
غیر مقلد کے جماعتی مؤ رخ مولانا ارشاد شاہجانپوری نے ۱۳۱۹ ھ بمطابق ۱۹۰۰ء میں ایک کتاب لکھی جس کا نام ” الارشاد الیٰ السبیل الرشاد” ہے اس میں تحریر فرماتے ہیں ” کچھ عرصہ سے ہندوستان میں ایک ایسے غیر مانوس مذہب کے لوگ دیکھنے میں آ رہے ہیں جس سے لوگ بالکل نا آشنا ہیں، پچھلے زمانہ میں شاذونادر اس خیال کے لوگ کہیں ہوں تو ہوں مگر اس کثرت سے دیکھنے میں نہیں آئے بلکہ ان کا نام بھی ابھی تھوڑے ہی دنوں سے سنا ہے، اپنے آپ کو تو وہ اہلحدیث یا محمدی یا موحد کہتے ہیں مگر مخالف فریق میں ان کا نام غیر مقلد یا وہابی یا لا مذہب لیا جاتا ہے” چونکہ یہ لوگ نماز میں رفع یدین کرتے ہیں یعنی رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہا تھ اٹھاتے ہیں جیسا کہ تحریمہ کے وقت ہا تھ اٹھائے جاتے ہیں، بنگالہ کے لوگ ان کو رفع یدینی بھی کہتے ہیں۔( الارشاد ص ۱۳ مع حاشیہ)۔
اس فرقہ کے بڑے علماءمیں مولانا عبد الجبار غزنوی جن کو یہ امام صا حب کہتے ہیں یہ سید ابو بکر گلشن اقبال کراچی کے دادا ہیں اور مولانا عبد التواب ملتانی جو اس فرقہ کے بہت مایہ ناز مناظر ہیں ان دونوں کی شھادت یہ ہے ”اور ہمارے زمانہ میں ایک فرقہ نیا کھڑا ہوا ہے جو اتباع حدیث کا دعویٰ رکھتا ہے مگر یہ لوگ اتباع حدیث سے کنارے(بہت دور) ہیں جو حدیثیں سلف اور خلف کے ہاںمعمول بہا ہیں انکو ادنیٰ سی قدح اور کمزورسی جرح پر مردود کہہ دیتے ہیں اور صحابہ کے اقوال اور افعال کو ایک بے چاقت سے قانون اور بے نور قول کے سبب پھینک دیتے ہیں اور ان(احادیث نبویہﷺ اور فرمودات صحابہؓ) پر اپنے بیہودہ خیالوں اور بیمار فکروں کو مقدم کرتے ہیں اور اپنا نام محقق رکھتے ہیں ،حاشا وکلا اللہ کی قسم یہی لوگ ہیں جو شریعت محمدی کی حد بندی کے نشان گراتے اور ملت حنفیہ(اسلام) کی بنیادوں کو کہنہ کرتے ہیں اور پیغمبر مصطفویہ کےنشانوں کو مٹاتے ہیں اور احادیث مرفوعہ (نبویہ) کو چھوڑ رکھا ہے اور متصل الاسانید آثار (صحابہ) کو پھینک دیا ہے اور ان (فرمودات رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ارشادات صحابہ رضی اللہ عنھم) کو دفع کرنے کیلئے وہ حیلے بناتے ہیں کہ جن کے لئے کسی یقین کرنے والے کا شرح صدر نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی مومن کا سر اٹھتا ہے(فتاویٰ علمائے حدیث ج۷۔ص۷۹،۸۰) یہ اس فرقہ کی عظیم کتاب ہے اس پر علامہ احسان الہٰی ظہیر جیسے بڑے بڑے علماء کی تصدیقات ہیں۔
برادرم! ان کو مذہبی آزادگی (ترک تقلید) کا حکم نہ خدا تعالیٰ نے دیا تھا نہ رسول اکرم ﷺ نے بلکہ ملکہ وکٹوریہ کی طرف سے جاری ہوا تھا اور انگریزی حکومت میں مذہبی آزدگی ( غیر مقلدیت) اور انگریز کی وفاداری یہ لازم ملزوم سمجھے جاتے تھے۔چنانچہ نواب صدیق حسن خاں لکھتے ہیں”زمانہ غدر ہندوستان میں ہمارے سب چھوٹے بڑے سرکار انگریزی کے خیر خواہ ہے، اگر کوئی بد خواہ بد اندیش سلطنت برٹش کا ہوگا تو وہی شخص ہوگا جو آزادگی مذہب (غیر مقلدیت) کو ناپسند کرتا ہے اور ایک مذہب خاص پر(جو باپ دادوں کے وقت سے چلا آرہا ہے)جما ہوا ہے۔”