joomla templates

طلا ق ثلا ثہ

مناظر اسلام تر جمانِ  اہل سنت وکیل احناف

حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی

(خطبات صفدر،جلداول)

خطا ب بمقا م فیصل آ با د 2000

الحمد للہ وکفی وسلا م علی عبادہ الذ ین اصطفی اما بعد ،فاعوذ با للہ من الشیطن الر جیم

بسم اللہ الر حمن الر حیم ، الطلا ق مر تا ن فا مسا ک بمعرو ف اوتسریح با حسا ن صد ق اللہ مو لا نا العظیم وبلغنا رسولہ الکر یم ونحن علی ذالک من الشا ہد ین والشا کر ین والحمد للہ رب العا لمین ۔

رب اشر ح لی صد ری ویسر لی امر ی واحلل عقد ة من لسا نی یفقہو قو لی ،

رب زد نی علما وار زقنی فھما سبحا نک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم اللہم صل علی سید نا ومو لا نا محمد وعلی آل سید نا ومو لا نا محمد وبا ر ک وسلم وصل علیہ ۔

میرے دوستو!بز رگو آ ج مو ضوع طلا ق ثلاثہ ہے یعنی تین طلا ق کا مسئلہ

تمہید ی گفتگو :

طلا ق کے مسئلے میں پہلے دینو ں میں افرا ط وتفر یط پا یا جا تا تھا ، عیسا ئی مذ ہب میں سر ے سے طلا ق دینا جا ئز ہی نہیں جب ایک دفعہ نکا ح ہو گیا اب وہ مر د اس کو طلا ق نہیں دے سکتا یہو دیو ں کے نز دیک طلا ق کی کو ئی تعداد ہی نہیں ہز ار طلا قیں بھی اگر کوئی دے دے تو اس کو پھر بھی رکھ سکتا ہے ۔

اسلا م فطر ی دین ہے /تعلقا ت کی دو قسمیں ہیں :

اسلا م چو نکہ فطر ی دین ہے اس لئے وہ صحیح با ت بیا ن کر تا ہے تعلقا ت دو قسم کے ہیں (۱)ایک وہ تعلقا ت ہیں جو خدا نے جو ڑ ے ہیں ان کو تو ڑنے کا انسا ن کو کوئی اختیا ر نہیں اور نہ یہ بند ہ اس کو تو ڑ سکتا ہے جیسے با پ بیٹے کاتعلق ہے بھا ئی بہن کا تعلق ہے اب بھا ئی سومر تبہ کہے تو میر ی بہن نہیں لیکن یہ رشتہ ٹو ٹ نہیں سکتا والد سو مر تبہ کہے کہ تو میرا بیٹا نہیں یا بیٹا سو مر تبہ کہے تو میرا والد نہیں تو یہ رشتہ ٹو ٹ نہیں سکتا کیو نکہ یہ رشتہ اللہ تعالی کا جوڑا ہو اہے تو جس طرح اس کے جو ڑ نے میں بند ہ کا اختیا ر نہیں اس طرح اس کے تو ڑ نے میں بھی بند ہ کوئی اختیا ر نہیں ۔

دوسرے وہ تعلقا ت ہیں جو انسا ن خو د جو ڑ تا ہے جیسے میا ں بیو ی کا رشتہ اور جس مقصد کے لیے جو ڑ تا ہے اگر وہ مقصد پورا نہیں ہورہا تو اللہ تعالی نے اس کو توڑ نے کا بھی اختیار دیا ہے اگر وہ مقصد پورا ہو نے میں مخل ہے تو اس کا حل بھی حضرت پا ک ﷺ کا ارشاد ہے ابغض الحلا ل عنداللہ الطلا ق ، اللہ کے نز دیک حلا ل چیز وں میں سے بس سب زیا دہ نا پسند ید چیز طلا ق ہے البتہ بو قت ضرورت اس کی اجا زت عطا فرما ئی ہے یہو دیو ں کی طرح معا ملہ کھلا نہیں رکھا کہ جتنی چا ر ہے طلا قیں دے دو پھر اس عورت کو بیو ی بنا کر رکھ لو ۔

مسئلہ طلا ق میں ارشا د با ری :

اس لئے اللہ تعالی نے قرآ ن میں اس کی صرا حت فرما دی ہے کہ بند ہ کے اختیا ر میں کل تین طلا قیں ہیں سورہ بقر ہ کی آ یت نمبر ۸ ۲ ۲ہے ۔

پیر ان پیر شیخ عبدا لقا در جیلا نی کا قو ل :

پیرا ن پیر شیخ عبدالقا در جیلا نی غنیة الطا لبین میں جہا ں فر قو ں کا ذکر ہے اس میں فر ماتے ہیں کہ شیعیت کی اصل یہو د یت ہے یہو دی تین طلا ق دینے کے بعد بیو ی رکھ لیا کر تے ہیں اس لیے یہ مسئلہ طلا ق ثلا ثہ یہو دیو ں سے شیعو ں نے چو ری کر لیا ہے وہ بھی کہتے ہیں کہ تین طلا ق کے بعد بیو ی رکھی جا سکتی ہے وہی چو ری کا ما ل آ ج غیر مقلد ین کے گھر سے برآ مد ہو رہا ہے با ت یہ چل ر ہی تھی ارشا د ربا نی ہے ۔

ایک طلا ق کا ذکر :

والمطلقٰت یتر بصن با نفسہن ثلا ثة قروئٍ جن کو طلا ق مل گئی ہے وہ تین حیض تک انتظار کریں یہ ایک طلا ق کا ذکر ہے اسی آ یت میں آ گے ارشا د ہے وبعولتھن احق بر دھن فی ذلک ان ارادوا اصلا حا ان کے خاو ندو ں کو ایک طلاق رجعی کے بعد زیا دہ حق ہے اگر وہ روکنا چاہیں (بیو ی کی رضا کا اس میں کوئی دخل نہ ہوگا )ایک طلا ق رجعی کے بعد اگر خاوند بیو ی کو رکھنا چاہتا ہے تو اس کی رضا مند ی کے بغیر رکھ سکتا ہے کہ کیو ں خا وند کوزیا ہ حق ہے ۔

دوسری طلا ق کا ذکر :

آیت نمبر ۹ ۲ ۲دوسر ی طلا ق کا ذکر ہے ارشا د فرمایا الطلا ق مر تا ن یہ دو طلا ق کا ذکر ہے جس طرح کو ئی کہے جا ءنی ر جلا ن میر ے پا س دو آ دمی آ ئے اگر وہ دو نوں اکھٹے آئیں تب بھی یہی کہیں گے کہ دو آئے اور اگر ایک پہلے آ ئے دوسرا کچھ دیر بعد آئے تب بھی یہی کے دوآ دمی آئے اگر کوئی اپنی بیو ی کو کہے تجھے طلا ق طلا ق یہ بھی الطلا ق مرتا ن میں شا مل ہے اگر کو ئی کہے تجھے دو طلا قیں تو یہ بھی الطلا ق مر تا ن میں شا مل ہیں اس پر امت کا اجما ع ہے دور جعی طلاق کے بعد بھی ارشا د ہے فا مسا ک بعرو ف او تسریح با حسا ن اب بھی اگر خا وند بیو ی کو روکنا چاہے تو شر یعت کے بتلا ئے ہو ئے اصول کے مطا بق رو ک سکتا ہے اس میں عورت کی مرضی کا دخل نہیں ہے کیو نکہ عورت کی مرضی کا تعلق نکا ح سے پہلے پہلے ہو تا ہے ( اس پر ایک لطیفہ یاد آ یا)

لطیفہ :

ہمار ے ملک میں عو رتوں کی ایک تحر یک ہے جو کہتی ہے کہ ہم عورتو ں کے حقو ق کاتحفظ کر تی ہیں ، حضرت مو لانا غلا م غو ث ہز ارو ی کے پا س وہ اکھٹی ہو کر آئیں کہ حضرت آپ اسمبلی میں ہیں کو شش فرمائیں کہ کوئی ایسا قا نون پا س ہو جا ئے کہ مر د کو دوسرا نکا ح یعنی دو سر ی شا دی کر نے کی اجا زت نہ ہو ، حضرت نے فرمایا یہ تو قرآن کے خلاف ہے تم اپنے کو مسلما ن کہتی ہو اور مسلما ن قرآ ن کے خلاف کوئی قا نون نہیں ما نتا ، اس لئے یہ قانون پا س نہیں ہو سکتا ۔

مسئلہ کا حل :

ہا ں اس مسئلہ کا ایک حل ہے جس سے تمہا را کا م بھی ہو جا ئے گا اور اسلا م کی مخالفت بھی نہیں ہو گی ، انہو ں نے کہا حضرت وہ کو ن سا طر یقہ ہے ؟میں نے کہا کہ نکا ح سے پہلے سا ری مر ضی تمہا ری ہو تی ہے۔

مو لا نا غلا م غوث ہز ارو ی کا لطیفہ :

مو لا نا فرما تے ہیں کہ میں نے ان کو ایک لطیفہ سنا یا کہ ایک دوست دوسرے دوست سے ملنے گیا تو وہ بڑ ی گہر ی سو چ میں تھا اس نے پو چھا کس سوچ میں ہو ؟اس نے کہا شہزاد ی سے شا دی ہو جا ئے یہ سوچ رہا ہو ں اس نے کہا ایسی سوچنی چا ہیے جو ممکن ہو ، کیا تیری شہزادی سے ممکن ہے بھی ہے ؟اس نے کہا اس میں نا ممکن کو سی با ت ہے ؟آ دھا کا م ہو چکا ہے ؟آدھا باقی ہے یہ بڑا خو ش ہو ا کہ آ دھا کا م ہو بھی چکا ہے کہنے لگا ہا ں پو چھنے لگا کیا ہو چکا ہے وہ کہنے لگا میں را ضی ہو ں اس کا پتہ نہیں اس نے کہا کچھ بھی نہیں ہوا ، یہ سا راکا م اس کی مر ضی پر ہے جب تک وہ را ضی نہ ہو گی ، کچھ بھی نہیں ہو گا حضرت نے فرما یا میں نے ان سے کہا نکا ح سے پہلے تمہا ری مر ضی چلتی ہے اس لئے تم آ پس میں مشورہ کر لو کہ جس مر د کی پہلے ایک بیو ی ہو گی پھردو سری شا دی کر نا چا ہے تو تم ایسے مر د کو قبو ل نہ کرو ، اس سے تمہارامسئلہ حل ہو جا ئے گا ، اور اسلا م کے خلاف بھی نہیں ہوگا ، خلا صہ یہ کہ نکا ح سے قبل سارا حق عورت کا ہوتا ہے اگر عورت راضی نہ ہوتو نکا ح نہیں ہو سکتا ۔

اس آیت میں یہی ہے کہ دو طلا ق کے بعد مر د معرو ف دستو ر کے موافق بیو ی کو روک رکھ سکتا ہے مثلا اگر طلا ق رجعی ہے تو رجو ع کر سکتا ہے اس میںعورت کی مر ضی کو دخل نہیں لیکن اگر طلا ق با ئن ہے تو نکا ح کر سکتا ہے اس میں عورتو ں کی مر ضی کو دخل ہو گا دیکھیں یہ دوسری آیت میں دوسری طلا ق کا ذکر آیا ہے اس کے بعد تیسری آ یت میں تیسری طلا ق ہے ارشا د خدا وندی ہے فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیر ہ لفظ فا عر بی میں تعقب بلا مہلت کے لیے آتا ہے اور اگر اس کے فورا تیسری طلا ق دے دی تو ا ب یہ عورت پہلے مر د کے لئے حلا ل نہیں تا آ نکہ وہ عورت دوسری جگہ نکا ح ( اور صحبت ) کرے قرآ ن بات واضح کر دی آیت نمبر ۸ ۲ ۲ میں ایک طلا ق کا ذکر ہے آیت نمبر ۹ ۲ ۲میں دو طلا قوں کا ذکر ہے آیت نمبر ۰ ۳ ۲ میں تین طلا قوں کا ذکرہے اس میں یہ بھی بتلا یا دیا کہ بس صرف تین طلا قو ں کا اختیار ہے ،

ایک واقعہ :

ایک شخص نے تین طلا قیں دیں پھر غیر مقلدوں کے سا تھ میرے پاس آیا جب میں نے اس کو یہ آیت سنا ئی فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ تو جلد ی سے مجھے کہنے لگا آپ حلالہ کے قائل ہیں ؟میں نے کہا آپ حرا مہ کے قائل ہیں ؟عجیب بات ہے اگر تو حلال فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زو جا غیر ہ ہی ہے تو پھرتو قرآن کا منکر ہے ، یہ اکثر شورکیا کرتے ہیں یہ حلال کر تے ہیں حلالہ کے قائل ہیں ۔

سوا ل کا طریقہ :

میں آپ کو سوال کا طریقہ بتلا دیتا ہو ں چا رسا ل پہلے کی بات ہے میں عمو ما رمضان کے آخر ی دودن اوکا ڑہ میں ہوتا ہوں کیو نکہ عید گھر کر نی ہوتی ہے تو شہر میں بھی اس نسبت سے پرو گرام ہوتا ہے تو چار لڑ کے جو لشکر نجس کے سا تھ ٹر یننگ پر گئے ہو تھے غیر مقلد ہو گئے ان کو ان کا ایک حنفی دوست تقریر سے پہلے لے آیا تا کہ بیا ن سے پہلے بھی کچھ بات چیت ہو جائے غیر مقلدین کے دو مو لو یوں کو پتہ چلا وہ بھی سا تھ آ گئے تاکہ جو خر افا ت انہو ں نے ان کے دل میں ڈا لے تھے نکل نہ جا ئیں۔ غیر مقلد مو لوی صاحب کہنے لگے کہ اگر کوئی بیو ی کو ایک مجلس میں تین طلا قیں دے دے پھر اس کو رکھنا چا ہے تو کیا طریقہ ہے ؟ مقصد یہ تھا کہ یہ حلالہ کا کہے گا ، میں اس پرشور مچا ں گا ، میں نے کہا وہی طریقہ ہے جو اس شخص کے لیے جس نے اپنی بیو ی کو تین طہرو ں میںتین طلا قیں علیحدہ علیحدہ دی ہو ں جو ا سکے بیو ی رکھنے کا طریقہ ہے وہی اس کا ہے اس مو قع پر وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ عورت اور جگہ نکا ح کر ے اس لیے آپ ان مو لو یو ں کے پا س سوال اس طرح لکھ کر بھیجا کر یںتو وہ جو ا ب دینے پر مجبو ر ہو ں گے کہ وہ دوسری جگہ نکا ح کر ے وہ ہم سے ایک مجلس کی تین طلا قو ں کا سوال کر کے شور مچا تے رہتے ہیں یہ حلالہ کا حکم دیتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ گنا ہ مر د کا تھاسز اعورت کو کیوں ؟آپ ان سے کہیں آ پ بے غیر ت ہیں اس لئے آپ کو سمجھ نہیں آیا باغیربات عز ت آ د می سمجھتا ہے ، کہ سز ا عورت کو نہیں بلکہ مجھے ملی ہے ، کہ جس کی بیو ی کا میں ایک قد م گھر سے با ہر برداشت نہیں کرتا تھا ب وہ دوسر ی جگہ نکاح کر کے دوسرے کے بستر کی زینت بن رہی ہے غیر مقلد کہنے لگا آپ نے جوا ب نہیں دیا بلکہ سوال کر دیا میں نے کہا میں نے سنت طریقہ کے مطا بق جوا ب دیا ہے کیو نکہ جوا ب کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ سوال پرکردو۔

