
دجل قا دیا ن
مناظر اسلام تر جمانِ اہل سنت وکیل احناف
حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی
(خطبات صفدر،جلد دوم)
الحمد للہ وکفی وسلا م علی عبا دہ الذ ین اصطفی اما بعد !
تمہید
آج کچھ متفر ق با تیں عر ض کر نی ہیں ۔ مرزا غلا م احمد قا دیا نی کی عادت تھی کہ وہ مسلمانوں کو گا لیاں نکا لتا تھا عیسا ئیوں کا گا لیاں نکا لتا تھا ہندو ں سے منا ظرے کے بہا نے ان کے کرشن کو گا لیاں نکا لتا تھا اور وہ مقا بلے میں حضرت محمد ﷺ کو گا لیا ں دیتے تھے ( نعو ذ باللہ) اس میں شک نہیں کہ مرزا قا دیا نی کے پیدا ہو نے سے پہلے دنیا میں کا فر مو جو د تھے اور مرزا ( ملعو ن ) کے مر نے کے بعد بھی دنیا میںمو جو د ہےں لیکن پہلے کا فرو ں نے بھی اتنی گا لیاں نہیں بکیں اور نہ بعد والوں نے جتنی مر زا کے زما نہ میں اسلا م اور محمد ﷺ کو گا لیاں دی گئیں ۔
لطیفہ :
اس پر ایک لطیفہ یا د آیا مسلما نوں اور قا دیا نوں کے درمیا ن ایک جگہ منا ظر ہ طے ہو گیا وہ جگہ ایسی رکھی گئی جس کے دا ئیں با ئیں دونوں جا نب اسٹیشن تھے ان کے اسٹیشن ماسٹر قا دیا نی تھے انہوں نے اپنے قا دیا نیوں کو آگا ہ کر دیا کہ تم ایک دن پہلے پہنچ جا ﺅ اور جب منا ظرہ کی تا ریخ آ ئی تو انہوں نے گا ڑیا ں لیٹ کرد یں مسلما ن منا ظر پہنچ نہ سکا علا قے بھر کے لو گ اکھٹے ہو ئے بڑ ے پریشا ن کہ ان کے سا ر ے منا ظر آ ئے بیٹھے ہیں اور ہمارا کو ئی بھی منا ظر نہیں ، مرزا ئی بڑ ے طعنے وغیر ہ دیں آ خر ایک ماسٹرصاحب بیٹھے تھے کھڑے ہو گئے چلو اب وقت تو نکا لنا ہے نا تو میں منا ظر ہ کر وں گا لوگوں نے کہا کہ نہ تو نے کبھی منا ظر ہ کیا ہے اور نہ دیکھا کہنے لگا کہ آ ج تو میں نے وقت نکا لنا ہی نکا لنا ہے اب جب کو ئی منا ظرنہیں تھا اور ایک جرات کر رہا ہے تو لوگوں نے کہا ٹھیک ہے بھا ئی آپ با ت کر یں منا ظر ہ کر لیں تو وہ کھڑا ہو گیا پہلی با ری اس کی تھی اور دس منٹ وقت تھا اس نے دس منٹ میں جو گالی اس کو آ تی تھی مرزے کو دے دی وہ دی اب مسلما ن بیچا رے پر یشا ن منہ نیچے چھپا ئیں کہ دیکھو اس نے ہمیں ذلیل کر دیا، قا دیا نی بھی اشا رے کریں کہ یہ ہے مسلما ن دیکھوگا لیاں دے رہاہے لیکن اس نے اپنے دس منٹ اسی کا م میں صرف کر دیئے بیٹھ گیا اب قا دیا نی منا ظر اٹھا اس نے کہا کہ مسلمانوں تمہا رے پا س کوئی شریف انسا ن نہیں ہے جس کو مناظرے کے لیے لا تے کس کو لا ئے ہو ؟جس نے تمہیں بھی ذلیل کر دیا وہ ما سٹر صاحب اٹھے اور نا چنے لگے الحمد للہ الحمد للہ الحمد للہ میں جیت گیا میں جیت گیا میں جیت گیا لوگ پکڑ یں کہ کس بات پر جیت گیا تو وہ تو بس یہی کہے جا رہا تھا کہ میں جیت گیا الحمدللہ میں جیت گیا میں جیت گیا آخر لو گو ں نے پکڑ لیا کہ بتا ﺅتو سہی کس بات پر جیت گیا ؟اس نے کہا میں نے صرف دس منٹ گا لیاں دی ہیں مرازئی منا ظرنے فیصلہ دے دیا ہے میں شر یف انسا ن نہیں ہو ں تو ان کا نبی جو ستر سال گالیاں دیتا رہا وہ شر یف انسان کیسے ہو سکتا ہے جب ا دس منٹ گا لیاں دینے والا شر یف انسا ن نہیں یہ فیصلہ خود ان کے منا ظر نے کیا ہے اور جس کی سا ری عمر گا لیاں دینے میں گز ری ہے تو وہ شر یف ہو ہی نہیں سکتا جب شر یف انسا ن نہیںتو وہ نہ مجدد ہو سکتا ہے کیو نکہ مجدد آخر شریف انسا ن تو ہوتا ہے اور نہ وہ مہد ی ہو سکتا ہے نہ وہ مسیح ہو سکتا ہے اب مسلما نو ں نے سمجھا کہ ماسٹر صاحب تے واقعی اچھا کا م نبھا یا ہے تو مقصد یہی ہے کہ اس کی اصل پہچا ن گالیاں نکا لنا تھی ۔
مر زے کے رو پ :
جیسے مو لا نا ظفر علی خا ن صاحب نے فرمایا کہ گا لی اس کی پہچا ن تھی جھو ٹ اس کا ایما ن تھا اور کفر وشر ک کی باتیں جو ہیں یہی کر تا تھا ۔آپ نے سنا ہوگا کہ بعض لو گ بہر وپیے ہو تے ہیں یہ ایک مذ ہبی بہرو پیہ تھا عیسا ئیوں میں مسیح بن جا تا تھا مسلما نوں میں امام مہدی بن جا تا تھا ہندو ں میںجاتا تو کرشن جی مہا را ج بن جاتا تھا ، سکھو ں میں جاتا تو امیرالملک جے سنگھ بہا در بن جاتا تھا یہا ں اور رو پ ہے وہا ں اور روپ ہے وہا ں جا کے اور روپ وہا ں کا اور روپ ہے بعض جگہ تو اسکی اچھی مر مت بھی ہو ئی کہتا تھا کہ میںعیسا ئیوں کا مسیح ہوں۔
علا ما ت مسیح علیہ السلا م اور مرزا قا دیا نی :
چنانچہ عیسا ئیوں نے اس کو منا ظرے کا چیلنچ دیا کہ بھئی منا ظر ہ کرو امر تسر میں مناظر ہ ہوا جنگ مقد س کتا ب میں اس نے بھی خو د اس کو ذکر کیا ہے اور کتا بوں میں بھی مسلمانوں نے اس کا ذکر کیا ہے اب یہ کہتا ہے کہ میں مسیح مد عو د ہو ں عیسا ئیوں نے کہا کہ مسیح کی کچھ باتیں نشا نیاں وہ ہیں جو قرآن حدیث اور انجیل وغیر میںآ ئی ہیں کچھ نشا نیاں وہ ہیں کہ عیسی علیہ السلا م کا معجزہ تھا کہ مر دہ زند ہوجاتا ہے انجیل میں ایک واقعہ مذ کور ہے کہ ایک شخص کا جنا زہ جا رہا تھا اس کی والد ہ مر یم نگہت پیچھے رو تی پیٹتی آ رہی تھی اس نے در خواست کی حضرت میرا یہ ایک بیٹا تھا جو فو ت ہو گیا مسیح علیہ السلا م نے فرمایا کہ چا رپا ئی نیچے رکھو اور قم باذن اللہ کہا تو وہ مر دہ اٹھ کر بیٹھ گیا ۔
اسی طرح ایک بیما ر کو ڑ ھی کو لایا گیا کو ڑھی تھا مسیح علیہ السلا م نے اس پر ہا تھ پھیر ا تو اللہ تبا رک وتعالی نے اس کو ڑ ھ کی بیما ری کو شفا ءفرما دی ۔
تو امر تسر کے عیسا ئی بھی ایک کو ڑھی لے آ ئے ایک اند ھا لے آ ئے ایک لنگڑا لے آئے ایک مر دہ لے آ ئے کہ بھئی اگر تو مسیح علیہ السلا م ہے تو آخر کوئی نشا نی تو مسیح والی دکھا یہ مر دہ زند ہ کر کے کھا یہ لنگڑا درست ہو جا ئے یہ اند ھا درست ہو جائے اور یہ جو کو ڑھی ہے صحیح اور تند رست ہو جائے تو ہم ما نیں گے کہ واقعی تجھ میں مسیح علیہ السلا م والی شرا ئط اور علامات ہیں اس لئے چلو ہم آپ کو مسیح علیہ السلا م ما ن لیں اب مرزا قادیا نی میں کیا تھا کچھ بھی نہیں اب جب اس کے آ گے یہ مریض لائے گئے تو مرزا قادیا نی نے بہا نہ یہ بنا یا کہ میںاستخارہ کئے بغیر کو ئی کا م نہیں کرتا آج رات استخارہ کروںگا اگر اللہ تبارک وتعا لی نے اجازت دی تو پھر معجزہ دکھا ﺅ ںگا ور نہ میں معجز ہ نہیں دکھا سکتا انہوں نے کہا کہ اچھا استخا رہ تو ہوتا رہے گا مسیح علیہ اسلا م کا ایک نقشہ تو نے اپنی کتا بوں میں کھینچا ہے کہ مسیح گا لیا ں دیتے تھے مسیح علیہ السلا م جھوٹ بولتے تھے مسیح علیہ السلا م کی تین نا نیاں اور دا دیا ں زنا کا ر بد کار عورتیں تھیں تو کم ازکم اپنی تین نا نیوں اور تین دا دیوں کے نا م تو وہ دیکھوو زنا کا ر اور بد کا عورتیںتھیںکوئی نشا نی مسیح علیہ السلام والی تو تم میں ملے جو تو نے اپنے قلم سے لکھا وہی اپنے میں دکھا دو ۔
