی حدیثیں آپ اکھٹی کریں گے اور پھر تین با ر نا ک میں پا نی ڈال لیا اور بائیں ہا تھ سے ناک صاف کریں اور یہ بھی لفظ یہاں بائیں ہاتھ کا بخا ری کی اس حدیث میں نہیں آیا اور جس کا روزہ ہووہ اس نر م ہڈ ی سے اوپر پا نی نہ لے جائے پھر تین دفعہ منہ دھوئے اس طرح کہ سر کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کا ن کی لوسے دوسرے کا ن کی لوتک سب جگہ پانی بہہ جائے ۔

اب دیکھئے قرآن میں تو یہ آگیا کہ چہر ے کو دھو حدیث میں بھی آگیا لیکن چہرے کی حد کتنی ہے ، یہ تو سا رے کہتے ہیں کہ چہر ے میں سے ایک با ل بھی خشک رہ جائے تو وضو نہیں گا تو اس کی حدیہاں لکھی ہوئی ہے کہ جہاں سے سر کے بال اگتے ہیں وہاں سے لے کر یہاں نیچے تک اور دائیں کا ن کی لوسے لے کر بائیں کا ن کی لوتک اس سب کو چہر ہ کہتے ہیں تو دیکھئے ہم فقہ کے محتا ج ہیں اس آیت کا معنی سمجھنے میں بھی اور دونوں ابر ں کے نیچے بھی پہنچ جائے کہیں سے سو کھا نہ رہے پھر دو بازوکہنیوں سمیت دھو ئے اور ایک ہا تھ کی انگلیوں کو دوسرے ہا تھ کی انگلیوں میں ڈال کو خلا ل کرے خلال کی روایت اگر چہ تر مذی میں ہے خلا ل کے بارے میں بخا ری شر یف کی اس حدیث میں نہیں آیا ۔

تو گو یا وضو بھی اگر آپ نے سیکھنا ہے تو حدیث کی کتنی کتا بیں اکٹھی کرنی پڑ یں گی پھر ان میں تر تیب نہیں ہوگی کہ تر تیب آپ کہا ں رکھیں اور انگو ٹھی چھلا بھی گھما لیں تاکہ وہ بھی جگہ سو کھی نہ رہ جائے پھر ایک مرتبہ سا رے سر کا مسح کرے پھر کا نو ںکامسح کرے پھر انگلیوں کی پشت سے گر دن کا مسح کر ے لیکن گلے کا مسح نہ کرے یہ برااور منع ہے کیونکہ وضو میں پا نی مستعمل جو ہے وہ استعما ل نہیں ہو سکتا جب ہم نے مسح کیا سرپر تین انگلیاں رکھیں تو یہ مستعمل ہو گئیں اور جب اس طرح مسح کر یں گے گو یا باقی ہاتھ کا حصہ مستعمل نہیں ہے مستعمل کو دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا لیکن گلے کا مسح نہ کرے کا ن کے مسح کے لیے نیا پا نی لینے کی ضرورت نہیں انگلی اور انگو ٹھا ہم نے استعما ل کیا ہی نہیں جس غیر مقلد نے فقہ نہیں پڑھی وہ کہہ سکتا ہے کہ انگو ٹھے کو بھی سا تھ پہلے سر میں استعما ل کر لے ۔

پھر کا نو ں کا مسح کر ے گا تو وہ پہلے مستعمل ہو چکا ہے وہ تو ہو گا ہی نہیں پہلے دا یاں پا ں ٹخنے سمیت دھو ئیں پھر بایا ں پا ں ٹخنے سمیت دھو ئیں با ئیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے پیر کی انگلیوںکا خلا ل کریں اورپا ں کی دائیں انگلی سے شروع کریں اور بائیں انگلیوں پر ختم کریں یہ وضو کر نے کا طریقہ ہے ۔

فر ض سنت اور مستحب :

لیکن اس میں بعض چیز یں ایسی ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی چھوٹ جائے یا کچھ کمی رہ جائے تو وضو نہیں ہوتا جیسے پہلے بے وضو تھا اب بھی بے وضو رہے گا ، ایسی چیز وں کوفرض کہتے ہیں اب یہ تفصیل ہمیں حدیث میں نہیں ملے گی اور بعض باتیں ایسی ہیں کہ ان کے چھو ٹ جا نے سے وضو تو ہو جا تا ہے لیکن ان کے کر نے سے ثوا ب ملتا ہے اور شریعت میں ان کے کر نے کی تاکید بھی آ ئی ہے اگر کوئی اکثر چھوڑ دیا کرے تو گنا ہ ہوتا ہے ایسی چیزوں کو سنت کہتے ہیں اور بعض چیز یں ایسی ہیں کہ ان کے کرنے سے ثواب ہوتا ہے اور نہ کر نے سے کوئی گنا ہ نہیں ہوتا شروع میں ان کے کر نے کی تا کید بھی نہیں ہے ایسی با توں کو مستحب کہتے ہیں ۔

