joomla templates

مسئلہ قرات خلف الا ما م

مناظر اسلام تر جمانِ  اہل سنت وکیل احناف

حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی

(خطبات  صفدر،جلد    اول)

الحمد للہ وکفی وسلا م علی عبا دہ الذین اصطفی ، اما بعد فاعوذ با اللہ من الشیطن الر جیم

بسم اللہ الر حمن الر حیم ،

وما کا ن المو نین لینفرو کا فة فلو لا نفر من کل فر قة منھم طا ئفة لیتفقہو فی الد ین ولینذو قو مہم اذا رجعوالیھم لعلہم یحذرون ۔

قال رسول صلی اللہ علیہ وسلم من یر داللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقیہ واحد اشد علی الشیطن من الف عابد ۔

دو ستو بز ر گو ! اللہ تعالی کا لا کھ لا کھ شکر واحسا ن ہے جس نے اپنی سا ری مخلو قا ت میں سے ہمیں انسا ن بنا یا جو اشر ف المخلوقات ہے پھر انسا نوں میں سے مسلما ن بنا یا چو نکہ سچا دین صرف اور صرف اسلا م ہے ، اللہ تعالی کا ارشا د ہے ان الد ین عنداللہ الا سلا م ، پھر مسلمانوں میں سے اللہ تعالی نے ہمیں اہل سنت والجماعت بننے کی تو فیق عطا فرمائی جس طرح سا رے دینوں میں سچا د ین صرف اسلا م ہے اسی طرح مسلمان کہلا نے والوں میں سچی جماعت اور نجا ت پا نے والی جما عت صرف اہل سنت والجما عت ہے اور پھر ہمیں اللہ تعالی نے سید نا امام اعظم اما م ابو حنیفہ ؒکی تقلید کی تو فیق عطا ءفرمائی ،جن کی رہنما ئی میں ہم اللہ تعالی کے پا ک نبی ﷺ کی سنتوں پر عمل کررہے ہیں اس لیے ہم حنفی بھی کہلا تے ہیں ۔

دو با تیں :

دو با تیں ایسی ہیں جن میں یقینا آپ میرے سا تھ اتفا ق کر یں گے پہلی با ت یہ کہ دین اسلا م کا مل ہے دو سری با ت یہ ہے کہ سچ سچ ہو تا ہے ہمیشہ سچا ہی کا میا ب ہو تا ہے جھوٹ جھو ٹ ہو تا ہے جھو ٹا کبھی بھی کا میا ب نہیں ہو تا اگر صرف یہ دو با تیں آپ ذہن میں رکھیں تو بہت سے اختلا فات ختم ہو سکتے ہیں ، ایک بات یا د رکھیں کہ کوئی اختلا فی مسئلہ مکمل اختلا فی نہیں ہو تا بلکہ اس میں کوئی نہ کوئی پہلو اتفا قی ہو تا ہے اس لیے جس با ت میں اتفا ق ہواگر اس کو پہلے سمجھیں تو اختلا فی بات کو سمجھنا آسا ن ہو جا تا ہے ، اگر کوئی اتفا قی با ت کی طرف نہ آ ئے صرف اختلا ف کا شو ر مچا تا رہے تو وہ لوگو ں کو با ت سمجھا نہیں سکتا اور نہ خو د سمجھ سکتا ہے ۔

عیسا ئی منا ظر ہ :

ایک عیسا ئی سے میرا منا ظرہ تھا ، وہ پا در ی کہنے لگا آپ ایک ایسی دلیل پیش کریں جس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ کا نبی ہو نا ثا بت ہوجا ئے جس کا میں انکا ر نہ کر سکوں ، میں نے کہا میں اگر سودلا ئل بھی پیش کر وں تو تو انکار کچھ نہ کچھ جو اب دینا شروع کر دے گا پا در ی کہنے لگا کیا آپ دلیل نہیں دینا چا ہتے ؟میں نے کہا دلیل دینا چا ہتا ہوں ایسے طریقے سے کہ صر ف ایک ہی دلیل کا م کر جا ئے پا در ی نے کہا وہ کیسی دلیل ہو گی ؟ میں نے کہا کچھ ایسے انبیا ءعلہیم السلا م بھی ہیں جن کو ہم دو نو ں نبی ما نتے ہیں مثلا ابر اہیم ہیں مو سی ہیں

عیسیؑ ہیں جن کے نبی ہو نے میں شک نہیںآپ ما نتے ہیں آپ ان کے نبی ہونے میں دلیل پیش کر یں تا کہ ایک پیما نہ بن جا ئے کہ نبی کی نبو ت اس قسم کی دلیل سے ثا بت ہو تی ہے پیما نہ آپ بنا ئیں گے موسی علیہ السلا م کے لیے عیسی علیہ ولسلا م کے لیے پھر اس سے بڑ ھ کر دلیل انشا اللہ میں دے دو ں گا ، اور ایسا اندازہ ہو گا جس میں با ت کھل کر سا منے آ جا ئے ، اس پر پا دری نے یسعا نبی کی کتا ب کھو لی اس سے ایک عبارت پڑ ھی کہ ایک کنوا ری حا ملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اس کا نام اما نو ئیل رکھے گی میں نے کہا اس سے آ پ کا کیا مطلب ؟ پادر ی نے کہا کہ عیسی علیہ السلا م کے بارے میں پیشن گو ئی کی ہے میںنے کہا یہ قا عدہ کلیہ ہے ؟اگر یہ قا عدہ کلیہ ہے تو پہلے آد م علیہ السلا م کے لیے کوئی پیشن گو ئی ثا بت کریں ، ابرا ہیم علیہ السلا مؑ کے لیے کوئی پیشن گو ئی بتا ئیں عیسی علیہ السلا م کے لیے کو ئی پیشن گو ئی بتا ئیں کو ئی ایسا قاعدہ کلیہ بتا ئیں جو ہر جگہ فٹ آ سکے ، دوسری بات یہ ہے کہ میں اس عبا رت سے بھی یہ نہیں ما نتا کہ اس میں عیسی علیہ السلا م کی پیشن گوئی ہے کیونکہ زیا دہ سے زیادہ آپ اس بات پرلگا ئیں گے کہ میں کنوا ری کالفظ ہے لیکن میں اسی کو غلط سمجھتا ہوں یہ دیکھو میرے ہا تھ میں یہو دی با ئبل ہے اس میں جوا ن عورت لکھا ہے ، کنواری نہیں لکھا ، یہ تمہا ری ریفر نس با ئبل ہے ، جس کے حا شیہ پر لکھا ہے جوا ن عورت یہ عبرانی لفظ ہے ، یہ اسی با ئبل میں اٹھا رہ جگہ آیا ہے ، سترہ جگہ آپ نے بھی تر جمہ جو ان عورت کیا ہے ، اس جگہ تر جمہ آپ بھی کبھی کنواری عورت کر تے ہیں اور کبھی جوا ن عورت کر تے ہیں تو میں بھی کہہ سکتا ہو ں کہ اس جوان عورت سے حضرت آ منہ مراد ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آ منہ کے اکلو تے بیٹے تھے ، نہ ان کی کوئی بہن تھی نہ بھا ئی تھا بلکہ ان کا صرف ایک ہی بیٹا ہوا ہے اس لیے اس کو تو میں بھی دلیل بنا سکتا ہوں آپ کی دلیل تو نہیں بنتی، پھرمیں نے پو چھا کہ یہ بتا کہ اسی کتا ب کا با ب نمبر ۳ ۵ بھی مسیح علیہ السلا م کے بارے میں ہے پا در ی کہنے لگا جی ہاں میں نے کہا پھر اس با ب نمبر ۹ کو آپ ان پر کیو ں چسپا کر رہے ہیں کیو نکہ سخت اختلاف ہے ، وہا ں تو یہ لکھا ہے معا ذ اللہ کہ وہ ایک مر د مردود غمناک رنج کا پیٹا ہوا آ دمی تھا ، اور ہما ری با رگا ہ میں اس کی کوئی قدر نہیں ، لیکن یہاں لکھا ہے کہ وہ اما نو ئیل ہو گا خدا اس کے سا تھ ہو گا اور یہ دو نوں باتیں ایک دوسرے کے خلاف ہیں یاتو آپ با ب نمبر ۳ ۵ مسیح علیہ السلا م کے بارے میں ما نیں یا با ب نمبر ۹ ما ئیں پھر میں نے کہا کہ میں اما نو ئیل کسے مانوں کیو نکہ اما نو ئیل کا معنی ہے جس کے سا تھ خدا ہو ، اس کو ما نے جو کہتا ہے ان اللہ معنا ،خدا ہما رے سا تھ ہے اور اللہ تعالی فرما تے ہیں ما ودعک وبک وما قلی ، تجھے خد انے چھو ڑا نہیں اور نہ تجھ سے نا راض ہوا یا میں اما نو ئیل اسے ما نوں جس نے چھ گھنٹے صیلب پر (معاذاللہ ) یہ نعر ہ لگا یا ہو کہ علی علی لما شغفتنی ، اے اللہ اے اللہ تو نے مجھے کیو ں چھو ڑ دیا جس کو اللہ چھوڑ دے وہ اما نو ئیل نہیں ہوتا جب میری با ت یہاںتک پہنچی تو جو عیسا ئی بیٹھے تھے وہ سب وکیل یا پر وفیسر تھے ان میں کوئی ان پڑ ھ آ دمی نہیں تھا ، ان میں سے ایک وکیل کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ ہما ری درخواست ہے کہ آپ با ت بند کر یں کیو نکہ ہما ر ا پا دری آپ کی با ت کا جواب نہیں دے سکتا ، ہم نے نتھانی پا در ی کے پا س گا ڑی بھیجی ہے وہ چند منٹ کے بعد تشریف لے آ ئیں گے ، پھر آپ ان سے با ت کریں ، میں نے کہاکہ جب تک وہ اس وقت تک تو با ت چلنے دیں آپ کے پا دری نے پیشن گو ئی پر بات شروع کی کہ جس کی پیشن گو ئی سچی ہو وہ نبی ہوتا ہے ،

عجیب پیشن گو ئی :

میں بھی پیشن گو ئی کر نے لگا ہوں اتنی جلد ی کسی کی پیشن گو ئی سچی نہیں ہو ئی جتنی جلدی اس مجلس میں میر ی پیش گو ئی سچی ہو گی ، میر ی پیشن گوئی اس مجلس میں سچی ہو گی ، وکیل صاحب کہنے لگے وہ کیا ، میں نے کہا جوآ دمی پا در ی کو لینے گیا ہے اگر اس نے بتلا د یا کہ وہا ں امین ( حضرت مو لا نا محمد امین ) مو جو د ہے تو وہ کبھی نہیں آ ئے گا ، اور اگر اس نے یہ نہ بتلا یا تو وہ آ جا ئے گا لیکن یہاں آکر منا ظر ہ ہر گز نہیں کر ے گا ۔

