joomla templates

شَيخُ الإسْلام إبن تيمية رحمه الله فرقہ جدید نام نہاد اہل حدیث کی عدالت میں ( مقدمه ۲۰)۔

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين وخاتم النبیین والمرسلین سيدنا
محمد وعلى آله وصحبہ اجمعین

از

مولانا حافظ محمد خاں صاحب دامت برکاتہم


شَيخُ الإسْلام إبن تيمية رحمه الله فرقہ جدید نام نہاد اہل حدیث کی عدالت میں


مقدمه 20

جیسا کہ معلوم ہے کہ آج کل کا فرقہ جدید اہل حدیث اوربہت ساری ثابت چیزوں کے انکارکے ساتھ ساتھ عقیده ( حياة الأنبياء فی القبور) کے بهی منکر ہیں ، اورعلماء دیوبند اور دیگرتمام اہل سنت عقیده ( حياة الأنبياء فی القبور) کے قائل ہیں ، تواس فرقہ جدید کے جہلاء اس عقیده کی وجہ سے بهی علماء دیوبند پرطعن وتشنیع کرتے ہیں ، اوراس طرح دانستہ یا نادانستہ طور پر شيخ ابن تيمية رحمه الله اورحافظ ابن القيم رحمه الله یہاں بهی ان جہلاء کی طعن وتشنیع کا نشانہ بن جاتے ہیں ، کیونکہ یہ دونوں حضرات بهی عقیده ( حياة الأنبياء فی القبور) کے قائل ہیں ، بلکہ اگرمیں یہ کہوں کہ انتہائی  سختی کے ساتھ قائل ہیں تو بے جا نہیں ہوگا ، جیسا کہ آپ ان کی کتب میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله فرماتے ہیں کہ

أنبیاء وصالحین اپنے قبروں میں زنده ہیں  الخ

قال الشيخ ابن تيمية كما في مجموع الفتاوى (1/330):

وكذلك الأنبياء والصالحون وان كانوا أحياء في قبورهم وان قدر انهم يدعون للأحياء وان وردت به آثار فليس لأحد أن يطلب منهم ذلك ولم يفعل ذلك أحد من السلف لأن ذلك ذريعة إلى الشرك بهم وعبادتهم من دون الله تعالى بخلاف الطلب من أحدهم في حياته فانه لا يفضى إلى الشرك۔اھ۔

وقال أيضا كما في مجموع الفتاوى (27/502):

فهذه نصوصه الصريحة ـ أي النبي صلى الله عليه وسلم ـ توجب تحريم إتخاذ قبورهم مساجد مع أنهم مدفونون فيها وهم أحياء في قبورهم ويستحب إتيان قبورهم للسلام عليهم ومع هذا يحرم إتيانها للصلاة عندها وإتخاذها مساجد‘‘ اھـ

شيخ الاسلام کے شاگرد شیخ ابن مُفلح اپنی ’’  کتاب الفروع‘میں فرماتے ہیں کہ

ہمارے شیخ ابن تيمية نے فرمایا کہ اس بارے میں بکثرت آثار موجود ہیں کہ دنیا میں میت کے جواہل واصحاب ہیں ان کے احوال اس کے سامنے پیش کیئے جاتے ہیں اوران کوپہچانتا ہے ، اوراس بارے میں آثار موجود ہیں کہ میت دیکهتا بهی ہے اورمیت کے پاس جو کچھ  کیا جائے وه جانتا بهی ہے ، اچهے کام سے خوش ہوتا ہے اوربُرے کام سے اس کواذیت ہوتی ہے ۔

قال تلميذه ابن مفلح ماهو اشد من هذا في كتاب الفروع (2/235):
’’ قال شيخنا ـ اي ابن تيمية ـ استفاضت الآثار بمعرفته ـ أي الميت ـ بأحوال أهله وأصحابه في الدنيا وأن ذلك يعرض عليه وجاءت الآثار بأنه يرى أيضا وبأنه يدري بما يفعل عنده ويسر بما كان حسنا ويتألم بما كان قبيحا ‘‘  اھـ