وضو کے فرائض :

وضو میں فرض فقط چا ر چیز یں ہیں ایک مر تبہ سارا منہ دھو نا ایک دفعہ کہنیوں سمیت ہا تھوں کا دھو نا ایک بار چوتھا ئی سر کا مسح کر نا اور ایک بارٹخنوں سمیت پا ں دھونا بس فرض اتنے ہی ہیں اب ان چا روں کے دھو نے کا ذکر قرآن میں ہے ، حدیث میں بھی ہے لیکن ساتھ حکم فرض لکھا ہوا نہیں اور وہاں تین با ر دھو نے کا بھی ذکر ہے تو کوئی تین بار دھو نا فرض سمجھے یہ بھی غلط ہے تو اس لئے اگر ایک چیز بھی چھو ٹ جائے گی اگر با ل برابر بھی خشک رہ جائے گی تو وضو نہ ہو گا، اب فرض کے بارے میں یہ تفصیل کہ اگر ایک با ل بھی جگہ خشک رہ جائے تو وضو نہیں ہوگا ، دیکھئے یہ آپ کو فقہ میں ملے گی حدیث نہیں ملے گی ۔

وضو کی چند سنتیں :

مثلا پہلے بسم اللہ کہنا پھر دونوں ہا تھ گٹو ں تک دھو نا کلی کر نا ،ناک میں پانی ڈالنا مسواک کر نا سارے سر کا مسح کر نا ہر عضو کو تین تین بار دھونا کا نوں کا مسح کر نا ، ہا تھ اور پا ں کی انگلیوں کا خلال کر نا ، یہ سب با تیں سنت ہیں ،اور اس کے سوا ور جو با تیں ہیں وہ مستحب ہیں ۔

دیکھئے میں نے حدیث کے بارے میں بتا یا کہ حدیث منسوخ بھی ہوتی ہے اور متروک بھی ہو تی ہے اب فقہ میں دیکھنے سے پتہ چلے گا کہ بسم اللہ کہنا منسوخ یا مترو ک نہیں ہے بلکہ اس پر عمل جا ری رہا ہے ، کلی کر نا وضو میں منسوخ یا مترو ک نہیں ہوا ، اس پر عمل جار ی رہا ہے سا تھ یہ بھی پتہ چلے گا کہ درجہ سنت میں جا ری رہا ہے درجہ فرض میں جا ری نہیں رہا ۔

فقہ کی بنیا د :

تو چو نکہ دین اسلا م کا مل ہے الیو م اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الا سلا م دینا ، تو ہمیں وہا ں سے دین لینا چا ہئے جہاں ہمیں پور اپورا دین ملے اورپورا پورادین فقہ میں ملتا ہے کیو نکہ فقہ کی بنیا د چار چیز یں ہیں کتا ب اللہ سنت رسول اللہ ﷺ اجما ع امت اور قیا س ۔

اب کتا ب اللہ میں صرف کتا ب اللہ والے مسائل ہو ں گے حدیث والے نہیں ہوں گے حدیث کی کتابوں میں سنت والے مسائل ہونگے اجما ع والے ان کتابوں میں نہیں ملیں گے ، اب وہ مسائل جو اجماع والے واجتہا د والے ہیں وہ کہاں سے ملیں گے ؟ توفقہ کی کتابیں جو ہیں یہ جا مع ہو تی ہیں اس میں قرآن والے بھی ہما رے مسائل آجا تے ہیں اب وضو والے سارے مسائل اس میں آ گئے سنت والے سارے مسائل اس میں آگئے اب جو فقہ کے مطا بق وضو کرے گا وہ پہلے قرآن پر عمل کر رہا ہے اور جو قرآن کی چاروں چیزیں آئی تھیں ان کو فقہ نے لے لیا ہے ۔

دوسرے نمبر پر وہ اللہ کے نبی ﷺ نے سنت پر عمل کر رہا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ کا جو طریقہ وضو میں جا ری رہا اس کو اس نے بیا ن کر دیا ،