آخر وہی با ت ہو ئی کہ پا نچ منٹ کے بعد وہ آ گیا اور پنے منا ظر کی طر ف جانے کی بجا ئے میرے سا تھ آ کر بیٹھ گیا میں نے کہا آپ ادھر جا کر بیٹھیں کیو نکہ آپ مناظر ہ کے لیے آ ئے ہیں وہ پا در ی کہنے لگا کہ مجھے یہ بتلا یا ہی نہیں گیا کہ آ پ یہاں ہیں ورنہ میں کبھی نہ آ تا میں نے کہا اب تو آ گئے ہو اب منا ظر ہ کرو ، اس پر وہ پا در ی کہنے لگا کوئی عقل مند آ دمی جلتی آ گ میں چھلا نگ نہیں لگا سکتا اس لئے میں آپ سے منا ظر ہ نہیں کرتا میں نے لوگوں سے کہا کہ میری پیشن گو ئی تو سچی ہو گئی ہے پہلے پا دری کے بقول تو (معاذاللہ ) مجھے نبی ما ننا چا ہیے لیکن میں یہی کہتا ہوں کہ میر انبی ﷺ پر ایما ن لے آ جس کا میں امتی ہوں ، وہ با ت ختم ہو گئی لیکن عیسا ئیوں کو غصہ بہت تھا ، پھر ایک پاد ر ی بلا کر لا ئے اس سے بھی میں نے یہی کہا کہ آپ اتفا قی پیما نہ بنا لو پھر آ گے چلیں گے اس نے کہا کہ مو سی علیہ السلا م نے پتھر پر لا ٹھی ما ری اس سے پا نی کے چشمے جا ری ہو گئے ان کا معجز ہ ہے ، در یا پر لا ٹھی ما ری تو راستے بن گئے یہ معجزہ ہے ان کے نبی ہو نے کی دلیل ہے ، میں نے کہا کہ با لکل ٹھیک ہے اب ایک پیمانہ تو متعین ہو گیا ، کہ مو سی علیہ السلا م نے جس در یا پر لا ٹھی ما ر ی تھی وہ در یا پہلے آ سما ن پر تھا یا چو تھے آسما ن پر وہ پا در ی کہنے نہیں جی وہ زمین پر تھا ، میں نے کہا کہ لا ٹھی پا نی پر پہنچی تھی یا دورر ہی تھی پا در ی نے کہا پا نی پر لگی تھی ، میں نے کہا واقعی یہ بہت بڑا معجز ہ ہے اسی بنا پر مو سی علیہ السلام کو یہویو ں نے بھی نبی مانا عیسا یوں نے بھی ما نا مسلما نوں نے بھی ان کو نبی ما نا ۔

لیکن اب ہما ری طر ف بھی تو جہ فرما ئیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تشر یف فرما تھے آسما ن کے چا ند کی طر ف صرف انگلی سے اشا ر ہ فرمایا انگلی چا ند تک نہیں پہنچی لیکن اللہ تعالی نے چا ند کے دو ٹکڑ ے کر دئےے ، ارشا د ربا نی ہے اقتر بت السا عة وانشق القمر ، میں نے کہا مو سی علیہ السلا م کا معجزہ زمین پر ظا ہر ہوا تو کسی یہو دی عیسائی اور مسلما ن کو ان کے نبی ہو نے میں شک نہیں رہا ، اور جس نبی ﷺ کا معجزہ آ سما ن پر ظا ہر ہوکر چا ند دوٹکڑ ے ہو جائے تو اس نبی کی نبو ت میں کو ن عقل مند شک کرسکتا ہے ، یہ تو اسی قسم کی حما قت ہو گی ، جس طرح کوئی یہ کہے کہ زمین سے جومٹی کا تیل نکلتا ہے اس کے جلانے سے روشنی ہوتی ہے لیکن آ سما ن کا سور ج روشنی نہیں دیتا ، جس کا معجز ہ زمین پر ظا ہر ہوا اس کو توآپ نبی ما ن رہے ہیں جس کا معجز ہ آ سما ن پر ظا ہر ہوا اس کے نبی ہو نے میں کیو ں شک کر تے ہو اس پر سب وکلا کہنے لگے کہ مو لو ی صا حب آپ با ت بند کر یں کیو نکہ واقعی آپ کی دلیل اتنی وزنی ہے کہ دو ہی صورتیں ہیں

۱ --یاہم ایما ن لے آئیں

۲ --یا ہم ضد کر لیں

تیسری کو ئی بات نہیں اس لئے اب آ گے منا ظر ہ سنتے کی لئے تیا ر نہیں ، یہ واقعہ میں نے اس لیے سنا یا کہ پہلے اتفا قی با ت کے لیے کوئی پیما نہ مقرر ہو جائے تو پھر اختلا فی بات کی طر ف آ نا آ سا ن ہوگا ۔

مسئلہ قرات خلف الا ما م :

سب سے پہلے مسئلہ خلف الا مام عرض کر تا ہوں ، آپ بتا ئیں کہ قرآن پا ک کی کتنی سورتیں ہیں ، ایک سو چو دہ ، ان میں سے ایک سو تیر ہ سورتیں غیر مقلدین بھی امام کے پیچھے نہیں پڑ ھتے اور ہم بھی نہیں پڑ ھتے صر ف ایک سورت کا اختلا ف ہے تو جس طرح میں نے عیسا یو ں سے کہا تھا وہی ان سے کہتا ہوں ۔

ما ہ رمضا ن کا واقعہ :

رمضا ن شر یف میں میر ی ایک جگہ تقریر تھی تو ایک غیر مقلد کہنے لگا کہ آ ج ہما را بھی ختم قرآن ہے ، میں نے کہا پھر کیا دعا کرو گے ؟کہنے لگا دعا کریں گے اللہ قبو ل فرما ئے ، میں نے کہا دعا کے الفا ظ مجھ سے سیکھو ، وہ کہنے لگا وہ الفا ظ کیا ہیں ؟میں نے کہا دعا یو ں کر نا اے اللہ ! قا ری صاحب کا پورا قرآن قبو ل فر ما اور ہما ری صرف سورہ فا تحہ قبو ل فرما کیو نکہ آ پ نے صرف سورہ فا تحہ پڑ ھی ہے ، پو را قرآن نہیں پڑ ھا کہنے لگا جی وہ قرآن بھی ہما ری طر ف سے ہو گیا ، میں نے کہا اللہ کے بند ے !اگر ایک صد تیر ہ سورتیں ہو سکتی ہیں تو ایک سورت نے کیا گنا ہ کیا کہ وہ نہیں ہو سکتی ۔

غیر مقلدین سے ایک سوال :

اب ان سے ہما را ایک سوال ہے کہاایک سو تیرہ سو رتیں آپ بھی امام کے پیچھے نہیں پڑ ھتے اس بارے میں کوئی قرآنی آیت پیش فرمائیں یا بخا ری یا مسلم کی حدیث پیش کریں ان سورتوں پر تو اتفا ق ہے ، اس پر جو پیما نہ بنے گا اس کے بعد پھرآ گے چلیں گے تاکہ با ت سمجھنا آ سا ن ہو ۔

دلیل مل گئی :

جب میر ی ایک صا حب سے اسی موضو ع پر بات ہو ئی تو کہنے لگے با لکل دلیل ہے ۔ میں نے کہا وہ کیا ہے ؟کہنے لگا قرآن میں ہے لیس للا نسا ن الا ما سعی کہ انسا ن جوکرتا ہے وہ اسی کے لیے ہوتا ہے ، میں نے کہا ایک سوتیر ہ سور تیں امام نے پڑ ھیں ، آپ نے نہیں پڑھیں،وہ آپ کی طر ف سے کیسے ہو گئیں ؟خطبہ جمعہ خطیب پڑ ھتا ہے ، آپ نہیں پڑ ھتے تو وہ آ پ کی طر ف سے کس طرح ہو گا ، ایک موذ ن نے اذا ن دی ، سب کی طرف سے ہو گئی ، ان جگہوں پر آپ کو لیس للانسا ن الا ما سعی ، کیو ں یا د نہیں آیا ، ایک شخص نے اقا مت کہی بھری مسجد والوں کی طر ف سے وہی کا فی ہو گئی نما ز سنت کے مطابق ادا ہو گئی ، وہا ں آپ کو یہ آیت کیو ں یا د نہیں آئی ، کیا واقعی اس آیت کا یہ ترجمہ ہے کہ امام کے پیچھے ایک سو تیر ہ سورتیں پڑ ھنا ناجا ئز اور حرام ہیں صر ف ایک سور ت فا تحہ کا پڑ ھنا فرض اور واجب ہے اس کے علا وہ بھی اگر کسی آیت کا یہ تر جمہ ہو تو لے آئیں تا کہ ہمیں بھی معلوم ہو جائے کہ آپ کے پا س کو ن سا پیما نہ ہے ۔

بخاری شر یف :

میں نے کہا چلو بخا ری شر یف سے کوئی ایسی روایت پیش کر دوکہ امام کے پیچھے ایک سو تیرہ سورتیں پڑ ھنا حرام اور ممنو ع ہوں کیو نکہ اس میں آپ کا اور ہما را اتفا ق ہے اس پر ایک پیما نہ بنا لیں کہ آپ ان ایک سو تیر ہ سو رتوں کو کس دلیل سے منع کرتے ہیں ، اب اگر قرآن سے دلیل ہے تو پیش کریں وگر نہ لکھ دیں کہ اس مسئلہ میں قرآ ن سر پر ہا تھ نہیں رکھتا،

ہما ری دلیل :

پھر حدیث کی طر ف جا نے سے پہلے ہم سے پو چھیں کہ کیا قرآن ہما را سا تھ دیتا ہے یا نہیں میں نے جیسے مغر ب سے قبل نشست میں بتلا یا تھا کہ نماز پڑ ھنے کے دو ہی طریقے ہیں اور قرآن پا ک کی دو آیتوں نے دو نوں کا فیصلہ کر دیا ہے ۔

پہلی آیت :

فا قرو ما تیسر من القرا ٓن !حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے نماز کا حکم بتلا یا ۔

دو سری آیت :

واذا قری القرآن فاستمعو لہ وانصتو لعلکم ترحمون ،

میں حضرت پا ک ﷺنے با جماعت نماز پڑ ھنے کا طریقہ بتلا یا جب قرآن نے مسئلہ صاف کر دیا تو اب اگر کوئی کہے کہ ہم قرآن کو ما نتے ہیں اور یہ امام ابو حنیفہ کا قول ما نتے ہیں تو کیا اس با ت میں وہ آ دمی سچا ہو سکتا ہے ؟اس با رے میں وہی عر ض کرتا ہوں کہ جب عیسائی سے با ت ہو ئی تو اتفا قی با ت پر اس لیے مسئلہ سمجھنا آ سا ن ہو گیا اسی طرح پہلے اتفا قی با ت کی طرف آئیں پھر اختلا فی با ت کی طر ف جا ئیں گے تو کوئی بھی مسئلہ مشکل نہیں ۔

ایک واقعہ :

جب میں کرا چی بنوری ٹا ون میں تھا ایک دن میں گھر سے نکلا تو دیکھا کہ ایک نوا جوان دروازے کے باہر کھڑا رو رہا تھا ، جب میں نکلا تواس نے سلا م کیا اور پو چھا کہ جناب مولا نا محمد امین صفد ر آپ کا نا م ہے ، میں نے کہا جی ہاں ، کہنے لگا میں بہت پر یشا ن ہوں کل بھی حا ضر ہوا تھا لیکن آپ جمعہ پڑ ھا نے گئے ہو ئے تھے آج پھر حا ضر ہوا ہو ں میں نے کہا فرمائیں کیا مسئلہ ہے ۔ کہنے لگا ہم ایک کا لج میں پڑ ھتے ہیں جس میں اکثر غیر ملکی طلبا ءہیں اس میں ہم صرف چھ مسلما ن طا لب علم ہیں ۔

تبلیغی جما عت :

ہم چھ میں ایک لڑ کا تبلیغی جما عت میں جا تا تھا ، اس نے محنت کر کے ہمیں نماز ی بنا دیا ہم جمعرا ت کو بس پر مر کز جارہے تھے تو راستہ میں میٹر ک کے کچھ سا تھی ملے جو اپنے آپ کو اہلحدیث یعنی غیر مقلد کہتے تھے ، جب انہوں نے ہما ری حالت دیکھی تو ان کو اندا زہ ہو ا کہ اب ہم نے نماز شروع کر دی ہے ( کیو نکہ جب ان کے سا تھ پڑ ھا کر تے تھے اس زمانہ میں ہم نماز نہیں پر ھتے تھے ۔

دو جما عتیں دو کا م :

جیسے تبلیغی جما عت والے لوگوں کے گھر وں پر دو کا نو ں پر دفا تر میں جا تے ہیں چکر لگا تے ہیں کسی نے کہا کہ تم کیا کرتے پھرتے ہو ؟ کہنے لگا مسلمان ہیں نبی ﷺ کا کلمہ پڑ ھتے ہیں لیکن سستی اور غفلت کی وجہ سے نماز نہیں پڑ ھتے ہم یاد دہا نی کرانے آ ئے تھے ، دینا میں کتنے لو گ ہیں جن کو تبلیغی جماعت نے نماز ی بنا دیا ۔