پتو کی میں منا ظر ہ :
پتو کی میں منا ظر ہ تھا تو میں نے بھی یہی پیش کیا کہ مرزا قادیانی گا لیا ں دیتا تھا اور مسیح کے بارے میں اس نے یہ لکھا تو ان کے مناظر کہنے لگا یہ تو ٹھیک ہے کہ مسیح علیہ السلا م گا لیا ں دیتے تھے آپ نے اگر انجیل پڑ ھی ہو تو آپ کو پتہ چلے گا میں نے کہا اچھا آپ انجیل سے نکا ل کر دکھا ئیں اس نے کہ دیکھ لکھا ہے یو حنا کہا انجیل میں کہ یہو دیوں کے فقیہ اور فریسی جیسے ہمارے ہا ں کچھ علما ءظا ہر ہیں کچھ علما ءبا طن ہیں یہو د میں بھی اس طرح کے آ دمی تھے وہ علماءآئے اور انہو ں نے عیسی علیہ السلا م سے معجز ہ ما نگا تو مسیح علیہ السلا م نے فرمایا کہ یہ زنا کا ر لوگ مجھ سے نشا نیاں ما نگتے ہیں تو انہوں نے اس کو زنا کا ر کہا یہ گا لی ہے یا نہیں ؟سا تھ ہی مجھے کہنے لگا کہ اگر میںتجھے کہوں کہ تو زنا کا ر ہے تو گا لی ہو گی یا نہیں ؟میں نے کہا با لکل ہو گی میں تجھے کہوں پھر بھی ہو گی لیکن مسیح علیہ السلا م نے گا لی نہیں دی وہ کہے جی زنا کا ر کہاان کو میں نے کہا آپ مجھے تو کہتے ہیں کہ آ پ نے انجیل نہیں پڑ ھی میں نے کہاآپ نے نہیں پڑ ھی تھی میں نے تو پڑ ھی ہو ئی ہے اس کے پا س با ئبل تھی میںنے پکڑلی میں نے کہا پورا واقعہ کیا ہے واقعہ تو اصل میں یہ ہے کہ یہو دی اور پر یسی جو تھے فقیہ اور پر یسی یہودیوں کے وہ ایک عورت کو لے کر آئے کہ اس عورت کو عین حالت زنا میں ہم نے گر فتا ر کیا ہے تو اس پر آ پ حدجا ری کریں شریعت کی حد کیا ہے ؟ مسیح علیہ السلا م نے فرمایا کہ تم میں سے جس نے کبھی زنا نہیں کیاوہ اس کو پتھر ما رے اب وہ سا رے زنا کا ر تھے کو ئی پتھر نہ مارے مسیح علیہ السلا م نے فرمایا کہ پہلا پتھر وہ مارے جس نے کبھی زنا نہیں کیا اب وہ آ ہستہ آہستہ سارے کھسک گئے اور ایک بھی ان میں سے باقی نہ رہا وہ عورت اکیلی بیٹھی رہ گئی کچھ وقت بعد مسیح علیہ السلا م نے فرمایا کہ یہ زنا کا ر لوگ مجھ سے نشا نیاں ما نگتے ہیں تو ان کو زنا کار ایک فیصلہ کی حیثیت سے کہا جیسے ایک حج فیصلہ کر ے کہ ان کا زنا ثا بت ہو گیا ہے یہ لوگ زنا کا ر ہیں گا لی اور چیز ہے اور فیصلہ جج کا اور چیز ہے کسی کو ویسے کہہ دینا ”زا نی ہے “یہ واقعی گا لی لیکن یہ کہ اس کا اعترا ف جب پا یا گیا کہ واقعی سارے زنا کا ر تھے اس کے بعد جنا ب مسیح علیہ السلا م نے فیصلہ سنا یا ہے کہ گا لی نہیں دی عجیب بات ہے کہ مرزا غلا م احمد قا دیا نی کو اس بات کافرق بھی معلوم نہ تھا کہ فیصلہ کیا ہے اور گا لی کیا ہو تی ہے اس پر جب میں نے یہ حو الہ پیش کیا تو انہوں نے کہا جی آ ج ہما ری تیا ری مکمل نہیں ہے دو مہینے آپ ہمیں مہلت دیں پھر ہم مناظر ہ کریں گے میں نے کہا دو مہینے بعد پھر منا ظر ہ نہیں ہو گا یہ پیشنگو ئی میں لکھ دیتا ہوں اور میر پیشنگو ئی با لکل سچی ہو ئی مرزے کی سا ری پیشنگو ئی جھو ٹی تھیں ۔
مرزا قادیا نی کے مختلف روپ :
تو مقصد یہ ہے کہ یہ جو عیسا ئیوں نے عیسی علیہ السلا م کا روپ اس نے دھا را تو انہوں نے اس کی اچھی خبر لی کہ تجھ میں وہ نشا نیا ں موجو د ہیں مسیح علیہ السلا م کی جو قرآن پاک میں ہیں نہ وہ جو انجیل میں ہیں اور نہ وہ جو احا دیث کی کتا بوں میں مو جود ہیں اور نہ وہ جو نشا نیاں ہیں جو تو اپنے آپ میں ثا بت کرتا ہے اور جوتو نے اپنے قلم سے لکھیں ہیں کہ مسیح گالیاں دیا کرتا تھا مسیح جھو ٹ بو لا کر تا تھا مسیح علیہ السلا م کی دادیا ں اورنا نیا ں اس قسم کی تھیں تو کیسا مسیح ہے ؟خیرا ب مرزا اگلے دن آ یا اور کہا کہ میں نے رات کو اللہ تعالی سے دعا ما نگی تھی اللہ تعالی نے حکم دیا کہ منا ظر ہ بند کردو اس لئے آ ج کے بعد منا ظر ہ نہیں کروںگا پند رہ دن تو منا ظر ے کے ہو گئے ہیں لیکن یہ فرمایا اللہ تعالی نے کہ پند ر ہ دن کا مطلب پندرہ مہینے ہیں کہ جو مخالف منا ظر ہے پند ر مہینوں میں عیسا ئی منا ظر مر جائے گا بسبب سزا ئے مو ت ہا ویہ میں گرایا جائے گا اس پر بھرپورزور دیا کہ اگر یہ میری پیشنگو ئی پو ری نہ ہو ئی تو میں تمام یہو دیوں سے بد تر ہو ںگا تما م بد کا روں سے بد کا ر ہوں گامیرا منہ کالا کیا جائے مجھے پھا نسی دی جائے میں ہر سزا اٹھا نے کو تیا ر ہو ں اور یہ اردو میں کتا ب ہے اردو کتا بو ں کو اس لئے چھپانے کی کو شش کرتے ہیں جب بھی قا دیا نیو ں سے بات ہو تو ہوتا کیا ہے جی صرف قرآن وحدیث سے بات کر نی ہے یہ نہیں کہ وہ قرآن ما نتے ہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ کہیں مرزے کی کتاب سامنے نہ آ جائے وہ اردو میں ہے اس کو لوگ پڑ ھ کر مرزا کو پہچا ن لیں گے اس لئے مر زے کو چھپا نے کے لیے قرآن وحدیث کا نا م لیتے ہیںتو یہ لوگ جو ہیں اسی انداز میں قرآن وحدیث کا نا م لے کر اپنی باتوںکو چھپا تے ہیں خیر اس کے بعد وہ پند رہ مہینے تو گز ر گئے حا لا نکہ عبداللہ آتھم مر تدتھا نام دیکھو نا مسلمانوں والا ہے تھا مرتد لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس مرتد کے مقا بلے میں بھی اس ( مرزا قادیا نی ) کو ذلیل کیا ۔
مر زا مر تد سے بھی بد تر :
جس کا مقصد یہ ہے کہ خدا کی بار گا ہ میں یہ ( مرزا ) اس مرتد سے بھی زیا دہ ذلیل ہے اس کی پیشن گو ئی توپوری کر دی اس کے بعد کوشش کی پہلے تو دو چار سانپ پھنکوا ئے اس کے گھر میں چلو کوئی سا نپ لڑ ے گا یہ مر جائے پھر حملہ کروا یا اس کا داما د آیا ہو اتھا رات کو پیشا ب کے لیے اٹھا تو دیکھا کہ کچھ آ دمی دیوا ر پھلا نگنا چاہتے ہیں اس نے شو ر مچا یا دیا وہ بھا گ گئے پھر جو آخر تا ریخ تھی قا دیا نی مرزا اور اس کے سا رے ما ننے والے بیٹھ کر چنو ں پر سورہ فیل کا وظیفہ پڑ ھنے لگے کہ یا اللہ آتھم مر جائے یا اللہ آتھم مر جائے یا اللہ آتھم مر جائے عبداللہ سنو ری کہتا ہے کہ پھر وہ چنے مجھے دیئے گئے کہ کسی اند ھے کنو ئیں میں پھینک کر تین مر تبہ کہان آتھم مر گیا ،ایتھم مر گیا، آتھم مر گیا ،اور پھر واپس آجا نا پیچھے مڑ کر نہیںدیکھنا اب یہ سا رے پا پڑ بیلے لیکن ان پند ر ہ مہینو ں میں آتھم کے سر میںدرد بھی نہیں ہوا مرتا تو کیا اور پھر خو د لکھتا ہے اپنی کتا ب ”سرا ج منیر “میں وہ جو دن تھا کہ ایک میرے لیے بڑ ا پر یشان کن تھا کہ پشا ور سے لے کر کلکتہ تک ہر شہر میں عیسا ئیوں نے اپنی فتح کے جلو س نکا لے امر تسر میں آتھم کو ریڑ ھی پر بیٹھا کر لایاگیاآ گے آگے لے جا رہے تھے پیچھے نعرے لگ رہے تھے بہت اشتہار شا ئع ہو ئے ایک اشتہا ر کا عنوان یہی تھا