تیسرے طریقے پر وہ دوسرے مسا ئل پر عمل کر رہا ہے جو مستحب وغیر ہ ہیں وہ مسائل سارے عام فہم تر تیب کے سا تھ جس کتا ب میں لکھے جا تے ہیں وہ فقہ ہو تی ہیں ۔تو اس لئے فقہ پر عمل کر نے والاپہلے نمبر پر قرآن پر عمل کر رہا ہے پھر سنت پر عمل کر رہا ہے ،پھر اجماع پر پھر قیا س پر عمل کر رہا ہے تو اس لئے اللہ تعالی نے ہم کو فقہا ءکے سپر د کیا ہے لیتفقہوا فی الدین ولینذروا قومہم اذا رجعوا الیھم لعلہم یحذرون کیو نکہ ایک تو مکمل مسا ئل ملتے ہیں اور ہمیں مکمل مسائل کی ضرورت ہے دوسرے محقق ملتے ہیں کہ عمل جا ری رہا ہے یا نہیں فقہا ءانہی مسائل کو لیں گے جن پر عمل جا ری رہا ہے بلکہ سا تھ یہ بھی وضا حت کریں گے جو حدیث میں نہیں تھی اب وہا ں تھا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے چہر ہ مکمل دھو یا یہ نہیں لکھا تھا کہ یہ فرض ہے وہا ں یہ تو تھا کہ حضورنبی کریم ﷺ نے کلی فرمائی یہ نہیں لکھا تھا کہ یہ سنت ہے تو اس لئے وہا ں اتنی تحقیق ملے گی ۔ایک تو یہ پتہ چلے گا کہ اس پر عمل جاری رہا ہے اور یہ کس درجہ میں عمل جاری رہا ہے اس کی بھی تحقیق ملے گی

تو اس لئے ہم اہل سنت والجماعت ہیں اور اہل سنت والجماعت فقہ کے مطا بق عمل کرتے ہیں اور فقہ پر عمل کر نا قرآن پر عمل کر نا ہے سنت پر عمل کر نا ہے اجماع پر عمل کر نا ہے قیاس پر عمل کر نا ہے اجتہا دی مسائل پر عمل کر نا ہے ۔

تو کا ملیت اہل سنت والجماعت کے ہاں ہے تو ہمیں اہل سنت والجماعت بننے کی ہی تاکید کی گئی ہے تو اس لئے ہم اہل سنت والجماعت ہیں تو اہل سنت والجماعت تو شروع سے چلے آ رہے ہیں ۔

دور بر طا نیہ کے فر قے :

دور بر طا نیہ میں پھر دوفر قے اٹھے جو اللہ کے نبی ﷺ کی سنتوں کے خلاف تھے لیکن انہوں نے نام بڑ ے عجیب رکھ لئے ایک فریق کا نعر ہ عشق رسول ﷺ کا ہے اور ایک فریق کا نعر ہ وحدیث رسول ﷺ کا ہے اب وہ عشق رسول ﷺ سے نبی ﷺ کی سنتوں کو مٹا رہے ہیں اور اپنی بنا ئی ہو ئی بد عات لوگوں کو دے رہے ہیں ان کے دل میں بدعت کی قدر قیمت ہے وہ سنت تو کجا فرض کی قد ر وقیمت بھی نہیں ہے ، اب اس میں کسی اہل سنت کا اختلاف نہیں کہ زکوٰة فرض ہے لیکن اگر کوئی شخص زکو ٰة با لکل ادا نہ کر ے اس کو وہ برا نہیں سمجھتے دو چا ر آ نے ہر مہینے گیا رہویں شریف میں شامل کر دیا تو وہ پکا جنتی ہے خوا ہ فرض کا تارک ہو یا نہ ہو ۔

اوردوسرا آدمی ایک ایک پیسہ حساب کر کے سال کی زکوٰة ادا کر رہا ہے لیکن وہ ان کی بدعت میں شامل نہیں ہوا تو وہ اس کو مسلما ن سمجھنے کے لیے بھی تیا ر نہیں تو معلوم ہوا کہ بدعت کی کتنی بڑ ی نحوست ہوتی ہے کہ نہ اللہ کے احکا مات با قی رہتے ہیں نہ نبی پا ک ﷺ کی سنتوں کی تعظیم دل میں رہتی ہے صرف اپنی گھڑی ہو ئی بدعتوں کی تعظیم اس کے دل میں رہ جاتی ہے جو اس کے سا تھ بدعت میں شر یک ہوا وہ اس کو دیندار کہے گا جو اس کی بدعت میں شر یک ہووہ اس کو دیندار کہے گا جو اس کے ساتھ بدعت میں شریک نہیں ہوا اگر چہ پورے دین پرفر ض سنت واجب سب پر عمل کر رہا ہے تو اس کے دل میں کوئی قدر نہیں بلکہ اس کو سلام کر نے کے لیے بھی تیار نہیں ہوگا ۔