دو سر ی جما عت :

دو سری جما عت غیر مقلدین کی ہے جن کو آپ نے کبھی اس طرح پھر تے نہیں دیکھا ہوگا بے نماز یوں کے نماز ی بنا ئیں لیکن جب کو ئی نماز شروع کر دے تو پھراس کے پاس آجا ئیں گے کہ تیر ی نماز نہیں ہو تی تیر ی نماز نہیں ہوتی ، تیر ی نماز نہیں ہوتی ، اب لوگ اس بے چا رے کو نماز نہیں پڑ ھنے دیں گے ۔

عجیب بات :

عجیب با ت ہے کہ جب تک کوئی نماز نہ پڑ ھے اس وقت تک اسے با لکل معلوم نہیں ہوگا کہ اس کے محلہ میں کوئی غیر مقلد ہے یا نہیں لیکن جب کوئی نماز شروع کر دے تو ایک ادھر سے آ رہا ہے کہ تیر ی نماز نہیں ہو ئی کوئی ادھر سے آ رہا ہے کہ تیر ی نماز نہیں ہو تی یہی حشر اس نو جوان کا ہوا ، انہوں نے پو چھا کہ تم مر کز جا رہے ہو انہوں نے کہا ہا ں انہوں نے کہا تمہا ری تو نماز نہیں ہوتی ، میں نے کہا ہم تو نماز پڑ ھتے ہیں کیو ں نہیں ہو تی ؟ کہنے لگا تم امام کے پیچھے فا تحہ پڑ ھتے ہو ؟میں کہا نہیں ۔

ایک دھو کہ :

پھر اس نے خو د کا غذ نکا ل کر اس پر لکھ دیاکہ تیرا عقید ہ ہے کہ فاتحہ کے بغیر نماز ہو جا تی ہے اس لیے تم ایسی حدیث لا گے جس میں یہ ہو کہ فا تحہ کے بغیر نماز ہو جا تی ہے اور میں حدیث لا ں گا جس میں ہو کہ فا تحہ کے بغیر نماز نہیں ہو تی ۔

مشور ہ :

پھر ہم مر کز گئے بیا ن سنا چند علما ءکرا م سے یہ مسئلہ پو چھا تو انہوں نے آپ کا نا م بتلا یا کہ وہا ں چلے جا ئیں انشا اللہ مسئلہ حل ہو جائے اس لیے میں کل بھی حا ضر ہوا تھا جمعہ یہیں پڑ ھا جب اپنے گھر واپس گیا تو وہی میرے دوست اوردو مولو ی صا حبا ن میرے مہمان خا نہ میں بیٹھے تھے ۔

دواشتہا ر :

ان کے پاس دو اشتہا ر تھے ایک میں لکھا ہوا تھا کہ جو یہ ثا بت کر دے کہ امام کے پیچھے فاتحہ منع ہے اس کو تین لا کھ انعام دوسرے اشتہا ر میں یہ تھا کہ جو یہ ثا بت کر دے کہ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا منع ہے اس کو فی حروف دس روپے انعام دو ں گا ، میں نے ان سے اشتہار لے لئے ان سے کہا کہ ابھی تک اپنے مو لو ی صاحب سے نہیں مل سکا انشا اللہ کل ملوں گا پھر جوا ب دو ں گا ۔

شیخ اوکا ڑویؒ :

حضرت فرماتے کہ میں نے اس سے کہا کہ آپ صحیح جگہ پہنچیں ہیں اس لئے آپ کومسئلہ اب سمجھ آ جا ئے گا ،میں نے اس کو در سگا ہ میں بٹھا لیا اور کہا آپ سے غیر مقلدین نے بہت بڑ ا دھو کہ کیا ہے اس لئے دھو کے کا جوا ب بھی دھو کہ سے دینا پڑ ے گا ۔وہ جوا ن کہنے لگا وہ کس طرح میں نے کہا کہ تم جا کر یہ پو چھنا کہ جب تمہا را امام جمعہ خطبہ پر ھتا ہے کیا تم بھی پڑھتے ہووہ کہیں گے نہیں پھر تم کا غذ نکا ل کر یہ لکھنا کہ تمہا را عقیدہ ہے کہ خطبہ کے بغیر جمعہ ہو جاتا ہے ، اب اس تحریر پر دستخط کرو ، پھر اس سے کہنا کہ اب میں ایسی حدیث لا ں گا جس میں یہ ہوگا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے ساتھ جمعہ پڑھا تے تھے اورتم وہ حدیث لا گے جس میں یہ ہو کہ حضور ﷺ بغیر خطبہ کے جمعہ پڑ ھا تے تھے اورخطبہ کے بغیر جمعہ ہوجا تا ہے میں نے کہا اس کو دھو کہ کا جوا ب اس طرح اس کو دینا ہے جس طرح انہوں نے تیرے ساتھ دھو کہ کیا ہے ۔

مسئلہ فا تحہ :

با قی رہی مسئلہ کی بات تو میں نے اس جوا ن سے کہا کہ قرآن میں دو آ یتیں ہیں ایک میں منفرد نماز ی کا حکم ہے اور دوسری جما عت میں نماز پڑ ھنے والے کے حکم میں ہے دونوں آیتوں کا تذ کر ہ پیچھے گز ر چکا ہے ۔

ایک سوا ل اور اس کا جوا ب :

سوال :مجمع میں سے کسی نے پر چی لکھی کہ آیت واذا قری القرآن فاستمعوالہ وانصتولعلکم تر حمو ن ۔

تو خطبہ کے بارے میں نا زل ہو ئی لیکن اسے نماز کے بارے میں فٹ کر ر ہے ہیں ۔

جوا ب : میں نے اپنی بات نہیں کہی بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا ئی ہے واذا فری فا نصتو (مسلم ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کو زیا دہ سمجھتے تھے یا میرا پر چی لکھنے ولا دوست ؟لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کو زیا دہ سمجھتے تھے ۔

دوسری با ت :

پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن صحا بہ کرا م کو پڑ ھا یا ، ارشا د ربا نی ہے یعلمھم الکتا ب والحکمة حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحا بہ کو قرآن پڑ ھا یا اور ان کو حکمت سکھلا ئی تو کیا صحا بہ کرام کو قرآن سمجھ میں نہیں آیا یا نہیں ؟حا ضر یں نے کہا سمجھ آگیا اب صحا بہ کرام ؓ سے پو چھتے ہیں کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے ؟

حضرت ابن عبا س ؓ کا فتویٰ :

حضرت ابن عبا س مکہ میں بیٹھ کر فرماتے ہیں رحیم یا رخا ن یا خا نپور میں نہیں بلکہ مکہ مکر مہ میں المو من فی سا عة من الا جتماع الخ ، فرماتے ہیں کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اگر کسی کے پاس وقت ہے تو بیٹھ کر سنے اور اگر وقت نہ ہو کسی کا م سے جا نا چاہے تو چلا جائے انما ھذ ہ الا یة نز لت فی الصلوٰة المکتوبة۔

یہ آیت فرض نماز کے با رے میں نا زل ہو ئی ہے اس کے بعد فرماتے ہیں جو اس آیت کے ناز ل ہو نے کے بعد بھی امام کے پیچھے پڑ ھتا ہے تو وہ گد ھے سے بھی زیا دہ جفا کش ہے ، ( کتا ب القرات للبیقہی ) میں نے یہ اپنی بات کہی ہے یا حضرت ابن عباس ؓ کی جن کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی کہ اے اللہ اس کو قرآن کی سمجھ عطا فرما ، جن حضرت ابن عبا س ؓ نے یہ بات فرمائی تو کسی شخص نے یہ نہیں کہا کہ یہ آیت نماز کے بارے میں نا زل ہو ئی اگر آپ ثا بت کر دیںتو فی حدیث دس ہز ار روپے انعا م دوں گا ۔ جیسے میں نے رحیم یا ر خا ن کہا کہ یہ آیت نماز کے با رے میں نا ز ل ہو ئی ہے تو رحیم یا ر خا ن کے کسی دو سر ے آدمی نے فورا چٹ لکھی کہ یہ خطبہ کے بارے میں ہے ۔

اہل مکہ کا ایما ن :

تو کیا جب حضرت ابن عباس نے آیت کی تشر یح فر مائی تو اہل مکہ سے کسی نے کوئی با ت کہی یا نہیں ، کیا مکہ مکر مہ کے صحا بہ اور تا بعین عظام کے اندر بھی دین کا ذوق وشوق تھا یا نہیں اگر تھا تو کسی ایک صحا بی تا بعی نے یہ کہا ہو کہ اے ابن عباس !یہ آیت نماز کے بارے میں نازل نہیں ہوئی اگر کوئی صاحب اہل مکہ کے صحا بہ یا تا بعین سے یہ ثابت کر دے تو میں اس کی با ت بھی تسلیم کر لوں گا ، اور فی حو الہ دس ہز ار روہے انعا م بھی دو ں گا ۔

دوسرا مر کز اسلا م :

اسلا م کا دوسرا مر کز مد ینہ منو رہ ہے ، وہا ں حضرت ابن عمر تھے جو امیر المو نین حضرت عمر ؓ کے بیٹے ہیں حضور ﷺ سے قرآن سیکھا ، وہ ارشا د فر ماتے ہیں کا نت بنو اسرا ئیل اذا قرات ائمتم جاوز ہم ،یہو دیوں اور عیسا ئیوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ با جما عت نما زپڑ ھتے تو امام بھی ان کا تو ارا ت پڑ ھتا اور وہ بھی تو را ت پڑ ھتے امام بھی انجیل پڑ ھتا وہ بھی پیچھے انجیل پڑھتے ۔

اسلا م کا مز اج :

شروع اسلا م میں طر یقہ یہ تھا کہ جب تک اسلا م کا کوئی حکم نا ز ل نہ ہوتا تھا اس وقت تک لوگ پہلی شریعت پر عمل کرلیا کر تے تھے ۔

چند مثا لیں :

۱-- قرآن میں یہ آیت تو ہے فو ل وجھک شطر المسجد الحرا م

لیکن یہ آیت کسی پا رہ میں نہیں فو ل وجھک شطر البیت المقد س حا لا نکہ قرآن میں یہ آیت کہیں نہیں لیکن حضور ﷺ بیت المقد س کو منہ کر کے نماز کیوں پڑ ھتے تھے ؟اس لیے کہ ابھی پہلی شر یعت کاحکم چلا آرہا تھا ، با لکل اسی طرح ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں یہ با ت تھی کہ وہ امام کے پیچھے قرات کیا کرتے تھے ، پھر فرما تے ہیں کہ فکرہ اللہ لہذا الا مة اللہ تعالی کو اس امت محمد یہ کے لیے یہو یوں اور عیسا یوں کا طریقہ پسند نہ آیا فنز لت واذا قر ی القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون اللہ تعالی نے فرمایا اب تم یہویوں اور عیسا ئیوں کا طریقہ چھو ڑ دو جب تمہا را امام قرات کر ے تو تم اس کے پیچھے قر ات نہ کیا کرو یہ بات حضرت ابن عمر ؓنے مد ینہ میں بیٹھ کر ارشا د فرمائی نہ کہ اوکا ڑہ میں ۔ کیا مدینہ منو رہ میں اس زما نہ میں اور صحا بہ کرام بھی تھے یا نہیں ۔ موجودتھے ،کیا تا بعین مو جود تھے یا نہیں ؟مو جو د تھے ، کیا رحیم یا ر خا ن کے لوگوں کی طرح مدینہ کے کسی ایک شخص نے یہ کہا ہو کہ اے ابن عمر یہ آیت تو خطبہ کے با رے میں نا زل ہو ئی ہے نما زکے بارے میں نا زل نہیں ہوئی ثا بت کریںہم انشا اللہ فی روایت دس ہز ار روپے انعام دیں گے ۔