اورحافظ ابن القيم رحمه الله

اپنی ’’  قصیده ‘‘  میں انتہائی  بہترین اشعارمیں عقیده’’ حياة الأنبياء فی القبور‘‘ کوبیان کرتے ہیں ، اور’’ کتاب الروح ‘‘ میں تو انتہائی  تفصیل سے عجیب وغریب حقائق بیان کرتے ہیں ، اور خصوصا ارواح کے احوال واحکام پر جوحقائق’’  کتاب الروح ‘‘  میں صوفی ابن القيم رحمه الله نے بیان کیئے ہیں شاید ہی کسی اورکتاب میں اتنی تفصیل وتشریح ملے ۔

ابن القيم رحمه الله اپنی ’’  قصیده ‘‘ میں اس عقیده کواس طرح بیان کرتے ہیں ۔

فان احتججتم بالشهيد بأنه          حي كما قد جاء في القرآن

والرسل أكمل حالة منه بلا          شك وهذا ظاهر التبيان

فلذاك كانوا بالحياة أحق من         شهدائنا بالعقل والبرهان

وبأن عقد نكاحه لم ينفسخ         فنساؤه في عصمة وصيان

ولأجل هذا لم يحل لغيره           منهن واحدة مدى الأزمان

أفليس في هذا دليل أنه               حي لمن كانت له أذنان

أو لم ير المختار موسى قائما       في قبره لصلاة ذي القربان

أفميت يأتي الصلاة وأن ذا      عين المحال وواضح البطلان

أو لم يقل إني أرد على الذي       يأتي بتسليم مع الإحسان

أيرد ميت السلام على الذي        يأتي به هذا من البهتان

هذا وقد جاء الحديث بأنهم     أحياء في الأجداث ذا تبيان

وبأن   أعمال  العباد  عليه   تعرض  دائما  في  جمعة  يومان

يوم الخميس ويوم الأثنين الذي قد خص بالفضل العظيم الشان

(كتاب شرح قصيدة ابن القيم 2 )

سبحان الله جس خوبصورت وعلمی وتحقیقی انداز میں ابن القيم رحمه الله نے ’’حياة الأنبياء فی القبور‘‘ کو ثابت کیا ہے ، میرے پاس تواس کی تشریح کے لیئے الفاظ نہیں ہیں ۔

أنبیاء وصالحین اپنے قبروں میں زنده ہیں ؟؟

اس بارے میں بکثرت آثار موجود ہیں کہ دنیا میں میت کے جواہل واصحاب ہیں ان کے احوال اس کے سامنے پیش کیئے جاتے ہیں ؟؟

اورمرده ان کوپہچانتا ہے ؟؟
اوراس بارے میں آثار موجود ہیں کہ میت دیکهتا بهی ہے اورمیت کے پاس جو کچھ کیا جائے وه جانتا بهی ہے ؟؟

ایسے عقائد رکهنے والا شخص شرعی اعتبارسے کس برتاو وحکم کا مستحق ہے ؟؟؟

فیصلہ صرف اورصرف فرقہ جدید اہل حدیث کی عدالت میں ، اور بالخصوص کتاب’’ ألديوبندية‘‘ لکهنے والے سچے پکے خالص توحیدی سلفی اہل حدیث کی عدالت میں ؟؟؟ ۔

إن أريدُإلا الإصلاحَ ما استطعتُ ومَا توفيقي إلابالله

حرف آخر

یہ موضوع توبہت طویل ہے اور یہ باب بڑا وسیع ہے لیکن میں نے جو بیس مقدمات پیش کیئے ہیں میں اسی پراکتفاء کرتا ہوں ، یقینا اس کا جواب ان کے پاس کچھ  نہیں ہے ، لیکن کم ازکم ایک ناواقف شخص پران کا دهوکہ وکذب وفریب وجہالت وخیانت کافی واضح ہوگیا ، اورجو کچھ میں نے ذکرکیا ایک عقل مند آدمی کی عبرت ونصیحت کے لیئے یہ کافی ہے ، باقی ایک معاند ومتعصب وضدی شخص کے لیئے بڑے بڑے دفتربهی ناکافی ہیں ، آخر میں بطور خلاصہ وحاصل بحث چند ضروری باتیں ذکرکرتا ہوں ۔