پنچہ آ تھم سے ہے مشکل رہا ئی آپکی
تو ڑ ڈالے گا یہ آتھم اب نا زک کلا ئی آپ کی ۔
اس قسم کی نظم میں بھی نثر میں بھی جو کچھ ہو سکا اور بہت سے پا دری اور عیسا ئی جو تھے وہ کا لک لے کر منہ کا لا کر نے کے لیے ( مر زا غلا م احمد قادیا نی ) کے دروا زے پر جا بیٹھے انہوں نے پھا نسی بھی کھڑ ی کر لی اس ( اس مر زا قا دیا نی ) نے لکھا تھا کہ میرا منہ کا لا کر نا اور پھا نسی پر لٹکا نا اس نے یا پو لیس المددکو اطلا ع دی تو پا دری اب کچھ نہیں کر سکتے تھے پو لیس نے روک دیا ۔
مرزا اور کسر صلیب :
وہ بار با ر یہی طعنہ دے رہے تھے تو کہتا ہے کہ میں کاسر صلیب ہو ں صلیب کو توڑنے آیا ہو ں آج یہ صلیب والی پو لیس تجھے بچا رہی ہے اگر یہ نہ آ تی تو بچ نہیں سکتا تھا ہمارے ہاتھوں تو اچھا کاسر صلیب ہے کہ جب تک صلیب کی پو لیس تیری حفا ظت نہیں کر تی تیر ی جا ن ہی محفو ظ نہیں ہے تو اس لئے یہ بہرو پ تھا جو اس نے عیسی علیہ السلا م کا دھا رااور عیسا ئیوں نے اس کی خبر لی ۔
مرزا اور مھد ی کا روپ :
مہد ی کا جب روپ دھا را تو کچھ مراثی پہنچ گئے اس کی خبر لینے پتہ چلا کہ کو ئی مہدی بنا ہے وہ مدرسے میں گئے مولو ی صا حب کے پاس کہ حضرت وہ حدیثیں لکھ دیں جن میںامام مہد ی کا ذکر ہے مو لو ی صا حب نے حدیثوں کا تر جمہ لکھ دیا انہو ں نے اچھی طر ح دو چا ر مر تبہ مو لو ی صا حب سے پڑ ھا اور قا دیا ن چلے گئے آگے مرزا غلا م احمد قادیا نی بیٹھا ہواتھا مر اثیو ں نے جا کے پو چھا کہ مہد ی کہا ں ہے مرزاقا دیا نی نے کہا میں ہی مہد ی ہو ں اچھا آپ ہی مہد ی ہیں جی ہا ں اچھا یہ پھر حدیثیں آپ نے پڑ ھ لیں حدیثوں کے مطا بق ہی آئے ہیں نا ں !امام مہد ی کا نا م محمد ہو گا آ پ کا نا م بھی محمد ہے مرزا خا موش رہا اما م مہد ی کی والد ہ کا نام آ منہ ہو گا آپ کی والد ہ کا نا م آ منہ ہے وہ خا مو ش امام مہد ی کے والد کا نا م عبداللہ ہو گا آپ کاوالد بھی عبداللہ ہے امام مہد ی حسنی حسینی سید ہو ں گے آپ بھی سید ہیں یا مغل ہیں مرزا کے پا س کوئی جواب نہیں تھا ، ایک مراثی نے کہا کہ اتنی لمبی چوڑی باتیں کرنے کاکیا فا ئد ہ اس نے کہا چادر یں بچھا ﺅ یہ حدیث میں لکھا کہ امام مہد ی اتنے سخی ہو ں گے کہ کوئی غر یب آئے گا تو اٹھ کر نہیں دیں گے بلکہ کہیں گے چادر بھچالو اور یہاں سے بھر بھر کے لے جاﺅ مراثیوں نے کہا کہ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ سو چا ابھی پکا کر لو سچا اما م مہد ی ہے یا ....؟چھو ٹی چا در یں لا ئے ہیں چا در یں بچھا نی شروع کر دیں اور کہا کہ یہ بھر دو روپوﺅں کی ہم یہ لے جا ئیں گے اور پھر دو سرو ں کو بھیجتے جائیںگے اور اگلی دفعہ بڑ ی چادریں لے کرآ ئیں گے اب مر زا قادیا نی نے سا ری زند گی میں کبھی دو آ نے کی زکو ٰة نہیں دی وہ مراثیوں کو کہا ں سے دے بڑا پر یشا ن ہو ا آخر کہنے لگا کہ بھا ئی کو ئی امام مہد ی ہو گا جو دینے والا ہوگا میر ی تو خو د مہدیت چند ے پر چلتی ہے لو گو ں سے چند ہ ما نگتا ہوں پھر گز ارہ کر تا ہوں مراثیو ں نے کہا ہمیں تو نہیں پتہ تھا کہ تو منگتا اما م مہد ی ہے چند ے ما نگنے کے لیے آیا ہوا ہے ہم تو یہ اللہ کے نبی کی حدیثیں پڑ ھ کر آئے ہیں امام مہد ی دیں گے آپ دینے والے امام مہد ی نہیں ما نگنے والے امام مہد ی ہیں اب با ت یہ ہے کہ ہمیں جا نے کا کر ایہ دے دو ہم چلے جاتے ہیں اور اعلا ن کرتے جا ئیں گے یہ وہ امام مہد ی نہیں ہے جس کا ذکر حدیثوں میں آیا ہے یہ تو کو ئی منگتاامام مہد ی آ گیا ہے کہ پیسے دینے کو تیا ر نہیں کسی کو چا در یں بھر کر کیا دے گا یہ اب مرزا مرا ثیو ں کے قابو میں آ گیا کہ جیب سے کرا یہ بھی دو ں اور اعلا ن بھی مراثی کرتے جائیں کہ یہ وہ امام مہد ی نہیں ہے پیسہ بھی جیب سے دو ں آخر غصہ میں آ کر کہا کہ نکل جاﺅ یہا ں سے کوئی پیسہ نہیں ہے میر ے پا س انہو ں نے کہا کہ ہم جا ئیں کر ایہ تو ہمارے پا س ہے نہیں ہم تو اتنے ہی لے کرآ ئے تھے کہ امام مہد ی کے پا س جا رہے ہیں وہا ں گٹھریاں با ند ھ کر لا ئیں گے واپسی کے کر ایہ کی کیا ضرورت ہے ہمیں کیا پتہ تھا کہ تو منگتا امام مہد ی ہے مرا ثیو ں نے کہا اچھا پھر آپ تو اجا زت دیں گے نا کہ ہم آپ کی نقل اتارلیں اور لو گو ں سے پیسہ پیسہ اکٹھا کرکے کرا یہ تو بنا لیں کیو نکہ ہم نے واپس بھی جا نا ہے کہا ٹھیک ہے اب وہ با ہر بیٹھ گئے ایک کر سی پر بیٹھ گیا ایک دائیں طرف بیٹھ گیا با قی سب سا منے بیٹھ گئے ایک نے آ دھا منہ کا لا کر لیا اور ایک طرف ہو کے الگ بیٹھ گیاایک نے سا را ہی منہ کا لا کر لیا اور ٹو کر ے کے نیچے چھپ گیا تو جن کو قا دیا ن کے بارے میں پتہ ہے قا دیا ن کی ایک گلی میں مرزا کی دوکا ن تھی جھوٹی نبوت کی اور دوسری گلی میں ایک ہندو کی دوکا ن تھی اس نے اوپر لگا رکھا تھا رب قا دیا ن قا دیا ن کا رب تھا ہندو بس وہ دکا ن پر بیٹھا رہتا تھا جب کوئی قا دیا نی گز رتا تو شو ر مچا تا کہ جھو ٹا ہے تمہا را نبی میں نے نہیں بنا یا کیو نکہ قا دیا ن کا رب میں ہوں ناں تمہا رانبی جھو ٹا ہے میں نے نہیں بنا یا یہ قا دیا نی ساری عمر اس کا بو رڈ نہیں اتروا سکے عدالت میں درخواست بھی دی ڈگلس کے سا منے پیش بھی ہوئے ڈگلس نے بطو رسفا رش کہا کہ چلو میرے کہنے سے آ پ بو رڈ اتا ر لیں ، ہند ونے کہا اس کو بھی کہو یہ بھی اپنا بو رڈاتارے جو جھوٹی نبوت کا لگا یا ہو ا ہے اس نے کہاکہ بات یہ ہے کہ انگر یزی قانون میں جھو ٹا نبی بننا کوئی جر م نہیں ۔
قا دیا ن کا رب :