اسلا م کا تیسرا مر کز :

کوفہ اسلا م کا تیسرا بڑامر کز تھا ، جس میں حضرت عبداللہ بن مسعو دؓ مقیم تھے اور یہ ارشاد فرماتے تھے ہیں کہ کیا تمہیں عقل وشعو ر نہیں کہ جب امام قرات کر ے تو تم خاموش رہوں کما امر کم اللہ واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمو ن ۔

کو فہ کی اہمیت :

کوفہ ایسا شہر ہے جس میں ایک ہز ار پچا س صحا بی تا کرام تشر یف لا ئے اور تراسی ہزار تا بعین کو فہ میں آبا د تھے ۔

چیلنچ :

ایک ہز ار پچا س سامعین کرام ؓ میں سے صرف ایک صحا بہ تا ترا سی ہز ار تا بعین میں سے کسی ایک تا بعی نے یہ کہا ہو کہ اے ابن مسعو د یہ آیت خطبہ کے بارے میں نازل ہو ئی ہے ، نماز کے بارے میں نا زل نہیں ہو ئی ثا بت کر یں فی روایت دس ہز ار روپے انعا م دیں گے ۔

سمجھنے کی با ت :

حضرات صحا بہ کرام !جس طرح حضور نبی کریم ﷺ نے قرآن سمجھا اور جس طرح صحا بہ کر ام ؓ نے قرآن کو سمجھا اسی طرح آپ کو سمجھا رہے ہیں ۔

اسلا م کا چوتھا مر کز :

اسلا م کو چو تھا مر کز بصر ہ تھا ، بصر ہ میں حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ فرماتے ہیں یہ آیت نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے ،تو پو رے بصر ہ میں بھی کسی نے اس بات کا انکا ر نہیں کیا الغر ض مکہ ، مد ینہ ، کو فہ اور بصر ہ میں جو نماز پھیلی صحا بہ وتا بعین کے دور میں اس میں قرات فا تحہ خلف الا ما م کا تصور بھی نہ تھا ۔

خطبہ کا مسئلہ :

قرآن میں انصا ت یعنی خا مو ش رہنے کا لفظ آیا ہے اسی طرح حضور ﷺ نے خطبہ کے بارے میں بھی ا نصات یعنی خا موشی رہنے کا لفظ بیا ن فرمایا ہے تو بعض مفسر ین نے سا تھ خطبہ کا ذکر بھی کر دیا ان کے اس لفظ کو ذکر کر نے سے نماز کی نفی نہیں ہوئی ۔

ایک مثا ل :

مکہ مکر مہ میں لوگ بتوں کی عبا دت کیا کر تے تھے ، لیکن مدینہ منو رہ میں یہود آباد تھے وہ قبر وں کی پو جا کر تے تھے ، جو آیات مکہ مکر مہ ان لوگوں کے لیے نا زل ہو ئی تھیں جو بتوں کی عبا دت کرتے تھے اب اگر کوئی گھوڑے کی عبادت کر ے اس کے لیے بھی وہی آیا ت پڑھی جا تی ہیں اور اگر کوئی درخت کی عبا دت کر ے اس کے رد میں بھی یہی آیت پڑ ھ دی جاتی ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ یہ اس مو قع پر نا زل ہو ئی ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ بھی اس حکم میں شا مل ہے ، جب آپ نے درخت کی عبا دت سے روکا اور وہ آیت پڑھی جو بت کے لئے ناز ل ہو ئی تھی تو کیا اب کوئی عقل مند آد می یہ سمجھے گا کہ اب یہ آیت بت کی عبا دت سے منع نہیں کر رہی ، اس طرح اگربعض مفسرین نے خطبہ کا ذکر کر بھی دیا تو کوئی حر ج نہیں ، ہم جس طرح امام کے پیچھے خا موش رہتے ہیں اسی طرح خطبہ میں خا مو ش رہتے ہیں اور خطبہ میں یہ بھی خا مو ش رہتے ہیں اس سے تو ہما ری با ت مز ید قو ی ہوگئی۔

حد یث رسو ل :

میں نے حد یث رسول واذا قری فانصتوا پڑ ھی فیصل آ باد کی عد الت میں جب اس حدیث پر بحث ہو ئی تو میں نے کہا جس طرح میں نے یہ حدیث پڑ ھی ہے

واذا کبر الا ما م فکبروا وذا قریٰ فانصتوا واذا قال الا ما م غیر المغضوب علیہم ولاالضا لین فقو لوا آمین ۔

تر جمہ جب امام تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو ، جب امام قرات کر ے تم خا مو ش رہو اور جب امام والضا لین کہے تو تم آمین کہو ۔ میں نے کہا تم بھی کو ئی حد یث اس طرح کی پیش کرو جس میں یہ ہو

اذا کبر الا ما م فکبروا واذا قری الفا تحة فاقروا الفاتحة واذا قال امین فا منوا

ترجمہ جب امام تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو ، جب امام فا تحہ پڑ ھے تم بھی فا تحہ پڑ ھو اور جب امام آمین کہے تو تم بھی آ مین کہو جج صاحب نے بھی ان سے کہا کہ تم بھی اس قسم کی حدیث لا کہ جس میں یوں نماز کا طر یقہ تکبیر سے لے کر سلا م تک ہو جس طرح انہوں نے حدیث پڑ ھی لیکن غیر مقلد اس عد الت میں بھی ایسی حدیث پیش نہ کر سکے اور آ ج بھی پیش نہیں کر سکتے اور قیا مت کی صبح تک بھی پیش نہیں کر سکتے ۔

میں آپ سے گفتگو اس پر کر رہا تھا کہ اس نو جوا ن کو میں نے دو طر یقے سمجھا ئے اس کے بعد میں نے بتا یا کہ مسئلہ سمجھو کہ جس طرح ہم کہتے ہیں کہ خطبہ کے بغیر جمعہ نہیں ہو تا لیکن خطیب کا پڑ ھا ہو اخطبہ سب کی طر ف سے ہو جا تا ہے کسی کو خطیب کی آ واز سنا ئی دے یا نہ دے ، اگر کوئی شخص جمعہ میں اس وقت آ کر شر یک ہوا جب خطبہ ختم ہو چکا تھا تو اس کی طرف سے بھی خطبہ ہو گیا ، پھر میں نے ان غیر مقلدین سے پو چھا کہ جب تم جمعہ پڑ ھ کر مسجد سے نکلتے ہو تو کیا آپ یہ شو ر مچا تے ہو کہ آج ہم بغیر خطبہ کے جمعہ پڑ ھ کر آ ئے ہیں یا یہ کہتے ہو کہ ہم خطبہ والا جمعہ پڑ ھ کر آئے ہیں ، جو خطبہ خطیبب صاحب نے پڑ ھا وہ ہما ری طرف سے بھی ہو گیا اسی طرح کبھی ہم نے شو ر مچا یا کہ ہم فاتحہ اور سورة کے بغیر نماز پڑ ھ کر آئے ہیں بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ جو کچھ امام نے پڑ ھا ہے وہ ہما ری طرف سے بھی ادا ہو گیا ، جس طرح ہما راجمعہ خطبے وا لا ہے ، اسی طرح ہما ری نماز بھی فا تحہ والی ہے ، لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ قرات کے بغیر نماز نہیں ہو تی لیکن امام کی قر ات سب کی طر ف سے ہو جا تی ہے ، فر ما ن رسول ہے کہ من کا ن لہ امام فقرا ة الا ما م لہ قر اة جو امام کے سا تھ نماز پڑ ھے امام کی قرات سب کی طر ف سے ہوتی ہے۔

رو پڑ ی سے منا ظرہ :

حا فظ عبدا لقا در رو پڑ ی کہنے لگے یہا ں قر ات کا لفظ ہے ، لیکن فارتحہ کو قر ات نہیں کہتے میں نے کہا کس کو قرات کہتے ہیں ؟کہنے لگا با قی سورتوں کو قرات کہتے ہیں فا تحہ کو قرات نہیں کہتے ۔

سا ت احا دیث :

میں نے اس وقت سا ت احا دیث پڑ ھیں اب صر ف دو پڑ ھو ں گا ۔

۱--حضرت انس فرماتے ہیں ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم وابا بکر وعمر وعثما ن کا نوا یفتتحو ن القرات با لحمد للہ رب العلمین ،

حضرت انس فر ماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب امام بنتے تو قرات فاتحہ سے شروع کر تے ، اللہ کے نبی فا تحہ کو قر ات کہہ رہے ہیں لیکن غیر مقلدین فاتحہ کو قرات نہیں ما نتے اب آپ کس کی ما نیں گے ۔لو گوں نے کہا اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔

ابو بکر صدیق کا عمل :

حضو ر نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابو بکر صد یق ؓاما م بنے انہوں نے بھی امام بن کر قرات فا تحہ سے شروع کی اب حضرت ابو بکر صدیق فا تحہ کو قر ات کہہ رہے ہیں لیکن میر ا غیر مقلد دوست فاتحہ کو قر ات نہیں سمجھتا آپ کس کی ما نیں گے ؟لوگوں نے کہا حضرت ابو بکر صد یق کی ۔

حضرت عمر ؓ کا عمل :

حضرت ابو بکر ؓ کے بعد حضرت عمر فاروق امام بنے ، وہ حضرت عمر ؓ جن کے بارے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د ہے کہ لوکان بعدی نبیالکان عمر اگر میرے بعد نبوت جاری رہتی تو حضرت عمر کو اللہ تعالی نبو ت عطا فرماتے ۔

شیطا ن اور حضرت عمر ؓ ایک را ستہ میں جمع نہیں ہو سکتے :

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس راستہ پر حضرت عمر ؓ چلیں شیطا ن اس را ستہ کو چھوڑ کر بھاگ جا تا ہے حضرت عمر ؓ نے تین طلا ق والے راستے پر قد م رکھا کبھی آپ نے دیکھا کہ غیر مقلد اس را ستہ پر آیا ہوا حضرت عمر ؓ نے بیس تروا یح کے مسئلہ میں قد م رکھا ، کبھی غیرمقلد ین کو اس راستہ پر آ تے دیکھا ؟اب حضرت عمر ؓ نے امام بن کر قرات فاتحہ سے شروع کی اور یہ بتلا دیا کہ فاتحہ قرات ہے لیکن غیر مقلدکہتا ہے کہ فاتحہ قرات نہیں ہم کس کی مانیں ؟سا معین نے کہا کہ حضرت فاروق اعظم کی ۔

حضرت عثما ن غنی کا عمل :

حضرت عمر ؓ کے بعد حضرت عثما ن امام بنے وہ عثما ن جن کے بارے میں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشا د فر ما یا کہ عثما ن سے آ سما ن کے فر شتے بھی حیا کر تے ہیں اب ہم ان کا عمل نقل کرتے ہیں شا ید کہ ان کو بھی حیا آ جا ئے ، حضرت عثما ن نے قر ات فاتحہ سے شر وع کی اور یہ بتلا دیا کہ فاتحہ قرات ہے ، لیکن غیر مقلد کہتا ہے کہ فاتحہ قرات نہیں ہمیں کس کی ما ننی چاہیے ؟حضرت عثما ن کی نہ کہ غیر مقلدین کی ۔

دوسری حدیث :

حضرت ابو ھر یرہ فرما تے ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھے فرمایا ۔ اخر ج فنا د فی طرق المد ینہ انہ لاصلو ٰة الا بقراة ولو بفا تحة الکتا ب فما زاد (ابو دا ود)۔جا مد نیہ کی گلیو ں میں اعلا ن کرو کہ قر ات کے بغیر نما ز نہیں ہو تی (ہا ں یہ بھی بتلا قرات کیا ہے ) فا تحہ اور کو ئی دو سری سورت ۔

حضور ﷺ کا فیصلہ :

