الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين وخاتم النبیین والمرسلین سيدنا
محمد وعلى آله وصحبہ اجمعین
از
مولانا حافظ محمد خاں صاحب دامت برکاتہم
شَيخُ الإسْلام إبن تيمية رحمه الله فرقہ جدید نام نہاد اہل حدیث کی عدالت میں
مُـقـدمـه 14
شيخ الاسلام إبن تيميه رحمه الله فرماتے ہیں کہ
خوارق عادات میں علم کے باب میں سے یہ بهی ہے ، کبهی بنده وه کچھ سنتا ہے جواس کے علاوه کوئی نہیں سنتا ، اورکبهی خواب یا بیداری میں وه کچھ دیکهتا ہے جواس کے علاوه کوئی نہیں دیکھتا ، اور کبهی وه کچھ جانتا ہے وحی یا الہام یا علم ضروری کے نازل ہونے کی صورت میں جواس کے علاوه کوئی نہیں جانتا ، یا فراست صادقہ کے ساتھ ، اور اسی کو کشف ومشاہدات ومكاشفات ومخاطبات کہا جاتا ہے ، پس سننا مخاطبات ہیں ، اور دیکهنا مشاہدات ہیں ، اورعلم یعنی جاننا مكاشفة ہے ، اور ان سب کو کشف و مكاشفة کہا جاتا ہے ۔
قال ابن تيمية في ’’ مجموع الفتاوى‘‘ ج11ص313 ما نصه:
فما كان مِن الخوارق من "باب العلم" فتارة بأنْ يَسمع العبد ما لا يسمعه غيره . وتارة يرى ما لا يراه غيره يقظة ومناماً . وتارة بأنْ يعلم ما لا يعلم غيره وحياً وإلهاماً ، أو انزال علمٍ ضروري ، أو فراسة صادقة ، ويُسمَّى كشفاً ومشاہدات ، ومكاشفات ومخاطبات: فالسماعمخاطبات ، والرؤية مشاهدات ، والعلم مكاشفة ، ويُسمَّى كله ’’ كشفاً‘‘ و ’’ مكاشفة‘‘ أي كشف له عنه . انتهى
یہ کشف ومُشاهدات و مُكاشفات و مُخاطبات و مُكاشفة وغیره باطنی امورکی تفصیل بیان کرنے والا اوران كى تائيد کرنے والا کوئی دیوبندی تونہیں ہے ؟؟
یہ خطرناک عقائد.(. فرقہ جدیداہل حدیث کی نظرمیں. ). کسی دیوبندی کی کتاب میں تو نہیں لکهے ؟؟
ایسے عقائد رکهنے والا شخص شرعی اعتبارسے کس برتاو وحکم کا مستحق ہے ؟؟
فیصلہ صرف اورصرف فرقہ جدید اہل حدیث کی عدالت میں ،اور بالخصوص کتاب’’ ألديوبندية ‘‘ لکهنے والے سچے پکے خالص توحیدی سلفی اہل حدیث کی عدالت میں ؟؟
إن أريدُإلا الإصلاحَ ما استطعتُ ومَا توفيقي إلابالله
Published on Thursday, 26 January 2012 16:52
Written by Administrator
Hits: 18