سوال: بخا ری شر یف میں جو قیا س کا باب ہے اس میں ہے کہ حضور ﷺ سے ایک عورت نے مسئلہ پو چھا کہ میں والد کی طر ف سے حج کر دو ں تو ادا ہو جا ئے گا ؟اب اس کاجواب تو یہی تھا ، کہ حضرت پا ک ﷺ فرماتے ہا ں یا نہیں لیکن آپ ﷺ نے اس سے سوال کیا کہ اگر تیرے والد کے ذمہ کسی کا قرض ہوتا کیا تیرے ادا کر نے سے وہ ادا ہو جا تا یا نہیں ؟اس نے کہا ادا ہو جاتا ہے حضرت ﷺ نے فرما یا کہ جس طرح بندے کا قر ض اتر جاتا ہے اس طرح اللہ کا قر ض بھی ادا ہو جا تا ہے میں نے کہا میں سنت طریقہ سے آ پ کو جواب دیا ہے کیا آپ اس حدیث کے منکر ہیں ؟

دوسری مثال :

میں نے دوسری مثا ل دی کہ رمضا ن کا مہینہ تھا حضرت عمر ؓ بن خطا ب نے آ کر مسئلہ دریا فت کیا کہ حضرت اگر رمضا ن میں کوئی بیو ی سے بو س وکنا ر کر ے اس سے رو زہ ٹوٹ تو نہیں جاتا ، آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ ٹو ٹ جا تا ہے اور نہ یہ فرمایا کہ نہیں ٹو ٹتا ، بلکہ حضرت عمر کے ہا تھ میں سیب تھا ، آپ ﷺ نے ان سے سیب لے کر اپنے مبا رک ہو نٹو ں پر رکھ لیا اور پو چھا کہ میر اروزہ ٹو ٹ گیا حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ حضرت سیب کھا نے سے روزہ ٹوٹتا ہے ہو نٹو ں پر لگا نے سے نہیں حضرت پا ک ﷺ نے فرمایا پھر مسئلہ تو پو چھ رہا تھا وہ سمجھ آیا کہ نہیں ؟فرما یا آگیا ، اس لئے میں عرض کر رہا ہوں جب یہ تین طلا ق ایک مجلس کی با ت کر یں تو آپ فورا پو چھیں اگر تین طلا قیں تین طہروں میں دی جائیں پھر وہ شخص بیو ی کو رکھنا چا ہے تو کیا طریقہ ہے ؟تو یہ لکھنے پر مجبو ر ہو ں گے ، اس کا حکم ہے حتی تنکح زو جا غیرہ تو پھر آ پ ان سے یہ پو چھیں کہ آپ حرا می ہو جا ئیں تو وہ تین ہی ہو تی ہیں مز ید وضاحت کے لیے دو باتیں اور عرض کردو ں ۔

پہلی با ت :

پہلی بات یہ کہ جس طرح ہر مقد مے میں ایک مد عی اور ایک مد عا علیہ ہوتا ہے بحث میں بھی ایک مد عی ہوتا ہے اور دوسرا مد عا علیہ ہوتا ہے مد عی وہ ہوتا ہے جو خلا ف اصل ہوتا ہے اس کے ذ مہ دلیل ہو تی ہے اس طرح مسئلہ طلا ق میں غیر مقلد مدعی ہے کیو نکہ جو ایک کوایک کہتا ہے وہ اصل کے مطابق کہہ رہا ہے اس کے ذمہ دلیل نہیں اسی طرح جو دو کو دو کہتا ہے وہ اصل کے مطابق کہہ رہا ہے اس کے ذمہ دلیل نہیں اور تین کو تین کہہ رہا ہے وہ اصل کے مطا بق کہ رہا ہے اس کے ذمہ دلیل نہیں جو تین کوایک کہتا ہے وہ اصل کے خلاف ہے اس کے ذمہ دلیل ہے جو اصل پر چل رہا ہے اس پر دلیل نہیں کیو نکہ اصل خو د مستقل ایک دلیل ہوتی ہے اس مسئلہ میں مد عی غیر مقلد ین ہیں ۔

دوسری بات :

دوسری با ت یہ ہے کہااس میں نقطہ اختلا ف کیا ہے ؟غورسے سنیں اس مسئلہ میں ہمارا ان سے ایسا اختلا ف ہے جس طرح مسئلہ ختم نبو ت میں ہمارا قا دیانیو ں سے اختلاف ہے ہم کہتے ہیں لا نبی بعدی ، حضرت پا ک ﷺ کے بعد کو ئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا

خو اہ صاحب شر یعت نبی ہو

خو اہ غیر تشر یعی نبی ہو

خو اہ حقیقی نبی ہو

خو ا ہ حکمی نبی ہو ،

خو اہ ظلی نبی ہو

خو اہ بروزی نبی ہو

کوئی کسی قسم کا نبی حضرت پا ک ﷺ کے بعد پید انہیں ہو سکتا لیکن قا دیا نی اس کو تقسیم کر لیتے ہیں کہ حضرت پا ک ﷺ کے بعد صا حب تشریع نبی تو نہیں آ سکتا لیکن غیر تشریعی نبی آسکتا ہے ہمارا دعو یٰ یہ ہے کہ کسی قسم کا نبی نہیں آ سکتا اس لئے ہمارے ذمہ دلیل عا م قسم کی ہو گی ، جس میں ہر قسم کی نبو ت آ جائے ۔

قا دیا نیوں کی دلیل :

لیکن چو نکہ قا دیا نی نبو ت کو دو حصوں میں تقسیم کر تے ہیں اس لئے ان کے ذمہ دو دلیلیں ایک اس کی کہ حضرت پا ک ﷺ کے بعد صاحب شریعت نبی نہیں آ سکتا ، دوسری اس بات کی کہ حضرت پا ک ﷺ کے بعد غیر تشریعی نبی آ سکتا ہے ۔

ہمارا دعو یٰ :

مسئلہ طلا ق میں ہمارا دعو یٰ ہے کہ جب تین کی گنتی پور ی ہو گئی تو وہ تین طلا قیں ہوں گی خو اہ وہ تین کی گنتی کسی طرح پو ری ہو جا ئے لیکن غیر مقلدین کہتے ہیں کہ نہیں اگر ایک مجلس میں تین طلا قیں دی جاتیں تو وہ ایک ہو گی اور اگر الگ الگ مجلسو ں میں تین طلا قیں دی جائیںتو پھر وہ تین ہو ں گی انہوں نے اس مسئلہ طلا ق ثلا ثہ میں بالکل قا دیا نیو ں والا راستہ اختیا ر کرتے ہو ئے اس کو دو حصو ں میں تقسیم کردیا ہے اس لئے ان کے ذمہ دلا ئل دو قسم کے ہو ں گے ان کے ذمہ ایک دلیل یہ ہو گی کہ تین طہر وں میں دی ہو ئی طلا قیں تین ہو ں گی دوسری دلیل اس پر پیش کر یں گے کہ ایک مجلس کی تین طلا قیں ایک ہو ں گی ، لیکن آ پ حیران ہو ں گے کہ یہ بیچا رے اپنے ان دعووں پر کوئی صحیح دلیل پیش نہیں کر سکتے نقطہ اختلا ف سمجھیں کہ جس طرح ہم مسئلہ ختم نبو ت میں عام دعو یٰ رکھتے ہیں کہ کسی قسم کا نبی پید انہیں ہو گا لا نبی بعد ی میںہر قسم کی نبو ت آ گئی لیکن قا دیا نیوں نے نبو ت کے دو حصے کر دئے اس طرح انہوں نے طلا ق کے دو حصے کر دئے ۔

غیر مقلدین کا ایک اور فرا ڈ :

غیر مقلدین کے جو فتاویٰ طبع ہو تے ہیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے حدیث کے الفاظ دیکھ کہ سوال مرتب کر لیتے ہیں پھر جو اب میں وہی حدیث لکھ دی ، اب پڑ ھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ جوا ب با لکل حدیث کے موافق ہے اب میں سوال وہ کرتا ہو ں جو الفا ظ حدیث میں نہ ہو ں تجلیا ت صفدر جلد چہا ر م میں میں نے ان سے چند سوال کئے ہیں ۔

سوال نمبر ۱: ایک آ دمی نے اپنی بیو ی کو نو طلا قیں دیں اب غیر مقلدسے مسئلہ پو چھا کہ ایک مجلس میں ، میں نے تین طلا قیں دی ہیں کیاحکم ہے ؟وہ کہنے لگا ایک ہو ئی ہے اس نے کہا چلو میں طلا قیں دیں ہیں وہ کہتا ہے ایک ہو ئی وہ شخص کہنے لگا تین ایک تھی چھ دو ہو گئیں او ر نو تین ہو گئیں مو لوی صاحب کہتے ہیں نہیں نو بھی ایک ہے ، اب صحیح حدیث سے فیصلہ کر یں کہ نو طلا قیںایک ہوتی ہے قیا مت تک ایسی حدیث پیش نہیں کر سکتے ۔

سوال نمبر ۲: ایک آ دمی نے تین مجلسوں میں تین طلا قیں دیں ایک صبح کو ایک دوپہر کو ایک شا م کو اب یہ تین مجلسوں کی تین طلا قیں ہیں لیکن غیر مقلدین اس کو بھی ایک کہتے ہیں حا لا نکہ یہ ایک مجلس کی نہیں ہیں لیکن اس پر وہ قیا مت تک دلیل پیش نہیںکر سکتے ۔

سوال نمبر ۳: ایک شخص نے ایک طلا ق پیر کو دی دوسری منگل کو دی اور تیسری بدھ کہتے ہیں یہ بھی ایک ہو ئی لیکن صراحت کے سا تھ حدیث پیش کریں تین دنوں میں دی ہوئیں تین طلاقیں ایک ہو تی ہیں قیا مت تک ایسی حدیث پیش نہیں کرسکتے ۔

خیر المدا س کے ایک طا لب علم کا واقعہ :

ہمارا ایک طالب علم جو دورہ حدیث میں پڑ ھتا ہے وہ کل بتا رہا تھا کہ مین ان کے مد رسہ میں گیا میں نے یہ تینوں سوال لکھ کر دیئے کہ ان کی اگر حدیث ہے تو لکھ کر دیں اس نے کہا میں لکھ کر نہیں دو ں گا ، بلکہ زبان سے سمجھا دو ں گا ، میں نے کہا نہیں اگر آپ لکھ کر دیں گے تو دوسر ے لو گو ں کو بھی فا ئدہ ہو گا زبا نی بات مجھے بھو ل جا ئے گی کہنے لگا آپ کہاں سے آئے ہیں ؟میں نے کہا خیر المدا رس سے تو اس نے دھکے دے کر مجھے نکا ل دیا اور کہنے لگا تجھے زبا نی بھی نہیں بتلا ں گا ۔

سوال نمبر ۴: ایک شخص نے مہینہ کے پہلے ہفتے میں ایک طلا ق دی دوسرے ہفتہ میں د و سری طلا ق دی تیسرے ہفتہ تیسر ی طلا ق دی تین طلا قیں دیں تین ہفتوں میں دی ہو ئی تین طلا قیں ایک ہیں یا تین ، اس پر قرآن وحدیث سے قیا مت تک دلیل پیش نہیں کر سکتے۔میں نے جو آیت تلا وت کی ہے کہ اگر کوئی تیسری طلا ق دے دے تو فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاغیر ہ با ئیس صحا بہ کے اقوال صرف مصنف ابن ابی شیبہ میں ہیں جن سے پتہ چلتا ہے نہ صرف ایک مجلس بلکہ ایک کلمہ سے دی ہو ئی تین طلا قیں تین ہو تی ہیں آپ ان کو بے خبری میں پڑ ھ جا تے ہیں ان اقوال میں دو قسم کے اقوا ل ہیں ۔

پہلی قسم :

بعض صحا بہ سے پو چھا گیا کہ ایک آ د می نے بیو ی کو تین طلا قیں دی ہیں اب کیا حکم ہے صحا بی نے فرمایا تجھے گنا ہ بھی ہوا اور بیوی بھی گئی فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زو جا غیرہ جب آپ یہ پیش کر تے ہیں تو غیر مقلدشور کر تے ہیں کہ ایک مجلس کا لفظ دکھا ؟اس میں ایک مجلس کا لفظ نہیں ہے لیکن پوری امت کا اس پر اتفا ق ہے کہ گنا ہ ایک پر نہیں تین طلا قوں پر ہے جو ایک مجلس میں دی جائیں جو تین تین طہر وں میں دی جا ئیں کوئی نہیں کہتا کہ گنہگا ر ہوا ہے تین طلا ق دینے والا ، ان رو ایا ت میں صحا بہ کرام سے با ر باریہ الفاظ آ رہے ہیں عصیت ربک وبا نت امر اتک فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زو جا غیرہ اب اس میں ایک مجلس کا لفظ آ ئے یا نہ آ ئے جب اس میں گنا ہ کا لفظ آ گیا تواس سے وہی تین طلا قیں مراد ہیں جو اکھٹی ایک مجلس میں دی جائیں نسا ئی شریف سے حضرت محمو د بن لبید کی حدیث ان کے سا منے رکھ دیں محمو بن لبید فرماتے ہیں حضرت پا ک ﷺ تشر یف فرماتھے ایک شخص آیا آپ کو بتلا یا گیا کہ اس نے اپنی بیو ی کو اکھٹی تین طلا قیں دیں ہیں حضرت ﷺ سخت نارا ض ہو ئے اور با ربا ر فرماتے تھے کہ میں ابھی تم میں مو جو د ہوں تم میں زندہ ہو ں تم خدا تعالی کے دین کا مذا ق اڑاتے ہو اس قد ر آپ ﷺ نا راض ہو ئے ایک صحا بی کو کہنا پڑا حضرت مجھے اجا ز ت دیں کہ میں اس کو قتل کردوں

قا ل سمعت محمو د بن لبید قال اخبر رسول اللہ ﷺ عن رجل طلق امراتہ ثلث تطلقات جمیعا فقام غضبانا ثم قا ل ایلعب بکتا ب اللہ وانا بین اظھرکم حتی قام رجل وقال یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا اقتلہ ۔ نسا ئی جلد ۲ص ۹۹

غور کریں حضرت پا ک ﷺ فرمارہے ہیں اس شخص کے بارے میں جس نے ایک مجلس میں تین طلا قیں دیں کہ اللہ اس سے نا راض ہے کیو نکہ اس نے کتاب اللہ کا مذا ق اڑا یاہے ، اللہ کے رسول اس سے اس قد ر نا راض ہیں حتی کہ ایک صحا بی کو عر ض کر نا پڑا کہ میں اس کو قتل نہ کرو ں سا رے صحا بہ اس سے نا راض ہیں سا رے ائمہ اس سے نار اض ہیں ، لیکن غیرمقلد اس سے خو ش ہو تے ہیں ان کو خو شی ہوتی ہے ان کے گھر گھی کے چر اغ جلتے ہیں کہ اب یہ ہمارے پا س آ ئے گا ۔

خدا ناراض ہے خدا کے رسول ناراض ہے صحا بہ ناراض ہیں ائمہ نار اض ہیں لیکن غیر مقلد خو ش ہیں خو د اس کے پاس جا ئیں گے کہ دیکھ سا رے حلا لہ بتلا ئیں گے خیا ل رکھنا اللہ تعالی بھی فرمارہا ہے فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ۔