دوسری طرف کہ حدیث کا نا م لے کو سنتوں کو مٹا یا جا ئے تو یہ جو اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں انکا کا م ہے میں نے سمجھا یا کہ سنت وہ ہے کہ جس کو عملی تواتر نصیب ہواور ثناءمیں چا ر وں مذاہب متفق ہیں وہ سبحا نک اللہم وبحمد ک .... پڑھتے ہیں اور یہی جا ری ہوئی ہے اس کو سنت کہتے ہیں لیکن غیر مقلدکی کو شش ہو تی ہے سبحا نک اللہم ....چھڑا کر اللہم باعدبینی ....کو شروع کر ا دیا جائے کیو نکہ یہ کہتے ہیں کہ بخاری شریف میں آگئی ہے اب ہم اس کو حدیث تو ما نتے ہیں لیکن ہم اس کے سنت ہو نے کا قطعا انکا رکرتے ہیں تو اس لئے جو سبحا نک اللہم کی بجا ئے اللہم با عد بینی.... کہے گا وہ سنت کا تا رک ہے اور ہمارے فقہا ءنے یہ اجازت دی ہے کہ فرائض میں چو نکہ تخفیف پر مدار ہے اسلئے اس میں ایسی طو یل دعا نہ پڑ ھے البتہ نوافل میں سبحا نک اللہم کے بعد ایسی دعا پڑھنے کی گنجا ئش ہے ۔

تو دیکھئے ہم اس حدیث پر عمل کر تے ہیں ایسے طریقے سے کہ سنت نہ مٹے لیکن غیر مقلدکہتا ہے کہ سنت نظر نہ آ ئے یہ حدیثیں ہی رہیں اسی طرح پور ی امت جو ہے یہ رکوع میں سبحان ربی العظیم پڑ ھتی چلی آ رہی ہے اس کو عملی تواتر نصیب ہے تو چو نکہ سبحان ربی العظیم بخا ری شر یف میں نہیں آیا اسی لئے غیر مقلد کی کو شش ہوتی ہے کہ اس سے ہٹا کر اللہم لک رکعت والی دعا پر لگا دیا جائے یہ حدیث یقینا ہے لیکن سنت نہیں اب کوئی شخص اس کو پڑ ھے اور سبحا ن ربی العظیم کو چھوڑ دے یہ یقینا سنت کا تا رک ہے اور حدیث کے نا م سے چھڑ وا دی گئی۔

مثلا یہاں بھی وہی ہے کہ فرائض میں تخفیف ہے کہ اس میںسبحا ن ربی العظیم ہی پڑ ھنی چا ہیے اگر کوئی شخص نوافل میں اس حدیث پر عمل کر نے کا شوق رکھے تو وہ سبحا ن ربی العظیم کی سنت ادا کر نے کے سا تھ اس پر بھی عمل کر سکتا ہے ۔

اسی طر ح پو ری امت میں تواتر کے سا تھ چاروں مذ اہب میں یہ ہے کہ سجد ے میں سبحا ن ربی الا علی پڑ ھا جائے لیکن غیر مقلدچو نکہ فقہ کی بجا ئے بخا ری کو آ گے لا نا چاہتے ہیں بخا ری میں سبحا ن ربی الا علی ہے ہی نہیں اس لئے ان کی پو ری کو شش ہوتی ہے کہ ان کو بتا یا جائے کہ اللہم لک سجد ت یہ پڑ ھی جائے اس کو پڑ ھنا چا ہیے بخا ری شر یف میں اس کی سند زیا دہ صحیح ہے اس کا ثواب زیا دہ ملے گا حا لا نکہ ثواب تو ملتا ہے سنت پر عمل کر نے سے سنت کو مٹا نے سے ثواب نہیں ملے گا تواندازہ لگا ئیں کہ ان لوگو ں نے اس حدیث کو دھو کے سے کتنی سنتیں مٹا دی ہیں اور ان کا رات دن یہی کا م ہوتا ہے کہ نبی پا ک ﷺ کی حدیث کا نا م لے کر لوگوں کو سنتوں سے دور کیا جائے ۔