اس نے کہا کیاجھو ٹا رب بننا جر م ہے مجھے وہ قا نون دکھا ﺅ تو جر م تو وہ بھی نہیں ہے پھردونوںکو رہنے اب یہ جو مرا ثی کر سی پر بیٹھا تھا یہ رب قا دیا ن بن گیا یہ جو ادھر بیٹھا تھا اس نے کہا جبرا ئیل ہا ں رب جلیل وہ رجسٹر لانا نبیو ں کی حا ضر ی لگا لیں ذرا اس نے ایک گتہ سادہ دیا اب اس مراثی کوجو نا م آ تے تھے مثلا آ دم ، حا ضرجنا ب ، مو سی حا ضر جنا ب ، نو ح حاضر جنا ب ، جو نا م اسے آ تے تھے وہ بو لتا گیا اور جو سا منے بیٹھے تھے وہ حا ضر ی بو لتے گئے آخر جتنے نا م آ تے تھے اس نے بو لے اور پھر گتہ جبرا ئیل کو واپس کر دیا ، وہ جس کا آ دھا منہ کالا تھا وہ کھڑا ہو اکہ جی آ پ نے میری حا ضر ی نہیں بو لی تو کو ن کہا ں سے آیا ہے ؟کہاجی میں مر زا غلا م قادیا نی ہو ں تجھے میںنے کب نبی بنایا تھا کہا جی کچی میں نا م ہو گا چلوپکی میں نہ سہی تو کہیں کچی جما عت والو ں میں نا م ہوگا ، اس نے کہا تیر ا کچی میں نہ پکی میں تو آیا کہاں سے؟نہیں جی ہو گا کہیں کسی گتے کے با ہر لکھا ہوگا اندر نہ سہی اتنے میں وہ جو ٹو کر ے کے نیچے چھپا ہو اتھا سا را منہ کا لا کر کے وہ شیطا ن بنا ہوا تھا وہ ٹو کر ا اٹھا کر آگیا اور ہا تھ باندھ کے کھڑا ہو گیا کہ جی اگر جا ن بخشی ہو تو کچھ عر ض کروں کہا ہا ں کیا کہنا چاہتا ہے کہا کہ آ پ نے ایک لاکھ چو بیس ہز ار نبی بنائے تھے میں نے اعترا ض کیا تھا ؟میںنے ایک ہی بنا یا اس کا بھی آ پ نے دل تو ڑ دیا چلو دل رکھنے کے لیے کچھ تو کرتے نا ،اب مرزا دیکھ رہا تھا سا را سین جلد ی دس کا نوٹ نکا لا کہا کم بختو !یہاں سے نکل جاﺅ دفع ہو جاﺅ اور کوئی نقل نہ اتارنا بس اتنا ہی کا فی ہو گیا ہے ۔
تو مقصد یہ ہے کہ بہر و پیا روپ تو بڑ ے دھا رتا تھا کبھی کچھ بن جا تا تھا کبھی کچھ بن جا تا تھا لیکن مہد ی کے مسئلے پر مرا ثیو ں نے اس کی اچھی خبر لی اور ویسے اس کو سمجھنا بھی کوئی مشکل نہیں ہے آ دمی سفر میں ہو تا ہے کوئی با ت چیت شروع کر تا ہے تا کہ سفر کٹ جائے اور ہمارے تبلیغی بھا ئی تبلیغ کانمبر ہی شما ر کر نا شروع کر تے ہیں تاکہ بات بھی ہو تی رہے کوئی مو لو ی صا حب بیٹھے ہو ں تو دین کی باتیں شروع ہو جا تی ہیں ایک مو لو ی صا حب بیٹھے تھے لو گ مسا ئل پو چھ رہے تھے ایک قا دیا نی بھی ان میں بیٹھا تھا اسے بھی خا رش ہو گئی مسئلہ پوچھنے کی کہ مو لا نا مرزا صاحب کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں مو لا نا سوچنے لگے کہ کس انداز سے بات شروع کر وں تا کہ لوگو ں کو با ت سمجھ میں آ ئے ایک دیہا تی بیٹھا تھا سامعین میں اس نے کہا کہ مو لا نا اس کا جواب آپ نہ دیں میں جوا ب دیتا ہوں ہا ں بھا ئی ! آپ نے پو چھا ہے کہ مرزا صاحب کے بار ے میں آپ کیا جانتے ہیں کو ن سے مرزا صاحب ؟تو دو مشہور مرزے گز رے ہیں ایک مرزا صاحبہ کا عاشق تھا اور ایک محمدی بیگم کا عاشق ( دو نوں مر ید عا شقوں کا سن رکھا ہے ) دونوں عورتوں کے عا شق تھے تو دو نوں مر زے گزرے ہیں تو کس مر زا کے متعلق پو چھ رہا ہے اب اس نے کیا پو چھنا تھا اس کا جواب تو اس نے ایک فقر ہ میں پو را کر دیا اب وہ تو پو چھے نہیں وہ کہے عورتوں کے عاشق دو مرز ے گزرے ہیں ہمیں اور علم نہیں اب وہ مرزائی تو نہ بو لا مگر دوسرے کہنے لگے دونوں کے متعلق کچھ بتا دیں اس نے کہا میں نے کو ن سا گھنٹے دو گھنٹے کا در س دینا ہے ہم تو پنچا بی لو گ ہیں کہتا ہے جو تھا نا ں صاحبہ کا عاشق آ دمی کم از کم تھا بہاد ر برات کے بیٹھی ہو ئی تھی اور صا حبہ کو اٹھا کر بھا گ بڑا اس کے بھا ئیوں نے تعا قب کیا س کو ما ر دیا گولیوں سے تو چلو مر دو ں کی طر ح مرا نا ں بھا ئی ؟یہ جو تھا نا ں محمد ی بیگم کا عا شق پر لے درجے کا بز دل تھا سا ری عمر چیختا رہا کہ عر ش پر اللہ نے میرا نکا ح پڑ ھ دیا ہے یہاں مو لو ی صاحب جس کو جمعرا تی ملا ں کہتے ہیں یہ نکاح پڑ ھ دے تو عدالت سے نہیں ٹو ٹتا اور وہ کہتا تھا کہ اللہ تعالی نے میرا نکاح عر ش پر پڑ ھ دیا ہے لیکن کہتے ہیں جس طرح وہ بے غیرت تھا اس طرح اس کی امت بھی بے غیر ت ہے ، نکا ح مرزا کے سا تھ ہوا اور رہی سا ری عمر ہما رے ہاں مسلما نوں کے پاس جن کی ام المو منین تھی ان میں سے کسی کو غیر ت نہیں آ ئی اور مرزا بیچارہ یہی پڑ ھتا پڑ ھتا مر گیا ۔
ہم انتظا ر وصل میں وہ آغوش غیر میں
قدرت خدا کی درد کہیں اور دوا کہیں
وہ بیچا رہ یہی اشعار پڑ ھتا مر گیا، یہی اس کی کیفیت تھی تو بہر حا ل یہ ایک مذ ہبی روپ دھا ر ا تھا کہ چند ہ بھی مسلما نوں سے اکٹھا کر ے کہ میں عیسا ئیو ں سے منا ظر ہ کرتا ہوں اور مخا لفت بھی اسلا م ہی سے کر ے تو دیکھئے اختلاف جو ہو تا ہے اس کی بنیا د ی قسمیں تین ہو تی ہیں ایک ہے کفر اسلا م کا اختلاف ایک سنت وبد عت کا اختلاف اور ایک اجتہا دی اختلاف یہ جو ہما را اختلاف قا دیا نیو ں کے سا تھ ہے یہ پہلے در جے کا اختلاف ہے یعنی اسلام اور کفر کا اختلاف ہے بعض اوقات لو گ سمجھتے ہیں کہ اختلاف سنت وبد عت کا بھی ہوتا ہے شا ید یہ ایسا اختلا ف ہو اختلاف ائمہ مجتہد ین میں بھی ہوا تو شا ید اسی قسم کا اختلاف ہو لیکن یہ اختلاف پہلے در جے کا ہے اسلا م اور کفر کا اختلاف ایک دفعہ قا دیا نیو ں سے میرا مناظر ہ ہوااسی بات پر کہ مسلما ن ہیں یا کا فر مجھ سے انہوں نے پو چھا کہ تو قا دیا نیو ں کو کا فر کہتا ہے تجھے کفر کی تعر یف آ تی ہے میں نے کہا آتی ہے کفر کی تعریف بتا ﺅ کیا ہے ؟میں نے کہا دین کے وہ ضرور ی عقا ئد جو اللہ کے پا ک رسول ﷺ سے اتنے عظیم الشا ن اجماع سے پہنچے کہ سا رے مسلما ن پڑ ھے ہو ئے ان پڑ ھ ان عقا ئد کو جا ننے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے یہ ضروری عقا ئد ہیں ان عقید وں کو ضروریا ت دین کہا جاتا ہے ان میں سب کو ما ننا اس کا نا م اسلا م ہے ایما ن ہے اور ان میں کسی ایک کا انکا ر کر دینا اس کی با طل تاویل کر دینا کہ معنی اٹھ جا تے ہیں اس کا نا م کفر ہے تو وہ جلد ی سے بو لا کہ تیر ی با ت غلط ہے عقل اور نقل دو نوں کے خلا ف ہے میں نے کہا یہ با ت وہی کہے گا جس کے پاس نہ عقل ہو نہ نقل لیکن خود تجھے پتہ نہیں عقل کسے کہتے ہیں اور نقل کسے کہتے ہیں وہ جس طرح دیہا تی زمیندا ر کو شو ق ہو گیا کہ انگر یز ی پڑ ھنے کا اس نے دو لفظ یا د کر لئے یس “‘....نو ....جب بھی بو لتا یس ....نو ....کچھ دنو ں بعد اس کے کھیت میں ایک لاش ملی پو لیس اس کو پکڑ کر تھانے لے گئی وہا ںا س سے پو چھا کہ یہ قتل آپ نے کیا ہے ؟کہا یس اس کا کو ئی گناہ تھا کہنے لگا ....نو ....جج نے پا نسی کی سزا سنا دی جب پھا نسی کا سنا تو رو نے لگا کہ کس جر م میں پھا نسی ؟کیا تو نے اس کو قتل نہیں کیا کہنے لگا نہیں پہلے انہو ں نے کہا جب پہلے ہم نے تجھ سے پو چھا تو ں نے اس کو قتل کیا ہے تو تو نے کہا یس ہم نے پو چھا کو ئی گنا ہ ہے تو نے نو کہا کہنے لگا مجھے تو پتہ نہیں نو کا کیا معنی ہے اس جج بیچا ر ے کو تو نہیں پتہ تھا نا ں کہ یہ اس پنچا ب کا رہنے والا ہے جس کے نبی کو اپنی وحی کا ترجمہ بھی نہیں آ تا تھا ہندو لڑکی سے تر جمہ کرایا تھا کہ انگر یز ی میں جو وحی آ تی تھی اس کی زبان پنچا بی تھی وحی کبھی فا رسی میں آ گئی کبھی عر بی میں آ گئی کبھی انگر یز ی میں آ گئی اس لئے سا ئیں محمد حیا ت صا حب نے لکھا تھا ۔