حضور ﷺ بھی فرمارہے ہیں جب تک تو اس کی مٹھا س نہ چکھ لے اور وہ تیری مٹھاس نہ چکھ لے اس وقت تک مسئلہ حل نہ ہو گا یہ سا رے صحا بہ بھی مسئلہ بتلا تے ہیں سا تھ فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیر ہ پڑ ھتے جا رہے ہیں سا رے ائمہ کرام بھی حلالہ بتا تے ہیں سا ری دنیا حلالہ بتلا تی ہے سا ری دنیا میں صرف ہم ہی حرا مہ بتلا تے ہیں کہ بیو ی کو ر کھ لو سا ری عمر حرام کرو ، اے غیر مقلدو تمہیں خدا کا خو ف نہیں ۔

غیر مقلد کی بیو ی طلا ق :

سکھر میں ان کے ایک مو لوی صاحب ہیں ، میں وہا ں گیا تو عجیب بات سنی کہ جب اس کے پا س تین طلا ق کا فتویٰ لے کر آتا تو اس سے کہتا ہے مسجدسے قرآ ن اٹھا کر لا ، وہ سمجھتا ہے کہ شا ہد مجھے کچھ بتلا ئے گاوہ ، قرآن پر سر کر رکھ کر کہتا ہے میں نے اپنی بیو ی کو تین طلاقیں دیں ( بیس سال سے یہی کہہ رہا ہے لیکن ابھی تک اس کی بیوی کو طلا ق پڑی نہیں ، تو یہ طلا ق نہ ہو ئی بلکہ بی بی تمیزا ں کو وضو ہو گیا ،وہ ایک عورت تھی ہر وقت نماز پڑ ھتی رہتی جب مہما ن جا تے پھر وہ نماز سے شروع کر دیتی کسی نے کہا وضو تو کرتی نہیں نماز پڑ ھتی رہتی ہے کہنے لگی وضو تو ڑنے ولا کو ئی رہا ہی نہیں وضو ءتوخا وند تو ڑتا تھا وہ رہا نہیں غسل ٹوٹتا نہیں یہی حال اس کی بیو ی کا ہے مقصد یہ ہے اللہ تعالی نے یہی ارشا د فرمایااور صحا بہ جہا ں بھی فرماتے ہیں کہ تو نے رب کی نا فرما نی کی تیری بیوی تجھ جد اہو گئی سا تھ یہ آ یت پڑ ھتے ہیں ، فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیر ہ ۔

ایک واقعہ :

میں مری گیا ، مجھے ایک مسجد میں نماز پڑ ھنے کا اتفا ق ہوا وہ مسجد غیر مقلدین کی تھی وہا ں ایک امام اور دو مقتدی تھے سا ل کے بعد پھر وہا ں جا نا ہوا اتفا ق سے اسی مسجد میں نما ز پڑ ھی تو ایک امام گیا رہ مقتد ی تھے میں نے صا حب خا نہ سے اس کا تذ کر ہ کیا اس مسجدکا مولوی بڑا محنتی ہے ایک سال میں نو افراد غیر مقلد بنا لئے صاحب خا نہ کہنے لگا کہ ا س میں مولو ی صا حب کی محنت کوکو ئی دخل نہیں یہ سا رے تین طلاق والے ہیں کیو نکہ اور کہیں سے تو فتویٰ ملتا نہیں اسلئے بے چا رے غیر مقلدین کے پاس چلے جاتے ہیں یہ جو روایات میں گناہ کالفظ آ رہا ہے وہ اسی پر دال ہے کہ وہ ایک مجلس کی ہو ں چنا نچہ دار قطنی ہیں حضرت ابن عمر ؓ سے مر فو عا روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیو ی کو حالت حیض میں طلا ق دے دی تھی حضور ﷺ نے ارشا د فرمایا کہ کہ رجو ع کر لو ، پھر اگر طلا ق دینی ہوتو ایسے طہر میں دینا جس میں جماع نہ کیا ہو کیو نکہ حالت حیض میں طلا ق دینا گناہے وطلقو ھن لعد تھن ، کا حضرت پاک ﷺ نے یہی مطلب بیا ن فرمایا حضرت ابن عمر ؓنے پو چھا کہ حضرت یہ تو میں نے ایک طلا ق دی تھی ، آپ ﷺ نے حکم فرمایا کہ رجوع کر لو اگر میں نے تین طلا ق دے دیتا تو پھر ؟آپ ﷺ نے فرمایا تجھے گناہ بھی ہوتا اور تیر ی بیوی بھی تجھ سے جداہو جا تی غیر مقلدین ایک مجلس کا لفظ ما نگتے ہیں میں نے عر ض کر دیا ہے کہ جن روایات میں گناہ کا لفظ موجو د ہے ایک مجلس یا ایک کلمہ سے تین طلا ق دینے پر محمو ل ہیں کیو نکہ گنا صرف وہی طلا ق ہے جو ایک مجلس میں تین دی جائیں یا ایک کلمہ سے تین دی جائیں ۔

دوسری دلیل :

مصنف عبد الزاق اور مصنف ابن ابی شیبہ سولہ صحا بہ کرا م اور کئی تا بعین سے مرو ی ہے کہ ان سے سوال کیا گیا غیر مد خو ل بہا کے بارے میں جس کو تین طلا قیں دی گئیں ہیں تو اس پر بھی یہی فرمایاوہ گنہگا ر ہے ، اس کی بیو ی اس سے جدا ہو گئی فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ اب یہ غیر مد خو ل بھا ہے اس کو ایک مجلس میں نہیں بلکہ ایک کلمہ سے تین طلا قیں پڑ تی ہیں اس کا مسئلہ اپنی جگہ ثا بت ہے کیو نکہ طلا ق کے لئے نکا ح یا عدت کا ہو نا شر ط ہے جب غیر مد خو ل بہا کو یو ں کہا گیا ، تجھے طلا ق طلا ق طلا ق تو صرف پہلی طلا ق سے وہ بائنہ ہو گئی با قی دو لغو ہو ئیں ا سلئے ایک طلا ق کے بعد وہ محل طلا ق ہی نہ رہی کیو نکہ نہ نکاح رہا نہ عد ت رہی کیو نکہ غیر مدخو ل بہا کی عد ت نہیں ہوتی ، اس لئے اس کو تین طلا ق پڑ نے کی ایک صورت ہے کہ وہ اکھٹی دی جائیں یو ں کہا جائے تجھے تین طلا ق دیکھیںان روایات میں ایک مجلس کا لفظ نہیں جب غیر مد خو ل بہا کو ایک کلمہ کے سوا تین طلا قیں ہو سکتی نہیں کیو نکہ اگر ایک مجلس میں الگ الگ تین طلا قیں دی جائیں تو اس کو ایک ہی پڑ تی ہے اس لئے جن رو ایا ت میں گناہ کا لفظ ہے ان سے ایک مجلس ہی مرا د ہے کیو نکہ تما م صحا بہ نے یہی فتو یٰ دیا اور سا تھ فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زو جا غیر ہ ، پڑ ھا کسی ایک صحا بی نے بھی ان کے فتویٰ کا انکار نہیں کیا ۔

ایک لا کھ انعا م :

اگر کسی صحا بی کا انکا ر بھی صحیح سند سے دکھا دیں تو ہم فی حدیث ایک لا کھ روپے انعام دیں گے ، کسی تا بعی نے ان کے فتو ے کا انکا ر کیا ہو صحیح سند کے سا تھ ثا بت کر دیں تو ہم ایک لا کھ روپے انعام دیں گے اسی طرح تبع تا بعی نے فتویٰ دیا کسی دوسرے تبع تا بعی نے اس کا انکار نہیں کیا صحا بہ کرام یہ آیت مذ کور ہ تلا وت کر رہے ہیں کیو نکہ انہو ں نے قرآن پا ک حضرت پاک ﷺ سے پڑ ھا تھا صحا بہ کے بارے میں یعلمھم الکتاب والحکمة

ابن مسعو د ؓ کا فتویٰ :

حضرت ابن مسعو دؓ جنہو ں نے نبی ﷺ سے قرآن پڑ ھا ہے وہ اس آیت فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ کو گنا ہ والی طلا ق اور غیر مد خو ل بہا پر فٹ کر رہے ہیں غیر مقلدکہتا ہے ہم نے عبداللہ بن مسعو د ؓ کا کلمہ تونہیں پڑ ھا ہما را عبداللہ بہاولپوری کہتاہے کہ یہ اس میں شا مل نہیں ۔

ابن عبا س ؓ کا فتویٰ :

اس طرح حضرت ابن عبا س سے بھی غیر مد خو ل بہا اور تین طلا ق والی عورت کا مسئلہ پو چھا گیا تو حضرت نے یہی آیت تلا وت کر کے بتلا یا کہ اب یہ عورت اس کے نکا ح میں نہیں آسکتی تا آنکہ دوسری جگہ نکا ح نہ کرے غیر مقلد کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی ابن عبا س ؓ کا کلمہ پڑھا ہے؟ ہماراعبداللہ بہاولپو ری کہتاہے کہ طلا ق نہیں ہوئی تو ہم عبداللہ ابن عباس کی بات کیسے مان لیں ؟

حضرت عبد اللہ بن مفغل ؓ کا فتویٰ :

حضرت عبداللہ بن مغفل کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ تین تین ہی ہوتی ہیں کسی ایک صحابی کا اور کسی ایک تابعی کا اس پر انکا ر نہیں ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام نے اس کا انکا ر نہیں کیا ۔

غیر مقلدین منکر اجماع ہیں :

کلا م اللہ کی تشریح نبی ﷺ سے ہورہی ہے صحا بہ سے ہو رہی ہے اجما ع امت سے ہو رہی ہے لیکن غیر مقلدین تشریح رسول کے بھی منکر ہیں تشر یح صحا بہ کے بھی منکر ہیں اور اجماع امت کے بھی منکر ہیں اور غیر مقلدین کے پاس سوا ئے ضد کے اور کچھ نہیں وہ صرف فیشن اور رواج کو دیکھتے ہیں میر ے عمر کے اس مجمع میں اور لوگ بھی موجو د ہیں ہمارے بچین میں تین طلا قو ں کے واقعا ت بہت کم پیش آ تے تھے کیو نکہ لوگ ڑر تے تھے پھر فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ، پر عمل کر نا پڑ ے گا ، جب سے ان بد مذہبو ں نے کھلی چھٹی دے دی ہے اس کے بعد تین طلا ق کے اس قدر واقعا ت پیش آ ئے جس کا کوئی حسا ب ہی نہیں کیو نکہ خوف جا تا رہا لوگ ا ن کے فتو یٰ کی وجہ سے حرام میں مبتلا ہو رہے ہیں اور یہ خوش ہو رہے ہیں کہ غیر مقلدین کی جماعت میں اضافہ ہورہا ہے ۔

غیر مقلدسے مکا لمہ :

میں نے ایک غیر مقلد سے گفتگو کی کہ صحا بہ کرام آیت پڑ ھ کر سنا رہے ہیں فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیر ہ لیکن تم اس کے خلاف فتو یٰ دیتے جا تے ہو غیر مقلدکہنے لگااگر ہم فتویٰ نہ بھی دیں تب بھی وہ اکھٹے ہو جاتے ہیں اس طرح فتویٰ دینے سے کچھ ہما را ( دو چار سو) بن جا تا ہے اور کچھ ان کا بن جا تا ہے میں نے کہا ان کا کیا بن جا تا ہے ؟آپ نے تو ان کا سب کچھ ضا ئع کر دیا کیو نکہ اگر آپ فتویٰ نہ دیتے وہ جمع رہتے وہ کم از کم یہ سمجھتے کہ ہم گنا ہ کر رہے ہیں توحرام کو گنا ہ سمجھ کر کرنا گنا ہ ہی ہے لیکن تمہار ے فتوے سے وہ گناہ کو حلال اور جائز سمجھ کر کرتے ہیں تو حرام کو حلال سمجھنا یہ کفر ہے ، بندے کو کفر کے قریب پہنچا دیتاہے تم کہتے ہو اس کا نکا ح با قی ہے ہم کہتے ہیں تم نے اس کا ایمان بھی نہ بچنے دیا نکا ح تو اپنی جگہ رہا ۔

ایک منا ظرہ :

ایک چک میں ایک فعہ منا ظرہ تھا پہلے چیلنج دے دیا غیر مقلد وں نے اب جا ن پچا نے کی کو شش کریں ہم نے کہا اگر منا ظرہ نہیں کرنا تو آپ نے چیلنج دیا تھا تحریر ا لکھ دیں کہ ہم اپنا چیلنج واپس لیتے ہیں اب نہ تحر یر لکھیں اور نہ منا ظرہ کریں آخر ہم دو چا ر پا ئیا ں لے کر ان کی مسجد کے سا منے چلے گئے ایک پر سپیکر لگا دیا دوسری پرمیں نے کھڑ ے ہو کر بیا ن شروع کر دیا اور بیا ن یہاں سے شروع کیا کہ ان لوگوں نے یہو دیت کا مذ ہب اپنا یا ہے کہ ہز ار طلاقیں دے کر بھی بیو ی رکھ سکتے ہو ، اسلا م کہتا ہے کہ تین طلا ق کے بعد نہیں رکھ سکتے میں نے سوال کیا کہ ہمیںاسلا م کی بات ما ننی چاہیے یا یہو دیت کی ؟جب میں نے بیا ن شروع کیا تو قاصد آیا کہ ہم آ رہے ہیں ہم آرہے ہیں سٹیج پر شور مچا ئیں کہ ایک طہر میں ایک طلا ق دینا سنت ہے طہر میں ایک طلا ق دینا سنت ہے ایک طہر میں طلا ق دینا سنت ہے ،میں نے کہا سب ایک ایک لکھ کر بھیج دو تاکہ سنت پر عمل ہو جائے ۔

غیر مقلدین کا دھو کہ :

غیر مقلدین عوا م کو دھو کہ دیتے ہیں فقہ حنفی میں لکھا ہے کہ تین طلا قیں اکھٹی دینا گناہ ہے جب گنا ہ ہے تو وا قع کیسے ہو ں گی ؟اس با رے میں عر ض یہ ہے کہ حیض میں طلا ق دینا بھی گنا ہ ہے سا ری امت کا اس پر اتفا ق ہے صر ف ابن تیمیہ نے اس کا انکا ر کیا تھا اس مسئلے میں اختلاف ہے کچھ ابن تیمیہ کے مقلد ہیں اور کچھ دیگر ائمہ کے مقلد ہیں ۔

ایک مسئلہ :

ایک غیر مقلد نے سعودیہ اپنی بیو ی کو تحریر اً طلا ق روانہ کی جب وہ یہا ں پہنچی تو بیوی حا لت حیض میں تھی ان کا اختلاف ہو گیا مر د کہتاہے کہ جب میں نے لکھی تھی اس وقت تو حالت حیض میں نہیں تھی اس لئے طلا ق واقع ہو گئی جب لکھی گئی اس وقت کا اعتبا رہے بیوی کہتی ہے واقع نہیں ہو ئی جب موصول ہو ئی اس وقت کا اعتبا ر ہے میں نے کہا اب صریح حدیث لا کہ کیا کر نا ہے فقہ میں تو حل مو جو د ہے آپ حدیث سے مسئلہ کا حل تحریر کریں ۔

حالت حیض میں طلا ق :