1. شيخ الإسلام ابن تيميه رحمه الله کی چند فتاوی جات وعبارات میں نے اس لیئے ذکرکیئے کہ کتاب ’’ الدیوبندیه‘‘ لکهنے والے مجہول مطلق نے سعودی سلفی مشائخ کو یہ شکایت بهی کی تهی کہ یہ دیوبندی شيخ الإسلام ابن تيميه رحمه الله اورحافظ ابن القیم رحمه الله پرطعن وتشنیع کرتے ہیں ، اسی لیئے میں نے شيخ الإسلام کی کتب سے یہ مختصر عبارات نقل کیئے ہیں ،اوریہ ساری تفصیل دراصل ’’ الدیوبندیه‘‘ کتاب لکهنے والے کذاب شخص کی کذب بیانی ، بہتان بازی ، وافتراء پردازی ، وافسانہ نگاری ، وشعبده بازی ،کا پرده چاک کرنے کے لیئے اوراس کی منافقت وحماقت وجہالت وخیانت وخباثت باطنی کو طشت ازبام کرنے کے لیئے پیش کی گئی  ہے ،اور شيخ الإسلام ابن تيميه رحمه الله کی یہ عبارات وفتاوی واقوال میں نے اس لیئے ذکرنہیں کیئے کہ فرقہ جدید اہل حدیث شيخ الإسلام کو اپنا راہبر وراہنما تسلیم کرتی ہے ، ہرگزنہیں اس جاہل فرقے کا شيخ الإسلام سے بهی کوئی  تعلق نہیں ہے اورنہ ان کی تعلیمات کی ان کو کچھ خبرہے۔

آج کل فرقہ جدید اہل حدیث میں شامل کچھ  جہلاء شيخ الإسلام سے عقیدت ومحبت کا خالی خولی دعوی صرف اور صرف اس لیئے کرتے ہیں کہ اس کی وجہ سے عرب کے سلفی مشائخ میں تهوڑی پذیرائی  ملے اور ساتھ  ہی وہاں سے دانا پانی بهی ملتا رہے ، اور ویسے تو جوکچھ میں نے شيخ الإسلام کی کتب سے نقل کیا یہی کچھ  بلکہ اس سے کہیں زیاده مواد فرقہ جدید اہل حدیث کے بانیان ومُوجدین میں کی کتب میں بهی موجود ہے ، لیکن اس کا جواب یہ لوگ بآسانی یہ دے دیتے ہیں کہ ہم ان کے مقلد نہیں ہیں وغیره ، یقینا شيخ الإسلام ابن تيميه رحمه الله کی ان اقوال وفتاوی کا بهی زیاده سے زیاده یہی جواب دیں گےکہ ہم شيخ الإسلام کے مقلد تونہیں ہیں ،لیکن یقینا ایک عقل ودانش رکهنے والا شخص صرف اس قدرجواب سے راضی نہیں ہوسکتا ، کیونکہ وه یہ سوال کرے گا کہ جوکچھ  عبارات کرامات وغیره تم نے علماء دیوبند کی کتب سے لے کر اس پرکفر وشرک وضلال فتوے دیتے رہے ، بعینہ اسی طرح کی کرامات واقوال وتصریحات شيخ الإسلام کی کتب سے تمہارےسامنے پیش کی گئی  ، توتم جواب میں صرف یہ کہتے ہو کہ ہم شيخ الإسلام کے مقلد تو نہیں ہیں ، ہم توصرف کتاب وسنت کوماننے والے ہیں ۔یہاں سے ایک عقل مند آدمی فرقہ جدیداہل حدیث میں شامل ان بڑے جہلاء کی امانت ودیانت وحقیقت کو خوب جان لے گا ، کسی ایک شخص کی کتاب سے کوئی  بات لی اوراس پرکفر وشرک کا گولہ داغ دیا اورآسمان سرپہ اٹهادیا ، اوربعینہ وہی بات اگرکسی دوسرے شخص کی کتاب سے دکهادی جائے تو وہاں صرف یہ جواب کہ ہم ان کے مقلد تونہیں ہیں ، ہم توصرف کتاب وسنت کے تابعدار ہیں؟؟۔