دین کے محا فظ کو ن ؟

اس لئے اہل سنت والجماعت حضرات علما ءدیو بند بے چا روں کو دونوں طرف لڑنا پڑتا ہے یہ سنت کی حفاظت کے لیے ان سے بھی لڑ تے ہیں جو حدیث کا نا م لے کر سنت کو مٹا رہے ہیں اور ان سے بھی لڑ تے ہیں جو عشق رسول ﷺ کا نا م لے کر سنتوں کو مٹا رہے ہیں تواس لئے یہ دور جو ہے یہ فتنوں کا دور ہے تو اس دور میں صر ف اور صرف علما ءدیو بند اہل سنت والجما عت ہی اپنے اورلوگوں کے دین کی حفا ظت کر سکتے ہیں دوسرے حضرات اپنے دین کی حفاظت نہیں کر سکتے تو اہل سنت والجماعت ایک حق اور سچ جماعت ہے ۔

لطیفہ :

اگر کوئی سوال ہو اس مسئلے کے بارے میں تو وہ کر لیں تا کہ یہ وقت پورا ہو جائے ہمارے ہاں ایک پٹواری ہیں بشیر احمد صاحب سمند ری کے علا قے میں وہ کہا کرتے ہیں کہ آج کل جمہور یت کا دور،ہے سب لوگ جمہوریت کا کہتے ہیں اور عام لوگو ں کے لئے جمہوریت سے فیصلہ کر نا آسا ن ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ میں اس لیے کہا کرتا ہوں کہ ان تین کے درمیان اگر اختلاف ہوتو جس طرف دوہوجائیں ، وہ جمہور یت کے اعتبار سے سچا ہے اور جو ایک رہ جائے وہ غلط ہے تو اس لئے کہتے ہیں کہ جمہوریت سے فیصلہ کرنا چا ہیے ۔

اب بدعات میں بر یلوی ادھر رہ جاتے ہیں اور غیر مقلد آ جا تے ہیں ، تو ایک وہ جو بدعا ت کو چھوڑ نے والے اور ایک بدعا ت کو کر نے والے ہیں تو جمہوریت یہ ہے کہ بدعات کو چھوڑ دیا جائے ۔

رفع ید ین کر نے میں اونچی آمین کہنے میں ٹخنہ سے ٹخنہ ملا نے میں اس میں غیر مقلد ایک طرف ہیں بر یلو ی اور دیو بند ی ایک طرف ہو جاتے ہیں تو ان مسائل میں د و ایک طر ف ہو گئے اور ایک فریق ایک طرف ہوگیا ،تو جمہوریت کا فیصلہ یہ ہے کہ آ مین آ ہستہ کہی جائے اور اونچی نہ کہی جائے امام کے پیچھے فاتحہ نہ پڑ ھی جائے تو کہتے ہیں کہ اگر اسی جمہور ی انداز میں بھی فیصلہ کیا جائے تو پھر بھی اہل سنت والجماعت دیو بند کا مسلک صحیح نکلتا ہے ۔

اس میں اس نے بات کو لطیفے کے اند از میں بیا ن کیا ہے اصل بات یہ تھی کہ اہل سنت والجماعت اعتدال اور امت وسط پر ہیں اور یہ لوگ (بر یلو ی اور غیر مقلد ین ) کچھ مسائل میں افراط اور تفر یط میں مبتلا ہو گئے تو کوئی ادھر گر گیا کوئی ادھر گر گیا کچھ مسائل میں ان کےساتھ رہے کچھ مسائل میں الگ ہو گئے جن مسائل میں وہ الگ ہوگئے تو وہ غلط ہوگئے یہ اپنے اعتدال پر رہے اور جن مسائل میںوہ الگ ہو گئے وہ غلط ہو گئے دیو بندی ان تینوں میں آ تے ہیں جہاں جمہوریت ہے تو معلو م ہو اکہ اصل معیا ر اور مدار جو ہے وہ دیو بند کی جماعت بنی ،تو کہتے ہیں کہ جمہور یت کے طریقہ سے بھی فیصلہ یہی ہے کہ امت وسط اور اعتدال میں وہ علماءدیو بند کے سا تھ ہے اور یہ لوگ افراط اور تفر یط میں مبتلا ہیں افراط اورتفریط سے بچنا چاہیے تو اس لئے حق اور سچ مسلک علما ءدیو بند کا ہی ہے ۔

سوالا ت

سوال : اجماع کسے کہتے ہیں اور کن لوگو ں کا معتبر ہوتا ہے ؟

جواب : اجما ع ہر فن کے ما ہر ین کا معتبر ہوتا ہے ، ڈاکٹروں میں اجماعی مسئلہ وہ ہوگا جس پر کوالیفا ئیڈ ڈاکٹر اتفا ق کرلیں ، قا نون میں وہ ہوگا جس مین قانون دان اتفا ق کر لیں صَرَف میں وہ ہوگا جس اہل صرف اتفا ق کر لیں اسی طرح فقہ میں وہی مسئلہ اجماعی ہوگا جس میں ائمہ مجتہد ین کا اتفا ق ہو جائے اور غیر مجتہد کا اس میں قطعا کوئی ذکر نہیں ہوگا جیسے ڈاکٹروں کے اجماع میں چما روں کو کو ئی دخل نہیں قانون کے اجماع میں کمہا روں کا کوئی دخل نہیں ۔