پنچابی نبی تے وحی انگریزی وچ
ہر کم اس اوت دے اوت داے
دیسی ٹٹو تے ٹیٹیاں خراساں دیاں
لتا ں تر یک دیاں تے سر تو ت دا اے
قا دیا نی وحی :
تریا ق القلو ب ص ۹ ۲ ۱ میں الہا م ہے دس دن کے بعد مو ج دکھا تا ہوں اس کے دن کے مو ج دکھاتا ہوں then you will go to Amrestserآئیل ، بائل ،شا ئل ، دیکھو اردو سے الہا م شروع ہوا پھر انگر یزی میں پہنچا اس کے بعدایسی زبا ن میں ہواجو مز رے کوسا ری عمر آئی نہیں با لکل ایک لفظ بھی نہیں آتا تو دیکھ جس کے الہا ما ت ایسے تھے نہ کسی کو سمجھ ہے نہ کچھ ۔
حضرت حکیم الا مت نے لطیفہ لکھا ہے کہ حج کے لیے کو ئی پنجابی گئے میاں بیو ی دو نوں آ پس میں وہا ں لڑ پڑ ے اس نے غصہ میں ذرا اس کی پٹا ئی کر دی وہا ں مقد مہ بن گیا اب جو گو اہ دیکھنے والے تھے وہ بھی پنچا بی تھے یہ میاں بیو ی بھی پنچا بی وکیل اب گو اہو ں کو بیان یا د کرا رہا ہے کہ عدالت میں بیا ن عر بی میں ہوتا ہے پنچا بی میں نہیں ہوتا تو مر دہوں تو مرد کی طرف اشا رہ کر کے ہذا ہذا عورت کو کہنا ہذ ہ تو چار مکے اس نے مارے ہیں تو چار کو عربی میں ار بعہ کہتے ہیں پا نچ لا تیں ما ریں ہیںتو پا نچ کو خمسہ کہتے ہیں اس پیچا رے کو یا د کرا تا رہا رٹواتا رہا یہا ں عدالت میں پہنچے جج نے پو چھا گو اہ ہے کہا جی ہے ہا ں بھا ئی گوا کہتا ہے کہ ھذا ماری اس ہذی کو اربعہ مکے وخمسہ لا تیں اب وہ بیچا را دیکھے کہ کہ بھائی یہ کیا بیا ن ہو رہا ہے بھا ئی گوا ہی کیا ہے تو ولیل نے کہا یہ اس علا قے کارہنے والا ہے جہا ں نبی پر وحی تین زبا نوں میں آ تی ہے یہ تو ابھی دو ہی بو ل رہا ہے اس لئے یہ بیچا رہ معذور اور مجبو ر ہے تو میں نے کہا اس نے یس اور نو یا د کیے ہو ئے تھے تو عقل اور نقل کا لفظ یا د کیا ہوا ہے تجھے تو نہیں معلو م عقل ونقل کیاہے اب مجھ سے سنو !
ما ننے کے لیے پو ری با تو ں کا ما ننا ضروری ہے اور کفر کے لیے کسی ایک کا انکار کرے تو آ دمی کا فر ہو جا تا ہے تو میں نے کہا دیکھو پہلی مثا ل تو مسیلمہ کذا ب کی ہے کہ (مرزا قادیا نی ) کی طرح مسیلمہ کذا ب نے بھی ختم نبو ت کا انکار کیا تھا باقی ساری باتیں ما نتا تھا تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس کی پہلے ایما نیا ت گنو پھر ایک کفر کو دیکھو اور اس کو مومن کہو با لا تفاق اس کو کا فر کہا منکر ین زکو ٰة نے زکو ٰة کاا نکار کیا ان کو کا فر کہا گیا قرآن پاک نے صا ف لفظو ں میں کہا ،وقا لوا کلمة الکفر وکفروا بعد اسلا مہم ، کہ تھے وہ مسلما ن اور اسلا م کی سا ری باتیں مانتے تھے ایک کلمہ کفر کا کہا اور ان کو کافر کہا گیا شیطان سا رے حکم ما نتا رہا ساری عمر عبادت کرتا رہا ( بس صرف اور صرف ) ایک حکم کا انکار کیاتو کا ن من الکا فرین اور وہ کا فر قرار دے دیا گیا میں نے کہا یہ تو نقلی دلا ئل ہیں اب عقلی دلائل دیکھیں یہ رومال ہے میرے ہاتھ میں اس کو پا ک کر نے کی شر ط ہے کہ کو ئی گند گی اس پر نہ لگی ہو لیکن نا پا ک کر نے کر نے کےلئے اگر کوئی کہے کہ ابھی نجا ست لگی ہے تو سینکڑوں نجاستیں باقی ہیں جب سا ری دنیا کی نجا ستیں اس کو نہ لگیں گی اس کو نا پا ک نہیں کہا جائے گا کوئی آ دمی یہ بات مانے گا پا ک ہو نے کے لیے تو پا کی سا ری شرائط ضروری ہیں لیکن نا پا ک ہو نے کے لیے ایک نا پا کی لگنے سے یہ رو ما ل نا پا ک ہو جا ئے گامیں نے کہا تند رست ہونے کے لئے ضروری ہے کہ صحت کی سا ری شر طیں ہو ں اور ایک بیماری ہو نے کے لیے کبھی شرط نہیں لگی کہ ابھی ہیضہ ٹی بی دو چار بیما ریا ں ہیںاس کو بیمار نہیں کہاجائے گا ابھی تو سینگڑوں بیماریاں رہتی ہیں جب ساری دنیا کی بیماریاں اس کو لگیں گی تب اس کو بیما ر کہا جائے گا ، یہ بحث ۳ ۵ء میں ہو تی تھی جب قا دیا نیوں والی تحر یک چل رہی تھی تو اصل میں جسٹس منیر نے یہ سوال چھیڑا تھا جو بھی جا تا اس سے پو چھتا کہ کفر کی تعر یف کیا ہے ۔
کفر و ایما ن کی تعریف :
ایما ن کی تعر یف کیا ہے اور پھر مذا ق اڑ ائے لوگ کہ یہ مو لو ی ہیں ان کو نہ کفر کی تعر یف آ تی ہے نہ ایما ن کی ویسے ہی کا فر کا فر کہتے رہتے ہیں بڑ ی شورش تھی اخبارات میں جب با تیں شا ئع ہو تیں تو حضرت شیخ الحدیث مو لا نا محمد ادریس صاحب کا ند ھلو ی نے درخواست دی کہ مجھے طلب کیا جائے میں کفر اور ایما ن کی تعر یف آپ کو سمجھا ﺅ ں گا حضرت تشر یف لے گئے ، جج نے پو چھا کہ انہوں نے یہی تعر یف سمجھا ئی اچھی طرح کہ ایما ن کہتے ہیں تمام ضروریات دین کو ما ننا اور کفر کہتے ہیں ضروریا ت دین میں سے کسی ایک کا انکا ر کر نا اس کی غلط تا ویل کر نا جب اچھی طر ح با ت سمجھا ئی تو بات سمجھ میں آ گئی کہنے لگا یہ لوگ کفر کی تعر یف تو جا نہیں یہ ویسے ہی کا فر کہتے رہے ہیں حضرت نے فرما یا کہ نہیں ان کو پو ری پہچا ن ہے کفر اسلا م کی لیکن تعر یف کر نا ہر آدمی کا کا م نہیں ہوتا جتنی با ت زیا دہ پھیلا ئی جائے اس کی تعر یف مشکل ہو گی کیونکہ تعر یف جا مع ما نع ہو تی ہے ناں اس کا ایک حصہ جنس ہو تا ہے اور دوسرا حصہ فصل ہو تا ہے تا کہ جنس سے جامعیت آئے اور فصل سے مانعیت آئے تو تعریف مشکل ہوتی ہے ۔جج صاحب نے کہا میں یہ بات نہیں مانتا ۔حضرت نے فرمایا کہ اچھا آپ گلاس کو پہچانتے ہیں ناں !کہاجی ہاں ،ذراتعریف کر یں اس کی جامع مانع وہ مصیبت میں پھنس گیا دیکھیں جس میں پانی پیتے ہیں ۔فرمایا اگر کوئی بوتل میں پانی پی رہا ہو اس کو بھی گلاس کہوگے ؟ کو لی میں پی رہا ہو اس کو بھی گلاس کہیں گے ۔