اگر کوئی حالت حیض میں طلا ق دے تو ان ایا م میں طلا ق دینا حرام ہے لیکن طلاق واقع ہو جا تی ہے اس طہر میں بھی طلا ق دینا حرام ہے جس میں ایک مر تبہ جماع ہو چکا ہو وجہ یہی ہے کہ اس سے عدت میں گڑ بڑ ہو گئی ا سی طرح حیض میں طلا ق دی تو سوال ہو گا کہ یہ حیض عدت میں شما ر ہوگا یا نہیں عورتوں کو تو پریشا نی ومصیبت میں ڈالنا ہے اس لئے اللہ کاحکم ہے و طلقو ھن لعد تھن ، لیکن اگر کسی نے اس طہر میں طلا ق دے دی جس میں جماع کر چکا ہے تو پوری امت کا اتفا ق ہے کہ طلا ق واقع ہو جائے گی اسی طرح تین طلا قیں اکھٹی دینا غیر شرعی طریقہ ہے دینے ولا گنہگار ہو گا لیکن طلا قیں واقع ہو جا ئیں گی اب ہمارا سوال ان سے یہ ہے کہ ہم نے قرآ ن پیش کیا کہ تین طلا ق کے بعد نکا ح نہیں ہوسکتا اب یہ قرآن پیش کریں کہ اگر تین اکھٹی ایک مجلس میں دی جائیں تو وہ تین نہیں لیکن اس مسئلہ میں قرآن ان کے سر پر ہا تھ نہیں رکھتا ہے ۔

غیر مقلدین قرآن کی اس آیت سے استدلا ل کرتے ہیں ومن یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ کہ جو حد ود اللہ سے آ گے نکلا تجا وز کیا اس نے اپنے اور پر ظلم کیا کہتے ہیں حدیہ تھی کہ ایک طہر میں ایک طلا ق دے جب اس نے ایک ہی دفعہ تین دے دیں تو حدسے تجا و ز کر گیا ہم کہتے ہیں کہ جب تین ایک ہی ہوئی بیوی اس کی رہی تو اپنے نفس پر اس نے کیا ظلم کیا کچھ بھی ظلم نہ ہو اظلم ایک ہی صورت میں بنتا ہے کہ اس کی بیو ی جد اہو گئی اب واقعی اس نے اپنے اوپر ظلم کیا اسی لئے حضرت ابن عبا س فرماتے ہیں اگر تو خد اسے ڈر تا ہے تیرے لئے کوئی راستہ نکل آتا ہے لیکن تو خدا سے نہیں ڈرا اب تجھے گنا ہ بھی ہوا اور تیری بیوی تجھ سے جد ا ہو گئی اب تیرے لئے کوئی راستہ نہیں ہے ۔

غیر مقلدین کا غلط قیاس :

غیر مقلدین کہتے ہیں تین طلا قیں اکھٹی دینے کا طریقہ غلط ہے اس لئے غلط طریقہ سے طلا ق نہیں ہوتی یہ قیا س غلط ہے کیو نکہ ائمہ مجتہد ین نے جو صحیح قیا س کر کے مسئلہ بتلا یا ہے یا مسائل بتلا تے ہیں اس کو یہ نہیں مانتے یہ قیا س انہوں نے رافضیو ں ( شیعو ں ) سے چو ری کیا ہے کیو نکہ رافضیو ں نے یہ کہا تھا کہ غلط طریقہ سے دی ہو ئی طلا ق واقع نہیں ہوتی انہوں نے قیا س کیا نماز پر کہ جس طرح غلط طریقہ سے کو ئی نمازشروع کر ے تو وہ شروع نہیں ہوتی ۔

اما م طحا وی کا جواب :

اما م طحا وی نے شر ح معا نی الا ثا ر میں اس قیا س کی دھجیا ں اڑا دیں فرمایا یہ قیاس ہی غلط ہے کیو نکہ اس سے نکاح ختم ہورہا ہے اس لئے اس کو نماز کے ختم ہو نے پر قیاس کرو نہ کہ شروع ہو نے پر اب نماز میں داخل ہو نے کا ایک ہی طر یقہ ہے سنت طریقہ پر داخل ہوتو نماز شروع ہو گی ور نہ نہیں ہو گی لیکن نماز سے نکل جا نے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ السلا م علیکم ورحمة اللہ اگر یہ کہ کر نکل گیا تو نماز سے نکل بھی گیا اور گنا ہ بھی نہیں ہوا لیکن اگر وہ اٹھ کر بھاگ گیا یا کلا م کر لی یا کھاپی لیا یا کوئی ایساکا م کر لیا جو نماز کے منا فی ہے تو پوری امت کا اتفا ق ہے کہ یہ نماز سے نکل گیا ہے اور سا تھ ہی سا تھ یہ گنہگا ر بھی ہوا ۔

نماز سے نکلنے کے دوطریقے :

جس طرح نماز سے نکلنے کے دو طریقے ہیں ایک صحیح السلا م علیکم کہہ کر اور دوسرا غلط یعنی خلاف نماز کو ئی فعل کر کے تو نماز سے بندہ دونوںطریقوں سے نکل جاتا ہے پہلی صورت میں گنہگا ر نہیں ہوگا ، جبکہ دو سری صورت میں گنہگا ر ہو گا اسی طرح نکا ح سے نکلنے کے بھی دوطریقے ہیں ایک صحیح وہ یہ ہے کہ ایک طہر ایک طلا ق واقع ہو جائے گی دوسرا غلط طریقہ مثلا تین ایک کلمہ سے تین ایک مجلس میں یاحالت حیض میں اس طلا ق دینے سے بند ہ گنہگا ر ہو گالیکن طلاق پھر بھی واقع ہو جائے گی اند از ہ لگا ئیں کہ امام ابو حنیفہ کا قیاس ان کو اچھا نہیں لگتا ہے۔ اما م مالک کا قیاس ان کو اچھا نہیں لگتا امام شا فعی کا قیاس ان کو اچھا نہیں لگا امام احمد بن حنبل کا قیاس ان کو اچھا نہیں لگتا لیکن رافضیوں کا شیعو ں کا قیاس ان کو اچھا لگتا ہے لیکن کبھی بھی یہ نہیں بتلا ئیں گے کہ اس قیاس کی تیسری صدی میں اما م طحا وی نے دھجیا ں بکھیر دی تھیں آ ج تک بڑ ے رافضی اور چھو ٹے رافضی ( یہ غیر مقلد) مل کر امام طحا وی کا جواب نہیں دے سکے ۔

قرآن اہل سنت کے موافق ہے :

مسئلہ طلاق ثلا ثہ میں قرآن اہل سنت کے موافق ہے کیو نکہ اس مسئلہ میں اختلاف صرف حنفیوں اور غیر مقلدو ں کا نہیں بلکہ تما م اہل سنت والجماعت اور غیر مقلد ین کا اختلاف ہے اہل سنت کا اس پر اجماع ہے ( اہل سنت میں حنفی مالکی شا فعی حنبلی سب شامل ہیں ) یہ بخا ری شریف متر جم جلد ۳صفحہ ۱ ۹ ۷ ہے ( اس بخا ری کا یہ دن رات نا م لیتے ہیں ) اس پر یہ باب ہے باب من اجاز طلا ق الثلٰث تین طلا قو ں کے جواز کا بیا ن امام بخاری ؒ چو نکہ امام شافعی کے مقلد ہیں اما م شافعی کے نز دیک تین طلا ق اکھٹی دینے سے گنا ہ بھی نہیں ہوتا اور تین کی تین واقع ہو جا تی ہیں ۔

صحیح بخا ری کی پہلی حدیث :

امام بخا ری سب سے پہلے عویمر جلا نی ؓکی حدیث لا ئے ہیں جس میں ان کے لعان کا ذکر ہے حضرت عو یمر عجلا نی نے بھی قسمیں اٹھا لیں اور ان کی بیوی نے بھی قسمیں اٹھا لیں ( تو ان کو غصہ آیا کہ میر ی بیوی نے میرے مقا بلہ میں قسمیں اٹھا لیں ) انہو ں نے فورا تین طلا قیں دے دیں کیا یہ ایک مجلس نہیں ہے ) کیو نکہ روایت میں وضا حت ہے فطلقہا ثلا ثا قبل ان یا مرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی حضور ﷺ نے ان کی قسمیں سن کر کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے فیصلہ سے پہلے تین طلا قیں دے دیں کیو نکہ انہیں خوف ہوا کہ کہیں حضور ﷺ قسمو ں کے بعد صلح کی کوشش نہ فرمائیں یہ بات سارے صحا بہ کرام جا نتے تھے کہ تین طلا ق کے بعد نہ اللہ تعالی صلح کرواتے ہیں اور نہ حضور ﷺ صلح کروا تے ہیں اور نہ صحا بہ کرام صلح کر وا تے ہیں اور نہ ائمہ مجتہد ین صلح کروا تے ہیں ( یہ صلح پہلے یہو دیوں نے شروع کرو ائی پھر رافضیو ں یعنی شیعوں نے پھر غیر مقلدین نے ان سب کا تا نابا نا ایک ہی صلح سے بچنے کی ایک ہی شکل صحا بہ کرام کے ذ ہن میں تھی کہ ایک دفعہ تین طلا قیں دے دو پھر حضور ﷺ صلح نہیں کرو ائیں گے ،

بخا ری کی دو سری حدیث :

امام بخا ری دوسری حدیث رفا عة القر ظی ؓکی لا ئے ان کی روایت میںتین قسم کے الفا ظ ہیں اس جگہ فبت طلا قی ہے بخا ری جلد ۲ ص۹ ۹ ۸ پر فطلقھا اخر ثلٰث تطلیقات کہیں طلقہا ثلاثا ہے اس پر عجیب بات علما ءنے لکھی ہے کہ تین طلا قیں جس طرح بھی ہو جائیں خوا ہ لفظ بت سے ہو جا ئیں یا طلقہا ثلاثا سے ہو جائے یا آخر ثلث تطلیقات سے ہو جائے وہ تین پر ہی ہو ں گی اس حدیث کے جتنے بھی الفا ظ ہیں ان میں سے جو لفظ بھی تین پر ہی دلا لت کر تا ہے اسی لئے امام بخا ری اس حدیث کو تین طلا ق والے با ب میں لا ئے ہیں حضرت رفا عہ کی بیو ی حضور ﷺ کی خد مت حا ضر ہے اور اپنی پر یشا نی بیان کر رہی ہے کہ حضر ت میرے خا وند نے مجھے تین طلا قیں دی تھی پھر میں نے حضرت عبدالر حمن بن زیبر سے نکا ح کیا ، ( وہ نا مرد ہے اس کے پا س کچھ نہیں بس اس طرح کی ایک چیز ہے جیسے کپڑ ے کا( لڑ ) یا پلا ہوتا ہے اگر وہ مجھے طلا ق دے پھر میں پہلے خا وند سے نکا ح کر لو ں ہو سکتا ہے یا نہیں ؟اللہ کے آخر ی نبی رحمة للعالمین تھے امت پر شفیق تھے ( عورت ایسی بات انتہا ئی پر یشا نی میں کہتی ہے ) عورت اپنی پر یشا نی بیا ن کر رہی ہے اگر حضرت پاک ﷺ کے خیا ل میں تین طلا ق سے رجوع کی کوئی صورت بھی ہو تی تو حضرت اس سے تفصیل پو چھتے تاکہ اس عورت کی پر یشا نی ختم ہو جائے اس سے معلوم ہوا کہ تین طلا ق کے بعد رجوع کی کوئی صورت حضرت پا ک ﷺ کے ذہن میں نہیں تھی اور نہ حضرت پا ک کے ذہن میں ورنہ اس عورت سے ضرور پو چھتے کہ اگر تیرے خا وند نے تین طلا قیں اس طرح دیں ہیں پھر تو ایک ہی ہے اگر اس طرح دی ہیں پھر کوئی صورت نہیں حضرت پا ک کے ذہن میں صحا بہ کرا م کے ذہن میں تین طلا ق کی کوئی ایسی صورت نہیں تھی جس کے بعد عورت کو واپس کیا جا سکے بخا ری شریف کی تمام روایات ان کے خلاف ہیں ایک روایت بھی بخا ری کی وہ قیا مت تک اپنے حق میں پیش نہیں کر سکتے میں نے تجلیات صفد ر “ میں کچھ سوال دیئے ہیں ان میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ بخا ر ی سے یہ اپنے حق میں ایک حدیث نکا ل دیں ہم دس لا کھ فی حدیث انعام دیں گے ۔

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے

یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

مسلم شریف میں بھی یہی روایت ہے عو یمر عجلا نی والی حد یث حضرت عائشہ والی بھی ہے ایک روایت وہا ں اور ہے حضرت ابن عمر ؓ کے حالت حیض میں طلا ق دینے کی آخر میں حضرت عمر کے ارشا د مسلم شریف میں ہے کسی نے پو چھا حضرت حیض میں تین طلا قیں دی ہیں اب کیا ہو گا؟حضرت عمر ؓ نے فرمایا اب کچھ نہیںہوسکتا ، گنا ہ بھی ہوگا اور بیو ی تیری جد اہو گئی اس آدمی نے کہا عبداللہ بن عمر نے حیض میں طلا ق دی تھی حضرت پا ک ﷺ نے فرمایا تھا کہ رجو ع کرلو فرمایا کہ انہو ں نے ایک دی تھی تم نے تین دی ہیں اس لئے ان کو حق تھا لیکن تجھے حق نہیں ۔

غیر مقلدین کی بڑ ی دلیل :

غیر مقلد ین مسلم جلد ۱ص ۸ ۸ ۴ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت پیش کر تے ہیں کہ طلا ق حضور ﷺ کے زما نہ میں حضرت ابو بکر کے زما نہ میں حضرت عمر کی ابتدا ئی خلا فت کے دو سالو ں میں تین طلا قیں ایک ہو تی تھیں پھر حضرت عمر نے فرمایا لوگو ں نے اس کا م میں جلد با زی شروع کر دی ہے جس میں ان کے لئے ڈھیل تھی ، اب یہی جلد با زی ان پر نا فذ کر دو ۔

مسلم کا فوٹو سٹیٹ صفحہ :

ملتا ن میں ایک مر تبہ میں اسی مسئلہ طلا ق ثلا ثہ پر گفتگو کر رہا تھا دورا ن تقریر غیر مقلدین نے مسلم شر یف کا یہی صفحہ فو ٹو سیٹ کرو اکر تقسیم کر نا شروع کر دیامجھ تک بھی پہنچ گئے ان کا کا م ہے کر کے پھر شور کر تے ہیں ہم نے فوٹو سیٹ تقسیم کیا تھا کسی نے جواب نہیںدیا میر ی عادت ہے کہ میں تقریر میں جواب مختصر دیاکر تا ہوں میں نے کہا غیرمقلدکہتے ہیں کہ تین طہر وں میں تین طلا قیں دی جا ئیں تو تین ہو تی ہیں اگر ایک مجلس میں تین دی جائیںتو پھر ایک ہو تی ہے لوگوں نے کہا بالکل اسی طرح کہتے ہیں میں نے کہا مسلم شر یف کا صفحہ فوٹوسیٹ تقسیم کر رہے ہیں اس میں ایک مجلس کا لفظ دکھا ئیں ایک لا کھ روپے انعام پائیںاس میں سر ے سے ایک مجلس کا لفظ ہی نہیں ہے ، اب بھا گ گئے اس روایت کا جواب یہ ہے (۱)کہ اس میں ایک مجلس کا لفظ ہی نہیں (۲)یہ روایت حدیث کی کو ئی قسم ہی نہیں غیرمقلدین جوحدیث کی تعریف کر تے لیتے ہیں کہ نبی کا قو فعل تقریر حدیث ہے اس احتیاط سے نہ یہ قول رسول ہے اور نہ یہ فعل رسول ہے اور نہ یہ تقریر رسول ہے کہ آ پ کے سا منے یہ بات پیش آ ئی اور آپ اس پر خا موش رہے ہو ں صرف حضرت ابن کا عبا س ؓ کا ایک قو ل ہے لیکن یہ اس کو لئے پھر تے ہیں ۔

ایک غیر مقلدکا سوال :