(ترجمان وہابیہص۵)نیز لکھتے ہیں”کتب تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو امن و آسائش اور آزادی کامل (ترک تقلید) ہر مذہب والے کو اس حکومت نے عطا کی ہے جس کا اشتہار بڑی دھوم دھام سے دربار قیصری میں بمقام دہلی مجمع رؤ سا و معززین ہند میں رعایا برایا کو سنا یا گیا(ترجمان ویابیہ ص ۸ ملخصا) اور آزادگی مذہبی ہماری عین مراد قانون انگلشیہ ہے۔(ملخصاص۲۰)آزادگی مذہب(ترک تقلید) بھی عجیب نعمت ہے اور تقلید ایک بڑی بلا ہے اور سبب عداوت حکومت انگلشیہ(ملخصاص۲۸) یہ لوگ اپنے دین میں وہی آزادگی برتتے ہیں جس کااشتہار باربار انگریز سرکار سے جاری ہوا ہے خصوصا دربار دہلی سے جو سب درباروں کا سردار ہے اور جو رسائل رد تقلید پر شائع ہوئے وہ شاہد عدل ہیں(ملخصا۳۲)نیزلکھتے ہیں”اور یہ اہل السنۃ والجماعۃ حنفی)چاہتے ہیں کہ وہی تعصب مذہبی وتقلید شخصی اور ضد اور جہالت آبائی جو ان میں چلی آتی ہے ان میں قائم رہے اور جوآسائش رعایا ہند کو بوجہ آزدگی مذہب گورنمنٹ نے عطا کی ہے وہ اٹھ جائے اور امن عالم باقی نہ رہے،سارے مسلمان ایک مذہب خاص کے پابند ہو کر اپنا تعصب گورنمٹ سے ظاہر کریں اورجب موقع پاویں مثل زمانہ غدر کے فساد برپا کریں”(ترجمان وہابیہ ص ۵۶)یعنی تقلید کے سبب مسلمانوں میں جو اتفاق ہے وہ انگریز حکومت کے لئے سخت خطرہ ہے۔ترک تقلید سے مسلمانوں میں افتراق پیدا ہو کر خطرہ ٹل جاتا ہے۔چنانچہ نواب صاحب نے لکھا”جہاد اور جنگ مذہبی بمقابلہ برٹش گورنمنٹ ازروئے شریعت اسلام ممنوع ہے، ایسے لوگ باغیوں کی طرح سزا کے مستحق ہیں،یہ جہاد خلاف سنت و ایمان ہے اور خلاف ایمان و اسلام کے ہے(ملخصا ص۶۱)اور لکھا:دین میں سب فرضوں سے بڑا فرض حاکموں کی اظاعت ہے اور سب واجبوں سے بڑا واجب ہے۔(ص ۲۹ )
مولانا حنیف بھوجیانوی کے شاگرد خاص پروفیسر محمد مبارک تحریر فرماتے ہیں”جماعت غرباء اہلحدیث کی بنیاد صرف محدثین کی مخالفت کے مقصد کیلئے رکھی گئی،صرف یہی مقصد نہیں بلکہ تحریک مجاہدین یعنی سید احمد شہید کی تحریک کی مخالفت کرکے انگریز کع خوش کرنے کا مقصد پنہاں تھا۔اس بنیاد پر جماعت غرباء اہلحدیث با غی جماعت ہے۔جس کا جماعت اہلحدیث سے کوئی تعلق نہیں بلکہ پوری جماعت مع امام کے واجب القتل ہے افسوس سید احمد شہید کی تحریک کامیاب ہو جاتی تو ضرور جماعت غرباء اہلحدیث کو مع امام کے قتل کیا جاتا،جس طرح سیدنا امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیقؓ نے مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھیوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا تھا۔”(علماء احناف اور تحریک مجاہدین ص۵۱،۵۳ ملخصا )
سیدنا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو امام اعظم کہنا ان کے ہاں شرک ہے، مگر ملکہ وکٹوریہ کو پیش کیا وہ یہ ہے:۔
بحضور فیض گنجور کوئین وکٹوریہ دی گرہٹ قیصرہ ہند بارک اللہ فی سلطنتھا!ہم ممبران گروہ کے کل اشخاص کی طرف سے حضور والا خدمت عالی میں جشن جو بلی کی دلی مسرت سے مبارک باد عرض کرتے ہیں۔آپ کی سلطنت میں جو نعمت مذہبی آزادگی(ترک تقلید) کی حاصل ہے اس سے یہ گروہ اپنا خاص نصیبہ اٹھا رہا ہے،وہ خصوصیت یہ ہے کہ مذہبی آزادی اس گروہ کو خاص اس سلطنت میں حاصل ہے، بخلاف دوسرے اسلامی فرقوں کے انکو اور اسلامی سلطنتوں میں بھی یہ آزادی حاصل ہے، اس خصوصیت سے یقین ہوسکتا ہے کہ اس گروہ کو سلطنت