2. شيخ الإسلام کی جو عبارات وتصریحات میں نے ذکرکی ہیں ، اس سے میرا مقصد (معاذالله) شيخ الإسلام کی ذات پریا ان کے اقوال وتصریحات پرطعن وتشنیع نہیں ہے ، اور نہ ہمارے نزدیک اس پرکوئی اشکال واعتراض ہے ، بلکہ یہ سب کچھ کتاب’’ الدیوبندیه ‘‘ لکهنے والے مجہول مطلق اوراس کے ہمنواوں کی حقیقت واصلیت واضح کرنے کے لیئے ہے ، اور شیخ الاسلام کی یہ اقوال وتصریحات ان کے لیئے گلے میں اٹکی ہوئی  ہڈی کی طرح ہیں ، جس سے چهٹکارا حاصل کرنے کے لیئے جاہل عوام کو تو چند وساوس کے ذریعے زیر کرلیں گے ، لیکن ایک عقل مند آدمی کبهی بهی ان کے فرسوده وساوس قبول نہیں کرے گا ۔

3. اسی طرح ہم دوباره یہ مطالبہ بهی دوہراتے ہیں کہ شيخ الإسلام کی جوعبارات وفتاوی واقوال گذشتہ سطور میں ہم نے نقل کیئے ہیں ، جویقینا آج کل کے فرقہ جدید اہل حدیث میں شامل موحدین کے نفسانی مسلک ومزاج بالکل خلاف ہیں ، اور بالخصوص کتاب ’’ الدیوبندیه‘‘ لکهنے والے پکے توحیدی سلفی کے مسلک کے بالکل متضاد باتیں ہیں ، لہذا اصلاح وارشاد کی نیت سے تحریری طور پراس کا رد وجواب ضرورلکهیں اگرچہ ایک چهوٹا سا  رسالہ کیوں نہ ہو، کیونکہ کتاب ’’ الدیوبندیه‘‘ میں جن عبارات و واقعات وکرامات کو لے کرشکم پرستوں اوربدبختوں نے ان پرعقائد کا لیبل لگا کر تمام اکابرعلماء دیوبند کو کافر ومشرک وگمراه کہا گیا ، اوراس فعل شنیع وامرقبیح کا ارتکاب کیا ، میں نے اسی قسم کے فتاوی واقوال وعبارات شيخ الإسلام کی کتب سے بحوالہ نقل کیئے اورفیصلہ انہی لوگوں کے ذمہ چهوڑ دیا ۔

4. کسی بهی مسلمان پرتکفیرکا حکم واقدام بہت دشوار اور خطرناک اورہولناک چیزہے ، جس شخص کا دل میں ایمان وتقوی وفکرآخرت وخشیت الہی سے معمورہوگا ، تو وه کبهی کسی مسلمان کو محض خیالات و وساوس اورسنی سنائی  باتوں کی بناء پر کفرکا حکم نہیں لگائے گا ، کیونکہ کسی کو کافر کہہ دیا یا لکھ دیا اورکفرکا حکم لگادیا ، تواس پر کتنے سارے اور احکام شریعت میں مرتب ہوجاتے ہیں ، مثلا جس پرکفرکا حکم وفتوی لگا دیا ، تو اس حکم کے ساتھ  اس فتوی لگانے والے نے یہ خبربهی دے دی کہ

1. یہ آدمی ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں پڑا رہے گا اورجہنم سے کبهی نہیں نکلے گا۔