اور بات یہ ہے کہ جس طرح اجماع میں مجتہد کا ہونا ضروری ہے اسی طرح غیر مجتہد کا کوئی دخل نہیں اجما ع کی پہچا ن کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جس جس کا قو ل ہے وہ تواتر سے ثا بت ہو تو ہمارے اہل سنت والجماعت میں چا ر ہی مذا ہب متواترہیں اور صحابہ کرام میں بھی بہت سے مجتہد ہو ئے لیکن ان کے مذہب متواترنہیں ہوئے جو متواتر ہو ئے وہ انہی چار میں آ گئے اور جو شا ذ رہ گئے وہ الگ ہیں اگر کسی مجتہد کا قول ان چاروں کے خلاف مل جائے تو آج اس کا اعتبا ر نہیں کیا جائے گا ، اس لیے نہیں کہ وہ مجتہد نہیں یا وہ ان سے چھوٹا مجتہد ہے بلکہ اس لئے کہ یہ چیز تواتر سے ثا بت ہے اور اس کامذ ہب تواتر سے ثا بت تو اجماع کا اتفاق اسی پر ہے کہ جس پر چاروں مذاہب متفق ہو جائیں گے وہ مسئلہ اہل سنت والجماعت میں اجماعی ہے اور اس کے خلاف جوہے جیسے آ ج اتفا ق ہے کہ جو سا توں قاریوں کی اتفا ق سے قرات ہے وہ اجماعی قرات ہے وہ اگر کوئی دوسری قر ات کر تاہے تو متواتر کسی علا قے میں ہو گی ور نہ شا ذ ہو گی تو اس لئے اس دور میں چاروں اماموں کے اجماع کو کہتے ہیں اور ان سے نکلنے کو اجماع کی مخالفت کہا جاتا ہے اور مجتہد ین کا قو ل اگر متواتر ہوتو دیکھا جائے گا ور نہ غیر متواتر اقوا ل اجماع میں قا بل قبو ل نہیں ہیں ۔

اوراجماع کا جو منکر ہے آج کل اپنے آپ کو اہل حدیث کہتا ہے جبکہ قرآن اس کوجہنمی کہتا ہے نبی پا ک ﷺ بھی اس کو جہنمی کہتے ہیں کیو نکہ قرآن پا ک میں ہے ومن یشاقق الر سول من بعد ما تبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المو منین نو لہ ما تو لی ونصلیہ جھنم وسات مصیرا تو سبیل المومنین یعنی اجماع سے کٹنے والے کو دوزخی قرآ ن نے کہا ہے اہل حدیث نہیں کہا اور حدیث میں فرمایا گیا علیکم با لجماعة من شذ شذ فی النا ر جو اجماع سے کٹے گا وہ جہنم میں جا ئےگا تو اجماع سے کٹنے والا یقینا دوزخی ہے ۔

قیاس جو ہے اس پر بھی اجماع ہے کہ غیر منصوص مثا ل میں قیا س پر عمل ہوگا اور غیرمقلدین اس کے منکر ہےں اس لئے شا ہ ولی اللہ محدث دہلو ی ؒ فر ماتے ہیں کہ کو جو شخص قیا س کے حجت ہو نے کا منکر ہے وہ مر دود الشہا دت ہے قاضی بننا تو کجا اس کی گواہی بھی کسی اسلا می عدالت میں مقبو ل نہیں کی جائے گی ۔

تو اس لئے غیر مقلد ین جو اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں اجماعی مسائل سے کٹنے کی وجہ سے پکے دو زخی ہیں اور اجتہا دی مسائل سے انکا ر کی وجہ سے وہ لوگ مر دو د الشھادت ہیں ان کا ووٹ ہی نہیں ممبر بننا تو کجا ان کا وو ٹ ڈالنا بھی جائز نہیں ہے ۔