میاں نذیر احمد حسین دہلوی نے حرم پاک میں کھڑے ہوکر حرمین شریفین کی اسلامی حکومت کو مقابلے میں کہا تھا”انگریزی گورنمنٹ ہندوستان میں ہم مسلمانوں پر خدا کی رحمت ہے۔(الحیات نعد
الممات صفحہ ۱۶۳)۔
جس طرح مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت قسط وار کیا تھا پہلے غیر تشریعی نبوت بمعنی محدثیت، پھر ظلی نبوت اور پھر حقیقی نبوت، ان لوگوں نے بھی تقلید کا انکار قسط وار کیا، سب سےپہلی کتاب تقلید کے رد میں میاں نذیر حسین صاحب نے لکھی،اس میں تحریر فرماتے ہیں :باقی رہی تقلید وقت لاعلمی سو یہ چار قسم ہے:قسم اول واجب ہےاور وہ مطلق تقلید ہے مجتہد کی،مجتہد اہلالسنۃ کی لا علی التعین جس کو شاہ ولی اللہ نے عقدالجیدمیں کہا ہے کو یہ تقلید واجب ہے اور صحیح ہے باتفاق امت(معیار الھق صفحہ ۴۲) شاہ صاحبؒ کی عبارت یہ ہے”تقلید واجب ہے جو دلالتا(یعنی ما ہر شریعت کی رہنمائی میں) اتباع روایت(قرآن و سنت کی پیروی ہے)تفصیل اسکی یہ ہے کتاب وسنت سے ناواقف جو از خود تتبع اور استنباط احکام نہیں کر سکتا اس کا فرض ہے کہ کسی فقیہ سے پوچھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں کیا حکم دیا ہے۔جب بتادے تو اس کی اتباع کرے خواہ وہ صریح نص سے ما خوذ ہو یا اس سے مستنبط ہو یا کسی نص پر قیاس ہو، ان میں سے ہر ایک اگرچہ دلالتا ہی سہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہی رجوع ہے اور اسکی صحت پر امت کا یکے بعد اتفاق ہے بلکہ ساری ہی امتیں اپنی شریعتوں میں متفق ہیں۔(عقد الجید ص ۱۳۰،۱۳۱) گویا جس طرح توحید،رسالت،قیامت وغیرہ تمام شریعتوں کے متفقہ مسائل ہیں اسی طرح عامی کو مسائل اجتہاد یہ میں مجتہد کی تقلید کرنا سب کا متفق علیہ مسئلہ ہے۔نوٹ ۔۔۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ جناب میاں نذیر حسین صاحب نے شاہ ولی اللہ کی اصل عربی عبارت میں بھی لا علی التعین کا لفظ اپنی طرف سے بڑھا دیا ہے اور اردو میں بھی یہ قید اپنی طرف سے برھائی ہے جو بہت بڑی علمی خیانت ہے اور علماء کی شان سے بہت بعید ہے۔مولانا موصوف لکھتے ہیں کہ قتادہ نےامام بخاری ؒ کو دیکھ کر کہا کہ اس کو امام احمد سمجھ لو(معیارالحق ص۲۶) حالانکہ قتادہ ۱۱۸ ھ میں فوت ہوچکے تھے۔میاں صاحب نے شاہ صاحب کی عبارت میں ایک جملہ بڑھایا ہے،مگر صفحہ ۳۵ پر تو پوری ایک کتاب”القول السدید”ان کے ذمہ لگا دی ہے جو ان کی ہرگز نہیں،یہ حضرات ایسی حرکتیں حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی کرتے ہیں۔معیار الحق صفحی ۲۱۹ پر حدیث کے عربی الفاظ یہ ہیں میلین او ثلاثۃ، جس کا صحیح ترجمہ دو میل یا تین تھا مگر میاں صاحب ترجمہ کر رہے ہیں دو تین کوس،کس طرح دو میل کو نو میل بنا لیا۔