2. اوردنیا میں اس کا خون وجان ومال سب مباح ہوگیا ۔

3. کسی مسلمان عورت کا اس سے نکاح نہیں ہوسکتا ۔

4. زندگی میں اور موت کے بعد اس پراسلامی احکام جاری نہیں ہوسکتے ۔

5. اس کے تمام نیک اعمال ضائع ہوگئے ۔ وغیرذالک

خلاصہ یہ کہ کسی بهی مسلمان کی تکفیر کوئی  کهیل تماشہ کی بات نہیں بلکہ ایک سخت ترین اورشدید ترین وبال وعذاب کواپنے سرلینا ہے ، بلکہ شریعت نے یہ بتلادیا کہ مسلمان کو کافرکہنے اورلعنت کرنے کا وبال خود قائل کی طرف جاتا ہے ، اورمسلمان کوگالی دینا فسق وفجور ہے ، اسی کی غیبت کرنا اس پربہتان لگانا ، اس پرظلم کرنا وغیره گناه کبیره ہے ۔ یہ عقوبت اورسزا تو الله تعالی کی طرف سے ہے ،باقی جس شخص کی ناحق تکفیرکی اوراس پرلعنت کی ، غیبت کی ، گالی دی ، بہتان لگایا ، ظلم کیا ، وغیره تو اس شخص کا حق ابهی اس تکفیرکرنے والے ،لعنت کرنے والے ،ظلم کرنے والے، بہتان لگانے والے، گالی دینے والے کے ذمہ باقی ہے ۔

اب غور وفکر کا مقام ہے کہ ناحق تکفیر کرنے والا خود کافربن گیا ، لعنت کرنےوالا خود ملعون بن گیا ، گالی وبہتان وغیبت وظلم کرنے والے خود فاسق ومجرم بن گیا اوریہاں تک اس کا وبال وسزا ختم نہیں ہوگی بلکہ روز محشر ان لوگوں کے گناه بهی اس کے سرڈالے جائیں گے، کیا اتنی شدید سزا اور سخت ترین وبال کوئی  عقل مند آدمی اپنے سرلے سکتا ہے ، الله کی پناه الله تعالی حفاظت فرمائے ، اس لیئے میں ان عوام لوگوں سے نصیحت کرتا ہوں کہ کفر و شرک کا جو ڈرامہ علماء دیوبند کے خلاف چند جاہل لوگوں نے رچایا ، اوراپنی عاقبت خراب کی ، تم ان لوگوں کی ہاں میں ہاں نہ ملاو ان کی صف میں شامل نہ ہوں ، اسی میں تمہارا خیر اوربهلا ئی ہے ، اوراگرتم اس نصیحت کو قبول کرنے کے لیئے تیارنہیں ہوں اور جو بکواس وخرافات وه جاہل بکتے ہیں تم بهی اسں کی تصدیق کرتے ہوں اور انهیں جُہلاء کے برے راستے پرچلتے ہو توپهران کی طرح تم بهی الله تعالی کے یہاں جواب دہی کے لیئے تیار رہو ، اور یاد رہے کہ الله تعالی کے یہاں تمہارا یہ عذر مقبول نہیں ہوگا کہ ہمارے فلاں شیخ صاحب علماء دیوبند کو کافر ومشرک کہتے تهے اس لیئے ہم نے بهی اس کی پیروی میں یہ راستہ اختیار کیا ، اس لیئے عوام اورناواقف لوگوں پرحجت تمام ہوچکی ہے ، اور جن جہلاء وحمقاء نے تکفیر کا یہ مذموم کهیل محض اپنی نفسانی وشیطانی جذبات وخواہشات کوتسکین دینے کے لیئے کهیلا ہے ، توایسے لوگوں کا حقیقی چہره وباطنی خبث اظہرمن الشمس ہوگیا ہے ، لہذا پهر بهی اگرتم ایسے جاہلین وکذابین کی اتباع پرمصرہوتو پهرتیار رہو جو جواب دہی ومواخذه ان کا ہوگا وہی تمہارا بهی ہوگا ۔