پھر کہا نہیں ویسے جس میں پانی پیتے ہیں کہا اچھا میں یوں ہاتھوں کو جوڑتا ہوں کیا ہم گلاس سے پانی پی رہے ہیں ؟ کہنے لگا وہ تو لمبا ساہوتا ہے مولانا نے فرمایا بوتل بھی لمبی ہوتی ہے ایسی تعریف بیان کر کہ گلاس کے علاوہ اس میں کوئی اور چیز شامل نہ ہو سکے اب اس کو تعریف نہ آئے حضرت نے فرمایا جیسے تو نے علماءکا مذاق اڑایا ہے مجھے بھی حق ہے ناں کہ میں اخبار میں بیان دے دوں کہ پاکستان نے جج اس کو بنایا ہے جس کو گلاس کی تعریف نہیں آتی اس نے کہا جی تعریف تو مجھے نہیں آتی لیکن پہچان پوری ہے مجھے کہ یہ گلاس ہے میں بدل نہیں سکتا فرمایا اس طرح علماءاور مسلمانوں کو پوری پہچان ہے کفر اور ایمان کی لیکن تعریف ہر آدمی نہیں کر سکتا اچھا پھر جج صاحب ذرا پاجامہ کی تعریف فرمادیں اب وہ پھر مصیبت میں پھنس گیا کہنے لگا جو نیچے باندھا جائے فرمایا چادریں بھی نیچے ہو تی ہیں ۔انڈرویئر بھی ہوتا ہے کئی چیز یں ہوتی ہیں شلوار بھی ہوتی ہے اس طرح تعریف کرو کہ صرف پاجامہ رہے تعریف میں باقی سب چیزیں نکل جائیں اب وہ کیا تعریف کر ے بیچارہ مولانا پوچھیں آپ کو پاجامہ کی پہچان ہے وہ کہے بالکل پہچان ہے فرمایاپھر تعریف کرو کہا جی تعریف میں نہیں کر سکتا مولانا نے فرمایا اب میں کہ سکتا ہوں کہ پاکستان نے جج اس کو بنایا جس کو پاجامہ کی تعریف کا پتہ نہیں ۔
مقصد یہ ہے کہ یہ اختلاف ایمان وکفر کا اختلاف ہے سنت وبدعت کا اختلاف نہیں اجتہادی اختلاف بھی نہیں اور اسلام کے جو ضروری عقائد ہیں ان کو ماننے کا نام اسلام ہے جب میں نے یہ بیان کیا اب وہ قادیانی تھا کہنے لگا اچھا مرزا کے کفر کی وجوہات کیا ہیں میں نے کہا کہ شاید وہ آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہو ں لیکن جب میں نے تعریف میں بیان کیا کہ وجہ ایک بھی ثابت ہو جائے تو آدمی کافر ہو جاتا ہے میں اس وقت چاروجہیں رکھوں گا اور وہ چار وجہیں وہ ہوں گی جن پر خود مرزا قادیانی کے دستخط کراﺅں گا کہ مرزا قادیانی جو ہے اس نے بھی ان کو وجہ کفر مانا ہے سب سے پہلا انکار ختم نبوت دوسرا دعویٰ نبوت ،تیسرا تو ہین انبیاءعلیہم السلام اور چوتھا تکفیر مسلمین سب مسلمانوں کو کافر کہنا یہ دوتین مہینوں کی بات ہے ہمیں ایک جگہ جانا پڑا قادیانیوں سے مناظرہ کے لئے وہ آئے پہلے جی موضوع طے ہو جائے اب ان کی کو شش ہوتی ہے کہ مرزا کی کتابوں کا ذکر ہی نہ آئے اچھا جی کیا موضوع طے ہے میں نے کہا موضوع یہی طے ہے کہ ہمارا عقیدہ ہے مسلمانوں کا رسول ﷺ پر ایمالانے میں کامل نجات ہے آپ ﷺ کے ساتھ کسی اور کو ماننا قطعاً ضروری نہیں بلکہ ماننا ہی نہیں چاہئے جو آپ ﷺ پر ایمان لے آیا وہ پکا مومن ہے اور نجات اس کا حق ہے یہ ہے ہمارا عقیدہ اس لئے جو لوگ حضرت محمد ﷺ پر ایما ن نہیں لاتے ہم ان کو کافر کہتے ہیں میں نے کہا آپ بھی کہتے ہونا کہ یہودی کافر ہے جی ہاں میں نے کہا آپ بھی کہتے ہیں کہ عیسائی کافر ہیں کہاجی ہاں میں نے کہا کیوں ؟کہاجی وہ حضورپاک ﷺ پر ایمان نہیں لاتے میں نے کہا آپ بھی کہتے ہو کہ مجوسی کافر ہیں ،کہاجی ہاں کافر ہیں ،میں نے کہا سکھ کا فر ہیں ، کافرہیں ،میں نے کہا کیوں ؟ کہنے لگا حضورپاک ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ۔میں نے کہا پتہ چلا کہ یہ اس لئے کافر ہیں کہ ہمارے نبی پاک ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ایک کفر اس سے بڑا ہے جی وہ کو نسا یہودیوں نے ہمارے نبی پاک ﷺ کا کلمہ نہیں پڑھا لیکن کسی اور کو محمد رسول اللہ ﷺ نہیں بنایا عیسائی کافرہیں اس لئے کہ ہمارے نبی پر ایمان نہیں لائے لیکن عیسائیوں نے نبی پاک ﷺ کے مقابلے میں کسی اور کو محمد رسول اللہ ﷺ نہیں بنایا ۔سکھوں نے نہیں بنایا اس لئے قادیانیوں کاکفرعیسائیوں کے کفر سے بڑا ہے یہودیوں کے کفر سے بڑا ہے ہندوﺅں سکھوں کے کفر سے بڑا ہے انہوں نے ہمارے نبی پاک ﷺ کے مقابلے میں باقاعدہ ایک محمد رسول اللہ بنالیا اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان نجات کے لئے کافی وافی ہے جبکہ تمہارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی ساری باتوں کو ایک آدمی مانے ،نمازیں پڑھے حج کر ے جہاد کر ے سارے عقیدے اس کے صحیح ہوں لیکن مرزا کو نہیں مانتا تو وہ کنجری کا بیٹا ہے ان کے مرد خنزیر ہیں ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں حالانکہ وہ اللہ کے نبی ﷺ کو مان رہا ہے حضور پاک ﷺ پر تمام ضروریا ت دین پر اس کا ایمان ہے تہجد گزارہے بہت نیک اور بااخلاق انسان ہے صرف مرزا کو نہ ماننے کی وجہ سے اب چونکہ یہ حوالے بھی مرزے کی کتابوں سے پیش کر رہا تھا کہنے لگا آپ الزامات لگاتے ہیں میں نے کہا جی کتابیں حاضر ہیں اب میں نے ”ایک غلطی کا ازالہ “جب نکال کر رکھی ”محمد رسول اللہ والذین معہ“اس وحی الٰہی میں مجھے محمد کہا گیا اور رسول بھی ”خطبہ الہامیہ“رکھا کہ جس نے مجھ میں اور حضور پاک ﷺ میں فرق سمجھا اس نے مجھے نہیں پہچانا جب میں نے دوچارحوالے پیش کئے تو مجھے کہتا ہے جی پیچھے سے پڑھو پیچھے سے آگے سے بھی پڑھو پیچھے سے بھی پڑھو ،میں نے کہا قادیانی مناظر کے اصول ہی دو ہیں تیسرا ہے ہی نہیں اگر کتاب نہ ہو تو شور مچاتے ہیں کتاب دکھاﺅ جی کتاب دکھا ﺅ اور اگر کتاب ہو تو دس صفحے پیچھے پڑھو دس صفحے آگے پڑھو تا کہ آگے پیچھے پڑھتے ہوئے بات ہی ان کو بھول جائے کہ اصل بات شروع کہا ں سے ہوئی میں نے کہا یہ دواصول ہیں قادیانیوں کے پاس تیسرا کوئی اصول ہے ہی نہیں میں نے کہا ”چلو ایک غلطی کے ازالہ“ کے دوصفحے پڑھیں اب جب اس نے پڑھنا شروع کیا اور وہاں تک پہنچا تو جتنے لوگ بیٹھے تھے وہ سارے کہنے لگے کہ بات تو یہی ہے جو مولانا نے کہی تھی ناں کہ مرزا نے محمد رسول اللہ ﷺ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور تم اس کو مانتے ہو پھر تو نے اتنا ہمارا وقت بھی ضائع کیا کہ آگے سے پڑھو پیچھے سے پڑھو ، یہ کر و وہ کر و یہ بات صاف ہے اور اردو میں لکھی ہوئی ہے کہا یہ کو ئی موضوع نہیں ہے موضوع یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر بٹھا رکھا ہے اور اپنے نبی پاک ﷺ کو زمین میں دفن کر رکھا ہے کتنی بڑی تو ہین ہے یہ بات ہے میں نے کہا اس میں کیا فائدہ ہوگا ۔