حضور نبی کریم ﷺ فاتحہ کو قرات فرمارہے ہیں اور مدینہ کی گلی گلی اعلا ن کر وایا لیکن غیر مقلد کہتا ہے کہ فا تحہ قرات نہیں اور پا کستا ن کے شہر شہر اس کا اعلا ن کر رہا ہے اب ہم تو حضور نبی کریم ﷺ کی مانیں گے ، غیر مقلدین کی ہر گز نہیں ما نیں گے، جس طر ح میں نے یہا ں صرف دو حدیثں پڑ ھیں وہا ں میں سا ت حدیثں پڑ ھی تھیں اور پھر میں نے رو پڑ ی صاحب سے کہا کہ آپ صرف ایک حدیث پڑ ھیں جس میں یہ ہوکہ فاتحہ قرات نہیں بلکہ اس سے اگلی سورتیں قر ات ہیں ۔

چیلنج :

میں نے کہا اگر آپ ایسی حد یث پیش فر مادیں تو میں اس حدیث کے پہلے روای سے لے کر آخر ی حدیث تک فی حر ف سو ر روپے انعام دوں گا ، لیکن رو پڑ ی صاحب سے چا ر دفعہ آ منا سا منا ہوا لیکن آج تک وہ یہ روایت پیش نہیں کر سکے ، اب بھی اگر کسی دوست کے پا س ایسی حدیث ہو تو وہ لکھ کر انعا م حا صل کر سکتا ہے اس لیے جب بھی رو پڑ ی صاحب ملتے ہیں تو مجھے یہی کہنا پڑ تا ہے ۔

ما نا کہ تم حسین ہو لیکن دل کے سخی نہیں

عا شق کے ایک سوال کو پورا نہ کر سکے

نا م اہل حدیث ہے لیکن آ ج تک ایک حدیث کا مطا لبہ بھی پورا نہیں کر سکے ۔

لطیفہ :

ایک غیر مقلد کہنے لگا کہ جی آ پ ہر با ت پر حدیث ما نگتے ہیں ، میں نے کہا نام اہل حدیث ہے تو مجھے حدیث ہی ما نگنی پڑ تی ہے ، میں اس جوا ن سے کہا کہ جس نے تجھے یہ اشتہا ر دیا ہے اس پر لکھا ہوا تھا کہ یہ دکھا ئیں کہ امام کے پیچھے فاتحہ پڑ ھنا منع ہے تو تین لا کھ انعا م ، میں نے کہا ہما را مسئلہ پور ے قرآن کا ہے ، جس طرح حدیث میں آ تا ہے کہ حا ئضہ عورت قرآن نہ پڑ ھے ،اب آپ بھی ان سے کہیں فا تحہ کا لفظ دکھلا کہ حا ئضہ کے لئے فاتحہ پڑ ھنا منع ہے تو ہم انشاء اللہ پا نچ لا کھ انعام دیں گے حدیث میں تو صرف یہ ہے کہ حائضہ عورت قرآن نہ پڑ ھے تو اس سے فاتحہ کا پڑ ھنا بھی منع ہو گیا ، میں نے کہا آپ اس سے یہ کہیں کہ یا ر فاتحہ تو چھو ٹی سورت ہے اس کی صرف سا ت آیا ت ہیں اس کے حر ف بھی تھو ڑ ے ہیں اگر دس رو پے فی حر ف کاحسا ب لگا ئیں تو معمولی رقم بنے گی ،لیکن سورہ بقرہ قرآ ن کی سب سے بڑ ی سورت ہے اگر آ پ یہ دکھا دیں کہ اما م کے پیچھے سورة بقر ة پڑ ھنی منع ہے تو میں آپ کو فی حر ف ہز اررو پے انعام دوں گا ، میں نے اس جوا ن سے کہا کہ ہما رے دوست لوگوں کو اس قسم کا دھو کہ دیتے ہیں ، وہ جو ان کہنے لگا مجھے با ت سمجھ میں آ گئی ، میں ان سے با ت کروں گا ، چند دنو ں کے بعدوہ چھ سا تھیوں سمیت آیا کہ حضرت ان کا عقیدہ غلط تھا میں نے درست کر وا دیا ہے ، میں نے کہا جز ا کم اللہ ،

دو سرا سوال :

اس جو ان نے حضرت کو ایک کتا ب پیش کی اس میں قر ات کی چا ر سو دلیلیں ہیں،

جواب : حضرت نے فرما یا کہ ان کی حقیقت یہ ہے کہ یہ کتا ب القر ات بیہقی سے لی گئی ہے وہا ں جو با تیں صفحہ ۸۷ تک تھیں اس نے اپنی با توں کو نمبر ۵ ۱ ۲د ے کر نقل کر دیا ہے پھر اس کے بعد آ گے امام بہیقی نے با ب با ند ھا ہے کہ ان لوگوں کے دلا ئل جو جہر ی نماز وں میں امام کے پیچھے قرات کو واجب نہیں کہتے ، اب اسی کتا ب میں ہے حضرت مجا ہد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قاری کی قرات نماز میں سنی تو اس وقت یہ آیت نا زل ہو ئی واذا قری القرآن فا ستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمو ن ،

اور اسی کتاب میں پچیس کے قر یب اسی قسم کی روایا ت در ج ہیں جن میں یہ بتلا یا گیا تھا کہ اما م کے پیچھے پڑ ھنے کی حدیثں پہلے کی ہیں اوریہ آ یت بعد میں نا زل ہوئی جس طرح اس غیر مقلد نے کتا ب القر ات بیقہی کے شروع حصہ کو بیا ن کیا ہے آخر کا جو حصہ جس میں آ یا ت قرآنیہ ہیں ان کو اس نے چھوڑ دیا ہے تو کیا یہ انصا ف ہے

عیسا ئیوں والا طریقہ :

اگر غیر مقلدین کی طرح کوئی عیسا ئی کتا ب لکھے بے شما ر احا دیث میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ اور ان کے صحا بہ کرام بیت القد س کو منہ کر کے نماز پڑ ھتے تھے اور جو بعد میں آیت نا زل ہو ئی فول وجھک شطر المسجد الحرام اس کو بیا ن نہ کرے اور اس طرح بعد والی احا دیث کو بیا ن نہ کرے ،تو اس کو آپ دھو کہ کہیں گے یا تبلیغ دین کہیں گے ، دھو کہ کہیں گے اس طرح اگر کوئی نماز میں باتیں کر نے والی احا دیث شا ئع کر دے لیکن جو آیت وقو موا للہ قا نتین بعد میں نا زل ہو ئی اس کو بیان نہ کر ے اور وہ احا دیث جن میں آپ ﷺ نے باتوں سے منع فر ما دیا ان کو بیا ن نہ کرے آپ اس کو تبلیغ دین کہیں گے یادھو کہ کہیں گے؟دھو کہ کہیں گے ۔

متعہ خا نہ :

اگر آپ نے اسی کتا ب کو تقسیم کر نا ہے کہ اپنی مسا جد کے سا تھ متعہ خا نہ بھی بنوا لیں تاکہ لوگو ں کو معلو م ہو جا ئے کہ یہ پہلے زما نہ کی احا دیث عمل پر کرتے ہیں ،

شراب خا نہ :

اگر آپ نے یہی کتا ب تقسیم کر نی تو اپنی مسا جد کے سا تھ شرا ب خا نہ بھی کھو ل لو تاکہ پتہ چلے کہ آپ پہلے زما نے کی احا دیث پر عمل کرتے ہیں کیو نکہ بخا ری میں حضرت حمز ہ کے شرا ب پینے کا واقعہ موجو د ہے ۔

مسجد کا محرا ب :

اگر آپ نے یہی کتا ب تقسیم کر نی ہے تو اپنی مسجد کے محراب بیت القد س کی طرف کو لو ٹا کہ لوگوں کو معلو م ہو کہ یہ لوگ پہلے زمانہ کی احا دیث پر عمل کرتے ہیں ۔

ہم آخر ی عمل کو لیتے ہیں :

میں آپ سے پو چھتا ہوں کہ آپ پہلے زما نہ کی احا دیث پر عمل کر یں گے یا آخری زما نہ کی احا دیث پر ، سا معین نے کہا آخر ی زما نہ کی احا دیث پر لیکن غیر مقلدین نے کیا کہا کہ بہقی کے صفحہ ۸ ۷ تک جو باتیں تھیں ان کو ۵ ۱ ۲ نمبر دے کر نقل کیا کر دیا کیا اس کے بعد یہ کتا ب ختم ہو گئی حا لا نکہ اس کتا ب کے کل صفحے ۶ ۸ ۱ہیں ۸ ۷ کے بعد ایک سو آٹھ صفحے بیکا ر تھے ان کو نقل نہیں کیا ۔

ایک سوال :

میں آپ سے پو چھتا ہوں کہ آپ نے کبھی ایسا دھو کہ با ز آ دمی دیکھا ہے؟ میں نے تو آج تک نہیں دیکھا ، انہوں نے وہ دو نوں کتا بیں اس جوان کو دی تھیں کہ یہ ان پڑ ھ ہے انہیں کیا پتہ تھا کہ یہ امین اوکا ڑوی کے پاس لے کر جا ئے گا ، اب وہ یہ کتا ب لے کر ان کے پیچھے پھرتا ہے کہ بتا ئیں القرات للبہیقی صحیح کتا ب ہے یا غلط ؟وہ کہتے ہیں صحیح وہ کہتا ہے کہ صفحہ ۸ ۷ کے بعد بھی کتاب صحیح ہے یا نہیں اب وہ اس پر خا مو ش ہیں ۔

مسئلہ قرات خلف الا ما م :

مسئلہ قر ات خلف الا ما م میں ہما رے پاس قر آن ہے اور حدیث رسول ہے اور اجماع صحا بہ ہے لیکن غیر مقلددوں کے پاس سوا ئے دھو کہ کے اور کچھ نہیں ۔

تیسرا سوال :

تقلید کے لغو ی معنی کیا ہیں ؟نیز اند ھی تقلید کر نا درست ہے یا نہیں اور فقہ کی کتب میں جو تقلید کا معنی لکھاہے وہ درست ہے یا نہیں ؟

جواب : میں اس پر صرف یہ کہتا ہوں کہ فقہ کی کسی کتاب میں اند ھا دھند کا لفظ نہیں ہے لعنة اللہ علی الکاذبین ، اگر وہ اپنی با ت میں سچا ہے تو ابھی کسی کتا ب کا صفحہ نمبر لکھ کر روانہ کر ے اگر یہ آ دمی حوالہ لکھ کر نہ بھیجے توآپ اس کو جھو ٹا سمجھیں گے یا نہیں ؟جھوٹا سمجھیں گے ۔

چو تھا سوال :

حدیث میں صحیح سند سے لا صلو ٰة لمن لم یقر ا بفاتحة الکتا ب فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی اس میں باجما عت نماز کا حکم بھی شا مل ہے ۔

جواب : با جما عت نماز کا حکم اس نے خو د شا مل کیا ہے ، حضور نبی کریم ﷺ نے نہیں کیا پھرہمارا ان سے جھگڑا یہی ہے کہ ہم کہتے ہیں حدیث پو ری ما نو یہ کہتے ہیں ہم ادھو ری مانیں گے آ پ کا خیا ل ہے پوری ما ننی چا ہیے یا ادھوری ؟(پو ری)پو ری حدیث اسی کتاب القرات للبہیقی میں کئی جگہ آئی ہے لا صلو ٰة لمن لم یقر ا بفا تحہ الکتاب فصاعدا ، اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورت فاتحہ اور قر آن کا کچھ حصہ اور نہ پڑ ھے بعض روایات میں وما تیسر کے الفاظ ہیں بعض روایا ت میں فما زاد کے الفا ظ ہیں یہ آ دھی حدیث پڑ ھ کر اس کا تر جمہ اپنی طر ف سے اس طرح کرتے ہیں کہ کسی کی نماز نہیں ہوتی خو اہ امام ہو یا مقتد ی یا منفرد خواہ فرض نماز ہو یا نفل جمعہ کی نماز ہو یا عید ین کی جو فاتحہ نہیں پڑ ھتا ہم کہتے ہیں کہ حدیث پو ری پڑ ھو پھر یہی تر جمہ کرو کہ کسی کی نماز نہیں ہوتی خوا ہ امام ہو یا مقتدی جو فاتحہ اور اس کے سا تھ کچھ ا ور قرآن نہیں پڑ ھتا اگر یہ تر جمہ کریں تو یہ خو د بھی بے نماز ی بن جائےں گے کیو نکہ ان کے مقتدی بھی فاتحة کے بعد اور کچھ نہیں پڑ ھتے اب انصاف سے بتا ئیں کہ جو پو ری حدیث اس کو یہ اہل الر ائے کہتے ہیں اور جو آ دھی حدیث مانے اس کو یہ اہل حدیث کہتے ہیں کیا یہ درست ہے ؟