5. اہل اسلام کی تکفیر کرنا ایک بہت بڑا سنگین جرم ہے ، اورپهراس جرم عظیم کے ارتکاب کی کئی  وجوهات ہوتی ہیں ، درحقیقت اس جرم کا ارتکاب وہی شخص کرتا ہے جو أحكام الشريعة سے بالکل جاہل ہوتا ہے ، اورکبهی لوگوں سے حسد وحِقد وبغض وعداوت کی وجہ سے اس جرم عظیم کا ارتکاب کیا جاتا ہے ، کبهی أغراض دنيا میں سے کسی غرض ومفاد کوحاصل کرنے کے لیئے ، اورکبهی جُہلاء میں شہرت وغلبہ حاصل کرنے کے لیئے ، اورکبهی ضد وتعصب وغیره کی بناء پر اس جرم عظیم کا ارتکاب کیا جاتا ہے ، غرض مختلف اسباب ہیں چند کا ذکرمیں نے کردیا۔

ارشاد باری تعالی ہے

وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً   ( النساء)

مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں آیت میں ’’ السَّلامَ‘‘ سے مراد اسلام ہے اور دلیل اس کی اس بعد والے الفاظ ہیں یعنی ’’ لَسْتَ مُؤْمِناً ‘‘ ، مطلب یہ ہے کہ جوشخص اسلام کا اظہار کرے تو تم اس کو یہ نہ کہو کہ تومُؤمن نہیں ہے ،اورتم اس شخص سے إسلام وإيمان کی صفت سلب نہ کرو۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں مطلب اس کا یہ ہے کہ جوتم کو سلام کرے یعنی سلام جو مسلمانوں کا شعار ہے اور تحية الإسلام ہے تو تم اس کو یہ نہ کہو کہ تومُؤمن نہیں ہے ،اور پهر أہل التفسير نے اس آیت کی شان نزول میں کئی  روایات نقل کی ہیں ، سب کی سب روایات کا حاصل یہ ہے کہ کسی صحابی کے سامنے کسی نے اسلام کا اظہارکیا تها اور انهوں نے اس کی نفی کردی تهی ،توپهر یہ آیت نازل ہوئی  ، اسی ضمن میں مسند احمد اور ترمذی اور میں بسند حسن یہ روایت موجود ہے۔

مرّ رجل من بني سليم بنفر من الصحابة كان يرعى له غنماً فسلم عليهم وكانوا في سرية، فقالوا: لا يسلم علينا إلا ليتعوّذ منا ، فعمدوا إليه فقتلوه وأخذوا غنمه فنزلت الآية.

اسی طرح صحيح مسلم میں حضرت أسامة بن زيد کی روایت میں ہے

رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ
’’أقتلته بعد أن قال لا إله إلا الله؟ أقتلته بعد أن قال لا إله إلا الله ؟ ‘‘

کیا تم نے اس کوقتل کردیا بعد اس کے کہ اس نے لا إله إلا الله کہا ؟

دوسری روایت کے الفاظ ہیں ،
’’ أفلا شققت عن قلبه فعرفت أقالها خوفاً أم لا ‘‘

کیا تونے اس کا دل پهاڑ کردیکها تها کہ کہ اس نے لا إله إلا الله خوف کی وجہ سے کہا تها یا نہیں ؟

یاد رہے کہ تکفیر أحكام شریعت میں سے ایک حکم ہے جس کے مختلف أسباب وضوابط وشروط وموانع وآثار ہیں ، اور پهر تکفیر چونکہ حكم شرعي ہے تو یہ شرعي دلائل کے ساتھ ثابت ہوگا ۔

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اہل سنت و الجماعت كا مسلک و مذہب يہ ہے كہ وہ اہل قبلہ كو صرف گناہ كى بنا پر كافر نہيں كہتے، اور نہ ہى فقط تاويل كى وجہ سے كافر قرار ديتے ہيں، بلكہ اگر فرد واحد ميں نيكياں اور بدياں دونوں پائى جاتى ہيں تو اس كا معاملہ اللہ كے سپرد ہے ‘‘  انتہى۔

قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله

’’مذهب أهل السنة والجماعة أنهم لا يكفرون أهل القبلة بمجرد الذنوب ، ولا بمجرد التأويل ، بل الشخص الواحد إذا كانت له حسنات وسيئات فأمره إلى الله ‘‘  انتهى .
(مجموع الفتاوى (478/27 ))

اور ایک دوسرى جگہ كہتے ہيں

’’كسى شخص كے ليے بھى كسى مسلمان شخص كو كسى غلطى اور خطا كى بنا پر اس وقت تک كافر قرار دينا جائز نہيں جب تک كہ اس كے كفر كى دليل و حجت ( شرعي يقيني وقطعي ) ثابت نہ ہو، اور جس كا يقينى طور پر اسلام ثابت ہو جائے تو وہ صرف شک كى بنا پر زائل نہيں ہو سكتا، بلكہ اس كا اسلام تو حجت قائم ہونے اور شبہ زائل ہونے كے بعد ہى زائل ہو گا ‘‘انتہى

وقال رحمه الله
وليس لأحد أن يُكفِّر أحداً من المسلمين ، وإن أخطأ وغلط ، حتى تقام عليه الحجة ، وتبين له المحجة ، ومن ثبت إسلامه بيقين لم يزل ذلك عنه بالشك ، بل لا يزول إلا بعد إقامة الحجة ، وإزالة الشبهة " انتهى .
(مجموع الفتاوى (466/12))

شيخ الاسلام رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اہل سنت كے آئمہ اور اہل علم ميں عدل و انصاف اور رحمت ہے وہ اس حق كو پہچانتے ہيں جس پر ہيں اور سنت كے موافق اور بدعات سے سليم ہيں، وہ اپنے مخالف كے معاملہ ميں عدل و انصاف كرتے ہيں چاہے ان كا مخالف ان پر ظلم ہى كرے جس طرح اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

تم اللہ كى خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، اور حق و انصاف كے ساتھ گواہى دينے والے بن جاؤ، كسى قوم كى عداوت و دشمنى تمہيں خلاف عدل پر آمادہ نہ كر دے، عدل كيا كرو جو پرہيزگار كے زيادہ نزديک ہے (المآئدۃ 8 )

اور وہ مخلوق پر رحم كرتے ہوئے ان كے ليے خير و بھلائى اور ہدايت و علم چاہتے ہيں، نہ كہ ان كے ليے كوئى شر و برائى ...، اس ليے اہل علم و سنت اپنے مخالف كو كافر نہيں كہتے اگرچہ ان كا مخالف انہيں كافر بھى كہتا ہو،كيونكہ كفر ايک شرعى حكم ہے ۔انتہى

قال رحمه الله :
’’ وأئمة السنة والجماعة وأهل العلم والإيمان فيهم العلم والعدل والرحمة ، فيعلمون الحق الذي يكونون به موافقين للسنة سالمين من البدعة ، ويعدلون على من خرج منها ، ولو ظلمهم ، كما قال تعالى ’’ كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى ‘‘ ( المائدة/8 ).
ويرحمون الخلق فيريدون لهم الخير والهدى والعلم ، لا يقصدون لهم الشر...، فلهذا كان أهل العلم والسنة لا يكفرون من خالفهم ، وإن كان ذلك المخالف يكفرهم ؛ لأن الكفر حكم شرعي ‘‘ انتهى .
(الرد على البكري   ص/256 – 258 )

اور علماء حق علماء دیوبند کا بهی اپنے مخالفین اہل بدعت وضلال کے ساتھ  یہی طرز ہے ، کہ مخالف ان کی تکفیرکرتے ہیں ، لیکن وه جوابا تکفیرکا جواب تکفیر سے نہیں دیتے ، بلکہ معاملہ الله کے سپرد کرتے ہیں ، اور یہی أهلُ العلم وأهلُ السنة والجماعة کا وصف وامتیاز ہے۔

آن لائن مہمان

We have 13 guests and no members online