میں در سگا ہ میں تھا ایک غیر مقلد دوہمرا ہوں کے ساتھ مسلم متر جم ہا تھ میں لئے آگیا چہر ہ پر غصہ کے آ ثا ر کہنے لگاتو کہتا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلا ق کے بعد حلالہ ہے ؟میں نے کہاآپ کو تو نہیں کہتا کہنے لگا کن کو کہتا ہے میں نے کہا حنفیو ں کو کہنے لگا یہ مسلم کے خلاف ہے میں نے کہا تو پورا مسلما ن ہے یا آدھا ؟کہنے لگا پورا میں نے مسلم کا صفحہ ۱ ۵ ۴ نکا لا کہ حضرت جا بر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کے زما نہ میں متعہ کیا کرتے تھے پھر ابو بکر کے زما نہ میں پھر عمر کے ابتد ائی زما نہ میں پھر عمر ؓ نے اس سے منع کر دیامیں نے کہا تو پو را مسلما ن بن دو ر نبو ت کے ۳ ۲ سا ل عہد ابو بکر کے ۲سال عہد فاروق کے کے دو ۲ سال یہ ۷ ۲ سال ہو گئے تو حلا لہ نہ کرو ا بلکہ تو ۸۲سال متعہ کے لئے چھوڑ دے ستا ئیس سال متعہ کرواتی رہے پھر لے آنا پھر دیکھیں گے تاکہ دونوں روایتوں پر عمل ہو جا ئے اور پکے رافضی بن جائیں میں نے حدیث دکھا ئی اور کہاآپ کے لیے یہ ہے ویسے غیر مقلدین کی کتا ب ہد یة المہد ی میں لکھا ہے متعہ پرا نکا ر جا ئز نہیں اسی میں ایک جگہ لکھا ہے کہ متعہ اہل مکہ کا فعل ہے ۔

غیر مقلد ین حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کا جو مقصد بیا ن کر تے ہیں اس کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ حضور کے زما نہ میں تین طلا ق ایک ہوتی تھی بیو ی حلال رہتی تھی حضرت ابو بکر کے زما نے میں تین طلا قیں ایک ہوتی تھی بیوی حلال رہتی تھی حضرت عمر ؓ کے ابتد ائی دور میںتین طلا قیں ایک ہو تی تھی بیو ی حلا ل رہتی تھی پھر حضرت عمر ؓ نے اس حلا ل کو حرام کر دیا قرا ٓ ن بتلا رہا ہے کہ خد اکے حلا ل کو حرام کر نا اور حرام کو حلا ل کرنا یہ یہو دیوں کے احبا ر اور رہبا ن کا طریقہ ہے خلیفہ بر حق خلیفہ راشد حلا ل کو حر ام کس طر ح کر سکتا ہے اور حرام کو حلا ل کس طرح کر سکتا ہے اگر انہو ں نے یعنی حضرت عمر ؓ نے خد اکے حلا ل کو حرام کر دیا پھر ان کو خلیفہ راشد کس طرح ما نا جائے گا تجلیا ت میں اسی مسئلہ پر میں نے جو سوالا ت لکھے ہیں ایک سوال یہ ہے کہ آ پ کے خیال میں حضرت عمر ؓ نے خدا کے حلا ل کو حرام کر دیا کیا با قی صحا بہ کرام پھر خدا اور اس کے رسول ﷺ کے سا تھ رہے یا حضرت عمر کے سا تھ رہے دور عثما نی میں صحا بہ کس کے سا تھ رہے رسول اللہ ﷺ کے سا تھ یا حضرت عمر ؓکے سا تھ دورعلی ؓ میں کس کے سا تھ رہے ؟ بعد میں تمام صحا بہ کرام قو ل رسول اللہ ﷺ پر فتویٰ دیتے رہے یا فیصلہ عمر ؓ کے قو ل پڑ پھر حضرت عمر ؓ کے قو ل کا کیا مطلب کہ لوگوں نے جلد ی کی تو ان کی جلد ی ان پر نافذ کر دی گئی وہ جلد ی کیا تھی ؟خو د حضرت ابن عباس سے مر وی ہے کہ اگر غیر مد خو ل بہا کو یوں کہا جائے تجھے طلا ق طلا ق طلا ق تو ایک پڑتی ہے بغیر حلا لہ کے پہلے خا وند سے نکا ح کر سکتی ہے یہی طریقہ اس مسئلہ میں آ ج تک آرہا ہے لیکن جب کثرت فتوحات ہو ئیں کثرت سے لو گ مسلما ن ہو ئے وہ دین سے پوری طرح واقف نہیںتھے کثرت نکا ح اور با ند ھیو ں کا نکا ح کا سلسلہ چلا تو وہ رخصتی سے قبل یعنی تین طلا قیں دے دیتے تھے اور یو ں کہنے لگے تجھے تین طلا ق اور آج تک اس مسئلہ میں یہی فتویٰ آ رہا ہے کہ اگر کوئی مد خو ل بھا کو اکھٹی تین طلا قیں دے گا تو وہ حرام ہو جائے گی یہ تھی وہ جلدی ابتد ائی زما نہ میں لوگ غیر مد خو ل بہا کو طلا ق طلا ق طلا ق کہ کر طلا ق دیتے تھے تو ایک پڑ تی تھی دو بارہ نکا ح کا مو قع ہوتا تھا پھر لوگو ں نے جلد بازی کی کہ غیر مد خو ل بہا کو اکھٹی ایک کلمہ سے تین طلا ق دینے لگے اس طرح کہ تجھے تین طلا ق ،تو یہ حضور ﷺ کے زما نے میں تین ہی تھیں (ور نہ حضورﷺ ناراض نہ ہو تے اور یہ نہ فر ماتے کہ تم کتاب اللہ سے استہز ا ءکر تے ہو ) اس طرح غیر مد خو ل بہا کو طلا ق دینے کے بعد سوچ وبچا ر کا کوئی مو قع نہیں ملتا اس کو حضرت عمر نے جلد با زی کے الفا ظ سے بیا ن کیا اس وضا حت سے خلفا ءراشید ین اور صحا بہ کرام پر کوئی اعترا ض وارد نہیں ہوگا ، اور نہ یہ کہنے کی گنجا ئش ہو گی کہ حضرت عمر ؓ نے اور صحا بہ نے حکم شر عی بد ل ڈالا ۔

ایک احمق کی با ت :

میں نے ایک غیر مقلد کو ابو داود سے بیہقی سے ابن ابی شیبہ سے مصنف عبدالرزاق سے جب یہ دکھا یا کہ یہ غیر مد خو ل بہا کے لیے ہے تو کہنے لگا یہ صرف چا ر کتا بوں میں ہے مسلم شر یف میںتو نہیں ہے میں نے کہا آ پ کو کہتے ہیں ایک مجلس کے لیے ہے تو جمعا کا لفظ صرف مصنف عبد الر زاق میں ہے کسی اور کتاب میں نہیں ہے جہا ں اپنی ضرورت ہو تی ہے وہا ں صر ف عبد الرزاق کا حوا لہ پیش کر تے ہو یہا ں دل نہیں چاہتا تو چا ر کتابوں کے منکر ہو گئے ہو ہم دو نوں کو ما نتے ہیں ۔

غیر مقلد ین منکر حدیث ہیں :

غیر مقلدین اصل میں منکر حدیث ہیں ان کو عا دت ہے انکا ر حدیث کی اب ترمذی اور ابو داود کو دیکھیں دونوں محد ث طلا ق بتة کے باب میں حضرت رکا نہ کی حدیث لائے ہیں کہ حضرت رکا نہؓ نے اپنی بیو ی کو طلا ق دے دی ایسا لفظ بو لا جس میں نیت ایک کی بھی ہو سکتی تھی تین کی بھی ہو سکتی تھی نیت تو دل میں ہوتی ہے زبا ن پر نہیں ہوتی حضرت پا ک ﷺ نے پو چھا وما اردت بذلک ؟تیر ی نیت کیا تھی ؟تیرا ارادہ کیا تھا؟فرما یا واللہ ما اردت الا واحدة خد اکی قسم میرا ارادہ ایک کا تھا حضور ﷺ نے دو با رہ قسم لی اس نے پھر کہا خدا کی قسم میرا صرف ایک کا ارا دہ تھا ، غو ر فرمائیں ایسا لفظ بو لا جس کی دل میںتین کی نیت ہو سکتی تھی زبا ن پر تین کا لفظ نہیں آیا صرف دل میں نیت ہو سکتی تھی( کی نہیں )اگر صرف دل میں نیت کر لیتے تو پھر بھی تین واقع ہو جاتیں یہ تین کا لفظ نہ زبا ن پر آیا اور نہ کا غذ پر لکھا صرف دل میں نیت ہوسکتی تھی صرف اتنی بات پر حضور ﷺ اس سے حلف لے رہے ہیں جو لفظ دل کی نیت پر بھی اثر کر رہا ہے یعنی تین طلا قو ں کوواقع کر رہا ہے جب زبا ن پر آ ئے گا پھر کیو ں نہیں اثرکر ے گا پھر تین کیو ں واقع نہیں ہو گی یہ حدیث واضح دلیل ہے ۔

ابن ما جہ میں مستقل با ب ہے با ب من طلق ثلا ثا فی مجلس واحد اس میں فا طمہ نا می ایک عورت کا واقعہ ہے ابن ماجہ میںتو الفا ظ ہیں کہ میر ے خا وند مجھے تین طلاقیں دیں ابن ابی شیبہ میں اخر ثلث تطلیقات ہیں بعض کتا بوں میں بتّ کے الفا ظ ہیں بعض میں طلقھاثلاثا کے الفاظ ہیںان پر میں نے بیان کر دیا کہ علما ءان الفاظ کو اس لئے نقل کر دیتے ہیں کہ امت میں ان الفا ظ کے مطلب میں کبھی کوئی فرق ہوا ہی نہیں اس لئے اس پر کبھی جھگڑا نہیں ہوا یہ لفظ صحیح ہے یا وہ لفظ صحیح پو ری امت کا اتفا ق ہے کہ طلا قا ثلاثا کہا یا طلا ق طلا ق طلا ق کہا یا کو ئی ایسا لفظ بو لا جس میںنیت تین کی ہو سکتی ہے اور نیت کر لی جائے تو تین ہی واقع ہو تی ہیں محد ثین اس کو نقل کر تے آ رہے ہیں فقہا اس کو لکھتے آ رہے ہیں کہ امت کا اس پر اتفا ق ہے کہ تین طلا قیں جس طرح بھی دی جا ئیں جن الفا ظ کے سا تھ دی جا ئیں وہ تین ہی ہوتی ہیں اس لیے کتب میں جتنے بھی الفا ظ مر وی ہیں ہمارے خلاف ان میں سے کوئی نہیں اگر سا رے الفا ظ بھی صحیح ہو ں تب بھی کوئی حر ج نہیں اس لئے کہ ہمارا تو مسئلہ حل ہے کہ تین جس طرح بھی دی جائیںوہ تین ہی ہو ں گی ۔

اس کے علا وہ بھی بہت سا رے واقعا ت ہیں ، سنن کبر یٰ بیہقی جلد ۸ پر ہے کہ حضرت حسن جو حضرت علی کے صا حبز ا دے ہیں جب ان کے ہا تھ پر بیعت خلا فت ہو ئی بیعت کے بعد گھر تشریف لا ئے ان کی ایک بیو ی نے مبا رک دی کے مبا رک ہو آ ج آ پ امیر الم نین بن گئے ہو حضرت حسن کو خلیفہ بننے کی اس قدر خو شی نہیں تھی جس قد ر والد کی جدائی کا غم تھا صد مہ اور پریشا نی کے وقت اگر کوئی مبا رک باد دے تو نفسیا تی طور پر بند ہ کو غصہ آجا تا ہے حضرت حسن کو غصہ آیا فرمایا تو میرے والد کی وفات پر مجھے مبا ر ک با د دیتی ہے تجھے تین طلا ق جب اس کی عد ت پوری ہو گئی تو حضرت حسن ؓنے ایک با ند ھی کے ہاتھ کچھ نقدرقم اور کپڑ ے وغیر ہ روانہ کئے کہ اس کو دے آ آج اس نے چلے جا نا ہے بطو ر نشا نی کچھ اس کے پاس رہ جائے با ند ی ساما ن لے کر گئی تھو ڑی دیر کے بعد وہ سا ما ن واپس لے کر آ گئی حضرت نے پو چھا وہ جا چکی تھی ؟کہا نہیں بلکہ جا نے کی تیا ری کر رہی تھی پو چھا آپ نے سامان دیا نہیں ؟با ندھی نے کہا میں دے دیا تھا اس نے واپس کر دیا اور سا تھ ایک شعر بھی پڑھا ( اس کا تر جمہ ) جب میر ے محبو ب نے مجھے اپنے پا س رکھنا پسند نہیں کیا تو میں بھی ان کی کوئی چیز اپنے پاس رکھنے کے لیے تیا ر نہیں ہو ں جب یہ شعر حضرت حسن نے سنا تو ان کی آنکھو ں میں آ نسو آگئے اور فرمایا اگر میں نے اپنے کا نو ں سے اپنے والد حضرت علی سے یہ نہ سنا ہوتا کہ اگر تین طلا قیں ایک دفعہ دے دے خو اہ مبہم ہی ہو وہ تین ہی ہو جا تی ہیںتو میںروک کر اس سے نکاح کر لیتا ،حضرت حسن کی آ نکھو ں سے آ نسوں جا ری ہیںپر یشا ن ہیں ( دور صحا بہ ہے ) لیکن ان کو کوئی فتو یٰ نہیںدیتا کہ آ پ پر یشا ن نہ ہو ں ہمارے پا س فتویٰ ہے آ پ کا نکا ح ہو جا ئے گا ان کو کوئی فتویٰ دینے والا نہیں تھا ۔

ایک مغالطہ :

وہ بھی سمجھیں جہا ں سے ان کو مغالطہ پڑ ا ہے بیہقی جلد ۷ اور دار قطنی میں حضرت امام اعمش ؒسے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ ہمار ے ہا ں ایک بو ڑھا تھا وہ یہ حدیث سنا یا کرتا تھا کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو ایک مجلس میں تین طلا قیں دے وہ ایک ہوا کر تی ہے امام اعمش فرماتے ہیں جب یہ بات میں نے سنی میں خو د اس شخص کے پا س گیا کہ آپ کیا حدیث سنا رہے ہیں ؟اس نے وہ حدیث حضرت علی کے واسطہ سے مجھے بھی سنا دی میں نے کہا جب تو نے یہ حدیث حضرت علی سے سنی تھی کیا وہا ں کوئی اور بھی مو جود تھا؟اس نے کہا یہ تو مجھے یا د نہیں اتنی بات ہے کہ میں نے وہیں ا سکو اپنی کا پی میں لکھ لیا تھا ، میں ابھی کا پی لا تا ہوں وہ کا پی میں اس کا الٹ لکھا ہوا تھا کہ جس نے ایک مجلس میں تین طلا قیں دیں ہیں وہ تین ہی ہو ں گی امام اعمش فرماتے ہیں میں نے اس سے کہا کا پی میں کچھ لکھا ہے اور تو کچھ بیا ن کرتا ہے اس نے کہا دراصل مجھے شیعوں نے پیسے دیئے تھے کہ یوں حدیث سنا یا کر میں بیس سال سے اسی طرح سنا رہا ہو ں ، یہ اسی پر پکے ہو گئے کیو نکہ اس نے پیسے لے کر حدیث بنا نا شروع کی تھی یہ بھی فیس لے کر فتویٰ دیتے ہیں حا لا نکہ اس با ت کی وہیں تر دید مو جود ہے لیکن یہ اسی پر پکے ہو گئے ۔