ایک منا ظرہ :

ایک منا ظر ہ میں جب یہی حدیث پڑ ھی گئی ، تو فصا عدا کا لفظ چھو ڑ دیا ، میں نے اس لفظ پر نشا ن لگا یا کہ حضرت آپ نے نبی کریم ﷺ کا یہ ارشا د کیوں چھو ڑ ا ؟کہنے لگاایک ہی لفظ چھو ڑا ہے میں نے کہا اس ایک لفظ میں ایک سو تیرہ سورتوں کا حکم ہے اور تو نے ایک صد تیر ہ سورتوں کا حکم چھوڑدیا ہے ۔

پانچواں سوال :

گو جرا نو الہ اور فیصل آبا د کی عدالت میں آپ مسئلہ رفع الید ین پر شکست کھا چکے ہیں ؟

جواب : جھو ٹ بو لنا ان کی قسمت میں لکھا ہوا ہے فیصل آبا د کے جج نے جو فیصلہ کیا وہ یہ ہے کہ جو حدث حنفیوں نے پیش کی وہ حدیث صحیح ہے جو لو گ یہ کہتے پھرہیں رہے کہ حنفیوں کی نماز نہیں ہوتی وہ ملک میں فتنہ ڈال رہے ہیں عوام کو بھی ان کی حو صلہ شکنی کر نی چا ہیے اور حکو مت کو بھی ان پر نظر رکھنا چا ہیے ،کیا اس میں میری شکست ہے یا ان کی شکست ہے ؟ان کی شکست ہے ۔

دوسرا جھو ٹ :

مسئلہ رفع الید ین کے بارے میں کبھی کسی عدالت میں میں نہیں گیا ، غیر مقلدین نے سیا لکو ٹ کی عدالت میں خو د سے ایک مقد مہ کیا پچا س ہز ار کا مکا ن فروخت کر کے اس پر لگا دیا اور پا نچ سال تک وہ مقد مہ یہ خود ہی لڑ تے ہیں ، اصولی بات یہ ہے کہ یک طرفہ فیصلہ سب پر حجت نہیں ہوتا لیکن اللہ کی لا ٹھی بے آ واز ہے ۔

جسٹس مسعود الر حمن کا فیصلہ :

سیالکوٹ کے جج نے لکھا کہ زیر بحث مسئلہ رفع الید ین ہے جس کا فیصلہ صدیو ں پہلے ہو چکا ہے ، اہل سنت کی چار ہی جما عتیں ہیں حنفی شا فعی ما لکی ، حنبلی جن میں شا فعی اور حنبلی رفع ید ین کرتے ہیں اور حنفی اور ما لکی نہیں کرتے ، یہ فیصلہ لے کر میں نے سب سے پہلے تقریر سیالکو ٹ میں کی اور میں نے کہا کہ مقد مہ پر پچا س ہز ار کا مکا ن بھی خرچ کیااور جج صاحب نے تمہیں اہل سنت سے خا رج کر دیا کیونکہ جج نے کہا کہ سنی صرف چار جما عتیں ہیں۔ حنفی ، شافعی ،مالکی، حنبلی ، اب اگرتم اپنے آپ کو سنی کہو گے توتم پر تو ہین عدالت کا کیس بن جائے گا،

ہما ری نماز سنت کے مطا بق ہے ۔

جج نے یہ بھی فیصلہ کر دیا کہ حنفی ، ما لکی ، سنی ہیں ، جو نماز ہم بغیر رفع الید ین کے پڑھتے ہیں وہ سنت کے مطا بق ہے ، یہ فیصلہ غیر مقلدین کے خلاف ہوا یا ہما رے خلاف ہوا؟ان کے خلاف ہوا ،

غیر مقلدین کے سر پر جج کا جوتا :

اس کے بعد جج صاحب لکھتے ہیں میں اپنے آپ میں ایسے مسائل کے فیصلہ کر نے کی قو ت نہیں پا تا کیو نکہ اس کے لیے اجتہا دی قوت کی ضرورت ہے جو میرے پاس نہیں ہے ، خود جج صاحب نے مجتہد ین کی تقلید کی طرف متو جہ کر دیا کہ مجتہد ین کی تقلید کرو میرے فیصلے کی طرف نہ آ جب جج صاحب نے مجتہد کی تقلید کی طرف متو جہ کیا تو فیصلہ ان کے حق میں ہوا یا ہما رے حق میں؟ہما رے حق میں ۔

چھٹا سوال :

اما م محمد او رامام یو سف مسئلہ رفع الید ین میں اپنے امام ابو حنیفہ سے کیوں اختلاف کر تے ہیں ؟

جوا ب : امام محمد اور امام ابو یوسف نے مسئلہ رفع الید ین میں ہمارے امام سے قطعا کوئی اختلاف نہیں کیا ، اس کے سا تھ یہ بھی فرض ہے کہ میں نے ان سے ایک آیت یا ایک صحیح حدیث کا مطا لبہ کیا تھا کہ جس میں یہ ہو کہ امام کے پیچھے قرآن کی ایک سوتیرہ سورتیں پڑھنا منع ہے ، صرف سورت فاتحہ فرض ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی لیکن اس کا جواب ابھی تک نہیں آیا اور نہ اس بات کاجواب آیا ہے مدینہ میں ابن عمر کو مکہ میں ابن عبا س کو کو فہ میں ابن مسعو د کو بصرہ میں ابن مغفل کو کسی نے کہا ہو کہ تم نے اس آیت کا مطلب غلط بیا ن کیا ہے ۔

سا تواں سوال :

جناز ہ کا طریقہ امام ابوحنیفہ ؒ نے جو بیا ن کیا ہے اور جو احا دیث میں ہے وہ مختلف ہے ۔

جوا ب لعنة اللہ علی لکا ذبین اگر صاحب رقعہ نے اپنی ماں کا حلا ل دودھ پیا ہے وہ لکھ کر بھیجے کہ امام ابو حنیفہ ؒ نے جنا زہ کا کو ن سا طریقہ لکھا ہے اورحد یث میں کو ن سا ہے؟ مظفر گڑ ھ کے علا قے میں آ ٹھ گھنٹے بعد لکھ کر بھیجا کہ ہم اپنے جنا زہ کی پو ری تر بیت حدیث سے نہیں دکھا سکتے اب بھی اگر کسی ماں کے لا ل میں یہ ہمت ہے تو جنا زہ کا مکمل طریقہ پہلی تکبیر سے سلا م تک دکھا دے اور ابھی لکھ کر روانہ کر ے کیو نکہ ان کا جنا زہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعا ثا بت نہیں قطعا ثا بت نہیں ۔

آ ٹھو ں سوال :

کسی حدیث کوپر کھنے کا کیا معیا ر ہے ؟

جواب : جو لوگ اپنے کو غیر مقلدکہتے ہیں ان کے نز دیک دلیلیں صرف دو ہیں ۔

۱-- کتا ب اللہ

۲--حدیث ر سول اللہ

ان سے ہمارا مطا لبہ ہے کہ وہ جس حدیث کو صحیح کہیں تو اس کا صحیح ہو نا اللہ سے ثابت کر یں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثا بت کریں اور جس حدیث کو ضعیف کہیں یا اللہ تعالی سے ضعیف کہلا ئیں یا حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم سے ضعیف کہلائیں اگر حدیث کا ضعیف یا صحت ثا بت کر نے کے لیے کسی امتی کا قول لیا تو پہلے لکھ کر دینا ہو گا کہ میں اہل حدیث نہیں رہا ، ہم اہل سنت چا ر دلیلیں ما نتے ہیں اور اس پر ہم مطمئن ہیں

۱--کتا ب اللہ

۲--حدیث رسول اللہ

۳--اجما ع امت

۴--قیاس شر عی ،

اس کو میں مثا ل سے سجھاتاہو ں ۔

مثا ل : نماز میں سارے لوگ رکوع کر تے ہیں رکو ع کر نے کا حکم قر آ ن میں ہے ارشا د ربانی ہے وار کعوا مع الر اکعین ۔

جب آپ حضرات رکوع کر تے ہیں تو رکو ع کو جا تے ہو ئے اللہ اکبر کہتے ہیں پھر رکو ع میں سبحان ربی العظیم پڑ ھتے ہیں اور رکوع سے اٹھتے ہو ئے سمع اللہ لمن حمدہ کہتے ہیں یہ با تیں قرآن میں نہیں ہیں بلکہ حدیث میں ہیں ۔

اہل قرآن کا جھو ٹا دعو یٰ :

جو شخص یہ دعو یٰ کر ے میں ہر مسئلہ قرآن سے ثا بت کر سکتا ہوں وہ اس جگہ جھو ٹا ہوگا یا نہیں ؟پھر رکوع کی تکبیر آپ نے آ ہستہ کہی اور تسبیح پڑ ھی سمع اللہ لمن حمدہ آ ہستہ پڑ ھنے کی قرآن میں کو ئی دلیل نہیں لیکن یہ اجما ع سے ثابت ہے ۔

قیا س شر عی :

قیا س کی ضرورت نئے پیش آمد ہ مسائل میں ہو تی ہے (مثلا ) رکوع میں آپ نے سبحان ربی العظیم پڑ ھنا تھا لیکن بھو ل کر سبحا ن ربی الا علی پڑ ھ لیا تو کوئی ما ں کا لا ل مجھے حدیث لکھ کربھیجے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرمایا نماز ہو تی ہے یا نہیں قیا مت تک یہ مسئلہ حدیث سے نہیں دکھا سکتے دیکھیں اس جگہ ہم نے امام کی تقلید کی ۔

چا ر مسئلے :

مسئلے چا رتھے پہلا مسئلہ ہم نے قرآن سے لیا دوسرا مسئلہ ہم نے سنت سے لیا اس لیے ہم اہل سنت کہلا تے ہیں تیسرا مسئلہ ہم نے اجما ع سے لیا اس لیے ہم اپنے آپ کو والجماعت کہلا تے ہیںچو تھا مسئلہ ہم نے امام سے لیا اس لیے ہم حنفی کہلا تے ہیں ۔

اہل قرآن اہل حدیث بھا ئی بھا ئی :

غیر مقلدین کے بڑے بھا ئی اہل قرآن کہتے ہیں کہ حدیث قرآن کے خلاف ہے میں پو چھتا ہوں کہ رکوع میں تکبیر کہنا تسبیح پڑ ھنا خلاف ہے یا قرآن ہے یا قرآن سے زاہد با ت ہے (کیو نکہ زاہد اور خلاف میں فرق ہوتا ہے )جواب ملازائد ہے خلا ف نہیں اسی طرح اجماع والی بات کہ تکبیر آ ہستہ کہنا وغیرہ یہ سنت کے خلاف ہے یا زائد ہے ( سا معین نے کہا زائد ہے ) جس طرح اہل قرآ ن حدیث کے زید مسا ئل کے بارے میں جھوٹا پر و پیگند ہ کرتے ہیں کہ یہ قرآن کے خلاف ہیں اس طرح ان کے چھو ٹے بھا ئی اجماع اور قیا س سے ثا بت زا ئد مسائل کے بارے میں جھو ٹا پر وپیگنڈہ کر تے ہیں کہ فقہ قرآن وحدیث کے خلا ف ہے ۔

حدیث پر کھنے کا ہما را معیا ر :