سوال : افرط وتفر یط کیا ہے ؟

جواب : افراط تفر یط سے پا ک ہو جیسے دو نقطوں کے در میان خط مستقیم ایک ہی بن سکتا ہے اور ٹیڑھے خطوط ہزا روں بن سکتے ہیں مثا ل کے طو رپر ایک فر یق کہتا ہے کہ دم بد م پڑ ھو درود حضرت بھی ہیں یہاں مو جو د اور اس کے مقا بل دو سرا کہتا ہے کہ حضرت روضہ پا ک ﷺ میں بھی مو جود نہیں تو اعتدال یہ ہے کہ حضرت قبر میں حیا ت ہیں ہر جگہ مو جود نہیں ہیں ۔

ایک فر یق کہتا ہے ”یا بہا والحق بیڑا دھک “وہ غیر اللہ کو بھی پکا راتا ہے اور دوسرا فریق ضد میں کہتا ہے کہ وسیلہ بھی جائز نہیں ہے لیکن مسلک اعتدا ل یہ ہے کہ غیر اللہ سے استغاثہ تو جائز نہیں ان کا وسیلہ جا ئز ہے ۔

ایک کہتا ہے کہ غیر اللہ کے نام کی نذ رونیا ز کھا نا بھی جائز ہے دوسرا کہتا ہے کہ ایصال ثوا ب کر نا بھی جائز نہیں تو اعتدال یہ ہے کہ جا ئز کو جا ئز اور نا جا ئز کونا جا ئز سمجھاجائے اور یہی اہل سنت والجماعت کا کما ل ہے کہ یہ جماعت اعتدال پر ہیں۔

سوال :اسی طر ح غیر مقلد بر یلو ی مل کر کہتے ہیں ہم اعتدا ل پر ہیں یعنی حق پر ہیں ان کی تفریط کیسے کی جا ئے گی ؟

جواب : وہ تو تینوں پہلو سا منے آ گئے ۔ وہ کہتا ہے کہ یہاں بھی موجود ہیں اور کہتا ہے کہ وہاں بھی موجود نہیں تو اللہ کے نبی پا ک ﷺ فرماتے ہیں کہ جو رو ضہ پر دور دپڑ ھے گا و ہ میں سنوں گا اور جو دور پڑ ھے گا وہ مجھے پہنچا دیا جائے گا تو پتہ چلا کہ جو روضہ میں حیا ت کا انکا ر کرے وہ بھی نبی ﷺ کی مخا لفت کر رہا ہے جو کہتا ہے کہ یہاں نہیں ہیں وہاں ہیں وہ حق پر ہے ۔

سوال : غیر مقلد کہتے ہیں سار ی نماز بخا ر ی میں ہے ؟

جواب : غیر مقلد تو ایک شرارتی فرقہ ہے ، وہ با قی سا ری نماز ہم سے لے کہ پڑ ھتے ہیں جہاں کہیں شرارت کرتے ہیں وہ بخا ری کا ڈھونگ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو الو بنا تے ہیں میں ایک سفر میں جا رہا تھا کو ٹ ادو کے قر یب گاڑی گز ر ی تو دو تین نو جوان وہا ں کے سوا ر ہو ئے وہ مجھے پہچا نتے ہو ں گے آپس میں باتیں کر نے لگے کہ حنفی سار ے دو زخ میں جا ئیں گے ان کی نماز غلط ہے تو میں نے پو چھا کہ آپ کا حسا ب وکتا ب کہاں ہوگا ، تو کہنے لگے میدان قیا مت میں ، میں نے کہا نہیں دوزخ میں ہوگا ،میں نے کہا کہ آپ کی نماز شروع بھی فقہ حنفی سے ہو رہی ہے ختم بھی فقہ حنفی پر ہو رہی ہے آپ کا امام اللہ اکبر اونچی کہتا ہے مقتد ی آ ہستہ کہتا ہے سلا م بھی اما م او نچی کہتا ہے مقتد ی آ ہستہ کہتا ہے ، یہ مسئلے حدیث میں نہیں ہیں فقہ میں ہیں اس لئے آپ پکا یقین رکھیں کہ آپ کا حسا ب وکتا ب دوزخ میں کھڑ ا کر کے شروع کیا اور سا را حسا ب لیا جائے گا ، آ پ پکے دو ز خی ہیں ۔

تو اس لئے جتنے بھی با طل فر قے ہیں ،غیر مقلد کی با ت اور ہے جو مر زائی ہیں ا کثر مسائل میں مثلا ہم جیسا حج کریں گے کہتے ہیں کہ ہمار ے پا س مکمل دین ہے ، با طل فر قے دین سے کٹ جاتے ہیں کو ئی ایک مسئلے میں اور کوئی دو مسا ئل میں اور وہ اکثر ہم سے مسائل لیتے ہیں لیکن دو چار مسئلوں میں ان کا اختلاف ہوتا ہے اس میں وہ شرارتیں کر تے رہتے ہیں تو یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ دین کی پہچا ن یہی ہے کہ جن کے پا س مکمل دین ہے وہ دین والے ہیں اور جن کے پاس دو چا ر مسئلے صرف شرا رت کر نے کے لیے ہیں وہ فر قے والے ہیں وہ دین والے ہیں ہی نہیں ۔