ایک چیلنج:

حضور ﷺ کے زما نہ میں اور حضرت صد یق کے زما نہ میں بھی ایک واقعہ یہ پیش نہیں کر سکتے کہ کسی نے ایک مجلس میں تین طلا قیں دی ہو ں یا ایک کلمہ سے تین طلا قیں دی ہو ں حضور ﷺ نے یا صد یق یااکبر صحا بہ کرامؓ نے اس کو ایک کہہ دیا ہو ۔

مسند احمد کی روایت :

مسند احمد کی روایت جو حضرت رکا نہ والی ہے اس میں ایک مجلس کے الفا ظ ہیں حالا نکہ صحا ح ستہ والو ں نے ایک مجلس کے لفظ نقل نہیں کئے بلکہ اصحا ب ستہ میں سے امام ابودواود نے اس کی تر دید بھی کردی ہے اور عجیب بات لکھی ہے کہ جو کہتے ہیں حضرت رکا نہ کی طلا ق بت والی تھی وہ اہل خا نہ ہیں اور جو تین طلا ق کا لفظ کہتے ہیں وہ اہل خا نہ نہیں بلکہ با ہر کے لوگ ہیں فر ما یا حضرت رکا نہ نے کیا الفاظ کہے ہیں اس کوگھر والے ہی زیا دہ جانتے ہیں نہ کہ باہر والے عقل بھی یہی کہتی ہے کیو نکہ طلا ق گھر میں دی جا تی ہے گھر سے باہر لوگو ں کے سا منے نہیں دی جاتی اس طرح امام ابو دواود نے اشا رہ کیا ہے ۔

منا ظرہ چک نمبر ۸۶:

یہ لوگ اس کو پیش کر تے ہیں کہ جب چک نمبر ۸ ۶ میں منا ظر ہ تھا تو پر وفیسر محمد شریف سیا لکو ٹ سے آیا ہوا تھا اس کو مو لو ی ارشا د الحق اثر ی نے یہی حدیث نکا ل کر دی وہ کتاب لے کر میرے پا س آیا اس کا جو اب دو اس کا جواب دو میں نے کہا بھا گنا نہیں جواب سن کر جا نا میں نے کہا اس کا پہلا روای ابراہیم بن سعد ہے جو بہت بڑا گویا تھا حدیث سنانے سے پہلے یہ گا نا ضرور گا تا تھا اس کی قسم کھا ئی تھی کہ حدیث سنا نے سے پہلے گا نا ضرور گائے گا یہ بات ہا رو ن الر شید تک بھی پہنچ گئی انہوں نے بلوا یا جب یہ پہنچا تو امیر المو نین ہارون الر شید نے کہا حضور ﷺ کی کوئی حدیث سنا اس نے کہا آپ مجھے طبطلہ سا رنگی وغیر منگوا دیں کیو نکہ میں قسم کھا ئی ہے کہ گا نے کے بغیر حدیث نہیں سنا نی ۔

اس راوی کا استا ذ یعنی حدیث کا دوسرراوی محمد بن اسحا ق ہے امام ما لک اس کے بار ے میں فرماتے ہیں دجا ل من الد جا جلة اس محمد بن اسحا ق پرا ثر ی نے اپنی کتا ب میں بہت کچھ لکھ دیا ہے لیکن میں عر ض کرو ں کہ ہمارے ائمہ ثلا ثہ نے اس کا زما نہ پا یا ہے حضرت امام اعظم نے بھی امام ابو یو سف نے بھی امام محمد نے بھی لیکن تینوں میں سے کسی ایک نے اس سے احکا م کی روایت نہیں لی امام یو سف نے کتا ب الخرا ج میں جغرا فیہ اور تا ریخ کی باتیں اس سے نقل کی ہیں یہ امام مالک کے زما نہ کا شخص ہے پو رے مو طا امام مالک میں اس کی ایک بھی روایت مو جو د نہیں لیکن اتنی بات سب مانتے ہیں کہ جب اس کی روایت ثقہ راویوں کے خلاف ہو تو حجت نہیں ہوتی اور یہاں جو صحیح روایت حضرت رکا نہ کے گھر والے بیا ن کرر ہے ہیں وہ اس کے خلاف ہے محمد بن اسحا ق کے با رے میں قول فیصل یہ ہے اور علا مہ ذہبی نے بھی یہی لکھا ہے کہ جہاں یہ منفر د ہو ا سکی بات حجت نہیں یہاں یہ منفرد ہے اس روایت کا تیسرا روای دا د بن حصین ہے جو خا رجی تھا حضرت علی کو مسلما ن نہیں سمجھتا تھا منکر احا دیث نقل کر تا تھا علا مہ ذہبی نے میزا ن الا عتدال میں یہ طریقہ اختیا ر کیا ہے کہ جو شخص جھو ٹی یا منکراحا دیث بیا ن کرتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی چھو ٹی حدیث زیا دہ مشہور ہو بطور مثال میں بیا ن کر دیتے ہیں علا مہ ذہبی لکھتے ہیں کہ دا د بن حصین عن عکر مہ ابن عباس کے طریق سے جھو ٹی حدیثیں بیا ن کر تا تھا اور مثال میں یہی لکھی ہے ( مسند احمد والی ) جو غیر مقلدین پیش کرتے ہیں دا د بن حصین پر اسلا می حکو مت نے قتل کا حکم دیا تھا یہ چھپ کر مرا ہے اسی طرح امام غا ئب ان کو اچھے لگتے ہیں ( یہ سند کا حال ہے(

اب متن کو دیکھیں ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم احا دیث کا ایسا تر جمہ کر تے ہیں تاکہ ان میں ٹکرا پیدا نہ ہو غیر مقلدین کا طریقہ یہ کہ حدیثوں میں ٹکرا پیدا کریں گے، ایک حدیث کا مطلب ایسا لیں گے جو دس کے خلا ف ہو پھر اس غلط مطلب پرڈٹ جا ئیں گے با قی دس کو ضعیف کہنا شروع کر دیں گے ۔

ایک اہم با ت :

ایک با ت سمجھیں ایک یہ ہے کہ اس طرح کہا جائے تجھے تین طلا ق یہ تین کا ہندسہ واضح ہے اس کا معنی قطعا ایک نہیں ہوتا تین کا معنی دو نہیں ہوسکتا اور دوسراطریقہ یہ ہے کہ اس طرح کہا جائے طلا ق طلا ق طلا ق اس میں دو نیتیں ہو سکتی ہیں تاکید کی نیت بھی ہوسکتی ہے اور ہر مر تبہ طلا ق کی نیت بھی ہو سکتی ہے اس کو مثا ل سے سمجھیں ایک بچہ شو ر مچا رہا ہے سا نپ ،سانپ ۔ سانپ ، سانپ اس سے کو ئی نہیں یہ سمجھتاکہ اس بچے نے چا ر دفعہ سانپ کہا ہے لہذا سا نپ چا ر ہیں اگر بچہ نے پا نچ مر تبہ کہا سانپ تو سا نپ پا نچ ہیں نہیں بلکہ بچہ سے پو چھتے ہیں سا نپ کتنے ہیں ؟وہ کہتا ہے ایک کیو نکہ یہ لفظ تا کید کے لیے بھی ہو سکتا ہے لوگ شور کررہے ہیں چو ر ، چو ر ،چور ، لیکن ان الفا ظ سے یہ پتہ نہیں چلے گا کہ چور ہیں کتنے پو چھنا پڑے گا لیکن اگر کوئی پہلے ہی یہ کہ رہا ہو دو سانپ دو سا نپ اب کوئی بے وقوف ہی پو چھے گاکتنے سا نپ ہیں اگر کو ئی کہ رہا ہو کہ تین چور ، تین چو رتین چور کیا اب بھی کو ئی پو چھے گا کہ تین کیا مطلب ہے ؟نہیں کیو نکہ تین کا عدد واضح ہے مثلازید کہتا ہے میں نے زید کے پند ر ہ روپے دینے ہیں اب اس میں پو چھنے کی کوئی ضرورت نہیں اگر کوئی پو چھے پندرہ تیرا کیا مطلب ہے ؟تو یہ حما قت کی بات ہے اسی طرح ۵۱ پا نچ اورایک جمع چھ میرا مطلب تھا چھ روپے یہ جواب بھی حماقت ہے کیو نکہ پند رہ روپے ہی ہوتے ہیں ، اگر حضرت رکا نہ یو ں فرماتے ہیں کہ میں نے تین طلا ق دی ہیں تو پھر ا ن سے پو چھنے کی ضررت ہی نہیں تھی انہوں نے عرض کیا حضرت میں نے کہا تھا طلا ق طلا ق طلا ق جیسے سا نپ سا نپ سانپ اب ان کے دل کی نیت پو چھنے کی ضرورت پڑ ی کہ ارادہ کتنی طلا ق کا تھا ایک کا یا تین کا وہ کہتا ہے ایک کا حضر ت پا ک نے قسم کے بعد اس کی بات کو قبو ل فرمالیا حضرت رکا نہ نے تین نہیں بلکہ ایک طلا ق دی تھی کیو نکہ وہ اس پر قسم کھا رہے ہیں لیکن غیر مقلدکہتے ہیں انہو ں نے تین طلا قیں دی تھیں ۔

ایک ہے تین کا ہند سہ اس میں تا ویل کی کوئی ضرورت نہیں ایک ہے تین بار لفظ دہرا نا اس طرح کئی صحا بہ کے اقوال ہیں ، حضرت ابن عبا س کا حضرت عمر ؓ کا ، حضرت ابن مسعو د ؓ کا ، کا تجلیات صفد ر میں نے اڑ تا لیس کے قریب اقوال نقل کر دیئے ہیں ۔

حضرت ابن عباس کا فتویٰ :

حضرت ابن عباس کے پا س ایک آ دمی آ یا کہنے لگا میں نے اپنی بیو ی کو سو طلا قیں دی ہیں آپ نے فرمایا تین سے تیری بیوی جد اہو گئی ان کا گنا ہ بھی ہوا با قی ۷ ۹کا گناہ بھی ہوا

غیر مقلدین کا دار الا فتا ء:

ہم نے غیر مقلدین کے دا ر الا فتاءمیں مسئلہ لکھا کہ ایک شخص نے اپنی بیو ی کو سو طلاقیں دے دی ہیں کتنی ہو ئیں ؟جوا ب ملا کہ ایک صحا بہ کہتے ہیں تین تم صحا بہ کرام کی با ت کیوں نہیں جا نتے ؟کہنے لگے صحا بہ کرام کا کلمہ تو نہیں پڑ ھا ۔

حضرت عمر ؓ کا فتویٰ :

حضرت عمر ؓ سے کسی نے کہا میں نے اپنی بیوی کو ہز ار طلا قیں دے دی ہیں حضرت عمر ؓ نے فرمایا تین ہو گئیں غیر مقلد کہتا ہے ایک ہو ئی ( اس جگہ تو طہر کی قید اور مجلس کی قید بھی نہیں لگا سکتے کہ وہ ایک مجلس میں نہیں تھی کیو نکہ اگر ایک طہر کی دی جا ئے تو تقریبا اسی سال کا عر صہ در کا ر ہے کیا وہ شخص ترا سی سال بعد مسئلہ پو چھنے آیا تھا ؟یا کہاتین طہرو ں کے بعد پھر بھی طلاق وا قع ہو تی رہی تا کہ ہز ار واقع ہو گئیں کچھ تو خوف خد اکریں قیا مت میں خد ا کو کیا منہ دکھا گے ؟ہم کہتے ہیں حضرت عمر ؓ کی کیو ں نہیں ما نتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم نے عمر ؓ کا کلمہ پڑ ھا ہے۔

لطیفہ :

اس پر مجھے مو لو ی صاحب نے ایک لطیفہ سنا یا کہ ہمارے علا قہ میں غیر مقلد وں نے جلسہ رکھا اشتہا ر میں تین چار مشہور دیو بند ی علما ءکا نا م لکھاتھا تا کہ ان کا نام پڑ ھ کر دیو بندی بھی سننے آ ئیں گے اور جو سننے آ ئے گا وہ تو خا مو ش ہی رہے گا لیکن ان کو ایک جمع شد ہ مجمع مل جائے گا پھر یہ خو ب اپر یشن کر یں گے کہنے لگے میرا نام نہیں لکھا میں خودبخود چلا گیا میں نے جا کر کہا آ پ نے نہیں بلا یا میں نے کہا چلو جلسہ ہی سن آ ئیں غیرمقلد کہنے لگے نہیں نہیں ہم نے آ پ کا نا م کا بھی کہا تھا لیکن وہ آ دمی آپ کا نا م لکھو انا بھول گیا انہوں نے کہا اب آ پ آ گئے ہیں تو تقریر کر لیں میں نے کہا ٹھیک ہے مجھے کہنے لگے دس منٹ وقت کم ہے آپ دس منٹ میں تقریر کر لیںمو لو ی صا حب کہتے ہیں میں تقریر پر کھڑا ہوا میں نے پو چھا قرآن کہا ں سے ملا ؟صحا بہ سے حدیث کس سے ملی ؟صحا بہ سے جو فرقہ صحا بہ کو نہیں مانتا اپنا ایما ن قرآن پر ثا بت نہیں کر سکتا جو فر قہ صحا بہ کو نہیں ما نتا وہ اپنا ایما ن حدیث پر ثا بت نہیں کر سکتا اور سا تھ ہی میں نے کہہ دیا آج ہتھیلی پر پر سرسو ں جما نی ہے یہ علما ءبیٹھے ہیں ان سے لکھا کہ ہما رے نز دیک اقوال صحا بہ حجت ہیں تو وہ تو لکھ کر نہیں دیتے لوگ کہیں لکھ کر دو صحا بہ کے اقوال حجت ہیں وہ کہیں ہم لکھ کر نہیں دیتے لو گوں نے کہا پھر تم قرآن وحدیث پر اپنا ایمان کس طرح ثا بت کر و گے ، سا را مجمع اٹھ کر چلا گیا یہ تو صحا بہ کے منکر ہیں ۔

یہی مو لوی صا حب کہنے لگے کہ میں ایک جگہ تقریر کر رہا تھا غیر مقلد آ ئے کہ جی نورا لا نوار میں لکھا ہے کہ فلا ں فلا ں صحا بہ فقہ میں معروف نہیں تھے، میں نے کہا لکھا ہو گا اس پر شور مچا رہا ہے کہ فقہ کی کتاب میں صحا بہ کے با رے میں لکھا ہے کہ فلا ں فلا ں فقہ میں معروف نہیں تھے میں نے کہا دیکھو رافضی صحا بہ کر برا کہتے ہیں یا نہیں ؟جو اب ملا کہتے ہیں میں نے کہا وہ چا ر پا نچ کو بچا لیتے ہیں لیکن غیر مقلد ین ایک کو بھی نہیں بچا تے کہ کہتے ہیں سارے صحا بہ بیس ترو ایح کے مسئلہ میں بد عتی تھے ، اگر یہ کہیں کہ ہم صحا بہ کو بد عتی نہیں کہتے تو یہ ایک صحابی کا نا م پیش کر یں کہ وہ آ ٹھ پڑ ھ کر چلا جا تا تھا ہم فی صحا بی ایک لا کھ رو پے انعام دیں گے لو گ کہیں تم سا رے صحا بہ کو بد عتی کہو تمہیں کو ئی پو چھنے والا نہیں ، یہا ں چند صحا بہ کو فقہ میں غیر معروف لکھا ہے اس پر شا ہ ولی اللہ محدث وہلو ی فرماتے ہیں