ہم نے چا روں دلیلو ں کو ما نا اس لئے حدیث پر کھنے کا ہما را معیا ر یہ ہے کہ جس حدیث کو چاروں اماموں نے مان لیا اور عمل کیا تو وہ حدیث اجماعا صحیح ہے اور جس عمل کے بارے میں ائمہ میں اختلا ف پا یا گیا تو ہم نے اس حدیث کو صحیح ما نا جس پر ہما را مجتہد کا عمل ہے ، کیو نکہ ہما رے اصول میں یہ لکھا ہے کہ مجتہد کا عمل حدیث کے صحیح ہو نے کی دلیل ہو تا ہے میں نے معیا ر بتلا دیا ہے ہم انشا اللہ اپنے معیا ر پرپکے ہیں لیکن غیر مقلدین اپنے معیا ر پر ایک حدیث کا ضعیف یا صحیح ہو نا ثا بت نہیں کر سکتے ، غیر مقلد ین اس وقت تک حدیث کو نہیں پڑ ھ سکتے جب تک اپنے اہل حدیث ہو نے کا انکار نہ کریں اور کسی نہ کسی امتی کےسا منے سجد نہ کریں اس لئے میں کہا کرتا ہو ں کہ اگر حجر پر ستی شر ک ہے تو ابن حجرپر ستی بھی شر ک ہے ایمان نہیں ہے ۔

نوا ں سو ال :

وضاحت کریں کہ حر مین کے ائمہ کا کیا مسلک ہے ؟

جواب : میں پو چھتا ہوں کہ مکہ اور مدینہ سوسال سے بنا ہے یا دوسو سال سے ؟ سا معین نے کہا چو دہ سو سال سے ) حضرت نے فرمایا عباسی حکو مت پا نچ صد سال رہی ہے اس وقت مکہ مدینہ مکہ تھا یا نہیں ( لو گوں نے کہا تھا ) کتب تا ریخ اٹھا کر دیکھو لکھا ہے پو رے پا نچ صد سا ل تما م قا ضی اور ائمہ حنفی ہو تے تھے اس کے بعد دو صد سال تک سلجو قی حکو مت رہی ان کے دور حکو مت میں سا رے مفتی وقاضی حنفی تھے البتہ انہوں نے حر م کے اند ر چاروں ائمہ کے مصلی رکھے حنفی شا فعی ما لکی حنبلی چا ر مصلے تھے غیر مقلد وں کا کو ئی مصلی نہیں تھا ۔

ایک لا کھ انعام :

عبا سی دور حکو مت کے پا نچ صد سا لوں میں کو ئی غیر مقلد کسی ایک نماز کا امام بنا ہو تو پیش کر یں فی حو الہ لا کھ رو پے انعام دیا جائےگا کیا اس وقت مکہ مکہ نہیں تھا مد ینہ منو رہ مدینہ نہیں تھا،سامعین نے کہا تھا۔

سلجو قی دور :

سلجوقی دور حکو مت کے دوصد سا ل میں ایک دن کسی غیر مقلد کا مصلی بچھا ہو حوا لہ پیش کر یں فی حو الہ د س لا کھ رو پے انعا م دو ں گا ،

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے

یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

اب حوا لہ کا مطا لبہ کر رہا ہوں لیکن پیش نہیں کرسکتے اگر یہ اپنے بڑو ں کی قبر یں بھی اکھا ڑ کر لے آ ئیں تو بھی پیش نہیں کر سکتے ۔

خوارز می حکو مت :

سلجو قیوں کے بعد دو صد سا ل خوا رزمی حکمرا ن رہے وہ سب کے سب حنفی تھے خوا ر زمی دو ر کے دو سو سال میں صرف ایک نماز مکہ مد ینہ میں کسی غیر مقلد نہیں پڑ ھا ئی ہو فی حوا لہ دس لا کھ رو پے انعا م دوں گا ۔

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے

یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

یہ لوگ مجھے گا لیا ں تو دے سکتے ہیں لیکن حوا لہ پیش نہیں کر سکتے ۔

عثما نی دور حکو مت :

خوا ر زمی دور کے بعد چار سو سال تک تر کی حکو مت رہی ان کے دور کے بھی چار ہی مصلے تھے کسی غیر مقلد نے کبھی کوئی نماز نہ مکہ میں پڑ ھا ئی اور نہ مد ینہ میں ۰ ۰ ۵ سا ل +۰ ۰ ۲=۰ ۰ ۷+۰ ۰ ۲سال =۰ ۰ ۹+۰ ۵ ۴=۰ ۵ ۳ ۱سال ہو ئے اس وقت مکہ مکہ تھا یا نہیں ؟ مد ینہ منو رہ مد ینہ تھا یا نہیں ؟

ایک احمق کی بات :

ایک غیر مقلد کہنے لگے اللہ کا شکر ہے کہ چا ر مصلے تھے اب صرف ایک مصلی رہ گیا ہے میں نے اس سے کہا پانچواں مصلی اس وقت بھی نہیں تھا ور اب ایک ہے تمہارا اب بھی نہیں ہے اس پر بیس تروایح پڑ ھا ئی جا رہی ہیں وہ لوگ حنبلی ہیں امام احمد بن حنبل کے مقلد ہیں یہاں ہمارے دوست یہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے سا تھی ہیں انہوں نے طلا قہ ثلا ثہ کے بارے میں وہاں کہا من طلق امراتہ بفم واحد ثلا ثاایک دفعہ کہا تجھے تین طلا ق تو پھر تین ہی واقع ہوں گی یہاں کتنے حا جی صا حبا ن یہاں بیٹھے ہیں وہا ں جب جنا ز ے ہو تے ہیں وہاں ا ن کی طر ح ہوتا ہے یا ہماری طرح کسی نے اونچی آ واز میں پڑ ھاوہاں تھوڑے سے وقت میں ہوتاہے یا اتنا لمبا ہوتا ہے تھو ڑے وقت میں وہاں سے آ ج تک یہ فتو یٰ شا ئع ہوا کہ حنفی نماز غلط ہے مکہ میں نہیں پڑ ھنے دیں گے یہ جو یہاں کہتے ہیں حنفی نما ز غلط ہے ان کا ان کے سا تھ کیا تعلق ہے اس لئے یہ جو کہتے ہیں ان کا مسلک کیا ہے تو میں نے بتا یا سا ڑے تیر ہ سو سال حنفی لو گوں کی حکو مت رہی ۔

ایک اہم با ت :

خلافت راشدہ کتنا عر صہ رہی تیس سال خلافت راشدہ کا مقصد کیا تھا اسلا می قانون دینا میں قا ئم ہویہ مقصد پورا نہیں ہوا میں یہ کہتا ہوں سا ڑ ھے تیر ہ سو سال فقہ حنفی قائم رہی تو خلافت راشد ہ کی واحد فقہ یہی نکلی کو ئی ما ں کا لا ل مجھے یہ بتا ئے مکہ میں کبھی کسی غیر مقلد کو قاضی کا چپڑا سی بنا یا ہو ایک ہمیں دکھا یاجا ئے کیو ں بھئی قا نون کا نصا ب اتنا عر صہ میں رہا نہیں رہا کس شکل میں رہافقہ حنفی کی صورت میں اور مقصود یہ تھا لیمکنن لہم دینھم الذی ار تضی لہم دین کی تمکین ہو ئی سا ری دنیا میں صحا بہ کے ذ ر یعے اس کی صر ف ایک فقہ خلافت راشد ہ کی وار د کہلا ئی جا سکتی ہے یہ بھی ہمیں بتا ئیں ان کی کو ن سی کتا ب ہے جو فقہ میں شا مل رہی ہویا کوئی عقا ئد کی کتاب یا کسی اور چیز کی ۔

دسوا ں سوال :

رفع ید ین کی بحث میں جیسے پہلے میں نے عر ض کیا تھا کہ بات اتفاق سے چلتی ہے سجدوںمیں  یہ بھی رفع ید ین نہیں کرتے ہم بھی نہیں کر تے ہم پوچھتے ہیں سجد وںمیں کو ن سی حدیث رفع ید ین کی مما نعت پر آ ئی دوسری اور چو تھی رکعت کے شروع میں رفع ید ین نہیں کرتے ہم بھی نہیں کرتے ہم پو چھتے ہیں ا س اتفا قی منع کی کوئی دلیل دوتا کہ ہم اسی وزن کی دلیل قائم کریں دیکھو نہ ہمارا حو صلہ پیما نہ تم بنا دلیل ہم سے لو لیکن پیما نہ تم بنادو ہونا چا ہیے نا پیما نہ لیکن یہ کبھی اس بات پر نہیں آ ئیں گے ایک مجھے کہنے لگا جی پو ری

کتابیں بھری ہو ئی ہیں رفع یدین سے میں نے کہا جو رفع یدین آپ کر تے ہیں وہ کہیں بھی نہیں۔ یہ بات غور سے سننے والی ہے دیکھو ہم ایک جگہ رفع ید ین کر تے ہیں ا س کے بعد کسی جگہ نہیں کرتے جس طرح ہمارا کلمہ شریف لا الہ الا اللہ تو کلمہ پورا ہے یا صر ف لا الہ پو را کلمہ لا الہ الا اللہ جب تک نفی اثبا ت نہیں ہو ں گے کلمہ پو را ہو جائے گا نہیں ہم جو حدیث پڑ ھیں گے۔