سوال : شا فعی اور غیر مقلد رفع ید ین کر تے ہیں دو نوں میں فر ق ؟

جواب : شا فعی رفع ید ین کریں تو آپ ان کو کچھ نہیں کہتے غیر مقلد رفع یدین کریں تو آپ ان کو شرارتی کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شا فعی کی رفع ید ین ایک تقلید پر مبنی ہے ان کے اما م کے اجتہا د میں رفع ید ین کی حدیث راحج ہے غیر مقلد وں کی رفع یدین کی حدیث راجح ہے نہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا نہ اجماع میں یہ ہے کیو نکہ مسئلہ اختلا فی ہے اس لئے ان کے پاس تو کچھ بھی نہیں اور یہ چو ری کرتے ہیں اما م شا فعی سے تو میں آپ سے پو چھو ں گا کہ آپ کا اگر کھیت ہو کہ ایک تو یہ ہے کہ ایک آپ سے پو چھ کر گنا لے لے اور ایک ہے چو ری کر کے لے لے گنا اگر چہ ایک ہی کھیت کا ہے لیکن اس کے حلا ل وحر ام میں فر ق ہوجائے گا یا نہیں (ہوگا ) تو غیر مقلد وں کے رفع ید ین چو ری کے گنے کی طرح حرا م ہے اور شا فعیوں کی جو رفع ید ین ہے وہ تو امام شا فعی کی تقلید سے انہوں نے لی ہے اور اس میں بہت ہی اہم فر ق یہ ہے کہ امام شا فعی مجتہد ہیں اگر ان سے خطا بھی ہوئی تو ان کی نماز قبو ل ہے ، انہیں ایک اجر ملے گا اور غیر مقلدنااہل ہیں یہاں کوئی اجر نہیں ملے گا ۔

اس کی عا م فہم مثا ل یہی کہ دیکھئے جیسے آپ نے سوال کیا ایک ڈاکٹر بھی انجکشن لگاتا ہے ایک نا اہل آ د می جو ڈاکٹر نہیں وہ بھی اگر چہ آپ نے افتاءکر لیا ہے آپ اگر ٹیکہ لگائیں گے توحکو مت کے مجر م کہلا ئیں یا نہیں ؟(کہلا ئیں گے ) تو کوئی یہ نہیں کہے گا کہ مفتی کا مقا م تو ڈاکٹر سے اونچا ہوتا ہے تو آپ یہ کہہ کرجا ن نہیں چھڑا سکتے ، کہ ڈاکٹر جو لگا تا ہے اس کو کچھ نہیں کہتے مجھے کہتے ہیں تو فر ق اہل اور نا اہل کا ہے ۔

اسی طرح جس کے پاس ڈارئیو نگ لا ئسنس نہیں ہے وہ گا ڑی نہیں چلا سکتا ، لیکن جس کے پا س ڈرا ئیو نگ لا ئسنس ہے اگر چہ اس سے بھی ایکسڈنٹ ہو تے ہیں لیکن حکومت اس کو اجا زت دے گی اور ایک شیخ الحدیث ہیں ڈرا ئیونگ لا ئسنس نہیں اور وہ گا ڑی لے جا رہے ہیں کو ئی تنکا بھی ٹو ٹا نہیں ان سے ایک در خت کا پتہ بھی نہیں ٹو ٹا لیکن وہ مجر م ہیں یا نہیں؟ (ہیں ) کیو نکہ وہ اس فن کے نا اہل ہیں ۔

اس لئے غیر مقلد جو ہیں وہ نااہل ہیں یہ چو ری کر کے اگر رفع ید ین کر یں گے تو وہاں سے سوائے جو توں کے ان کو کچھ نہیں ملے گا تو غیر مقلدجو ہیں ان کے پاس تو مجتہد ہیں ہی نہیں اس لئے ایسے ہی ہے کہ نا اہل ہو کر کسی فن میں دخل دے تو مریض پر قیا مت ڈھائے گا اس لئے ان کا جر م یہی ہے کہ ان کی چو ری کی رفع یدین ہے ۔

وآخر دعوانا الحمد للہ رب العلمین ۔

٭٭٭٭

 

آن لائن مہمان

We have 13 guests and no members online