ہمہ صحا بہ در یک مر تبہ نہ بو دن بعض ازا ں مجتہد بودن وبعض مقلد دلیل میں یہ آیت نقل کر تے ہیں لعلمہ الذین یستنبطو نہ منہم کہ سا رے اہل استنبا ط میں سے نہ تھے ، ہما ری با ت تو قرآن سے ثا بت ہوگئی تم جو بد عتی کہتے ہو ا س کی دلیل کیا ہے ۔پھر وہا ں سے بھا گ گئے مو لو ی صا حب نے ایک واقعہ سنا یا ۔

ایک واقعہ :

آپ کو بھی سنا دیتا ہو ں شاہ جما ل ضلع مظفر گڑ ھ کی طر ف ایک مو لو ی صاحب ہیں کچھ نہ کچھ کتا بیں پڑ ھا ہوا ہے اس کا بیٹا فیصل آ با د کا لج میں پڑ ھتا تھا ، وہ غیر مقلد ہو گیا اس نے میر ی تقریررکھ لی اور میری منت سما جت کی آپ مجھے وقت دیں میں نے وقت دیا لیکن ڈائر ی پر نہیں لکھا اس لئے میں بھو ل گیا اور نہ جا سکا دو ما ہ بعدملا تو اس نے شکو ہ کیا میں نے عذ ر بیان کیا میں نے کہا اب آپ کو تا ریخ دیتا ہو ں اور نو ٹ کر لیتا ہو ں اس بو ڑ ھے مو لو ی صاحب نے کہا آپ شا ہ جما ل آکر اتر یں گے تو یہاں ہمارا آ دمی سا ئیکل لئے کھڑا ہو گا آپ کو گا ں لے جا ئے گا جب وہ پہنچا تو ایک لڑ کا کلین شیوسا ئیکل لئے کھڑا تھا فورا میری طر ف بڑ ھا اور کہا کہ آ پ مو لو ی محبو ب صا حب ہیں میں نے کہا جی ( وہ لڑ کا وہی تھا جو غیر مقلد ہو گیا تھا ) وہا ں پہنچے میں نے تقریر کی تقریر کے بعد اس کے والد صاحب نے اس سے کہا اگر کوئی سوال ہو یا اشکا ل ہوتو پو چھ لو ، اس لڑ کے نے کہا میں تقریر سننے سے پہلے ہی حنفی ہو گیا تھااس نے کہا کیوں ؟لڑ کے نے جو اب دیا کہ کل رات مجھے خو اب میں آیا میں خوا ب میں غیرمقلدوں کی طر ح امام صاحب کو بکنے لگا اتنے میں امام صا حب تشر یف لا ئے انہو ں نے ایک شخص کو ڈا نڈا دیا کہ اس کی پٹائی کرواس نے پٹائی شروع کر دی میں وہا ں سے بھا گ گیا وہ پٹا ئی کر نے والا شخص یہی ( محبو ب مو لو ی ) تھا۔اس لئے اڈا پر میں نے خو دان کا نا م پو چھا نا م تو والد صاحب نے بتلا یا تھا لیکن مجھے شکل یا د تھی جب میں نے دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ وہی شخص ہے جس کو امام صا حب لا ٹھی نے دی تھی میں نے مو لا نا محبو ب صاحب سے کہا یہ تیرے اخلاص کا نتیجہ ہے ۔

بہر حال قرآن وسنت اور اجماع صحا بہ ومجتہد ین میں کہیں گنجا ئش نہیں کہ تین طلاق کے بعد پھر بغیر شر عی حلالہ کے دو بارہ نکا ح ہو سکے جب مسئلہ یہا ں پہنچا تو ایک غیرمقلد کہنے لگا آپ حلا لہ کے قائل ہیں ؟میں نے کہا جی ہا ں کہنے لگا حضور ﷺ نے فرما یا حلا لہ کر نے اور کر انے والے پر اللہ کی لعنت ہو میں نے کہا حدیث پوری ما نی جا ئے یا کہ ادھوری ؟کہنے لگا پوری میں نے کہا ہم پو ری ما نتے ہیں تم اد ھو ری ما نتے ہو میں نے کہا اس میں لعن کے الفاظ بھی ہیں لعنت والا حلالہ یہ ہے کہ یوں کہا ں جائے کہ یہ عورت اتنے مہر کے عو ض تیرے نکا ح میں دیتا ہوں بشرطیکہ تو ایک رات یا دورات کے بعد طلا ق دے دینا وہ کہے میں اس شر ط پر قبو ل کیا یہ حلالہ لعنت والا ہے اگر شر ط یہ نہیں تو کوئی گناہ نہیں کیو نکہ حضرت رفاعہ کی بیو ی پہلے خا وند کے پا س آ نا چاہتی ہے ہر کتا ب میں یہ حدیث مو جو د ہے لیکن حضرت پا ک اس کو منع نہیں فرمارہے اور نہ اس کو لعنت والی حدیث سنا رہے ہیں لیکن اگر شر ط کے سا تھ ہوتو لعنت کا مو جب ہو ا گنہگا ر بھی ہوا لیکن وہ عورت پہلے خا وند کے لیے پھر بھی حلال ہو گئی کیو نکہ حضرت پا ک ﷺ نے فرما دیا کہ وہ حلال کر نے والا ہم نے دو نوں حدیثوں کو ما ن لیا یہ مسئلہ با لکل واضح ہے اس میں کسی قسم کا ابہا م نہیں علا مہ نو وی ؒ نے مسلم صفحہ ۸ ۷ ۶ پر وضا حت سے لکھا ہے ائمہ کا اس پر اجما ع ہے ۔

مدینہ کا رسالہ :

یہ جو رسالہ مدینہ منو رہ سے آیا ہے انہوں نے عجیب مقد مہ قائم کیا ہے عام فہم مثالیں دی ہیں مثلا یہ کہ جس طرح خدا کاقرآن متو اترقراتوں میں پڑ ھا جا تا ہے کسی شا ذ قرات میں پڑ ھنا جا ئز نہیں اسی طرح نبی علیہ السلا م کی سنت پر عمل کر نے کے چا ر ہی مذ ہب متو اتر ہیں پا نچواں کوئی مذ ہب ہے ہی نہیں جس طرح اس علا قہ میں متواتر قرات جو پڑ ھی جاتی ہے اس کے خلاف اگر کوئی شا ذ قرات پیش کر ے تو قابل قبو ل نہیں اگر کو ئی رافضی متعہ کے جوا ز میں شا ذ قرات پیش کرے اس کی حیثیت اس سے بھی کم ہے ورھطک منہم المخلصین آیت پھر بھی بخا ری میں ہے اگر چہ شا ذ ہو نے کی وجہ سے قبول نہیں لیکن وہ رو ایت پو ری صحا ح ستہ میں کہیں بھی نہیں ۔

نز ل الا بر ار وغیر ہ میں غیر مقلدین نے لکھا ہے کہ متعہ کا جوا ز قرآن کی قطعی آیت سے ثا بت ہے لیکن منسو خ ہو نے کی دلیل ظنی ہے اب آپ خو د اندازہ لگا ئیں اس فر قہ کے بارے میں جو متعہ کے جوا ز کا لا ئسنس قرآن سے دے رہا ہے ( اس کا میلا ن کس طر ف ہے اور وہ با قی مسائل میں بھی اہل متعہ کی طر ف ہی ما ئل ہے جیسے عر ض کر رہا تھا کہ انہو ں نے لکھا ہے کہ ائمہ اربعہ سے باہر نکلنے کی قطعا گنجا ئش نہیں ہے تو جس طر ح متعہ کو جا ئز قرار دینے والا مذ اہب سے با ہر ہے اس طرح تین طلا قو ں کو ایک کہنے والا بھی چاروں مذ اہب سے خا ر ج ہے یہی چا ر مذ اہب متو اترہیں ان کے علا وہ اور کوئی مذ ہب دینا میں متو اتر نہیں جس طرح کوئی سا ت متو ا تر قر اتو ں کو چھو ڑکر کسی اور طرز پر قرات کر ے مسلما ن اس کو کبھی بھی برادشت نہیں کر سکتے اسی طرح اگر کوئی چا ر متواتر مذ ہبو ں کو چھو ڑ کر کو ئی نئی بات کہے وہ بھی ہر گز قابل قبو ل نہیں یہ مسئلہ طلا ق وہ تھا جو قرآن وسنت اور اجماع میں ہے تا ریخ میں اس کی تفصیل اس قدر ہے کہ اس کے انکا ر کی گنجا ئش نہیں اس لئے کہ تا کہ لو گوں تک یہ بات پہنچ جائے اور واضح ہو جائے اب سنئے ۔

مسئلہ تین طلا ق اور امام صاحب کی ذہا نت :

امام اعظم ابو حنیفہ کے زما نہ میں ایک شخص کی چو ری ہو گئی چو رساما ن اٹھا رہے تھے اتفاق سے ما لک کی آ نکھ کھل گئی اس نے پہچا ن لیا کہ تو فلا ں ہے چو ر سا منے محلے کے تھے اب چو ر کو اپنی پڑ گئی کہ با ہر عدالت میں فقہ حنفی نا فذ ہے کل سب کے ہا تھ کٹ جائیں گے اس سے بچنے کی ایک صورت ہے کہ اس کو قتل کر دو نہ یہ چو ر کا نام لے گا اور نہ ہا تھ کٹے گیں چور وں نے اس کو پکڑ لیا تاکہ قتل کریں ما لک مکا ن نے کہا مجھے قتل نہ کرو میں کسی کو نہیں بتاں گا ایک چو ر نے کہا تو قسم کھا ئے گا اس نے کہا جی ہا ں دوسرے چور نے کہا قسم لینے کا کوئی فائد ہ نہیں کیو نکہ یہ قسم تو ڑ کر کفا رہ دے دے گا تیسرے چور نے کہا میں اس سے اس قسم کی قسم لیتا ہو ں کہ نہیں اٹھا ئے گا اگر اٹھا ئے گا تو تو ڑ نہیں سکے گا اس نے کہا اس طرح قسم اٹھا کہ اگر میں نے چور وں کا نا م بتلا یا تو میر بیو ی کو تین طلا ق اس زما نہ کے چور وں کو بھی پتہ تھا کہ ابھی تک دین کے چو رپیدا نہیں ہو ئے جو تین کو ایک کہتے ہیں کیو نکہ اگر کسی علا قے میں بھی کوئی غیر مقلدین کی طرح فتو یٰ دینے والا ہوتا چو ر کبھی بھی قسم نہ اٹھوا تے کیو نکہ انہیں پتہ ہو تا کہ اس قسم کا بھی کوئی فا ئد ہ نہیں ہو گا یہ وہا ں جا کر فتویٰ لے آ ئے گا اگر یہ آج کل کا زما نہ ہوتا تو چو ر یہ بھی بتلا دیتے کہ وہ اس کے پا س آ جا ئیں گے کہ ہم تیا ر ہیں حرا مہ کے لیے آ گئے ہیں حرا مہ کا فتویٰ دینے کے لیے اس نے قسم اٹھا لی وہ سا ما ن لے کر چلے گئے صبح ہو ئی تو ہر ایک عالم سے مسئلہ پو چھتا ہے کہ سب یہی کہتے ہیں کہ یا ساما ن بچے گا یا بیوی بچے گی اب یہ بڑا پریشا ن ہے کیو نکہ چو ر بھی محلے کے تھے وہ مذا ق بھی کر رہے ہیں ارشا رہ بھی کر رہے ہیں کہ نام لے کر دکھا ہر گلی میں مذ ا ق کر تے ہیں میں کیا کرو ں ؟کسی نے کہا امام ابو حنیفہ کے پاس جا یہ چلا گیا اور عر ض کیا کہ یہ مسئلہ پیش آیا کو ئی صور ت ہے کہ سا ما ن بھی مل جائے بیو ی بھی مل جائے چور وں کے ہا تھ بھی کٹ جا ئیں فرمایا با لکل ہو جائے گا عرض کیا حضرت کوئی نہیں کہتا ہے سا ری چیز بچ جا ئیں گی فرمایا مطمئن رہو سب کچھ ہو جائے گااس نے کہا کیسے ؟ فرمایا بس تیرا کا م ختم با قی میں خو د کروں گا ، امام صا حب ؒ نے تھا نیدا ر کو بلو ا کر ساری صورت حا ل بتلا ئی کہ چو ر محلے کے ہیں اور اس سے یہ قسم لی تم محلے کے سب لوگوں کو جمع کرو ایک ایک کو گھر سے با ہر نکالتے جا اس کو دروازے میں کھڑا کر لو اس کو بھی بتلا یا دیا کہ جب تجھ سے پو چھیں کہ یہ تیرا چور ہے ؟تیرا چو ر ہے ؟جب وہ چور آئے تو خا مو ش ہو جانا ( کیو نکہ تو بو لے گا تو طلا ق ہو گئی ورنہ نہیں ہو گی ) تھا نیدا ر کو یہ بتلا یا جہا ں یہ خا مو ش رہے اس کو پکڑ لینا کیو نکہ وہی چور ہو گا ایسا ہی ہوا چور پکڑ ے گئے ہا تھ کٹے اسی وجہ سے اس دن سے آ ج تک چور امام اعظم ابو حنیفہ کے دشمن ہیں ۔

اما م اعمش کا تین طلا ق دینا :

امام اعمش اما م ابو حنیفہ کے استا ذ حدیث ہیں یہ با ت ان تک بھی پہنچ گئی کہ امام ابو حنیفہ حیلہ بتا تے ہیں پو چھا حیلہ بتا تے ہو ؟عر ض حضرت جا ئز بتلا تا ہو ں ناجائز نہیں ، فرمایا نہیں کوئی حیلہ جائز نہیں کچھ دن گز رے تھے کہ امام اعمش کو خو د ضرورت پڑ گئی ان کا نا م سلیمان بن مہرا ن ہے چندھے کو کہتے ہیں تا ریخ میں دو بزر گ ایسے گز رے ہیں ایک امام اعمش اور دو سرے زمحشر ی ایک دن با ہر سے آ ئے بیوی تلا وت کر رہی تھی کہنے لگے قرآ ن پڑ ھتی ہے سمجھا بھی ہے ؟( اب ظاہر ہے زمحشری کے سا منے کو ن دعو یٰ کر ے اس نے کہا ہا ں جتنا ضرورت تھا اتناسمجھ لیا ہے فرمایا کیا سمجھا ؟ کہنے لگی تو بھی جنت میں جائے اور میں بھی جنت میں جا ں گی کہنے لگے یہ تو آج تک میں بھی نہیں سمجھا تو کیسے سمجھی ؟کہنے لگی صبر کر نے والے بھی جنت میں جائیں گے اور شکر کر نے والے بھی مجھے تجھ جیسے بد صورت خاوند ملا ہے میں صبر کر کے جنت میں چلی جا ں گی اور تجھ کو میرے جیسی خو بصو رت بیو ی ملی ہے تو شکر کر کے جنت میںچلا جائے گا یہی حا ل امام اعمش کے گھر میں تھا ( ان بیوی کو سہلیاں اکساتی رہتیں کہ تیرے والدین نے تجھ پر ظلم کیا ہے ) ایک دن اما م اعمش غصہ میں یہ کہہ بیٹھے کہ اگر آج رات تو مجھ سے نہ بو لی تجھے تین طلا ق جب غصہ کا فورہوا تو بڑ ی کو شش کی کہ یہ کسی نہ کسی طرح بو ل پڑ ے لیکن وہ نہ بو لی بڑ ے پر یشا ن ۔

لطیفہ :