حضرت عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ کو فے میں کو ن سا کو فہ جہاں ایک ہز ار پچاس صحا بہ اور ۳ ۸ہز ار تا بعین پہنچے تو جہاں اتنے صحا بہ اتنے تا بعین پہنچے ہو ں وہاں سنت کے خلاف دیکھیں تو وہ خا موش رہ سکتے تھے نہیں میں آپ کو کہوں اللہ اکبر کہہ کر سر پر ہا تھ باندھ لو آپ اعترا ض کر یں گے کیو نکہ میں نے سنت کے خلاف کہا ہے تو کیاآپ کا ایما ن تابعین اور ان صحا بہ سے زیا دہ ہے مضبو ط ہے ابن مسعو د نے فرمایا کہ اللہ کے رسول نے پہلی مر تبہ ہا تھ اٹھائے تھے پھر نہیں دیکھو اثبا ت بھی آ گیا نفی بھی آ گئی کلمہ لا الہ الا اللہ کی طرح پوری بات ا ٓ گئی دیکھو یہ کتنی مر تبہ کر تے ہیں چار رکعتو ں میں رکوع کتنے ہیں پھر تیسری رکعت کے شرع میں یہ کل دس مر تبہ ہو گیا ، اور کتنی جگہ نہیں کرتے ۴ رکعتوںمیں ۸ سجد ے ہیں ہر مر تبہ یہ نہیں کرتے ہیںتو یہ ۶ ۱ مر تبہ ہو گی دوسر ی اور چو تھی رکعت کے شروع میں نہیں کرتے ہیں یہ کل اٹھا رہ مرتبہ ہو گی تو یہ دس جگہ کر تے ہیں اٹھا رہ جگہ نہیں کرتے اب ان کی دلیل وہی حدیث ہو گی جس میں دس جگہ ہمیشہ کر نے کا حکم اور اٹھا رہ جگہ نہ کرنے کا ہو لیکن قیا مت تک ایسی حدیث پیش نہیں کر سکتے ، یہ دھو کہ دیتے ہیں کہ ایک شحص نے بخا ری شر یف کھول کر رکھی یہ ابن عمر کی روایت ہے میں نے کہا دکھو کتنی جگہ ہے تو جب گنا تو ۹ جگہ نبی بخاری شر یف میں تیسری رکعت والی نہیں تھی یعنی پہلی دو تین سندوں میں،میں نے کہا ایک سنت رہ جائے نماز سنت کے موافق ہو گی یا سنت کے خلاف ہو گی کہنے لگاخلاف سنت مین ننے کہا لعنتی ہو نے سے بچیں بہاولپور سے ایک پمفلٹ چھپا ہے ہم رفع ید ین کیو ں کرتے ہیں اس میں ہے کہ ایک سنت رہ جائے انسا ن لعنتی بن جا تا ہے میں نے کہا تیرے نز دیک ایسی نماز تو لعنت کاسبب ہے صحا ح ستہ والو ں نے جو سالم والی حدیث نقل کی ہے وہ( معاذ اللہ ) تیرے نزدیک اس طرح پڑ ھنے والے لعنتی ہیں تو وہ حدیث لا۔ جس طرح پڑ ھنے کے بعد تو لعنتی نہ رہے اور میں نے کہا ابھی تو میں نے اثبا ت پوچھا ہے اٹھا رہ جگہ کی نفی بھی بتا ئیں للکار رہا ہوں کہ کسی ما ں کے بچے کے پا س ایسی حدیث ہے سا ری عمر میں صر ف ایک نماز جو ہو بھی چار رکعتو ں والی اس میں دس فعہ کا اثبا ت ہو اٹھا رہ جگہ نفی ہو اور اگر کسی میں جر ات ہے تو لکھ کر بھیج دو تمہارے والی نماز تو اللہ کے نبی نے ایک مر تبہ بھی نہیں پڑ ھی اب بیہقی اٹھا لی ابوبکر صد یق پڑ ھتے تھے ہماری جیسی نما ز میں نے کہا شما رکرو شما ر کی تو نونکلی میں نے کہا نفی پیش کرو اس نے کہا وہ تو نہیں اب میں نے چار ورق آ گے الٹے کہ عبداللہ بن مسعو د فرماتے ہیں میں حضور ﷺ کے بعد ابو بکر صدیقؓ حضرت عمر ؓکے پیچھے نما ز پڑ ھتا رہا وہ صرف پہلی مر تبہ رفع یدین کر تے تھے ہم جو صدیق اکبر کی نماز پیش کر رہے ہیں ہماری نماز اس کے موافق ہے یا نہیں اور جو تم نے پیش کی اس کا صحیح ضعیف ہونا بعد کی بات ہے پہلے تو یہ ثابت نہیں جو تمہاری نماز ہے اس طرح پڑھنے والے کو تم خلاف سنت کہتے ہو لعنتی کہتے ہو تم ان کا نام لیتے ہو حضرت عمر ؓ کی حدیث پیش کر تے ہیں وہ صرف پہلی تکبیر میں رفع یدین کر تے تھے مصنف ابن ابی شیبہ طحاوی شریف اور یہ جو پیش کر تے ہیں اس کی سند صحیح نہیں اور اس میں بھی نہ دس جگہ کا اثبات ہے اور نہ اٹھارہ جگہ کی نفی تو میں کہتا ہوں پہلی جماعت کا بچہ بلالو پہلے وہ تمہیں گنتی یا دکر ادے میں تو ماسٹر ہو ں ناپہلی جماعت کا بچہ بلالو جب وہ کہہ دے گا اس میں دس کا کر نا اور اٹھا رہ جگہ کا نہ کر نا ہے پھر بحث ہو گی حدیث صحیح ہے یا نہیں اور اس کا مطلب کیا ہے جن کے پاس ہے ہی کچھ نہیں کبھی کہتے ہیں میں اعلان کر تا ہوں خلفاءراشدین عشرہ مبشرہ یا مہاجرین انصار کسی ایک سے ایسی نماز ثابت کر دیں جس میں دس جگہ اثبات اور اٹھارہ جگہ نفی ہو کبھی کہتے ہیں نہیں امام شافعی ایک ہے ابو حنیفہ ؒ ایک طرف ہے میں اعلا ن کر تا ہو ں اس مسئلہ میں ایک امام بھی تمہارے ساتھ نہیں کسی ایک امام نے دس جگہ رفع یدین کیا ہو اور اٹھارہ جگہ نفی کے ساتھ نماز پڑھ کر دکھائی ہو

نہ خنجراٹھے گا نہ تلوار ان سے

یہ باز میرے آزمائے ہوئے ہیں

گیارہواں سوال :

رفع یدین کے ساتھ نماز پڑھنا چاہئے یہ بخاری میں موجود ہے آپ بخاری شریف کی مخالفت کیوں کرتے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے تو کسی فقہ پر عمل کر یں گے یا وہ اہل حدیث ہو ں گے ۔

جو اب :

دیکھیں میں نے اتنا بتایابخاری شریف میں تمہاری حدیث ہے ہی نہیں دس جگہ کا اثبات اور اٹھارہ جگہ کی نفی اور دیکھیں یہ دھوکہ دینا چھوڑدیں ۔

کیا بخاری ہر جگہ مقدم ہے:

بخاری مسلم کی حدیث پہلے مانے باقی بعد میں بخاری مسلم میں جو تے پہنے کر نماز پڑھنے کی حدیث ہے ایک دن ایک نماز حضور ﷺ نے جو تے اتار کر پڑھی ہو بخاری مسلم کی حدیث پیش کر ولیکن ساری امت کا عمل جو تے اتارکر نماز پڑھنے کا ہے ۔یہ جو غیر مقلدین جوتے اتارکر نماز پڑھتے ہیں ان سے پو چھوبخاری مسلم کی مخالفت کیوں کرتے ہیں ؟بخاری مسلم بلکہ صحاح سة کی ہر کتاب میں ہے کہ حضرت نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ،پوری زندگی میں بخاری مسلم سے ایک حدیث پیش کر و کہ حضرت نے بیٹھ کر پیشاب کیا ہو تم مرد عورتیں بخاری مسلم کے خلاف کیوں عمل کر رہے ہو؟

بخاری مسلم بلکہ صحاح سة کی ہر کتاب میں حدیث ہے حضرت اپنی نو اسی کو اٹھا کر نماز پڑھتے تھے میں صاف لفظوں میں مطالبہ کر رہا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے زندگی کی ایک نماز کی ایک رکعت میں حضور ﷺ نے نو اسی کو اٹھائے بغیر نماز پڑھی ہو بخاری مسلم سے حوالہ پیش کر ے جب غیر مقلدنمازپڑھ رہا ہو دوبچے اٹھا کر سوار کر دیا کر و تو بخاری کی مخالفت کر رہاہے

بخاری مسلم میں حضرت ﷺ کے بارے میں ہے کان یباشروھو صائم کہ آپ مباشرت کر تے تھے اپنی ازواج مطہرات سے اس حال میں کہ آپ روزہ دار ہوتے ایک حدیث بخاری مسلم کی دکھادوکہ حضور ﷺ نے بغیر مباشرت کئے ہو ئے روزہ رکھا ہو تو اس قسم کے دھوکوں سے باز آجا باقی یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام فقہ پر عمل کر یں گے یا اہل حدیث ہو ں گے یہ دھو کے دیتے ہیں کہ عیسی علیہ السلا م فقہ کے منکر ہو ں گے ، قرآن میں جب فقہ کو ما ننے کا حکم ہے ،لیتفقہوا فی الدین حدیث میں فقہ کو ماننے والے کا حکم ہے من یر داللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عا بد دیکھو فقہ کے منکر کو شیطا ن کہا گیا ہے یہ مجھے ایک حدیث لکھ کر بھیجیں فقہ کے منکرکو اہلحد یث کہا گیاہو میں گا لی تو نہیں دے رہا حدیث بیا ن کر رہا ہوں ہاں با قی رہا کہ کس فقہ پر عمل کریں گے اس کا جوا ب یہ ہے کہ وہ خود مجتہد ہوں گے ۔

ایک مسئلہ :

اجتہا دی مسائل میں مجتہدپر اجتہا د واجب ہے غیر مجتہد پر تقلید واجب ہے اور غیر مقلد پر تعزیز واجب ہے یہ کل کہیں گے کیا دلیل ہے تفسیر ابن جریر میں ہے دو آدمی حج پر گئے ایک ہر ن پھر رہا تھا مکہ میں ایک نے پتھر پھینکا ایسی نازک جگہ پر لگا کہ وہ مرگیا انہوں نے حضرت عمر ؓ سے جاکر مسئلہ پوچھا ایسا ہو اہے فرمایا کہ پتھر جان پوجھ کر مارا تھا اس نے کہا حضرت مارا جان بو جھ کر تھا لیکن میرا ارادہ یہ تو نہیں تھا وہ مرجا ئے گا فرمایا کہ عمد اور خطا جمع ہو گئی ہے ایک بکر ی ذبح کر و جا کر حضرت عمر ؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی طرف دیکھا یہ جب چلے جس نے پتھر مارا تھا اس نے کہا حضرت عمر ؓ نے جب بکر ی ذبح کر نے کے متعلق کہا تو عبدالرحمن بن عوف کی طرف دیکھا لگتا یوں تھا حضرت عمر کو مسئلہ صحیح یا د نہیں تھا تو ہم کیوں نہ گائے ذبح کر دیں سات قربانیاں ہوجائیں اور کسی قسم کا شبہ نہ رہے انہوں ے جاکر گائے ذبح کر دی کسی نے آکر حضرت عمرؓ کو بتایا اس نے گائے ذبح کی ہے آپ کو ڑا لے کر چلے گئے کوڑے ماررہے تھے اور فرمارہے تھے حرم میں قتل کر نا جائز ہے اور مفتی کے مسئلہ کو حماقت سمجھتا تو اگر حضرت عمر ؓ کا قانون آج جاری ہو جائے تو غیر مقلدوں کو کوڑے لگیں گے یا نہیں ؟

غیر مقلدین کا قبر میں کیا حشر ہو گا :

ایک مجھے کہنے لگا جب مر جائیں گے تو جان چھوٹ جائے گی میں نے کہا نہیں جب مر جائیں گے تو فرشتہ پیٹے گا اور کہے گا لا دریت ولا تلیت صحیح بخاری صفحہ ۸ ۷ ۱ کوہاٹ کے مناظرہ میں جب میں نے پڑھی یہ روایت کہ فرشتہ اس لئے پیٹے گا تو نہ مجتہد تھا نہ تو نے تقلید کی انہوں نے شور مچایا تحریف ہو گئی تحریف ہو گئی اگر بخاری کی کسی شرح میں کسی محدث نے لکھا ہو لاتلیت کا معنی تقلید ہے ہم ہار گئے تم جیت گئے میں نے اس وقت بخاری شریف کی شرح شطلای رکھی اور بخاری کا حاشیہ کھولاولو اتبعت علماءفی التقلید فی مایکونون وہ حاجی سلطان کا رخانہ دار ۲ ۱سال سے غیر مقلد ہو چکا تھا وہ بھاگا آیا جی دکھا کہاں ہے میں نے کہا یہ ہے اس نے جاکر انہیں دکھایا اور غیر مقلد ہونے سے توبہ کی پھر میں نے کہا قبر میں بھی قیامت تک پٹائی ہوگی فرشتہ پیٹے گا غیر مقلدوں کو ایک کہنے لگا جب نکل آئیں گے پھر کیا ہوگا میں نے کہا روتے ہوئے جارہے ہوں گے دوزخ کو اور کہہ رہے ہوں گے لو کنا نسمع اونعقل ماکنا فی اصحٰب السعیر نجات کے دوہی راستے ہیں یا خود ہی دین کے اندر پوری سمجھ رکھتا ہو جس کو مجتہد کہتے ہیں یا دوسرا راستہ مجتہد کی مان کر چلا جا ئے ۔

جو میں نے مطالبہ کیا انہوں نے کو ئی حدیث لکھ کر بھیجی نہیں تو کل آپ انہیں بر ملا کہیں اس وقت آپ کے ہاتھ ٹوٹے ہوئے تھے کہ آپ حدیثیں لکھ کر دیتے تو کافر ہوجاتے میں بار بار کہتا رہاہوں جھوٹ لکھنے سے گناہ ہوتا ہے حدیث لکھنے سے گناہ نہیں ہوتا ایک بھی حدیث لکھ نہیں بھیجی

وآخر دعوٰنا ان الحمد للہ رب العلمین

استغفراللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ

٭٭٭٭٭

آن لائن مہمان

We have 13 guests and no members online