معیارالحق صفحہ ۲۲۵ پر ایک صحیح حدیث کو جھوٹا کرنے کیلئے میاں صاحب نے سلیمان الاعمش جو نہایت ثقہ راوی ہے اور سب صحاح والوں کا اجماعی شیخ ہے،سلیمان بن ارقم بنا دیا اور اس طرح صحیح حدیث کو ضعیف کہہ کر ماننے سے انکار کردیا اور ایک سند میں راوی خالد بن الحارث تھا اور حدیث صحیح تھی مگر حدیث رسول کے انکار کت شوق میں خالد بن الحارث کی بجائے خالد بن مخلد کا حال لکھ کر حدیث کو ضعیف بنا دیا اور صحیح حدیث کو ماننے سے انکار کردیا۔اسی طرح صفحہ ۲۳۴ پر ایک حدیث کا انکار کرنے کے شوق میں اسمہ بن زید اللیثی کو اسامہ بن زید العدوی بنایا،یہ محض سینہ زوری ہے۔کاش! احناف کی ضد میں یہ رسول دشمنی سے احتراز کرتے۔
مولانا محمد حسین بٹالوی وکیل اہلحدیث ہند جنہوں نے پوری جماعت کی طرف سے ایک رسالہ شائع کیا”الاقتصاد فی مسائل الجہاد”جس میں انگریزوں سے جہاد کو حرام قرار دیا۔البتہ مسلمانون میں افتراق اور شقاق پیدا کرنے کیلئے چیلنج بازی اور اشتہار بازی کا آغاز کیا اور بقول مولانا مسعود عالم غیر مقلد،ان خدمات کی بناء پر ان کو حکومت برطانیہ نت جاگیر سے بھی نوازہ۔مولانا فرماتے ہیں ”تقلید واجب جو درھقیقت روایت کی پیروی ہوتی ہے،جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک شخص قرآن و حدیث سے بے خبر ہے،اپنے آپ قرآن و حدیث سے مسائل نہیں نکال سکتا اس کا یہی کام ہے کہ وہ کسی مجتہد سے سوال کرے کہ اس مسئلہ میں خدااور رسول کا کیا حکم ہے،جب وہ اس کو حکم بتا دے صریح نص سے ثابت ہو خواہ اس سے استنباط کیا گیا ہو تو وہ اس کی پیروی کرے۔اس تقلید کا رجوع روایتِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے اور اس کے صحیح ہونے پرہر زمانے کا اتفاق چلا آیا ہے۔”( اشاعت السنۃ النبویہ ج ۱۱ ص ۳۱۶) دلیل اس تقلید کے جواز پر یہ ہے کہ صحابہ وغیرہ بلا ذکر دلیل اقوال خود فتویٰ دیا کرتے تھے اور لوگ بلا انکار ان کی پیروی کرتے تھے۔(ایضا ج ۱۱ ص ۳۱۶) اس تقلید کے جواز پر سب شریعتوں کا اتفاق ہے اور اسلام میں بھی عہد نبوی اور عہد صحابہ سے بلا نکیر متوارث ہے چنانچہ مولانا موصوف لکھتے ہیں” ایسی تقلید آنحضرتﷺ کے عہد سے متوارث چلی آئی ہے ایسی تقلید ہمیشہ کیلئے ایک کی ہو یا کبھی کسی کی اس میں کوئی فرق نہیں”(اشاعۃ السنۃج۱۱ ص ۳۱۵) مولانا موصوف فرماتے ہیں”ہمارے بھائیوں میں اب ترک تقلید اور عمل بالحدیث میں غلو ہوگیا ہے اور افراط شدید نے ان پر غلبہ اور تسلط پایا،وہ تقلید کا نام سنکر ایسے چونک پڑتے ہیں جیسے آگ کا ڈرا ہوا کرمک شب تاب کو دیکھ کر ڈر جاتا ہے اور تقلید کے نشہ میں ایسے سرشار ہیں کہ محل ضرورت تقلید میں بھی کسی کی تقلید جائز نہیں سمجھتے اور اپنے فکر نارسا اور اجتہاد ناروا سے کام لیتے ہیں۔تقلید کو بلا استثناء صلوٰتیں سناتے ہیں اور مقلدین کو بر ملا برائی سے یاد کرتے ہیں”(اشاعۃ السنۃ ج ۱۱ ص ۳۰۳) نیز لکھتے ہیں”ایک صاحب فرماتے ہیں اب لوگ اللہ کے فضل سے اس پیر زال قحبہ کو طلاق دے چکے ہیں”کہ ہمارے خواص کا ترک تقلید میں غلو ثابت ہے تو اس سے عوام کے غلو کا اندازہ بخوبی ہوسکتا ہے لہٰذا اس غلو کا تدارک بھی ایک بڑا بھاری فرض ہے۔”(ایضا ج ۱۱ ۳۰۶) ۔
We have 5 guests and no members online