کہنے لگا جی ان کو آسمان پربٹھا یا ہوا ہے میں نے کہا اگر مسلمانوں نے ان کو آسمان پر بٹھا یا ہے تو مرزا نے موسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر بٹھا یا ہوا ہے زندہ اب جو تو پڑھے گا ازالہ اوہام سے آیت اس سے موسیٰ علیہ السلام کو نکالنا ہے میں بعد میں عیسیٰ علیہ السلام کو نکال دوں گا ۔بات تو یہی ہوگی ناں اور اس سے زیادہ کیا ہوگا مجھے کہتا ہے جیسے مرزا صاحب نے موسیٰ علیہ السلام کو زندہ مانا ہے اگر ایسے آپ عیسی ٰ علیہ السلام کو مانتے ہیں تو جھگڑا ہی نہیں ۔میں نے کہا کیسے زندہ مانا ہے کہا جی وہ جسم مثالی میں زندہ مانتے ہیں اس جسم کے ساتھ زندہ نہیں مانتے دیکھ اس نے تاویل کر لی فوراً لیکن کتابیں ہمارے پاس تھیں میں نے ”نو رالحق“ نکال کر رکھ دی ترجمہ بھی ساتھ تھا میں نے کہا یہ اس موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے جنہوں نے کسی اور عورت کو منہ نہیں لگایا صرف اپنی والدہ کا دودھ پیا تو جسم مثالی دودھ نہیں پیاکر تا یہ ان موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے جن پر تورات نازل ہوئی تو میں نے کہا جسم مثالی پر تورات نازل نہیں ہوتی اسی جسد عنصری پر تورات نازل ہوتی ہے یہ وہی موسیٰ علیہ السلام ہیں جن کے سلسلے میں خاتم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قراردے دیا ہے توحضرت عیسیٰ علیہ السلام جسد عنصری والے موسیٰ علیہ السلام کے خاتم ہیں نہ کہ جسم مثالی والے مو سیٰ کے اب تو وہ بڑا پریشان اسے کیا پتہ تھا کہ اس نے بات اس طرح واضح کر دینی ہے ”تحفة گولڑویہ “میں نے کھولی اس میں اردو نوٹ پڑھوایا یہی تو میں نے کہا چلوکس بات پر تم نے موسیٰ علیہ السلام کو بٹھا یا ہوا ہے کہتا ہے جی کہ بس یہ جو کا فر کافر کہتے ہونا اس میں ذرا نرمی کر یں میں نے کہا یہ تو اتفا قی بات ہے اس میں تو اختلاف ہی کوئی نہیں اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ مرزا کی زند گی کا کو نسا حصہ کفر والا ہے آپ بھی مانتے ہیں کہ مرزا نے لکھا کہ حیا ت مسیح کا عقید ہ شرکیہ عقیدہ ہے پہلے وہ خود ما نتا رہا کہ عیسٰی علیہ السلا م حیا ت ہیں اور انہی کتابوں میںلکھتا رہا اس نے کہا وہ ایسا لکھتا رہا کہ مسلما نوں سے سن سنا کر میں نے کہا جی وہ ایسی ویسی کتاب نہیں ہے میں نے آ ئینہ کما لا ت اسلا م اٹھا ئی میں نے کہا دیکھو یہ کتا بیں ہیں اس میں برا ہین احمد یہ بھی ہے اس میں تو ضیح المرام بھی ہے جس میں آ سما ن پر جا نا نبیو ں کا اور ان کتا بوں کا نا م لکھ کر آگے لکھتا ہے کہ ان کو مسلما ن قبو ل کر تے ہیں مگر کنجر یوں کی اولا د قبو ل نہیں کر تی تو مرزا کی کتاب سے ثا بت ہو گیا جومسیح علیہ السلا م کو زند ہ نہیں ما نتاوہ کنجر ی کا بیٹا ہے یہ تو مرزا کی کتاب سے ثابت ہے اور اگر اس (حیات عیسی ٰ کے ما ننے ) کو شر ک کہتا ہے تو بھی منکر قرآ ن ہے فر ق یہی ہے تیرے نز دیک مرزا اس زما نہ تک قرآن کی تیس آیتوں کا منکر تھا اور قرآن کا منکر کافر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا اب لوگوں نے کہا ہاں جی ہوتا ہے تو میں نے پھر کہا وہ زمانہ بھی کفر کا ہے بعد والا زمانہ بھی کفر کا ہے اب بہرحال اس میں اتفاق ہے کہ تھا وہ کا فر اب پہلے وہ لکھتا تھا کہ حضرت ﷺآخری نبی ہیں بعد میں کہتا ہے کہ قرآن میں ہے کہ نبی آسکتاہے اب پہلے زمانہ میں وہ آتیوں کا انکار کرتا تھا ناں!آپ کے عقیدے کے مطابق ہمارے عقیدے کے مطابق بعد میں اس قرآن کی آیتوں کا انکار کیا تو ہو بہر حال منکر قرآن ہے اس لئے اس کا کفر تو آپ کے ہاں پکا سکہ بند کفر ہے او ر ہمارے ہاں بھی پکا کفر ہے کفرسے اس کو کو ئی نہیں نکال سکتا ہاں زمانے میں اختلاف ہے کہ کفر کا زمانہ اس کا کو نسا آپ کہتے ہیں کہ وہ پہلازمانہ ہے ہم کہتے ہیں کہ بعد والا زمانہ ہے اس لئے کفر کی طرف سے تو آپ نہ گھبرائیں یہ تو مرزا کے ساتھ ایسے لازم ہے جیسے سورج کے ساتھ روشنی رات کے ساتھ اندھیرا بلکہ یہ مثال دینی چا ہئے تو میں نے کہا یہ اس سے جد ا نہیں ہوسکتا تو مقصد یہی ہے اس پر جب اس نے دیکھا کہ یہاں تو اس نے مجھے جلدی پکڑ لیا موسیٰ علیہ السلام والا حوالہ دے کر اور واقعی میں پڑھوں گا تو یہ کہے گا کہ موسیٰ علیہ السلام کو نکالو پھر میں بعد میں بات کر تا ہوں پھر گھبرا گیا کہتا ہے خاتم النبیین کا معنی کر و کیا ہوتا ہے خاتم النبیین کا ،میں نے کہا وہی جو مرزا نے خاتم اولاد کا کیا ہے وہ تو تیرا نبی بتا گیا ناں کہ مرزا نے جو کہا کہ میں بعد میں سب سے آخر میں ماں کے پیٹ سے پیداہواہوں اس لئے میں اپنے والدین کے لئے خاتم اولادہوں اسی طرح جو نبی اس دنیا میں سب سے آخرمیں پیداہوا ہے تو وہ خاتم النبیین ہے ان کے بعد کو ئی نبی کسی ماں کے پیٹ سے قیامت تک پیدا نہیں ہوگا میں نے کہا ختم نبوت کا معنی تو واضح ہے اردو میں لکھا ہے مرزا نے اور تجھے اس کا بھی پتہ نہیں اب کبھی ادھر دیکھے اور کبھی ادھر یہ موضوع تو نہیں ہے ناں میں نے کہا کفر وایمان تیرے نزدیک کو ئی موضوع میں نے کہا عجیب بات ہے آخر کتابیں سمیٹیں اور اٹھ کے باہر نکلا لوگوں نے کتابیں چھین لیں دیکھا کہ اس میں تھا کیا ایک الہام الرحمن تفسیر ایک فتح محمد جالندھر ی کا ترجمہ ایک احمد یہ پاکٹ بک ایک دواور کتابیں تھیں جس میں حیات مسیح کے کچھ حوالے تھے ان کی کتابیں مرزا قادیا نی کی مرزا محمود وغیر ہ کی تو مقصد یہ ہے کہ لوگوں کا طریقہ کار یہی ہوتا ہے ۔
دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں وہ اپنے بانی کو سب سے پہلے آگے لاتے ہیں کہ یہ ہیں ہمارے بانی ان کو دیکھولیکن قادیا نی جو ہیں یہ سب سے زیادہ اسی کو چھپاتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اس میں جو خامیاں ہیں کفریات اور گندی گالیاں ہیں ان کو پتہ ہے کہ یہ ایک نہایت متعفن لاش ہے خود مرزا کا اپنا اعتراف ہے ”وماانا الامثل ذاق یعفر “ اعجاز احمد ی صفحہ ۰۴اور میں نہیں مگر ایک سرگین کی طرح جو مٹی میں ملایا جاتا ہے اعجاز احمد ی کے اشعار میں لکھتا ہے کہ میں تو گندگی کا ڈھیر ہوں جس کو اوپر سے ڈھانپاہوا ہے جب مرزا کا اپنا اعتراف یہی ہے پھر ایک سے میں نے پوچھا بھئی اصل بات یہ ہے جھوٹے بھی دنیا میں گزرے ہیں سچے بھی گزرے ہیں مرزا کے بارے میں یہ پتہ لینا کہ وہ تھا کیا یہ بڑا مسئلہ ہے وہ کبھی مرد بنتا ہے کبھی عورت بنتا ہے کبھی ہندو بنتا ہے کبھی سکھ بنتا ہے کبھی عیسائی بنتا ہے کبھی درخت بنتا ہے کبھی پتھر بنتا ہے حجرا سود کا کبھی کہتا ہے میں مجدد ہوں کبھی کہتا ہے کچھ ہوں مجھے کہنے لگا دیکھو جی بات یہ ہے کہ ٹھیک ہے مرزا صاحب نے بہت سے دعوے کئے ہیں لیکن آخری دعویٰ مانا جاتا ہے آخری دعویٰ تو جیسے انسان پرائمری میں پڑھتا ہے پھر مڈل میں جاتا ہے پھر میٹرک میں جاتا ہے پھر ایف اے ۔بی اے کر تا ہے ایم اے کر تا ہے تو آخری درجے کی تعلیم مانی جاتی ہے نا اس کی تو اس لئے یہ پہچاننے کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ مرزا صاحب کے دعوے ترتیب وار تھے آخری دعویٰ تلاش کیا جائے میں نے کہا وہ آخری دعویٰ اس پر تو میرا بھی ایمان ہے کیونکہ مرزا قادیا نی کی کتاب براہین احمد یہ حصہ پنجم اس کا ضمیمہ یہ مراز نے آخر میں لکھا ہے اور وہ اس کے مرنے کے بعد چھپا اس نے اس میں اپنا آخری دعویٰ بیان کیا ہے
کر م خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
کہ میں مٹی کا کیڑا ہوں بندے داپترنہیں میں نہ آدم زاد ہوں ،ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار کہ میں انسانوں کی شرم کی جگہ ہوں ،میرا ایک شاگرد تھا قادیانیت کے مسئلے میں بعض اوقات شاگرد بھی استادوں سے مناظرہ شروع کر دیتے ہیں مجھے کہنے لگا کہ پڑھا ہوا کچھ نہیں تھا مرزا میں نے کہا نہیں حافظ صاحب پڑھا ہوا تھا وہ کہے میں نے کہا اس نے لکھا ہے’ ’چشمہ معرفت “ میں کہ آریوں کا پر مشیر ناف سے دس انگل نیچے ہے آخر وہ ماپ سکتا ہے گن سکتا ہے تو دس انگلیاں گنی ناں اس نے تو وہاں تو یہ لکھا کہ آریوں کا پرمیشر ہے لیکن براہین احمدیہ میں اپنے بارے میں یہی کچھ لکھا کہ :
کر م خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
ان دنوں مجھے میرا شاگرد کہنے لگا کہ دیکھوفرعون کا بھی ایک خواب سچا ہوا نمرود کا بھی ایک خواب سچا ہوا اس کا تو کو ئی خواب بھی سچا ہوا ہی نہیں یہ تو اس سے بھی گیا گزرا ہے بات تو ویسے یہ بڑی وزنی ہے لیکن میں نے کہا کہ اس سے مجھے اتفاق نہیں اس کے دو کشف سچے ہوئے ہیں لیکن اس سے اس کا سچا ہونا ثابت نہیں ہوتا جیسے فرعون کا خواب سچا ہونے سے اس کا سچا ہونا ثابت نہیں ہوتا نمرود کا خواب سچا ہوجانے سے اس کا سچا ہونا ثابت نہیں ہوتا خود مرزا لکھتا ہے کہ بدکاراور کنجریاں جو ہیں وہ اس رات بھی سچے خواب دیکھتی ہیں جب انہوں نے بد کا ری کی تو سچا ثا بت نہیں ہوتا لیکن جیسے فرعو ن کا ایک خوا ب سچا ہوا اس کا بھی ایک کشف سچا ہوا مجھے کہنے لگا ایک بھی سچا نہیںہوا میں نے کہا تذکر ہ نمبر ۵ ۳ ۴ اٹھا کے لا ﺅ تو میں نے کشف دکھا یا کہتا ہے میں نے کشف میں دیکھا کہ میں جنگل میں بیٹھا ہوں اور میرے ارد گر دصرف بندر اور خنز یر ہیں اور کوئی نہیں تو میں نے کہا آپ کو قا دیا نیوں کے بند رو خنز یر ہو نے میں شک ہے ؟اس نے صاف بتا یا کہ میں نے کشف میں یہی دیکھا ہے کہااس کے ارد گر د اس کے ما ننے والے بند ر وخنز یر ہیں میں نے کہا یہ کشف تو صحیح معلو م ہوتاہے تو کم از کم یہ کشف بھی مرزا قا دیا نی کا صحیح نکلا ہے تو اس میں تو شک نہیں کر نا چا ہیے دوکشف اس کے ایسے ہیں لیکن دو نوں کشفو ں سے مرزا کا اور مرزائیوں مقا م کا پتہ چلتا ہے کہ جو اس کو ما نتے ہیں وہ بندر اور خنز یر ہیں یہ تو خو د مر زا کہتاہے جب ہم اس قسم کی با تیں سنا تے ہیں پھر کہتے ہیں جی کیا تھا دس گا لیا ں دی تھیں ہم تو مرزا کی سنا رہے ہیں نا ں ہم خود تو گا لیاں نہیں دے رہے نا ں اور جنا ب وہ جیسے سب کو پتہ ہے کہ عزرا ئیل علیہ السلا م نے استنجا ءبھی نہیں کر نے دیا کہ خبیث کو اس طرح گند ے طریقے سے ہلا ک کر کے اللہ کی بار گا ہ میں پیش کر نا ہے تو یہ ایک ایسا فتنہ ہے جس کو سمجھنا مشکل نہیں اور ان کاکفر جو ہے با قی سا رے کا فر وں سے بد تر کفر ہے کیو نکہ عیسا ئی مجو سی وغیر ہ کسی ( معا ذ اللہ ) حضرت محمد ﷺ کو کر سی سے اٹھا کر کسی اور کو بٹھا نے کے لیے تیا ر نہیں ان کا کفر صرف اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایما ن نہ لا نا ہے اور قا دیا نیو ں نے با قا عدہ محمد رسول اللہ بنا ڈا لاوہ بھی کہتا ہے ،
منم مسیح زماں منم کلیم خدا
منم محمد احمد کہ مجتبی باشد
تو بہر حا ل بھا گتے ہی ایک طرف ہیں میں نے بہت ان کو سمجھا یا یہ جب بھی آئیں گے جی حیا ت مسیح پر بات ہو گی وفا ت مسیح پر با ت ہو گی میں کہتا ہو ں کہ بھا ئی عیسی علیہ السلا م سے ان کے حیا ت مسیح پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اب ہم چا ہتے ہیں کہ آ پ کے مسیح کی حیا ت وفا ت پر بات ہو جس کو آپ مسیح ما نتے ہیں اور میں لکھ دیتا ہوں کہ اسکی حیا ت بھی لعنتی حیات تھی اس کی مو ت بھی لعنتی تھی آ یئے اس مو ضوع پر بات کریں ، اگر یہی مو ضو ع آپ کو بڑا پسند ہے تو چلو اسی مو ضوع پر با ت کریں لیکن اپنے مسیح کی بات کر یں دوسروں کی پھر بعد میں کر لیں گے تو قطعا اس بات پر آ نے کو تیار نہیں ہوتے کیو نکہ پھر ہم وہ لے لیتے ہیں نا جو مرزے نے نشا نیاں لکھی ہیں خو د مسیح علیہ السلا م کی ایک ایک پو چھتے جا تے ہیں کہ یہ ثا بت کر دو کہ مرزا میں یہ نشا نیاں تھیں لیکن نہ مر زا کی حیا ت پر بحث کر تے ہیں نہ موت پر جیسا میں نے شروع میں بتا یا کہ مر تد و ں کے سا منے خد انے اس کو ذلیل کیا ہے عبداللہ آتھم کے سا منے انوا رالا سلا م میں لکھتا ہے کہ جس دن یہ دن گزا رسب عیسا ئیوں نے جلو س نکا لے انوا ر الا سلا م میں لکھا ہے کہ میں بیٹھا تھا بڑا پر یشا ن کفر نا چ رہا تھا گلیو ں میں اسلا م کا مذاق اڑیا جا رہا تھا کہ ایک فر شتہ نا زل ہو ا جو سر تا پا خو ن میں لتھڑا ہوا تھا تو میں بھی اس کو دیکھ کر حیر ان ہو گیا کے میں پو چھا کیا بات ہے کہتا ہے آ ج آ سما ن پر بھی سا رے فر شتے ہیں ما تم کر رہے ہیں آ گے اسی کتا ب میں چند صفحے آگے جا کر لکھتا ہے جو اس پیش گو ئی کو جھو ٹا کہتا ہے اس کو ولد الحرا م بننے کا شوق ہے تو اس کو یہ نہیں پتہ کہ میں نے پچھلے صفحے پر کیا لکھا ہے اگلے صفحے پر کیا لکھ رہا ہوں اللہ تعالی اس فتنہ سے مسلما نوں کو محفوظ فرما ئے آ مین
وآخر دعو نا ان الحمد للہ رب العا لمین ۔
We have 5 guests and no members online