ایک بڑ ے آ دمی کا لطیفہ ( غا لبا اس سے مراد امام جا حظ ہیں ) کہ اس کی بیوی سے نا راضگی ہو گئی منا ئے وہ ما نے ہی نہیں آخر وہ مر د گھر سے با ہر چلا گیا سو چتا رہا ایک تد بیر اس کے ذہن میں آ ئی با ہر سے بھا گتا ہوا آیا اور لال ٹین جلاکر ( دو پہر کو ) چا ر پا ئی کے نیچے داخل ہو کر کچھ تلا ش کر نے لگا یہ حر کت ایسی تھی کہ بیو ی سے نہ رہا گیا ،غصہ میں کہنے لگی دو پہر کو لال ٹین سے کیا تلا ش کررہاہے ؟اس نے کہا بس یہی تلا ش کر رہا تھا کہ تو کسی طرح بو ل پڑھے اس طرح امام اعمش کو شش کر رہے ہیں را ت گز ر رہی ہے لیکن و ہ بات بھی نہ کر ے اب امام اعمش اما م ابو حنیفہ کے در پر آ ئے دستک دی اما م ابو حنیفہ با ہر تشریف لائے اب امام اعمش کو دیکھ کر حیرا ن ہو ے کہ حضرت آپ اس وقت یہاں کیسے ؟مجھے بلو ا لیتے ) فرمایا باتیں چھو ڑ میر ی بیو ی جا رہی ہے کوئی حیلہ ہے ؟پو چھا کیا با ت ہو ئی ؟انہو ں نے بتلا ئی کہنے لگے حضرت آپ تشریف لے چلیں میں آرہا ہوں انشا اللہ وہ نہیں جائے گی ، کہنے لگے حیلہ کر نا حیلہ فرمایا حضرت آپ فکر نہ کریں امام ابو حنیفہ اس محلہ کی مسجد میں تشریف لے گئے اور مو ذن کو اٹھا یا اس سے کہا اذا ن دے دو اس نے اذا ن دے دی امام اعمش کی رات بھی پریشانی میں گز ر ی رہی رتھی اور ان کی بیو ی بھی پر یشا ن تھی کہ جلدی صبح ہو اس سے جا ن چھو ٹے اس لئے اس کو یہ خیا ل بھی نہیں رہا کہ یہ اذا ن آ دھی را ت کو ہو گئی ہے کیو نکہ وہا ں غیر مقلدوں والی آ دھی رات کا رواج ہی نہیں تھا جب مو ذ ن نے اذا ن ختم کر دی تو وہ کہنے لگی شکر ہے تجھ سے جا ن جھوٹی ادھر امام ابو حنیفہ نے استا ذ صاحب کے دروازے پر دستک دی امام اعمش با ہر تشریف لا ئے پو چھا حضرت کو ئی با ت ہو ئی فرما یا با ت تو ہو گئی لیکن اذا ن کے بعد ہو ئی اب کیا فا ئدہ ؟عرض کیا حضرت ابھی صبح صادق کو تین گھنٹے رہتے ہیں پھرجا کر موذن سے کہا کہ اعلا ن کرو کہ ابھی رات کا بہت سا را حصہ با قی ہے لوگ نماز نہ پڑ ھیں اذان غلطی سے پہلے ہو گئی مو ذن نے اعلا ن کر دیا تا ریخ میں یہ بات لکھی ہے کہ ان کی بیو ی نے کہا و ہو ابو حنیفہ کا حیلہ کا م کر گیا ۔

تین طلا ق کا ایک حل :

ایک شخص امام ابو حنیفہ کی خد مت میں حا ضر ہو اکہ حضرت گھر میں کچھ نا چا قی تھی میں گھر گیا بیوی نے کھا نا رکھا پھر پا نی لے کر آرہی تھی کچھ کہتی بھی آ رہی تھی اس کی باتوں پر مجھے بھی غصہ آگیا ، میں نے کہا گر میں تیر ے ہا تھ سے پا نی لے کر پیو ں تو تجھے تین طلا ق اگر اس پا نی کو تو خو د پیے تب بھی تجھے تین طلا ق اگر یہ پا نی تو کسی اور کو پلا ئے تب بھی تجھے تین طلا ق اگر اس پا نی کو تو زمین پر گرا ئے تب بھی تجھے تین طلا ق اب وہ وہا ں پا نی لے کر کھڑی ہے میں یہاں مسئلہ پو چھتا پھر رہا ہو ں ( کیو نکہ با قی علما ء) اس کے جواب سے عا جزتھے ، امام صاحب نے فرمایا یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ایک مو ٹا کپڑا لے کر پا نی کو اس میں جذ ب کر لیں پھر اس کو دھو پ میں خشک کر لیں اب پا نی چا ر جگہو ں میں سے کسی جگہ نہیں گر ا اور طلا ق بھی واقع نہیں ہو گی ۔

سید کی تین طلا ق کا حل :

کو فہ میں ایک بہت بڑا سید خا ندان تھا ان کا ایک ہی لڑکا تھا با قی سب لڑ کیاں تھیں وہ فو ت ہو گیا جنا زہ جنا زہ گاہ کی طر ف جا رہا تھا شہر کے سا رے قاضی حسن بن عما رة ابن ابی لیلی ودیگر مفتی وعلما ءشہر شا مل تھے سید نے را ستہ میں پچھے مڑ کر دیکھاتو اس کی بیو ی بھی بر قع پہنے آ رہی تھی اس کو بڑ ی غیر ت آئی تو غصہ سے چلا کر کہتا ہے اگر ایک قدم بھی آگے رکھا تو تجھے تین طلا ق اس نے کہا گر میں جنا زہ پڑ ھنے سے پہلے جا ں تو میر اسارامال گھر صدقہ غلا م آ زا د جنازہ رک گیا سب پر یشا ن ہیں ایک مفتی دوسرے سے کا ن لگائے کھڑا ہے ایک قا ضی دوسرے سے مشور ہ کر رہا ہے اتنے میں قا ضی حسن بن عما رہ نے کہا اے ابو حنیفہ اس مسئلہ کیا کیا حل ہے ؟مشکل مسئلہ ہے سب پر یشا ن ہیں امام صا حب نے فرمایا اس میں پر یشا نی کی کو ن سی با ت ہے جنا زہ گا ہ میں پڑ ھنا ضرور ی نہیں تھوڑا پیجھے لے آ یہیں پڑ ھ لیتے ہیں جنا زہ وہیں پڑھ لیا گیا امام صاحب نے فرمایا نہ طلاق ہوئی اور نہ ما ل گیا کیو نکہ عورت نے ایک قدم آگے نہیں بڑ ھا یا اور گئی بھی جنا زہ پڑ ھ کر ہے قاضی حسن بن عما ر فرمانے لگے اے ابو حنیفہ تجھ جیسے مائیں روز روز نہیں جنتیں ۔

ایک مکی کی تین طلا ق کا حل :

اما م ابو حنیفہ حج کے لیے تشریف لے گئے تو ایک شخص ملا اس نے عر ض کیا حضرت میں آ ج قسم کھا بیٹھا ہو ں کہ آج کے دن میں ایک گھنٹہ ایسی عبا دت کر وں گا جو دنیا میں کو ئی نہ کر رہا ہو ، ایسا میں پر یشا ن ہوں اگر میںتلا وت کر وں تو ہز اروں لوگ تلا وت کر رہے ہیں اگر میں ذکر کر وں تو ہز اروں لو گ ذکر ر ہے ہیں امام صا حب نے کہا بات سو چ کر کرنی چاہیے امام صاحب نے مکہ کے گو نر سے کہا یہ بندہ اس طرح کی قسم کھا چکا ہے اس لئے آپ بر ائے مہر با نی طواف بند کروائیں صر ف یہی ایک بند ہ ایک گھنٹہ طواف کر ے گا گو نر نے حکم جا ری کر دیا کہ اس نے طو اف شروع کر دیا امام صاحب نے فرمایا یہ عبا دت پور ی دنیا میں تو ہی کر رہا ہے لہذا اب طلا ق واقع نہیں ہو گی تا ریخی طور پر ایسے بے شما ر واقعا ت ملتے ہیں اگر تین طلا ق کے بعد رجو ع توتا ہو لوگ پریشا ن نہ ہوتے لہذا اگر کوئی تین طلا ق کے بعد رجوع کا فتویٰ دیتا ہے تو اس کا اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں ۔

تین طلا ق کا منکر شیطا ن ہے ۔

علا مہ شا می نے یہا ں تک لکھ دیا ہے کہ جو قا ضی تین طلا ق کے بعد بیو ی کو واپس کر دے وہ قا ضی نہیں شیطا ن ہے فتا ویٰ عا لمگیری میں ہے کہ اگر عورت نے تین طلا ق اپنے کا نو ں سے سنی ہیں پھر قا ضی نے اس کو واپس کر دیا ہے تو عورت کو قطعا اجا زت نہیں کہ اسکو اپنے قریب آ نے دے یہا ں تک لکھ دیا ہے کہ اگر اس کو مر د سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تو عورت مر د کو زہر دے کر ما ر سکتی ہے قتل کتنا بڑا گنا ہ ہے لیکن یہ مسئلہ اس سے بھی زیا دہ اہم ہے کیو نکہ سا ری زند گی کا حرام ہے ۔

پر وفیسر کا واقعہ :

یہی مسئلہ میں جا معہ امداد یہ میں پڑ ھارہا تھا اس مجلس میں ایک پر وفیسر بھی تھے انہو ں نے بعد میں مجھے سنا یا کہ میں کئی جگہو ں پر پر وفیسر رہا ہو ں رحیم یا ر خا ن میں بھی رہا ہو ں وہا ں ایک پر وفیسر صاحب نماز ی نیک طبیعت کے تھے انہوں نے اپنی بیو ی کو تین طلا قیں دے دیں پھر کچھ دنو ں کے بعد بیو ی کو لے آیا ہم نے کہا یہ کیسے ؟ کہتا ہے غیر مقلدبھی تو حدیث سناتے ہیں میں نے کہا متعہ والے بھی حدیث سنا تے ہیں پھر کہنے لگا آپ نماز ی ہیں تہجد گزار ہیں آپ استخا رہ کریں ؟میں نے کہا استخارہ سے حرام حلال ہو جائے گا وہ منتیں کر تا رہا اورروتا رہا میں نے ایک رات استخارہ کیا خواب میں کیا دیکھا کہ ایک میدان ہے بہت بڑا مجمع ہے تین پھا نسیاں لگی ہوئی ہیں دو مجرم ہیں میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کیا ہے ؟لوگ کہنے لگے حضورﷺ تشریف لارہے ہیں وہ سزا سنائیں گے ۔میرے دل میں یہ بات آئی کاش پروفیسر یہاں آجاتے اور خود حضرت پاک ﷺسے مسئلہ پو چھ لیتے میں سوچ ہی رہا تھا کہ پروفیسر صاحب مجمع میں نظر آگئے جب حضورﷺ تشریف لا رہے تھے تو جوں جوں آپ ﷺ قریب آتے جاتے اس پروفیسر کا رنگ بدلتا جا تا اور قد چھوٹا ہوتا جا تا ،تاآنکہ آپ ﷺ قریب تشریف لائے تو پروفیسر کا قد بالکل چھوٹا ہو چکا تھا اور رنگ سیاہ آپ ﷺ نے فرمایا کتنے مجرم ہیں ؟عرض کیا حضرت دو فرمایا وہ تیسرا زانی پروفیسر ہے اس کو بھی لا کہنے لگے یہ سن کر میرے تو ڈر کے مارے آنکھ کھل گئی بعد میں کیا ہو ا مجھے پتہ نہیں صبح کو میں نے پروفیسر صاحب سے کہا اگر آپ چاہیں تو میرے سرپر قرآن رکھ لیں میں نے جو کچھ دیکھا ہے وہ یہ ہے تو اس نے بیوی کو چھوڑدیا ۔

یہ مسئلہ اہم ہے حلال وحرام کا مسئلہ ہے دیکھیں دس آدمی یہ کہ رہے ہیں اس دودھ میں زہر ہے اس دودھ میں پیشاب ہے ایک آدمی کہ رہا ہے نہیں ہے کیا آپ پئیں گے ؟نہیں اگر بالفرض کسی کے نزدیک گنجائش ہوتی بھی تب بھی اس سے بچنا ضروری تھا یہاں تو سرے سے گنجائش ہی نہیں خود حضرت پاک ﷺ نے فرمایا حلال کھلا کھلاہے حرام کھلا کھلاحرام ہے درمیان میں شک وشبہ والی چیزیں ہیں اگر دین میں آنا چاہتے ہو تو اس سے بھی بچو اللہ تعالیٰ ہمیں حق مسلک پر رہنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔

سوال : ایک شخص نے دوسروں کے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پھر کہتا ہے میں نے ایک دی تھی ایک گواہ مر د اور چند عورتیں کہتی ہیں کہ اس نے ایک طلاق دی تھی بعض عورتیں کہتی ہیں اس نے تین طلاق دی ہیں کیا اب وہ شخص اس عورت سے رجو ع کر سکتا ہے یا نہیں ؟

جو اب : دیا نتاً نہیں رکھنی چاہئے یعنی رجو ع نہ کر نا چاہئے لیکن قضائً کر سکتا ہے کیونکہ دوسری طرف گواہ پورے نہیں ہو رہے ۔

سوال : پہلے زمانہ میں تین طلاق بو ل کر ایک مراد لی جاتی تھی اس کی کیا وجہ تھی ؟

جو اب : مصنف عبدالرزاق میں عکر مہ سے اور دیگر لوگوں سے یہ منقو ل ہے کہ اس وقت ایک سے تین کا کا م لیا جاتا تھا ۔

سوال : میں نے بیوی کو بطور طعنہ طلاق دی میری نیت طلاق کی نہیں تھی ؟

جو اب : جب لفظ طلاق بو لا پھر نیت کی ضرورت نہیں رہتی وہ طلاق ہو گئی ۔

سوال : سنا ہے مصنف ابن ابی شیبہ ضعیف کتا ب ہے اس کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں ؟

جو اب : عجیب بات ہے مصنف وہ کتاب ہے کہ اس میں ایک واقعہ بھی خیر القرون کے بعد کا نہیں اس کے تمام راوی صحابی ہیں یا تابعی ہیں یا تبع تابعی ہیں خیر القرون میں ضعف کی دوہی وجہیں ہو سکتی ہیں (۱)جھوٹ بولنا (۲)حافظہ کی کمزوری ۔حافظہ کی کمزوری متابع اور شاہد سے ختم ہو جاتی ہے کیونکہ قرآن نے یہ اصول بتلا دیا کہ ایک عورت کے ساتھ دوسری عورت مل جائے تو گواہی ثابت ہو جا ئے گی تو ابن ابی شیبہ اور مصنف عبدالرزاق میں اس قدر شواہد اور متابع نقل کر دیئے کہ وہا ں ضعف کی بات ہی ختم ہو گئی

سوال : متعہ کے بارے میں حضرت ابن عمر ؓ نے جائز ہونے کا قول پیش کیا دوسرے آدمی نے حضرت عمر ؓ کے قول سے حرمت کا قول پیش کیا اس پر ابن عمر ؓ نے فرمایا میں حضورﷺ کی بات پیش کر تا ہوں تو حضرت عمر ؓ کا قول پیش کر تا ہے ۔

جو اب : اگر غیر مقلدین نے ابن عمر ؓ کا کلمہ پڑھا ہے تو ٹھیک ورنہ حضورپاک ﷺ نے یہی فرمایا اقتدواباالذین من بعدی ابی بکر وعمر علیکم بسنتی وسنة الخلفاءالراشدین تو حضورﷺ کی بات ماننی چاہئے نہ کہ ابن عمر ؓ کی ۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔

٭٭٭٭٭٭٭

آن لائن مہمان

We have 13 guests and no members online